محترم ڈاکٹر حمید رضا صدیقی صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو اپنی ذات میں انجمن بھی ہیں اور ایک ادارہ بھی۔ ملتان میں مطالعہ پاکستان کے حوالے سے ایک ہی ہستی اب ہمارے درمیان موجود ہے جس کا کہا سند کا درجہ رکھتا ہے۔
ویسے تو نصاب میں پڑھائے جانے والے مطالعہ پاکستان پر مغالطہ پاکستان کی پھبتی بھی کسی جاتی ہے اور ایک حد تک یہ طنز اس لیے بھی درست ہے کہ وطن عزیز میں نصاب ہمیشہ سے ریاست کے بیانیے کو مدَ نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا۔ الف انار کے ساتھ ب بندوق کا سبق ہم نے بچپن میں پڑھا تھا۔ اور ساتھ میں یہ درس بھی دیا جاتا تھا کہ ”بیٹا فوجی بن موجی نا بن“ ۔ اور تو اور چند برس قبل ہماری بیٹی نے ایک روز سبق یاد کرتے ہوئے ہم سے سوال کیا تھا کہ ”بابا جنرل ضیا تو بہت نیک حکمران تھے، لیکن آپ کبھی بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے“ ۔ معلوم یہ ہوا کہ مطالعہ پاکستان میں ایک پورا باب جنرل ضیا کی شان میں شامل کیا گیا تھا۔ ہم نے بہت وضاحت سے اسے حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن بچوں نے تو نصاب کو ہی حرفِ آخر سمجھنا ہوتا ہے۔
بات دوسری جانب چلی گئی وگرنہ ہم ڈاکٹر حمید رضا صدیقی صاحب کا ذکر کر رہے تھے اور یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ صدیقی صاحب نے مطالعہ پاکستان کے ابواب میں ایسی آمیزش کر کے اسے مغالطہ پاکستان نہیں بننے دیا۔ ہاں بعض مقامات پر خاموشی اختیار کر لی یا حوالہ دے کر آگے بڑھ گئے۔نظریاتی طور پر ہم ان سے کئی جگہ متفق بھی نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارا ڈاکٹر انور سدید، محترم اسلام شاہ صاحب اور رفیق ڈوگر صاحب کے ساتھ محبت اور احترام کا رشتہ تھا اور محبت بھرے رشتے میں نظریات کبھی آڑے نہیں آئے تھے۔ ہم بات ڈاکٹر حمید رضا صدیقی صاحب کی کر رہے تھے اور آپ کو بتا رہے تھے کہ ہم جنہیں ہیرو سمجھتے ہیں ڈاکٹر صاحب ان میں سے بعض کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح ان کے بعض ہیروز ہمارے لیے شاید ہیرو نہ ہوں لیکن ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیں اختلاف کا حق دیتے ہیں۔
ادبی بیٹھک جب فعال تھی ڈاکٹر صاحب ہماری درخواست پر اس میں باقاعدگی سے تشریف لاتے اور اگر تاخیر ہو بھی جاتی تو آ کر خاموشی سے پچھلی نشستوں پر بیٹھ جاتے۔ ہم نے ایک دو بار ان کی موجودگی میں ایسی جذباتی گفتگو بھی کی جس سے انہیں اختلاف تھا لیکن انہوں نے صدارتی خطبے کے دوران ہم سے بہت تحمل کے ساتھ اختلاف کیا اور ہمیں کسی حد تک قائل کرنے کی بھی کوشش کی۔ بڑے لوگوں کا بات سمجھانے کا یہی انداز ہوتا ہے۔ایک ماہر تعلیم اور استاد کی حیثیت سے ان کا طویل کیریئر ہے۔ وہ ملتان اور بہاول پور کے کالجوں میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ایس ای کالج بہاولپور اور ایمرسن کالج ملتان میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے، ڈائریکٹر کالجز ملتان کے طور پر بھی کام کیا، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی سنڈیکیٹ کے رکن اور نظریہ پاکستان فورم کے چیئرمین بھی ہیں۔
صدیقی صاحب ملتان کی چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ انہوں نے کوہستان اور جسارت اخبار میں عامل صحافی کے طور پر کام کیا۔ 1970 کے عشرے میں منعقد ہونے والی علمی و ادبی تقریبات کی روزنامہ جسارت سمیت مختلف اخبارات کے لیے رپورٹنگ کی۔ اور اس زمانے کی ادبی ڈائریوں کو بعد ازاں کتابی صورت میں شائع کر کے ایک پورے عہد کو محفوظ کر دیا۔ ہم انہیں متحرک دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔ ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران ملتان کے ادیبوں نے احتجاجی جلوس نکالا تو ڈاکٹر صاحب اس میں پیش پیش تھے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں جلسے کیے تو حمید رضا صدیقی صاحب ان جلسوں میں سٹیج پر موجود تھے۔ پاکستان کی تاریخ سمیت مختلف موضوعات پران کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی لائبریری بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی پرانی کتابوں اور اخبارات کی فائلوں کا شاندار ذخیرہ ان کے پاس بہت ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔ ہمیں جب بھی مہلت ملتی ہے یا کوئی رہنمائی حاصل کرنا ہوتی ہے تو ہم بلا جھجک انہیں فون کرتے ہیں۔ اور ان سے ملنے چلے جاتے ہیں۔
اگست کا مہینہ قیام پاکستان کا مہینہ تو ہے ہی لیکن حمید رضا صدیقی صاحب بھی اسی اگست کی اٹھارہ تاریخ کو پیدا ہوئے۔ ان کی سالگرہ سے چند روز قبل ہم اپنی نئی کتاب انہیں پیش کرنے گئے تو انہوں نے اپنی ایک کتاب ”قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟“ ہمیں عنایت کی۔ یہ کتاب قلم فاؤنڈیشن کے روحِ رواں برادرم عبدالستار عاصم بھی ہمیں دو ماہ قبل ارسال کر چکے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کے دستخط کے ساتھ ملنے والی یہ کتاب ہمارے لیے بہرحال ایک اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔136 صفحات پر مشتمل یہ کتاب تاریخ کے طالب علموں کے لیے انتہائی معلومات افزا ہے۔ یہ ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے جس میں قائد اعظم کی زندگی کے مختلف ادوار، ان کی تقاریر، پیغامات اور ان کی زندگی کے دیگر پہلوؤں کو بہت خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی زندگی کے بعض پہلو ایسے ضرور ہیں جن پر روشنی ڈالی جانی چاہیے تھی۔
” قائد اعظم اور اردو زبان“ کے عنوان سے جو باب شامل کیا گیا اس میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائد اعظم کے اس خطاب کا حوالہ تو موجود ہے جو انہوں نے 21 مارچ 1948 میں ریس کورس گراؤنڈ ڈھاکہ میں کیا تھا اور کہا تھا ”اردو ہماری قومی زبان ہے بعض شرپسند اس کی آڑ میں ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے“ ۔ یہ حوالہ دیکھ کر ہمیں یاد آیا کہ اسی جلسے میں قائد کی تقریر کے دوران ہی بے چینی پیدا ہو گئی تھی، لیکن پھر ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کے دوران 21 مارچ کو آپ نے اس بات کا اعادہ کیا تو معاملات ہاتھ سے ایسے نکلے کہ 1952 میں 21 فروری کو ہی طلبہ کا وہ قتل عام ہوا کہ جس کے بعد پاکستان دو لخت ہو گیا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے اور بہت سے عوامل بھی ہیں لیکن مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد قومی زبان اردو ہی بنی تھی۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 فروری قومی زبانوں کے دن کے طور پر اسی سانحے کی یاد میں منایا جاتا ہے لیکن ہم پاکستان میں اس الم ناک واقعے کا اس روز ذکر بھی نہیں کرتے۔
اسی کتاب میں ہمیں قائد کے سفرِ آخرت والا باب پڑھ کر ان کی زندگی کے وہ آخری ایام یاد آ گئے جو انہوں نے زیارت ریذیڈنسی میں گزارے تھے، وہاں لیاقت علی خان کی آمد پر محترمہ فاطمہ جناح کی ناگواری اور پھر کراچی میں قائد کی ایمبولنس کی پراسرار خرابی کا حوالہ بھی اگر اس کتاب میں شامل ہوتا تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی اور نئی نسل کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی آ جاتا۔ لیکن ہماری اپنی رائے یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے عنوان کے مطابق اختصار کے ساتھ کام لیا۔ اگر ہر تفصیل بیان کرتے تو کئی متنازع واقعات بھی کتاب کا حصہ بن جاتے۔ ڈاکٹر صاحب جیسی مرنجاں مرنج شخصیت نے خود کو ہمیشہ تنازعات سے دور رکھا اور اسی لیے ان واقعات سے صرِفِ نظر بھی کیا۔ مجموعی طور پر یہ ایک اہم کتاب اور شاندار تحقیقی کاوش ہے۔ صرف طالب علموں کو ہی نہیں آج کے حکمرانوں کو بھی اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے کہ اپنا جغرافیہ درست رکھنے کے لیے ہمیں اپنی تاریخ سے آگاہ رہنا چاہیے اور مغالطوں کو درست کر لینا چاہیے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)

