شاہد راحیل خانکالملکھاری

عمران خان کے سو دن اور جیتنے والے گھوڑے ۔۔ شاہد راحیل خان

عمران خان کے کان میں آخر کسی نے تو پھونک ماری ہے کہ آئیندہ حکومت پی ٹی آئی کی ہو گی اور اس کے سربراہ یعنی وزیر اعظم بھی عمران خان ہی ہوں گے۔جبھی تو عمران خان نے اتنے وثوق اور اعتماد سے اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں کا پروگرام طشت از بام کیا ہے۔ جسے وفاقی وزیر احسن اقبال اپنے دو ہزار پچیس کے وژن کا چربہ قرار دے رہے ہیں۔” کسی نے“ سے میری مراد خلائی مخلوق ٹائپ کی کو ئی چیزہرگز نہیں ہے۔آپ اگر ایسا سمجھیں تو آپ کی مرضی۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ میرا گمان تو یہ ہے کہ شاید بنی گالہ کے مندر کی دیوی کے کرموں سے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کی خواہش کی تکمیل کا کوئی” شبھ سمے یا سدھ گھڑی“ کسی جنتری سے نکل آئی ہوگی ،کہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ہمارے پیروں، فقیروں کے آستانے خوب آباد ہیں ۔ اور بنی گالہ کے آ ستانے پر حاضری کا حکم کہیں سے بھی آئے یا ایسی کوئی بشارت ہو تو حاضری کے بناءکوئی چارہ نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کوئی غیبی اشارہ ملتے ہی اس پر” یقیں محکم “ کے ساتھ عمران خان نے” عمل پیہم “ کا ارادہ باندھ لیا ہوگا کیونکہ عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ خان صاحب ارادے کے بڑے پکے ہیں۔ ویسے تو بندے کو کل کا کیا پل کا بھروسہ نہیں۔۔۔ سامان سو برس کا،پل کی خبر نہیں ۔۔۔ جیسی اٹل حقیقت کوئی جھٹلا سکا ہے نہ ہی جھٹلا سکتا ہے ۔مگر عمران خان کو پورا یقین ہے کہ آنے والے انتخابات میں جیت بھی ان کی ہو گی اور حکومت بھی۔ممکن ہے ایسا ہو بھی جائے کہ اب تبدیلی کی ناﺅ کی پتوار عمران خان کو تبدیلی کا سمبل سمجھنے والے ہونہار نوجوانوں کے ہاتھ میں نہیں ، الیکٹیبلز ،سیدھے لفظوں میں یوں کہیے کہ جیتنے والے گھوڑوں کے ہاتھ میں ہے ۔معاف کیجیئے گا ۔ گھوڑوں کے ہاتھ تو ہوتے نہیں ، چاروں پیرہوتے ہیں اور ان پرنوکیلے کھر ،جن سے بچنے کے لیئے کھر تر شوا کر ان میں ” نعل “ جڑوانے پڑتے ہیں۔ گھوڑے اپنے پچھلے پاﺅں سے دولتی مارنے کا کام لیتے ہیں جیسا کہ آج کل یہ گھوڑے اپنی سابقہ جماعت ن لیگ کودولتیاں مار رہے ہیں۔ انتخاب میں حصہ لینے والے یہ گھوڑے اگر جیت بھی گئے اور عمران خان ان گھوڑوں پر سوار ” ہٹو، بچو“ کی صداﺅں میں وزارت عظمیٰ کے تخت پر جا بیٹھنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو بھی یہ گھوڑے ارض وطن کو اپنے چاروں پیروں سے اسی طرح روندتے رہیں گے، یہ گزشتہ پون صدی سے یوں روندتے چلے آرہے ہیں جیسے فاتح قوم کے گھوڑے ، مفتوح سرزمین کو روندتے ہیں۔ سنا ہے کہ پی ٹی آئی کے پرانے کارکن جو ٹکٹوں کی امید لگائے بیٹھے تھے ، نئے الیکٹیبلز کی آمد پر ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں ” تیرا کیا بنے گا کالیا” ۔ یہ الیکٹبلز اسی نسل کے گھوڑے ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو شہیدجیسے اعلیٰ پائے کے لیڈر کو بھی اپنے اوپر کاٹھی ڈالنے نہیں دی۔ہمارے ہوش و حواس میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اس قوم کی ڈھارس بندھائی، آس دلائی ، منزل کا تعین کیا اور راہ دکھائی۔اس سے پہلے کے سب قصے کہانیاں سازشی تانوں بانوں پر مشتمل ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد میاں محمد نواز شریف ان سازشی کہانیوں کی تکمیل میں کلیدی کردار رہے ہیں۔ وقت کا جبر یہ ہے کہ آج وہی میاں محمد نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ کاش ذوالفقار علی بھٹو کی روح سے پوچھا جا سکتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ ہمارا ،المیہ یہی ہے کہ جو بات اس وقت میاں محمد نواز شریف کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اور صرف اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہونے کی خواہش میں انہیں ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آرہا تھا۔ آج عمران خان بھی اسی رویے اور اسی کیفیت کا شکار ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker