ادبشکور پٹھانلکھاری

خدا حافظ لیاقت بھاؤ ۔۔ شکور پٹھان

داماندگی ہی ٹھہری حاصل سفر حضر کا
تم رک کے تھک گئے ہو، ہم چل کے تھک گئے ہیں
ہم بھی کیا لوگ ہیں ۔ جو چیز انتہائی بے ثبات ہے اسے جی سے لگائے رکھتے ہیں اور جو سو فیصد یقینی ہے اس کا یقین نہیں کرتے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ میں نے ٹوٹا پھوٹا لکھنا شروع کیا۔ اپنے شہر کے بارے میں لکھا تو پھر اپنی برادری بھی یاد آئی جسے شہر میں کوئی نہیں جانتا۔ اور کوئی اور جانے یا نہ جانے میں خود بھی اپنے لوگوں کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ اپنی کوکنی برادری کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو اس بات کی کرید ہوئی کہ کیا ہم میں کوئی مشہور بھی ہوا ہے یا نہیں ۔انٹرنیٹ پر اسی کھوج میں تھا کہ کوکن کے حوالے سے ایک نام سامنے آیا ‘ عاصم شادانی ‘ ۔ مزید پڑھا تو پتہ چلا کہ یہ اب ‘ لیاقت علی عاصم کہلاتے ہیں اور سبد گل، آنگن میں سمندر، رقص وصال، نشیب شہر، دل خراشی، باغ تو سارا جانے ہے، نیش عشق ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں۔

دوست جانتے ہیں کہ مجھے شعروشاعری کا دماغ نہیں۔ لیکن مجھے خود پر حیرت ہوئی کہ اپنے واجبی سے شعری ذوق کے باوجود میں کیسے اب تک اتنے بڑے شاعر کے نام سے ناوا قف تھا۔ اور شعر بھی ایسے منفرد کہ صاف معلوم ہوتا کہ یہ کوئی معمولی شاعر نہیں ہیں۔

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں


اور

بے بسی کا زہر سینے میں اتر جاتا ہے، کیا
میں جسے آواز دیتا ہوں، وہ مرجاتا ہے کیا
اور اس سے بڑی بات یہ کہ ایک غیر اہل زبان اردو لغت بورڈ کا رکن تھا اور کس کی جگہ پر بیٹھا تھا، جون ایلیا کی جگہ پر، جس کا وہ خود پرستار تھا۔ ایک احساس تفاخر کے ساتھ میں نے لیاقت علی عاصم کا تذکرہ اپنے مضمون میں کیا۔ تب مجھے علم ہوا کہ لیاقت علی عاصم تو میرے بہت سے اہل ادب دوستوں کے دوست ہیں۔ ایسے ہی کسی دوست نے میرا مضمون لیاقت صاحب کو ‘ ٹیگ ‘ کردیا۔ لیاقت صاحب نے شکریہ کے لئے جوابی تبصرہ کیا۔۔دوچار ےتبصروں میں ہم مزید کھلتے گئے اور کچھ ہی دنوں میں من و تو کا فرق مٹ گیا۔ لیاقت علی عاصم صاحب سے لیاقت بھائی اور پھر لیاقت ‘ بھاؤ’ بن گئے۔ ہمارے درمیان شعر وادب کی بات تو نہیں ہوتی بلکہ پہلی بار میں نے کسی سے اپنی مادری زبان میں بات کی۔ اردو رسم الخط میں کوکنی لکھنا بہت مشکل ہے لیکن لیاقت بھائی بڑی آسانی سے کوکنی کو اردو میں منتقل کردیتے۔ہم مزے مزے کی باتیں کوکنی میں کرتے۔ میں جب بھی کچھ لکھتا تو لیاقت بھائی کو ضرور شریک کرتا اور ان کی چند سطری بلکہ ایک سطری تعریف میرے لئے سند کا درجہ ہوتی۔ اور مجھے خوشی یہ ہوتی کہ لیاقت بھائی مجھے ‘ تم’ کہہ کر مخاطب کرتے اور میں اپنائیت کے اس احساس سے جھوم جھوم جاتا۔

تب ہی یہ بھی پتہ چلا کہ لیاقت بھائی ایک بہترین مصور بھی ہیں۔ ان ہی کے ذ ریعے غلام عباس کمانگر صاحب سے بھی تعارف ہوا جو کہ مصوری میں ایک معتبر نام ہیں۔ اور جیسے لیاقت بھائی کی شاعری زندگی سے قریب ہے ایسے ہی ان کی مصوری بھی زندگی کی زندہ تصویر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اس منظر کا ایک حصہ ہیں ۔ ان ہی دنوں لیاقت بھائی ایک مشاعرے کے لئے بحرین جانے والے تھے۔ میرے بڑے چچا ساٹھ کی دہائی سے بحرین کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال ہیں بلکہ یوں کہئیے کہ ان سرگرمیوں کی جان ہیں۔ میں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ کراچی سے ایک کوکنی شاعر بھی آرہے ہیں اور بہت بڑے شاعر ہیں ۔آپ کو ان سے مل کر بہت خوشی ہوگی۔ احمد فراز، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی اور دیگر شعراء چچا کے قریبی دوستوں میں سے ہیں ۔ میں نے لیاقت بھائی کو بھی چچا کا نمبر دیا۔ اور یہ ناممکن تھا کہ لیاقت بھائی جیسا شاعر ہو اور وہ بحرین میں نور پٹھان سے نہ ملے۔ لیاقت بھائی نے اپنی اور نور پٹھان صاحب کی جو تصویر فیس بک پر لگائی وہ اپنی کہانی خود سنا دیتی ہے۔ لیاقت بھائی سے فیس بک پر تو بات ہوتی لیکن ملاقات کی کوئی صورت نہ بنتی۔ میں نے اپنی کتاب ‘ میرے شہر والے ‘ کی تعارفی تقریب میں شرکت کی دعوت دی لیکن لیاقت بھائی اپنی والدہ کی علالت کی وجہ سے شامل نہ ہوسکے۔ پھر خدا نے میری سن لی۔ نومبر 2017 میں بحرین میں نور پٹھان صاحب کی ثقافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف کے لئے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے امجد اسلام امجد، زاہد فخری اور لیاقت علی عاصم شریک ہوئے۔ یہ میرے چچا کی زندگی کا ایک یادگار دن تھا اور میں اپنے دیگر کزنز کے ساتھ بحرین پہنچا۔ جہاں چچا کی اس پذیرائی کی خوشی تھی وہیں مجھے لیاقت بھائی سے ملاقات کا بھی بے چینی سے انتظار تھا۔ اور جب تقریب سے کچھ دیر قبل لیاقت بھائی امجد صاحب اور زاہد فخری کے ساتھ ہال سے متصل کمرے میں تشریف لائے تو وہاں ان سے یوں بغل گیر ہوا جیسے دو بھائی مدتوں بعد ملے ہوں۔ بد قسمتی سے وہاں بہت زیادہ باتیں کرنے کا موقع نہیں ملا کہ دیگر لوگ بھی تھے اور زیادہ تر رسمی باتیں ہوتی رہیں یا تصویریں لیتے رہے۔ میری خوش نصیبی تھی کہ مجھے بھی اس اسٹیج پر آنے کا موقع ملا جہاں لیاقت بھائی اور امجد اسلام امجد جیسے شعراء موجود تھے۔ مجھے کل ایک خوشگوار حیرت ہوئی جب میں نے فیس بک پر ان کی پروفائل پر اپنی تصویر دیکھی۔
ابھی پچھلے جمعہ ہی میں کراچی سے واپس آیا تھا کہ یہاں آکر لیاقت بھائی کی پوسٹ سے خبر ملی کہ وہ ہسپتال میں ہیں۔ یہ پوسٹ انہوں نے خود لگائی تھی۔ نجانے میرا دل کیوں پریشان سا ہوگیا۔۔پھر پرسوں جناب محمد خورشید عبداللہ صاحب نے لیاقت علی عاصم کی ایک منفرد ویڈیو لگائی تو میں نے اسے احباب کے ساتھ اس غرض سے شئیر کیا کہ انہیں لیاقت بھائی کی علالت کی اطلاع دے سکوں۔ کل ان کے صاحبزادے نے بتایا کہ منگل سے لیاقت بھائی بے ہوش ہیں۔ دل میں عجیب سے خیال آنے لگے۔ دوستوں سے ایک بار پھر ان کی صحتیابی کی دعا کی درخواست کی اور ہر دل سے لیاقت بھائی کے لئے دعا نکل رہی تھی۔ آج صبح نماز کے لئے نکل رہا تھا کہ اپنی اسی پوسٹ پر طاہر مسعود صاحب کا تبصرہ نظر آیا کہ لیاقت بھائی ہم میں نہیں رہے۔ لیاقت بھائی ہم میں رہیں گے وہ ہم سے ہمارے دلوں سے دور نہیں جاسکتے۔ ایسی زندہ اور ایسی سچی شاعری کرنے والا کبھی نہیں مرسکتا۔۔
لیکن وہ اب نہیں ہیں۔
سمجھ نہیں آتا کہ یہ دکھ ایک بڑے شاعر کے جانے کا ہے یا ایک بڑے بھائیوں جیسے دوست کو کھونے کا ہے۔ اور میں نے تو لیاقت بھائی کو ابھی کچھ سال پہلے ہی پایا تھا۔ اور اتنے جلدی کھو بھی دیا۔رب کریم ان کی خطاؤں سے درگذر کرے، ان کی منزلیں آسان کرے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوار خاص میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ اور ان کے تمام دوستوں اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
تم رک کے تھک گئے ہو، ہم چل کے تھک گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔
خدا حافظ لیاقت بھاؤ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker