سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

عمران خان ، پائیدار شادی کا نسخہ اور شاہ محمود قریشی : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

شادیاں تو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے میدان میں سیّد یوسف رضا گیلانی، سیّد فخر امام اور ملک محمد رفیق رجوانہ نے بھی اپنے بیٹوں کی کیں لیکن جو شہرت مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپنے بیٹے زین قریشی کی شادی کے موقع پر ملی وہ بہت کم سیاست دانوں کے حصے میں آتی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے اکلوتے بیٹے مخدومزادہ زین قریشی کے ولیمے کے لیے اُس یونیورسٹی کا انتخاب کیا جس کا نام بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ہے اور وہ خود حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی کے سجادہ نشین ہیں۔ اِدھر اُنہوں نے شادی کارڈ تقسیم کرنے شروع کیے تو دوسری جانب میڈیا والوں نے اپنے تیر کمان کس لیے۔ سب سے پہلے تو صحافیوں نے اس بات کا کھوج لگایا کہ یونیورسٹی کے کھیلوں کے میدان میں ولیمہ کرنے کی مخدوم صاحب نے کیا ادائیگی کی ہے۔ بینک سے سلپ نکلوائی گئی تو معلوم ہوا کہ دس ہزار سے زیادہ مہمانوں کے لیے جس دعوتِ ولیمہ کا اہتمام کیا گیا ہے یونیورسٹی والوں کے حساب میں صرف پانچ ہزار ہی آئے۔ یقینی طور پر ماضی میں اتنی ہی رقم یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم اپنے بیٹوں علی حیدر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی اور علی قاسم گیلانی کے ولیمے پر یونیورسٹی کا میدان استعمال کرنے پر دی ہو گی۔ پھر فخرامام اور عابدہ حسین کے بیٹے سیّد عابد امام کے ولیمے کے لیے بھی اسی میدان کا انتخاب کیا گیا جس کی فیس پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہو گی۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے جب اپنے بیٹے کا ولیمہ اسی جگہ پر کیا تو ہمیں یقینِ کامل ہے کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنی جیب سے پانچ ہزار روپے ادا کر کے اُن کا گھر پورا کر دیا ہو گا کہ چانسلر سے کوئی وائس چانسلر یہ جرات کر ہی نہیں سکتا کہ وہ یونیورسٹی کے گراؤ نڈ کا کرایہ وصول کرے۔ ان تینوں سیاستدانوں کے بچوں کے ولیمے اہتمام سے ہوئے، ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اخبارات میں کوئی سکینڈل نہ آیا۔ لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی کی خوشی اُس وقت خراب ہوئی جب الیکٹرانک میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا میں اس بات پر واویلا کیا گیا کہ انہوں نے صرف پانچ ہزار روپے ادا کر کے ہزاروں لوگوں کا کھانا کیوں کیا؟ نہ صرف شاہ محمود قریشی زیرِ عتاب آئے بلکہ جس کیٹرنگ والے نے وہاں پر کھانے کا اہتمام کیا اُس کو نہ صرف ایف بی آر نے ٹیکس کا نوٹس دیا بلکہ اسی کمپنی کے اگلے پچھلے کھاتے بھی کھول دیئے گئے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی کے بیٹے کے ولیمے کا تذکرہ تو ابھی جاری ہے ہم آپ کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ماضی میں ملتان کے ہر سیاستدان نے مختلف کھیل کے میدانوں میں اپنے بچوں کے ولیمے کیے۔ اور اُن کھیل کے میدانوں کی خوب تباہی بربادی بھی ہوئی لیکن کبھی اُن میدانوں کی خرابی پر کوئی آواز بلند نہ کی گئی۔ ایم۔سی۔سی گراؤ نڈ تو اکثر سیاستدانوں کی وجہ سے قبضے میں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں اب کوئی بھی کھیل کا میدان اس حالت میں نہیں کہ اس پر نوجوان میچ وغیرہ کھیل سکیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس ولیمے سے پہلے ایک بیان کے ذریعے یہ بھی تسلی کرائی کہ مَیں نے ولیمے کے لیے کھیل کے جس میدان کی دیوار کو توڑا ہے ولیمے کے بعد اُس کو تعمیر کروا دوں گا۔ لیکن یار لوگ مخدوم شاہ محمود قریشی کی خوشی کو خراب کرنے پر تلے ہوئے تھے اور اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ جس دن مخدومزادہ زین قریشی کا ولیمہ تھا تمام راستے یونیورسٹی کی جانب رواں دواں تھے۔ عمران خان بھی آئے ہوئے تھے، جہانگیر ترین اُن کے ہمرکاب تھے۔ جاوید ہاشمی بھی شاہ محمود کو مبارکباد دینے پہنچے۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مخدوم شاہ محمود قریشی کے بلاوے پر موجود تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اس موقع پر عمران خان ایک اور دھرنا دیتے کہ
”میری بھی شادی کراؤ “
لوگ بھی موجود تھے، سارا میڈیا بھی کور کر لیتا، عمران خان کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی دُعا کرا دیتے تو شاید اُن کی دُعا کی برکت سے اُن کی ”شادی“ پائیدار رہ جاتی۔ برا ہو جہانگیر ترین کا جس نے ہزاروں کے ولیمے میں عمران خان کو زیادہ دیر ٹکنے نہیں دیا۔ اِدھر جاوید ہاشمی خراماں خراماں سٹیج کی طرف رواں دواں تھے اُدھر عمران خان کالی عینک لگائے جہانگیر ترین کے جہاز کی طرف بڑھے اور یہ جا وہ جا۔ گورنر پنجاب یہ سب منظر دیکھ کر خوش ہوتے ہوں گے کیونکہ مخالف پارٹی میں اتنے اختلافات پڑ چکے ہیں۔
اس سارے گھڑمس کو دیکھتے ہوئے چند دنوں بعد مخدوم جاوید ہاشمی نے جب اپنی سب سے چھوٹی نورِ چشمی کی شادی کا پروگرام طے کیا تو اس کے لیے اُنہوں نے یونیورسٹی کے میدان کی بجائے آرمی کے ایک کلب کا انتخاب کیا۔ جس کا مخدوم جاوید ہاشمی کو یہ فائدہ ہوا کہ اُن کی بیٹی کی شادی جلسہ عام میں تبدیل نہ ہوئی البتہ صدرِ پاکستان ممنون حسین کی شرکت کی وجہ سے شادی میں سیکورٹی ہائی الرٹ رہی۔ سیکورٹی ہائی الرٹ کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ شادی کے موقع پر سیاست کے مخالفین یوسف رضا گیلانی، مخدوم شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی ایک ہی میز پر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے رہے وگرنہ عام حالات میں یہ تینوں ایک جگہ پر اکٹھے کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ گزشتہ دنوں میرے بیٹے جاذب حسن کے نکاح پر یہ تینوں نہ صرف موجود تھے بلکہ ان تینوں کو اکٹھے دیکھ کر خوش ہونے والوں میں سیّد فخر امام اور گورنر پنجاب رفیق رجوانہ بھی شامل تھے۔ اس لیے اس شہر کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ لوگوں کی خوشی اور غمی سانجھی ہیں۔ اس شہر کی ماضی کی روایات کو دیکھتے ہوئے ہمیں اچھا نہیں لگا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے اکلوتے بیٹے کی دعوتِ ولیمہ پر جس طرح کی بدمزگی پیدا کی گئی وہ اس شہر کا خاصا نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاست دان لوگوں کی غمی خوشی پر پہنچے اُس کے ہاں جب خوشی ہو تو اُس رنگ میں بھنگ کسی کے اشارے پر ہی ڈالا گیا ہے۔ اس بات کی تحقیق اب مخدوم شاہ محمود قریشی ہی کریں کہ اُن کے مخالفین کے ہاتھ میں رنگ اور بھنگ کس نے فراہم کی؟ بہرحال ہم اس کالم کے ذریعے مخدوم شاہ محمود قریشی اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اُن کے بچوں کی شادی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں کہ اُن کی آئندہ زندگی خوشیوں سے آباد و شاد رہے۔ آمین!
( بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker