اختصارئےشہزاد عمران خانلکھاری

کورونا اورنجی ہسپتالوں کا عملہ۔۔شہزاد عمران خان

وبا کے دنوں میں جہاں سب کو سب سے خطرہ ہے۔ سب سے زیادہ وہ لوگ متاثرہورہے ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا کامقابلہ کرنے والے افراد میں ڈاکٹر،پیرامیڈیکل سٹاف بھی شامل ہے چاہے وہ سرکاری طورپراپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوں یا پرائیویٹ ۔ ہرانسانی جان بہت قیمتی ہے۔ گزشتہ دنوں ملتان نشترہسپتال کے 20سے زائد ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جوکہ تشویشناک بات ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کافی حد تک خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ حفاظتی انتظامات کے بغیراپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں اور انسانوں کی زندگیاں بچانے میں مصروف عمل ہیں ، جہاں ہزاروں سرکاری ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں وہیں پر پاکستان کے ہزاروں پرائیویٹ ہسپتال میں ڈیوٹی سرانجام دینے والا سٹاف بھی ہرطرح کے حفاظتی سامان سے محروم ہیں۔
پرائیویٹ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں ، ان کے ساتھ آنے والے افراد بھی اس سکریننگ سے محروم ہیں۔گزشتہ دنوں ایک پرائیویٹ ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا وہاں پر کسی بھی قسم کے حفاظتی انتظامات نہیں تھے وہاں پر موجود ایک ملازم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ ہسپتال مالکان کی طرف سے ایسی کوئی سہولت نہیں دی گئی پھربھی وہ اپنی ڈیوٹی پر موجودہیں اور آنے والے مریضوں کی دیکھ بھال بہتر اور اچھے طریقے سے کررہے ہیں مگر خوفزدہ بھی ہیں کہ کہیں وہ بھی اس موذی مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں ۔محکمہ صحت کی کارکردگی اس حوالے سے بالکل نظرنہیں آرہی کہ حکومت نے پرائیویٹ ہسپتالوں کے لیے کوئی ایس اوپیز طے کیے ہوں۔اس ضمن میں محکمہ صحت کے افسران کی لاتعلقی کورونا میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس شعبے کےلئے ابھی طریقہ کاروضع کرے تاکہ انسانی زندگیوں کا بچایا جاسکے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker