اہم خبریںسندھشاعری

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا :نام ور شاعر لیاقت علی عاصم رخصت ہو گئے

نام ور غزل گو شاعرلیاقت علی عاصم ہفتہ کی صبح کراچی میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 68 برس تھی اور کینسر کا شکار تھے ۔
ان کا شمار ان غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جن کا اپنا ڈِکشن، وِژن اور استعاراتی بیانیہ تھا ۔ لیاقت علی عاصم کے کئی شعر زبان زد عام تھے لیکن یہ شعر تو ان کی پہچان بن گیا تھا

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں



لیاقت علی عاصم 14 اگست 1951 کو کراچی کے نواحی جزیرے منوڑہ میں پیدا ہوئے اسی تناظر میں ان کے ایک شعری مجموعے کا نام” آنگن میں سمندر ہے“ ان کے تمام شعری مجموعے ’’یک جاں‘‘ کے زیرِ عنوان کلیات کی صورت بھی شائع ہو چکے ہیں ۔ لیاقت علی عاصم کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوئے مجموعوں کے سرنامے کچھ یوں ہیں، سبدِ گل (1970ء)، آنگن میں سمندر ( 1988ء)، رقصِ وصال (1996ء)، نشیبِ شہر (2008ء)، دل خراشی ( 2011ء)، باغ تو سارا جانے ہے ( 2013ء) ، نیشِ عشق (2017ء) ۔ انتقال سے ایک ہفتے تک شایع ہونے والا شعری مجموعہ ’’میرے کَتبے پہ اُس کا نام لِکھو‘‘ شائع ہوا ۔۔۔



لیاقت علی عاصم اردو ڈکشنری بورڈ میں 1980ء سے 2011ء تک علم و ادب کی خدمت کرتے رہے اور بحیثیت ایڈیٹر اردو ڈکشنری بورڈ ریٹائر ہوئے۔ تین عشروں تک انہوں نے اردو ڈکشنری بورڈ میں خدمات انجام دیں۔ ان کے کل آٹھ شعری مجموعے اردو دُنیا میں مقبول ہوئے۔ مرحوم نے ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں سوگواران میں چھوڑیں ۔۔ انہیں ہفتہ کو نماز ظہر کے بعد محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker