سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

رحمٰن فراز : نامور شاعر و صحافی کی جیون کہانی ۔۔ شاکر حسین شاکر

1990ءکی دہائی کا زمانہ ہے۔ ملتان میں پرائیویٹ طور پر ابھی ہسپتالوں کا رواج اتنا نہ ہوا تھا کیونکہ سرکاری ہسپتال لوگوں کی بہتر انداز سے خدمت کر رہے تھے۔ ایسے میں چوک کچہری ملتان کے نزدیک ڈاکٹر عبدالرشید سیال کا ہسپتال بھی نجی طور پر طبی خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس ہسپتال میں رحمن فراز انتظامی امور سرانجام دیتے تھے اور ہماری اُن سے گاہے گاہے ملاقاتیں ادبی تقریبات میں ہو جایا کرتی تھیں۔ چھریرا بدن، نکھرا رنگ، سر پر ہیٹ، پینٹ کوٹ اور سکوٹر کی سواری۔ یہ رحمن فراز کی پہچان تھی۔ جب وہ گفتگو کرتے تو اس میں جھنگ کی زبان کی جھلک نمایاں ہوتی۔ رحمن فراز کتاب نگر پر فنون باقاعدگی سے خریدنے آیا کرتے۔ فنون اس اعتبار سے خوش قسمت رسالہ تھا جس کو ارشد ملتانی، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر سے لے کر نعیم طارق تک سب ہی اپنے گھر کی زینت بناتے تھے۔ اکثر یہ بھی ہوتا کہ رحمن فراز کتاب نگر کے باہر اپنا سکوٹر سٹارٹ رکھتے، سکوٹر کا ہارن بجا کے اشارے سے دریافت کرتے فنون آیا کہ نہیں۔ اگر فنون نہ آیا ہوتا تو اگلے لمحے وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتے۔
رحمن فراز نظم کے باکمال شاعر تھے۔ ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ ایسے شاعر ہیں جو اپنی نظمیں زبانی یاد رکھتے تھے۔ نہ ان کے ہاتھ میں بیاض ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کاغذ۔ ملتان میں ہسپتال کی نوکری سے پہلے وہ صحافت سے وابستہ رہے۔ امریکہ سے صحافت کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ چونکہ انگریزی اور اُردو پر ان کو عبور تھا، مطالعہ بھی خوب کرتے تھے۔ اسی مطالعہ نے انہیں ایک ایسی محبت کی طرف دھکیل دیا جو شادی پر جا کر تمام ہوئی۔ رحمن فراز کا تعلق چونکہ جھنگ سے تھا اس لیے وہ مجید امجد، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر عبدالسلام اور شیر افضّل جعفری کا ذکر گاہے گاہے کرتے۔ جس زمانے میں اُن کا ملتان میں تعارف ہوا اس زمانے میں ڈاکٹر عرش صدیقی، فرخ درانی، فیاض تحسین بھی نظمیں کہہ رہے تھے۔ ایسے میں رحمن فراز کا اپنی نظموں کے ساتھ پہچان کرانا اگرچہ مشکل کام تھا لیکن انہوں نے بہت جلد ملتان کے ادبی منظرنامے میں اپنی جگہ بنا لی۔ ڈاکٹر انوار احمد نے اُن کی نظم کے بارے میں لکھا: ”نظم کا یہ شاعر مجید امجد اور ن م راشد کی طرح چاہتا ہے کہ اُسے توجہ سے رک رک کے تھوڑا غور کر کے پڑھا جائے تاکہ نظم کا تاثر دیر تک آپ کا محاصرہ کیے رکھے۔“
26 اکتوبر 1936ءکو پیدا ہونے والے رحمن فراز کا تعلق سیال راجپوت گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی۔ ایف اے گورنمنٹ کالج جھنگ جبکہ بی اے 1954ءمیں ایمرسن کالج ملتان سے کیا۔ بی۔اے کے بعد فراغت کے دنوں میں کچھ عرصہ وہ غیرملکیوں کو اُردو پڑھاتے رہے۔ 1957ءسے 1966ءتک امریکہ میں یونیسکو میں ملازمت کی۔ اس دوران انہوں نے 1964ءمیں ڈپلومہ آف جرنلزم کیا۔ واپس آ کر پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے انگریزی کیا تو کوہستان سے اپنی صحافت کا آغاز کیا۔ کوہستان کے بعد پاکستان ٹائمز اور مساوات سے بھی وابستہ رہے۔ 1979ءمیں ملتان آ کر سیال میڈیکل سنٹر سے وابستہ ہوئے جہاں سے انہوں نے 1989ءمیں فراغت حاصل کرنے کے بعد ایل ایل بی کے لیے لاءکالج میں داخلہ لیا۔ اس پورے عرصے میں وہ اپنے گھر میں طلبہ و طالبات کو انگریزی بھی پڑھاتے رہے۔ ان کے انتقال سے قبل ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر روبینہ ترین کی خواہش پر ڈاکٹر وسیم عباس نے اُن کی کلیات مرتب کی جو اُن کے انتقال سے چند ماہ پہلے ہی منظرِ عام پر آئی۔ رحمن فراز نے شاعری کا آغاز غزل سے کیا لیکن بعد میں اُن کو نظم کہنے میں آسانی محسوس ہوئی۔ اُن کی شاعری پر احمد ندیم قاسمی سے لے کر بے شمار بڑے لکھنے والوں نے رائے دی جس پر وہ ہمیشہ خوش ہوتے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جس کو ملتان میں بہت زیادہ پذیرائی تو نہ مل سکی لیکن نظم کے حوالے سے انہیں اپنے عہد کے بڑے شعرا کرام سے کسبِ فیض کا موقع بھی ملا جس کا اظہار وہ گاہے گاہے کیا کرتے تھے۔ شہر کے مشاعروں میں تو کم جانا پسند کرتے تھے لیکن پھر بھی کبھی کبھار وہ اپنی محبوب بیگم کو اکیلا چھوڑ کر گھر سے باہر آ جایا کرتے تھے۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے کبھی اس محرومی کا ذکر کسی سے نہ کیا یہی وجہ ہے کہ اہلیہ کے انتقال تک وہ اپنی بیماری کے باوجود اُن کی بھرپور خدمت کرتے رہے۔
ڈاکٹر وسیم عباس اُن کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں ”انہوں نے اپنے وسیع مطالعے کو اپنی تخلیق کی بنیاد بنایا۔ اُردو، پنجابی، فارسی، انگریزی ادب کے مطالعے نے اُن کے کلام کو جِلا بخشی اور رحمن فراز کے کلام کا ایک ایسا رنگ متعین ہوا جو ان کا اپنا رنگ ہے۔“ ان کی کلیات میں اُن کے چار شعری مجموعے ”حرف جو گونجتی صدا ہیں“ (1958ءتا 1972ء)، ”اجل کی تماشاگہوں میں“ (1972ءتا 1989ء)، ”مسافر دشتِ ظلمت کے“ (1989ءتا 2000ء) اور ”اب خزاں کی شام ہے“ (2000ءسے 2007ء) شامل ہیں۔ رحمن فراز کو اُن کی اہلیہ کے انتقال کے بعد اُن کے بھتیجے شورکوٹ لے گئے جہاں پر ان کا 15 جولائی 2018 ء کو انتقال ہوا۔ افسوس یہ ہے کہ ان کے جنازے میں ملتان سے کوئی شریک نہ ہو سکا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker