شاکر حسین شاکرکالملکھاری

جینے کی خواہش اور مسعود احمد برکاتی : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

ایک عرصہ ہوا کہ مَیں نے بچوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیاں پڑھنی چھوڑ دی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نونہال، تعلیم و تربیت اور پھول (جو بچوں کے معیاری جرائد ہیں) جہاں کہیں دکھائی دیتے ہیں اپنی بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے صفحہ اوّل سے آخر تک جستہ جستہ دیکھتا ہوں اس کے علاوہ اُردو اخبارات کے ہفتہ وار بچوں کے صفحات کو بھی باقاعدگی سے دیکھتا ہوں۔ ان صفحات میں اور کچھ پڑھوں یا نہ پڑھوں لطائف تو لازمی پڑھتا ہوں۔ گھر میں اہلیہ کے سامنے جب اخبار کا بچوں کا صفحہ بغور دیکھ رہا ہوتا ہوں تو وہ کہتی ہے بچوں کے صفحہ میں آپ کیا تلاش کرتے ہیں؟ مَیں اسے کیا بتاؤ ں کہ بچوں کے صفحات و رسائل میں میرا بچپن مجھے تلاش کرتا ہے جہاں پر کوئی پہیلی مجھ سے سوال کرتی ہے۔ تو کبھی صوبی تبسم کا ٹوٹ بٹوٹ میرا منتظر ہوتا ہے۔ کوئی کہانی مجھے بتاتی ہے کہ مَیں تمہارا ماضی ہوں۔ کہیں پر کوئی کارٹون مجھے یاد دلاتا ہے کہ مَیں ٹی وی پر گھنٹوں کارٹون بھی دیکھا کرتا تھا۔ اقوالِ زریں ہوں یا معلومات عامہ کا حصہ ہر جگہ مجھے گزرا ہوا زمانہ یاد آتا ہے۔
یہ تمہید مَیں نے اس لیے باندھی ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی 10 کو مسعود احمد برکاتی ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ ماہنامہ ہمدرد نونہال کے مدیرِ اعلا تھے۔ یاد رہے اگر مَیں ہمدرد نونہال مستقل مطالعہ نہ کرتا تو ”مدیرِ اعلیٰ“ یوں لکھتا لیکن ہمدرد نونہال کی خوبی یہ ہے کہ اس کے آخری صفحہ پر ہر ماہ مشکل الفاظ کے معنی ”نونہال لغت“ کے نام سے دیئے جاتے ہیں۔ درست اُردو کرنے کے لیے بڑوں اور بچوں کے لیے یہ صفحہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ 15 اگست 1930ءکو ریاست ٹونک میں پیدا ہونے والے مسعود احمد برکاتی 1952ءہمدرد کے ساتھ وابستہ ہوئے اور مرتے دَم تک اسی ادارے میں کام کرتے رہے۔
سیّد مسعود احمد برکاتی نے ایک جگہ لکھا ”ہمدرد کی انتظامی میٹنگ جاری تھی۔ خزانہ دار کے قریب ایک بہت ہی موٹی فائل موجود تھی۔ حکیم محمد سعید نے اس سے پوچھا کہ یہ فائل کس چیز کی ہے؟ خزانہ دار نے وہ فائل اٹھائی۔ حکیم صاحب کے سامنے رکھی اور کہنے لگا یہ بچوں کے ماہنامہ ہمدرد نونہال کی دس سالہ آمدن کا حساب کتاب ہے۔ اس کے مطابق اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ جبکہ آمدن صرف چند لاکھ ہے۔ یہ رسالہ ایک عرصے سے مسلسل خسارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری تجویز ہے کہ ہمدرد نونہال کو فوری بند کر دینا چاہیے۔ یہ سنتے ہی حکیم سعید کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور فائل کو ایک طرف سرکایا اور خزانہ دار کو مخاطب کر کے بولے ”اس رسالے سے جو ہر ماہ منافع ہوتا ہے اسے سمجھنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ اگلی فائل لائیے۔“
حکیم محمد سعید نے اُسی رسالے کی ادارت مسعود احمد برکاتی کے سپرد کر رکھی تھی۔ وہ اگرچہ ہمدرد صحت کے مدیر تھے لیکن ہمدرد نونہال کو مرتب کرنا اپنے لیے اعزاز جانتے تھے۔ جس زمانے میں حکیم محمد سعید نے نونہال کی اشاعت کا اجراءکیا تو بچوں کے دیگر رسائل میں جادو ٹونوں، جنوں، پریوں اور ڈاکے چوری چکاری کی کہانیاں شائع کی جاتی تھیں۔ ایسے ماحول میں نونہال واجد رسالہ تھا جس نے پہلے دن سے ہی ایک منفرد رسالے کا اعزاز حاصل کیا۔ بقول سعدیہ راشد کے ”نونہال وہ واحد رسالہ تھا جس میں تاریخی، سبق آموز اور مسلمانوں کے کارہائے نمایاں پر کہانیاں شائع کی جاتی تھی۔نونہال نے بچوں کو اُردو لکھنے اور بولنے کا سلیقہ سکھایا۔“
چند برس پہلے کی بات ہے کہ کراچی سے محترمہ سعدیہ راشد نے پورے پاکستان سے منتخب لکھنے والوں کو ہمدرد یونیورسٹی اور دیگر منصوبوں کو دیکھنے کی دعوت دی۔ کراچی جاتے ہیں محترمہ سعدیہ راشد سے مَیں نے درخواست کی کہ مَیں ہمدرد کے تمام مسودے دیکھنا چاہوں گا۔ لیکن اس کے علاوہ جناب مسعود احمد برکاتی کی قدم بوسی بھی کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا آپ کی یہ خواہش آج عشائیے میں پوری کر دی جائے گی جو مَیں نے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ رات آٹھ بجے جب ہم محترمہ سعدیہ راشد کے گھر گئے تو وہاں پر دیگر اہلِ علم کے ساتھ مسعود احمد برکاتی سے ملاقات ہوئی تو مَیں نے ملتان سے ہم رکاب رؤ ف مان سے کہا میرا دورہ تو پہلے دن ہی مکمل ہو گیا کہ حکیم محمد سعید شہید کی بیٹی سعدیہ راشد کے بعد مسعود احمد برکاتی سے ملاقات کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ کراچی کے اس دورہ کے دوران ہم نے ہمدرد یونیورسٹی میں بیت الحکمت لائبریری بھی دیکھی جس کے بعد احساس ہوا کہ حکیم محمد سعید اپنی زندگی میں لائبریری قائم کر کے ایک ایسا کارنامہ کر گئے تھے جو رہتی دنیا تک تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتا رہے گا۔
مسعود احمد برکاتی نے بچوں کے لیے اُردو میں پہلا سفرنامہ لکھا۔ انہوں نے اُسی ملاقات میں بتایا کہ ہم ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے حکیم محمد سعید کے ہمراہ پیرس گئے۔ پیرس کی خوبصورتی دیکھ کر حکیم محمد سعید نے مجھے کہا برکاتی صاحب جب تک آپ یہاں موجود ہیں اور جو جگہیں دیکھ رہے ہیں اس کے نوٹس بناتے جائیں کہ واپس جا کر آپ نے ہمدرد نونہال کے لیے بچوں کے لیے پہلا سفرنامہ لکھنا ہے۔ واپس آ کر مَیں نے بچوں کے لیے پہلا سفرنامہ ”دو مسافر دو ملک“ کے نام سے لکھا۔ 1983ءمیں یہ سفرنامہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو اس کی مقبولیت آج بھی جاری و ساری ہے۔
مسعود احمد برکاتی کی پوری زندگی محنت سے عبارت رہی۔ چودہ برس کی عمر میں اپنے دادا علامہ حکیم برکات احمد کے نام سے ”البرکات“ ایک ماہنامہ شائع کرنا شروع کیا۔ اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی کے علاوہ طب کی تعلیم بھی حاصل کی۔ 16سال کی عمر میں مسعود احمد برکاتی نے انجمن ترقی اُردو کے رسالے معاشیات میں مضامین لکھنے شروع کر دیئے۔ یہ مضامین اتنے مقبول ہوئے کہ بابائے اُردو مولوی عبدالحق بھی ان کی تحسین کیے بغیر نہ رہتے۔ آپ کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے زیرِ اہتمام سیامی کے شریک مدیر کا اعزاز بھی دیا گیا۔ اے پی این ایس کی طرف سے 2012ءمیں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔
جیسا کہ مَیں کالم کے آغاز میں تحریر کر چکا ہوں کہ وہ ہر ماہ ہمدرد نونہال کے آخری صفحہ پر ”نونہال لغت“ شائع کیا کرتے تھے اس بارے میں ان کے شاگرد اور کولیگ لکھتے ہیں: ”انہیں اُردو زبان سے عشق تھا۔ اگر ان کے سامنے کوئی غلط اُردو بولے یا تلفظ بگاڑ دے تو فوراً اس کی تصحیح کر دیتے تھے۔ دہلی اور لکھنؤ کی مستند لغات انہیں تقریباً زبانی یاد تھیں۔ شاعر نہ ہونے کے باوجود انہیں نظم کے مصرعوں کے وزن کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوتا تھا۔ ہر روز کئی اخبارات خریدتے تھے۔ اپنے ماتحتوں کے دوست تھے بشرطیکہ وہ اپنے کام سے انصاف کرتے ہوں۔ اگر کسی کو کئی بات سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو وہ اسے ہر زاویے سے سمجھانے کی کوشش کرتے۔ ایک ہی بات کو بار بار اسی طرح سمجھاتے تو یوں لگتا جیسے وہ پہلی مرتبہ سمجھا رہے ہیں۔ ان کی زبان سے کبھی یہ نہیں سننے کو ملتا کہ مَیں یہ بات تو پہلے ہی سمجھا چکا ہوں۔
مسعود احمد برکاتی اپنی طبعی عمر پوری کر کے اگلے جہان کے باسی ہو گئے لیکن مجھے اب بھی کبھی اپنے بچپن میں جانا ہو گا تو مَیں سب سے پہلے ہمدرد نونہال کو خریدوں گا کہ مجھے معلوم ہے اس کے مختلف صفحات پر آج بھی میری دلچسپی کی بہت سی چیزیں موجود ہیں۔ اگرچہ حکیم محمد سعید سے لے کر مسعود احمد برکاتی سب ہی ہم سے جدا ہو گئے لیکن ان کے لکھے ہوئے لفظ آج بھی مجھے اس بچپن میں لے جاتے ہیں۔ اس دور میں لے جانے پر مَیں بچوں کے لیے لکھنے والے تمام اہلِ قلم کا شکر گزار ہوں کہ جو مجھے سہانے موسموں میں لے جاتے ہیں۔ ورنہ مَیں عمر کے جس حصے میں ہوں وہاں پر صرف فکر اور تفکر ہوتا ہے۔ یہ بچوں کے ادیب اور بچوں کے رسائل مجھے اور زندہ رہنے کی اُمنگ دیتے ہیں۔ ورنہ جینے کے لیے بہت سی شاعری اور نثر بھی اب متاثر نہیں کرتے۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker