شاکر حسین شاکرکالملکھاری

جگن ناتھ آزاد اور حفیظ جالندھری کے قومی ترانے (1) : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

ہمیشہ کی طرح اگست کا آغاز ہوتے ہی قومی ترانے کے متعلق بحث کا آغاز ہو گیا۔ ہر سال تحقیق کے نام پر قومی ترانے کے مسئلے پر نت نئی چیزیں سامنے آ جاتی ہیں اور اس سال تو یہ ہوا کہ زیڈ اے بخاری کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آ گئی کہ بخاری صاحب نے سورة فاتحہ کو قومی ترانہ بنانے کی تجویز دی تھی صرف وہ ہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر میری اس تجویز کو پذیرائی نہیں ملتی تو مختلف شعراءکرام کو چاہیے کہ وہ مل کر قومی ترانہ لکھیں۔ ان کی اس تجویز کو بھی حفیظ جالندھری نے مسترد کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حفیظ جالندھری یہ چاہتے تھے کہ قومی ترانے کے شاعر کے طور پر صرف ان کا ہی نام آئے۔ حفیظ جالندھری نہ صرف اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوئے بلکہ اس زمانے کے بے شمار شعراءکرام کے تحفظات کے باوجود ان کے لکھے ہوئے ترانے کو قومی ترانے کا درجہ مل گیا۔ ویسے بھی حفیظ جالندھری نے جو قومی ترانہ لکھا وہ اس اعتبار سے اہم ٹھہرا کہ اس میں انہوں نے اپنی شاعری کی تمام تر مہارت کو استعمال کیا۔ قومی ترانے کی تخلیق کے بارے میں اس برس ظفر محمود نے ایک تحقیقی مضمون لکھا جس میں انہوں نے یہ بتایا پاکستان کے لیے کابینہ نے 27 فروری 1948ءکے اجلاس میں قومی ترانے کی ضرورت کو پہلی مرتبہ محسوس کیا اور اس کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ قومی ترانہ لکھنے اور اس کی دھن بنانے والے کے لیے پانچ پانچ ہزار بطور انعام کے دیئے جائیں گے۔ اور یہ اس رقم کے لیے احمد اے آر غنی نے حکومت کو یہ پیشکش یہ کہہ کر دی کہ وہ اپنے والدِ گرامی کی یاد میں یہ رقم دینا چاہتے ہیں۔ ترانے کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس میں جہاں اور بے شمار تجاویز سامنے آئیں وہاں پر زیڈ اے بخاری نے کہا کہ قومی ترانے کے لیے سورة فاتحہ بہترین ترانہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جس پر اجلاس کے شرکاءنے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ہم سینما گھروں اور دیگر تفریحی تقاریب میں قومی ترانے کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس تجویز کے علاوہ کلامِ اقبال کی کسی نظم کو بھی قومی ترانہ بنانے کا سوچا گیا لیکن اس پر بھی عمل نہ کیا جا سکا۔ مسلسل کابینہ کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد جب قرعہ حفیظ جالندھری کے نام نکلا اور وہ قومی ترانے کے خالق ٹھہرے۔ بظاہر یہ کہانی بڑی مختصر لگتی ہے لیکن قومی ترانے کی تخلیق کے پس منظر میں ملک کے نامور صحافی و تجزیہ نگار خان رضوانی کے بڑے بیٹے جمشید رضوانی نے اپنا ایم۔اے کی سطح کا لکھا ہوا جگن ناتھ آزاد پر تحقیقی و تنقیدی مقالہ کتابی صورت میں ہمیں پیش کیا۔ وہ مقالہ جموں کشمیر سے شائع ہوا۔ چونکہ وہ مقالہ جگن ناتھ آزاد پر لکھا گیا تھا اس لیے انہوں نے جمشید رضوانی کا لکھا ہوا وہ مقالہ جموں کشمیر سے ہی شائع کروایا۔ جگن ناتھ آزاد میانوالی میں پیدا ہوئے۔ جن کے والد تلوک چند محروم ہند اسلامی تحریک کے ایسے نمائندے تھے جنہوں نے اُردو زبان میں تحقیق کی نئی جہتوں کو فروغ دیا۔ جگن ناتھ آزاد نے اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھایا۔ پاکستان بننے کے بعد وہ کچھ عرصہ ہندوستان اور بعد میں جموں کشمیر میں قیام پذیر ہو گئے۔ اقبال شناسی اُن کا پسندیدہ موضوع رہا۔ شاعر ہونے کے علاوہ وہ ادیب اور نقاد کے طور پر جانے جاتے تھے۔ جگن ناتھ آزاد کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُن کو بچپن ہی سے غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کا موقع ملا اور انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں میانوالی میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں خوشی محمد ناظر کی نظم ’جوگی‘ شروع سے لے کر آخر تک زبانی سنائی جس کو سننے کے بعد صدرِ تقریب ولسن نامی ایک انگریز نے انہیں ایک روپیہ انعام بھی دیا۔ اس انعام نے ان کو ادبی تقریبات کی طرف راغب کر دیا۔ کلورکوٹ کے سکول سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد جگن ناتھ آزاد کو رام موہن رائے ہندو سکول میانوالی میں داخل کروا دیا گیا۔ میٹرک کے بعد ایف۔اے DAV کالج پنڈی جبکہ بی۔اے گورڈن کالج پنڈی سے کیا۔ بی۔اے کے بعد ان کے والد تلوک چند محروم نے جگن ناتھ آزاد کو ایم۔اے کے لیے لاہور بھجوا دیا۔ جہاں انہوں نے دیال سنگھ کالج میں ایم۔اے فارسی میں داخلہ لیا۔ یہاں پر ان کی ملاقاتیں ڈاکٹر سیّد عبداﷲ، صوفی غلام مصطفی تبسم اور سیّد عابد علی عابد سے ہوئیں۔ فارسی میں داخلے کی وجہ سے وہ اقبال کے فارسی کلام کو رغبت سے پڑھنے لگے۔ جس پر انہوں نے اقبال پر دورانِ طالب علمی بےشمار مقالات تحریر کیے۔ لاہور میں قیام کے دوران جب قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو بقول جگن ناتھ آزاد کے ریڈیو پاکستان لاہور سے ان کا لکھا ہوا ایک ترانہ نشر ہوا اس بارے میں وہ خود کہتے ہیں
”مَیں ابھی تک لاہور میں تھا اور اس ارادے کے ساتھ اپنے گھر رام نگر میں مقیم تھا کہ مَیں لاہور چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ اس وقت پاکستان بھر میں غالباً تین ریڈیو اسٹیشن تھے لاہور، ڈھاکہ اورپشاور۔ رات کو جب قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو ریڈیو پاکستان لاہور سے میرا قومی ترانہ نشر ہوا۔ دوسری جانب تصویر کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ دوسرے دن پندرہ اگست کو جب ہندوستان کا جشنِ آزادی منایا جا رہا تھا تو آل انڈیا ریڈیو دہلی سے حفیظ جالندھری کا ترانہ اے وطن، اے انڈیا، اے بھارت اے ہندوستان نشر ہو رہا تھا۔“
جگن ناتھ آزاد نے اس بارے میں اپنے ایک انٹرویو جو 16 تا 31 اگست 2004ءدہلی سے شائع ہونے والے 15روزہ انگریزی جریدے The Milli Gazette میں شائع ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ ”اگست 1947ءمیں جب پورا برصغیر فسادات کی لپیٹ میں تھا، مَیں لاہور میں مقیم تھا اور ایک ادبی جریدے سے وابستہ تھا۔ میرے تمام رشتہ دار بھارت جا چکے تھے۔ اس لیے مَیں لاہور ہی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ 9 اگست 1947ءکی صبح مجھے ریڈیو لاہور میں کام کرنے والے ایک دوست نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح کا پیغام پہنچایا جس میں کہا گیا کہ قائد اعظم چاہتے ہیں کہ آپ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ تحریر کریں۔ مَیں نے جواب میں کہا میرے لیے 5 دن میں ایسا کرنا مشکل ہو گا۔ لیکن میرے دوست نے مجھے قائل کرنے کے لیے یہ کہا آپ کو یہ حکم ملک کی سب سے بڑی شخصیت کی طرف سے دیا گیا ہے اس لیے آپ انکار نہ کریں جس کے بعد مَیں نے ترانہ لکھنے پر حامی بھر لی۔ اس انٹرویو میں ان سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ آخر پاکستان کے پہلے گورنر جنرل آپ ہی سے قومی ترانہ کیوں لکھوانا چاہتے تھے۔ جس پر جگن ناتھ آزاد نے کہا اس کا جواب آپ قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی اس تقریر میں دیکھ سکتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا آپ دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نہ ہندو ہندو رہے گا اور نہ مسلمان مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے۔“
