افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد کا افسانہ : بھوت بنگلے کی پگلی

وہ ایک متوسط لوگوں کا رہائشی علاقہ تھا جہاں گھر سیدھی قطاروں میں آمنے سامنے تعمیر کئے گئے تھے ہر دو قطاروں کے درمیان ایک پکّی سڑک تھی، لوگ آسودہ حال اور عمومی تعلیم یافتہ تھے۔ یہاں کے باسیوں کی اکثریت کئی دھائیوں سے ساتھ رہ رہی تھی اور لوگوں کا ملنا جلنا رشتہ داروں جیسا ہو کر رہ گیا تھا، یہاں سارے مکان پرانے تعمیر شدہ تھے، صرف ایک پلاٹ باقی تھا جو بھوت بنگلے کے نام سے مشہور تھا، اس پلاٹ کے بڑے سے لکڑی کے دروازے پر ایک زنگ آلود تالا پڑا تھا، اونچی اونچی دیواریں تھیں، اندر ایک برگد کا پرانا درخت اور اس کے نیچے ایک کٹیا بنی ہوئی تھی، مالکان کبھی بھولے سے بھی نہیں آتے تھے، یہاں کے رہائشی ہمیشہ اس پلاٹ کے بارے میں تجسس کا شکار رہتے تھے اور فارغ وقت میں کبھی کبھی اس پلاٹ کے متعلق افواہوں پر بھی گفتگو کیا کرتے تھے۔ ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ پلاٹ کے سامنے ایک گاڑی کھڑی ہے اور چند لوگ اس کا تالا کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ انہوں نے پلاٹ خرید لیا ہے اور اب اسے بنانا چاہتے ہیں، چند ہفتوں میں تعمیراتی سامان آنا شروع ہوگیا، سیمنٹ، لوہا، بجری کے انبار لگنا شروع ہوگئے، دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک چھوٹا سا خوبصورت مکان بن کر تیار ہوگیا۔ سب لوگ اس کی جدید تعمیر اور بہترین نقشہ کی تعریف کیا کرتے تھے کہ دیر سے بنا مگر بنا زبردست ہے۔
مکان کی فنشنگ مکمل ہونے کے چند دن بعد گھر کے سامنے ایک چھوٹے ٹرک سے سامان اترا، کیونکہ نئے مکان میں آسائش کا سارا سامان بھی نیا ڈالا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ آنے والے کسی سے کم نہیں ہیں۔ سامان اترنے کے بعد ایک نیلی بڑی سی کار آکر رکی اس میں سے تین لوگ اترے، ایک مرد جو اپنے چال ڈھال سے بڑے سرکاری افسر لگتے تھے، ایک دراز قد اور جاذ ب نظر خاتون، اور ایک اٹھارہ بیس سال کی نہایت ہی حسین سی لڑکی جو غالباً ان کی بیٹی ہوگی۔
محلے کا ہر گھر متجسس تھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ مگر سب کے ارمانوں پر نئے آنے والوں کے سرد روئیے سے اوس سی پڑ گئی ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتے مگر کمال حیرت بات یہ تھی کہ ان کی بیٹی ہر وقت دروازے پر ہی ٹنگی رہتی تھی۔ جب دیکھو وہ دروازے پر موجود اور ہر آنے جانے والے کو مسکرا مسکرا کردیکھتی جیسے بات کرنا چاہ رہی ہو، محلے کے لڑکے بالے تو گویا، ایک عجیب ہیجان کا شکار ہوگئے تھے، وہ لڑکے جو کبھی ایک ایک مہینہ نہیں نہاتے تھے اب باقاعدگی سے نہانے لگے تھے، لباس پر بھی خاص توجہ دی جانے لگی تھی، بال بھی قرینے سے ترشے ہوئے اور سنورے ہوئے رہنے لگے۔ پوری گلی ایک عجیب سی خوشگوار تبدیلی کا شکار تھی، وہ لڑکے جو کبھی بازار جانے کو تیار ہی نہیں ہوتے اب بہانے بہانے سے کام ڈھونڈا کرتے تھے، ایک دھنیا کی گڈی تین تین بار لینے جاتے تھے اور ہر بار وہ نئے گھر والی لڑکی کے پاس ذرا دیر رک کر بات چیت کرنے کی کوشش کرتے اور آگے بڑھ جاتے۔ وہ بھی خوب ہنس ہنس کر اور ہاتھ نچا نچا کر ان سے باتیں کرتی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے گلی میں نوجوانوں کا کوئی خاص تہوار چل رہا ہے۔
شاہ رخ بھی ان ہی میں سے ایک تھا۔ وہ جیسے ہی اس لڑکی کے گھر کے قریب پہنچا ا س لڑکی نے اسے آواز دیکر کر بلا لیا اور کہنے لگی کے کیا میں آپ کو صابو کہہ کر پکار سکتی ہوں۔ شاہ رخ ایک لمحے کو سٹپٹا گیا کیونکہ وہ اس حملے کیلئے ذہنی طور پر بالکل تیار نہ تھا۔ کہنے لگا کہ کیوں ؟ آپ مجھے میرے نام سے کیوں نہیں پکار سکتیں، تو وہ کہنے لگی کہ آپ کی شکل صابو سے بہت ملتی ہے اور مجھے صابو سے بہت پیار تھا اس لئے میں آپ کو صابو کہہ کر بلانا چاہتی ہوں، شاہ رخ صرف اتنا ہی سن پایا تھا کہ پیار تھا، بس فوراً ہی رضامندی ظاہر کردی اور کہا کہ جیسے آپ کو پسند ہو۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا، گلی سے نکل کر جب وہ چوک پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ محلے کے گیارہ میں سے نو لڑکے وہا ں جمع ہیں، وہ سب شاہ رخ کی جانب دیکھ کر کہنے لگے بھیا کیا بات ہے بہت خوش نظر آرہے ہو؟ کوئی خزانہ مل گیا کیا؟ تو شاہ رخ نے کہا کہ وہ جو نئے گھر میں لڑکی آئی ہے آج اس نے مجھ سے باتیں کی ہیں اور کہہ رہی تھی کہ وہ مجھے پیار سے صابو کہہ کر بلا نا چاہتی ہے، شاہ رخ کا اتنا کہنا تھا کہ قریب قریب سب ہی چیخ اٹھے کہ ہیں ایک اور صابو؟ شاہ رخ سٹپٹا سا گیا اور لگا پوچھنے کہ کیا معاملہ ہے، مگر لڑکوں نے ایک دوسرے کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے کہ نہیں نہیں کوئی بات نہیں ہے۔ واہ یار تم تو بڑے خوش قسمت ہو جو اتنی حسین لڑکی تمہیں لفٹ کرارہی ہے اور تمہارا پیار سے نام بھی رکھ دیا ہے۔ شاہ رخ اس دوران بالکل بھول ہی چکا تھا کہ وہ دھنیا لینے نکلا تھا لہذا معذرت کرکے آگے بڑھ گیا، اسے اپنے پیچھے سے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مگر وہ تو عجب نشہء دیدار میں گم تھا سو اس پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہو رہا تھا، وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ جب وہ دھنیا لیکر لوٹا تو اس نے لڑکی کو دروازے پر ہی پایا، شاہ رخ کی خوشی سے ٹانگیں کانپنے لگیں، اسے لگا جیسے وہ اس ہی کا انتظار کررہی ہے، جانے کیسے کیسے رنگین سپنے اس کی آنکھوں میں آنے لگے اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ آگے بڑھنے لگا کہ اس لڑکی نے آواز لگانا شروع کردی صابو۔۔ صابو۔۔ پچ پچ پچ صابو، شاہ رخ حیران تھا اسے لگا جیسے وہ کوئی پالتو جانور ہے جسے اس کی مالکن بلا رہی ہے۔ شاہ رخ نے شکایتی انداز میں کہا کہ یہ آپ کس طرح بلا رہی ہیں، ایسے تو کسی جانور کو بلایا جاتا ہے، تو وہ زور سے ہنسی اور کہنے لگی کہ تو؟؟؟ صابو بھی تو میرے بکرے کا نام تھا۔ اور شاہ رخ کے سارے رنگین سپنے ایک دم بلیک اینڈ وہائٹ ہوگئے۔ مگر شاہ رخ نے ہمت نہیں ہاری کہنے لگا کہ آپ بتائیں کہ آپ کا صابو کیسا تھا وہ بوو و بکرا تھا یا آختہ تھا، اس کے تاثرات ایک دم بدل گئے اور نہایت ناگواری سے بولی یہ سب کیا ہوتا ہے، شاہ رخ مار ے محبت کہا کہ دیکھو میں سمجھاتا ہوں، بووو بکرا وہ ہوتا ہے جس کی گدّی کے بال ہمیشہ کھڑے رہتے ہیں، زبان باہر نکلی ہوتی ہے اور وہ ہر آنے جانے والی شہ چاہے وہ کچھ بھی ہو، دیکھ دیکھ کر بووو بووو کی آوازیں نکالتا ہے اور اس زور سے نکالتا ہے کہ اس کا گلہ اکثر بیٹھ جاتا ہے جس کیلئے اس کے پاس اپنا سالٹ واٹر Salt Water ہوتا ہے جس سے وہ وقفے وقفے سے کلیاں کرتا رہتا ہے اور اگر گلہ زیادہ خراب ہو تو گھونٹ دو گھونٹ پی بھی لیتا ہے، اس کے باندھنے کی جگہ سے اس کی بد بو اس کے ذ بح ہوجانے کے کئی مہینے بعد تک نہیں جاتی، جبکہ آختہ ایک بیچارہ سا بکرا ہوتا ہے جو عموماً سر جھکائے اسرار خودی اور رموز بے خودی پر غور کرتا نظر آتا ہے یہ کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ اپنی دھن میں مگن رہتا ہے کبھی کبھی میں میں کرکے منمناتا ہے۔
ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ اندر سے آواز آئی ارے نازلی کس سے باتیں کر رہی ہو، تو وہ جھٹ سے بولی امّی میرا صابو ہے، تو اندر سے آواز آئی ہیں؟؟؟ ایک اور صابو؟؟؟ اور شاہ رخ بھونچکا سا کھڑا سوچنے لگا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ وہ ابھی خیالوں ہی میں گم ہی تھا کہ نازلی کی آواز نے اسے چونکا دیا، وہ نہایت ناگواری سے کہہ رہی تھی کہ اس کا صابو بالکل بھی ایسا نہ تھا جیسا اس نے بیان کیا ہے، وہ تو نہایت ہی نفیس اور شاندار تھا۔ پھر کہنے لگی کہ تم میرے صابو کا مذاق اڑا رہے ہو جاؤ میں تم سے نہیں بولتی، یہ کہہ کر اس نے زور سے دروازہ بند کردیا اور اندر چلی گئی، شاہ رخ کچھ دیر کھڑا کف افسوس ملتا رہا کہ خوامخواہ اپنی بقراطی جھاڑی اب تو سمجھو چڑیا ہاتھ سے نکلتی نظر آرہی تھی۔ وہ ناراض ہو کر چلی گئی تھی، شاہ رخ بھی مایوسانہ انداز میں اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔
دو تین دن بعد اچانک گلی میں شور سا بلند ہوا، شور کی سمت نازلی کے گھر کی جانب تھی، شاہ رخ دوڑ کر گلی میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ نازلی کے گھر کے سامنے ایک ہجوم سا لگا ہے وہ بھی لپک کر ہجوم میں شامل ہو گیا، دیکھا کہ نازلی نے اس کے دوست اقبال کو بالوں سے پکڑا ہوا ہے اور اس کی رج کر بینڈ بجا رہی ہے، اور کہہ رہی ہے کہ میں اسے نہیں چھوڑوں گی یہ میرے صابو کو برا کہتا ہے۔ یہ دیکھ کر شاہ رخ کا دل دھک سے رہ گیا اور وہ سامنے کھڑے خان بابا کے پیچھے ہوگیا اور خاموشی سے کھسک لینے میں ہی عافیت جانی۔
اتوار کی صبح ابھی شاہ رخ بستر میں تھا کہ ایک بار پھر شور کی آوازیں آنے لگیں، سمت اس بار بھی نازلی کے گھر کی تھی، پہلے تو شاہ رخ نے سوچا مٹًی پاؤ، مگر پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر دیکھنے نکل پڑا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ کیا دیکھتا ہے کہ نازلی کے گھر کے قریب پاگل خانے والوں کی ایمبولینس کھڑی ہے، ساتھ ہی سفید وردی میں کچھ زنانہ اور مردانہ اہلکار بھی کھڑے ہیں، نازلی کے والد نے نازلی کا بازو پکڑا ہوا ہے اور اسے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ مان ہی نہیں رہی تھی بس ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ میں پگلی نہیں ہوں، میں پگلی نہیں ہوں۔ یکایک اس کی نگاہ شاہ رخ پر پڑی اور وہ اپنے والد سے بازو چھڑا کر اس کے پاس آ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی صابو صابو دیکھو یہ سب مجھے پگلی کہتے ہیں، تم بتاؤ انہیں کہ میں پگلی نہیں ہوں، اس سے پہلے کہ شاہ رخ کوئی جواب دیتا بالکل قریب سے شاہ رخ کے والد کی آواز آئی،۔۔ بیٹا یہ صابو نہیں شاہ رخ ہے، نازلی نے شاہ رخ کے والد کو خونخوار نظروں سے دیکھا اور کہا انکل اس کی شکل تو خود اس سے نہیں ملتی شاہ رخ کیا سوچ کر نام رکھا ہے؟ یکا یک شاہ رخ کے والد ہسپتال کے عملے کی جانب مڑے اور کہا، بھائیو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لڑکی پگلی نہیں ہے۔ شاہ رخ ابّا کی بات کو بالکل نہ سمجھ سکا اور سوچتا رہا کہ ابّا نے ایسا کیوں کہا؟؟؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker