نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے موقع کی ایک تصویر شئیر کی ہے۔ اس تصویر میں وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کو چینی صدر کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ حکومت کے سربراہ کی دوسرے خود مختار ملک سربراہ کے ساتھ ملاقات کے دوران آرمی چیف کی موجودگی متعدد سوالات سامنے لاتی ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال ریاست پاکستان کی ہئیت و اختیار کے بارے میں ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین گئے ہوئے ہیں۔ اس اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بیس ممالک کے سربراہان مملکت یا حکومت شریک تھے۔ البتہ شہباز شریف شاید وہ واحد وزیر اعظم ہوں گے جنہیں اپنے ملک کے آرمی چیف کو ساتھ رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس تصویر سے پاکستان میں اقتدار کی تقسیم کے اصول پر سنگین اور قابل غور سوالات سامنے آتے ہیں۔ موجودہ نظام حکومت پر تنقید کرنے والے یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ اصل حکمران کون ہے؟ تاہم کبھی کبھار آئی ایس پی آر کی جانب سے اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ فوج کاسیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بلکہ بعض اوقات اسی عذر پر متعدد بار سیاسی نوعیت کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا گیاہے۔
فوج کا واضح مؤقف ہے کہ اسے سیاسی معاملات سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ منتخب حکومت البتہ جب اسے کوئی ڈیوٹی تفویض کرتی ہے یا اس سے کسی اہم معاملہ پر مشورہ مانگا جاتا ہے تو فوجی قیادت اسے حکم سمجھ کر عمل کرتی ہے۔ اس مؤقف میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عوام اور میڈیا شہباز شریف کی حکومت کو جائز منتخب حکومت سمجھیں کیوں کہ فوج بھی اس حکومت کے زیر فرمان ہے۔ حکومت بھی شاید اسی اصولی مؤقف کو پیش کرنے کی اپنی سی کوشش کرتی ہے لیکن کسی حکومتی لیڈر کو کبھی یہ اصولی بات اس صراحت سے کہنے کا حوصلہ نہیں ہوتا جیسا فوج کے ترجمان بیان کر دیتے ہیں۔ اس بیانیہ کی روشنی میں جو تصویر بنتی ہے ، اس میں ملک ایک منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی حکومت چن چکا ہے۔ عوام نے فروری 2024 میں منعقد ہونے والی جن پارٹیوں کو ووٹ دیے تھے، قومی اسمبلی میں ان کی اکثریت نے شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ اب وہ ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہیں اور پاک فوج اور اس کے قائدین پوری طرح منتخب حکومت کے ساتھ ہیں۔ سیاسی وفوجی اشتراک کی اس خوبصورت تصویر میں یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں جمہوریت ہی فعال نظام کے طور نافذ العمل ہے اور باقی ساری ریاستی مشینری جس میں فوج بھی شامل ہے، اس کے ساتھ خوش دلی سے بھرپور تعاون کررہی ہے۔ اسی لیے حکومتی ترجمان اسے ملک و قوم کے لیے ایک بہتر آپشن بتاتے ہیں۔
تاہم اس کے برعکس ایک دوسری تصویر اپوزیشن کے بیانیہ میں سامنے آتی ہے۔ ا س کے مطابق فوج ہی ملکی اقتدار پر قابض ہے اور اس قبضہ کو برقرار رکھنے کے لیے وہ ہر ہتھکنڈا اختیار کرنے پر آمادہ ہوتی ہے۔ اپنی مرضی کی حکومت لانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہی پارٹی حکومت سنبھالے بلکہ وہی شخص وزیراعظم کے منصب پر فائز ہو جو فوج کا چہیتا ہو۔ یعنی جس پر فوجی قیادت مکمل بھروسہ کرسکے۔ یہ معاملات چونکہ دروں خانہ طے پاتے ہیں، اس لیے بھروسہ و اعتماد کی نوعیت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ سیاسی معاملات میں فوج کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک تھیوری ممتاز محقق عائشہ صدیقہ نے 2007 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ملٹری انک میں پیش کی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ملکی معیشت میں فوجی اداروں کی حصہ داری ہے اور یہ شرح اس قدر زیادہ ہے کہ اسے اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی سرمایہ دار یا صنعت کار کی طرح سیاسی اثر و رسوخ کی ضرورت رہتی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق پاکستانی سیاست پر اس وقت تک فوجی اثر و رسوخ ختم نہیں ہوسکتا جب تک ملکی معیشت میں فوج کی حصہ داری کم نہ ہو۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ ملکی سیاسی مباحث میں اس نظریہ پر زیادہ بحث مناسب نہیں سمجھی جاتی۔ اس کے برعکس ایک پیج کا نظریہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فوج ملک کا ایک طاقت ور ادارہ ہے جس کے پاس ہر طرح کی صلاحیت ہے ۔ اس لیے منتخب حکومت اور فوج اگر مل کر کام کریں تو ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کرسکتا ہے۔ موجودہ سیٹ اپ میں بھی اسی دلیل کو بنیادی خوبی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ عسکری مقاصد اور ملکی سلامتی کے مقصد سے قائم ہونے والی فوج اگر سیاسی معاملات میں حصہ دار بن جائے گی تو اس سے ایک تو ملک کی عسکری صلاحیت یعنی سرحدوں کی حفاظت متاثر ہوگی ۔ دوسرے ملکی آئین فوج کے لیے سیاسی معاملات میں کوئی کردار تفویض نہیں کرتا۔ اس لیے سیاسی فیصلوں میں شرکت اور حصہ داری پر اصرار کے ذریعے ملک میں ایک غیر آئینی روایت فروغ پارہی ہے۔
ان مباحث میں اپنی پسند کے مطابق مؤقف اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن پاکستان میں عام طور سے یہی تاثر مضبوط ہے کہ ملک میں کوئی حکومت بھی فوج کی مرضی و منشا کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر حکومت کو بہر صورت فوج کو ساتھ ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ یہ تعاون رضاکارانہ اور کسی حد تک آئینی حدود کے مطابق ہو تو معاملات میں زیادہ کجی محسوس نہ کی جائے لیکن اکثر صورتوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی بھی منتخب حکومت بہرصورت فوجی قیادت کی رائے جاننے اور اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ایسی کسی رائے سے گریز کی صورت میں یا تو پانامہ ہوجاتا ہے یا پھر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے۔ یہ تاثر پیدا ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہؤا ہے کہ ملکی معاملات میں عوام کی دلچسپی کم ہونے لگی ہے۔ وہ اب اپنی ضرورتوں اور فائدے کی طرف توجہ مبذول رکھتے ہیں۔ جنگ کے دنوں میں وقتی طور سے جذباتی ماحول ضرور دیکھنے میں آیا لیکن سیلاب کی موجودہ صورت حال میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے امیر و غریب کو ملک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ انہیں اوّ ل و آخر اپنے مفادات کا تحفظ ہی مقصود ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اب یہ تاثر محض پاکستانی عوام تک ہی محدود نہیں رہا۔ بلکہ بین الاقوامی سطح پر دوست دشمن یکساں طور سے یہ باور کرنے لگے ہیں کہ پاکستان کی اصل حکمران فوج ہے اور اگر کسی معاملہ پر قابل یقین اعانت و وعدہ درکار ہو تو فوجی قیادت ہی سے بات چیت کی جائے اور معاملات طے کیے جائیں۔ یوں تو یہ معاملات کسی نہ کسی صورت گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی ڈھب پر چلتے رہے ہیں لیکن اب یوں لگتا ہے کہ سیاسی اور اہم قومی معاملات پر فوج کی گرفت مضبوط تر ہوچکی ہے ۔ اور وزیر اعظم کی قیادت میں پوری کابینہ کٹھ پتلی اور حکم بجا لانے والے افراد کے گروہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ معاملہ اگر تاثر تک محدود رہے تو ایک ڈھونگ بنا رہتا ہے۔ مباحث اور سیاسی بات چیت میں اس کے پہلوؤں پر نقد و نظر ہوتی رہتی ہے لیکن منظر نامہ پر فیصلوں میں شریک اور معاملات طے کرنے والی قوت کے طور پر سول قیادت ہی دکھائی دیتی ہے۔ اب یہ تصویر تبدیل ہورہی ہے۔
صورت حال کی بہت واضح تبدیلی کی پہلی نشانی جون میں آرمی چیف کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیکھنے میں آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں لنچ پر مدعو کیا۔ پاکستانی حکومت نے کبھی یہ وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس ملاقات کی اجازت کیوں دی گئی اور اس کا کیا مقصد تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ملکی معاملات پر بات کرنے یا پالیسی امور طے کرنے کا کوئی آئینی اختیار نہیں ہے۔ اب چین میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں فیلڈ مارشل کی موجودگی نے واضح کیا ہے کہ ملکی معاملات پر کس کی گرفت کتنی مضبوط ہے۔ اس سیاسی و آئینی بحث سے قطع نظر کہ پاکستان میں کس حکومت ہونی چاہئے اور کسے عالمی سطح پر ملک کی نمائیندگی کا حق حاصل ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب بین الاقوامی فورمز پر اور عالمی لیڈروں سے ملاقاتوں میں نمائیندگی کے سوال پر ابہام دکھائی دے گا تو اس سے ریاست پاکستان کی اتھارٹی، یک جہتی اور ایکتا متاثر ہوتی ہے۔پاکستانی مصنوعات
شنگھائی تعاون تنظیم متعدد ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ کا ایک غیر عسکری ادارہ ہے۔ اس موقع پر ہونے والی سرگرمیوں میں پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ آرمی چیف کی شرکت سے نہ صرف ریاستی نظام کی ناکامی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ریاست کی وجود کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دشمن اس شبہ سے فائدہ اٹھائیں گے اور دوست حیران و پریشان ہوں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