جگن ناتھ آزاد نے اسی انٹرویو میں مزید بتایا کہ مَیں نے یہ ترانہ 5 دن میں لکھ دیا تھا۔ جس کے بعد وہ ترانہ قائداعظم کو روانہ کر دیا جنہوں نے محض چند گھنٹوں میں اسے منظور کر لیا۔ اسے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان میں ریکارڈ کیا گیا جو پاکستان کے ابتدائی ڈیڑھ برس قومی ترانے کے طور پر نشر ہوتا رہا۔ جمشید رضوانی جنہوں نے جگن ناتھ آزاد پر اپنی ایم۔اے کی سطح کا تحقیقی تھیسس تحریر کیا اس میں وہ ترانہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہیں۔ لیکن ہمیں اس ترانے کا متن برادرم عقیل عباس جعفری کی اس موضوع پر اہم کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ“ میں مل گیا۔ جگن ناتھ آزاد کا وہ متنازعہ قومی ترانہ عقیل عباس جعفری کے شکریئے کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:
اے سرزمینِ پاک
ذرّے ترے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب ترا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
اے سرزمینِ پاک
اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سربلند
پہنچا سکے گا اس کو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا علَم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک
اے سرزمینِ پاک
اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محوِ پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اب ملک کی دولت سے فیض یاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک
اے سرزمینِ پاک
اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہِ ترقی پہ تیز گام
آزاد، بامراد، جواں بخت، شاد کام
اب عطر بیز ہیں جو ہوائیں تھیں زہر ناک
اے سرزمینِ پاک!
جگن ناتھ آزاد کا یہ ترانہ اگرچہ 1947ءکا ہی لکھا ہوا لگتا ہے لیکن یہ ترانہ ان کے کسی شعری مجموعے میں شامل نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر قائداعظم محمد علی جناح نے انہی سے پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کی فرمائش کی تھی تو کیا اس وقت ملک میں ان سے بڑے شاعر موجود نہیں تھے۔ اس کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ 1947ءمیں ملک میں جگن ناتھ آزاد سے بڑے شاعر موجود تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جگن ناتھ آزاد کو یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت محسوس کیوں ہوئی؟ انہوں نے انتقال سے پہلے جو دی ملی گزٹ میں انٹرویو دیا اس میں انہوں نے یہ کہا میرا ترانہ کراچی ریڈیو سے نشر ہوا جبکہ کراچی ریڈیو کا قیام 14 اگست 1948ءکو وجود میں آیا۔ ریڈیو پاکستان کے پہلے کنٹرولر نیوز حامد جلال اپنے مضمون مطبوعہ ماہِ نو نومبر دسمبر 1976ءمیں لکھتے ہیں ”14 اور 15 اگست کی درمیانی رات آدھی رات سے تقریباً دس منٹ پہلے اس اعلان کے پچاس منٹ بعد جب لاہور نے آخری مرتبہ آل انڈیا ریڈیو کی حیثیت سے اعلان کیا۔ ریڈیو پاکستان کا عارضی ابتدائی نغمہ جسے خواجہ خورشید انور نے مرتب کیا نشر ہوا۔ جب آدھی رات سے ایک منٹ پہلے اس نغمے کی آواز آہستہ آہستہ کم ہونے لگی تو فضا میں ایک اعلان ہوا ”آدھی رات کے وقت کے پاکستان کی آزاد اور خودمختار مملکت وجود میں آئے گی“ انگریزی میں کے ریڈر ظہور آزاد تھے جو سولہ سال بعد ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ اُردو میں یہ اعلان سیّد مصطفی علی ہمدانی کی جانی پہچانی آواز میں ہوا اس کے بعد مولانا زاہر القاسمی نے قرآن پاکس کی سورة فتح کی پہلی آیات کی تلاوت کی۔ اس تلاوت کے بعد ریڈیو پاکستان کا آرکسٹرا بجایا گیا جس کی نئی ترتیب خواجہ خورشید انور نے کی۔ سامعین طربیہ پروگرام سننے کے لیے تیار ہو چکے تھے اس لیے سنتو خان اور ان کے ہمنواؤ ں نے قوالی میں علامہ اقبال کی ایک نظم پیش کی۔“ (جاری ہے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker