تجزیےسبط حسن گیلانیلکھاری

ڈان لیک ، سول بالادستی اور سیاست دان ۔۔ سبط حسن گیلانی

ڈان لیک بنیادی طور پر کوئی قومی سطح کا جرم تھا ہی نہیں۔ یہ ایک ایسا غبارہ تھا جس میں ہوا کی بجائے گیس بھری گئی۔ چنانچہ ایک خاص سطح تک اُڑنے کے بعد ہوا میں پھٹ گیا۔ میمو گیٹ بھی ایک ایسا ہی غبارہ تھا۔ بحر حال ایسے اقدامات خواہ کہیں سے بھی اٹھیں قابلِ مذمت ضرور ہوتے ہیں۔ غیر جمہوری قوتیں ایسے اقدامات کے ذریعے جمہورت کے گھوڑے کو لگام دینے کی کوشش کریں یا سول حکومتیں ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے قومی اداروں پر کیچڑ اُچھالیں، دونوں صورتوں میں ملک کی خدمت ہرگز نہیں ہوتی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک ٹویٹ آئی ، جس کے آخری مختصر سے جملے نے باشعور اور قانون پسند طبقات کو ہلا کر رکھ دیا۔ عوام کی اکثریت نے سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقام شکر ہے کہ اعلٰی عسکری قیادت نے بروقت مثبت سمت میں قدم اٹھا کر اس فتنے کا سر کچل دیا۔ اب اس معاملے پر سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے غیر سنجیدہ اور نامعقول رویوں کا ایک طوفان ہے جو برپا ہے۔ کوئی اسے نواز گورنمنٹ کی ایک اور فتح قرار دے رہا ہے، تو کوئی اسے عسکری قیادت کی پسپائی قرار دے رہا ہے۔

نہیں جناب نہ گورنمنٹ کی فتح ہے نہ عسکری ادارے کی شکست۔ فوج کی اعلٰیٰ قیادت نے آئین کی سپریم حیثیت کے سامنے سر جھکایا ہے۔کسی نام نہاد سیاست دان کے سامنے نہیں۔ اور آئین کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پسپائی کہاں سے ہو گئی؟۔ آئین کے سامنے سر جھکانا بڑائی ہوتی ہے پسپائی ہرگز نہیں۔ اور یہ جو اسے موجودہ حکومت کی فتح قرار دے رہے ہیں، کونسی فتح جناب؟۔ جو حکومت پانامہ جیسے بدنامی کے کیچڑ میں گلے گلے تک دھنسی ہوئی ہو اسے فاتح قرار دینا واقعی بڑے دل گردے کا کام ہے۔ معاشرے کے باشعور طبقات نے اس معاملے میں اپنی جو رائے دی وہ کسی حکومت کے حق میں نہیں تھی بلکہ آئین و قانون کے حق میں تھی۔ میں ایک معمولی سا لکھنے والا ہوں،  میرے دل میں موجودہ حکومت اور اس کے طرز حکومت کے بارے میں ماش کے دانے پر سفیدی جتنی بھی ہمدردی نہیں ہے۔ میں اور مجھ جیسے دوسرے باضمیر اور جمہوریت پسند لکھنے والے اس معاملے میں خدانخواستہ نہ فوج کے خلاف تھے نہ حکومت کے حق میں ، ہاں مگر آئین اور جمہوریت کے حق میں کھڑے رہے، یہی ہمارا فرض تھا۔ ایک سچا صحافی ایک باضمیر لکھنے والا ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ جو بندہ ان کے علاوہ کسی دوسری طاقت ، گروہ یا جماعت کے ساتھ نتھی نظر آئے وہ سب کچھ ہو سکتا ہے مگر سچا اور باضمیر صحافی نہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ایسے گھُس بیٹھیے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ جن کا صحافت سے براہ راست ایسا ہی تعلق ہے جیسا ہماری اشرافیہ کا شرافت سے، جناب زرداری کا بھٹو اور سوشل ازم سے اور میاں نواز شریف کا قائداعظم اور اقبال سے ہے۔ ان لوگوں کے دل میں جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے تل بھر بھی کوئی جگہ نہیں سوائے اپنے تر نوالوں کے۔ اب آہستہ آہستہ یہ لوگ عوام کی پہچان میں آ رہے ہیں۔ دوچار جو پہلی صف کے چینلوں پر مجمع لگایا کرتے تھے اب دکان بڑھا چکے ہیں۔ اب دُور کہیں چھوٹے چھوٹے جوہڑوں میں کچھ دیگر برساتی مینڈکوں کے ساتھ ٹراتے ہیں۔        ہمارے چکوال میں ایک ایسے دانشور بزرگ گزرے ہیں ، جن کی دانش زمین کے تجربات سے کشید کی ہوئی ہوتی ہے۔ باوا دستار شاہ۔ ان کے اکلوتے بیٹے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقامی کالج میں انگریزی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ علاقے کے سادات شرفا سے ان کے لیے چند ایک پیغام آئے۔ ان کے ایک منہ لگے مرید یعقوب خان عرف سائیں طوطے نے ایک دن باوا جی سے کہا ، حضور اب تو چھوٹے شاہ جی انگریزی پڑھانے والے پروفیسر بن چکے ہیں، اب شادی میں اتنی دیر کیوں؟۔ قدیم تہذیب و تمدن میں اپنی دانش سے روح پھونکنے والے بزرگ بولے، سائیں طوطیا انگریزی پڑھ کر پروفیسر بن جانا آسان ہے، انسان بننا مشکل ہے، جس دن چھوٹے شاہ جی پورے انسان بن گئے شادی بھی ہو جائے گی۔ صرف باپ تو بیل ڈھگے بھی بن جاتے ہیں۔          سو جس دن پاکستان کے صحافی ، شاعر، دانشور،کالم نگار اور سیاست دان انسان بن گئے اس دن جمہوریت بھی پاﺅں پر کھڑی ہو جائے گی اور قانون کی بالا دستی بھی قائم ہو جائے گی۔ باقی بات رہی سول بالا دستی کی تو اگر اسے کہیں سے براہ راست کوئی خطرہ ہے تو وہ عسکری قیادت نہیں بلکہ سیاسی قیادت ہے۔یہ لوگ جس دن اپنی ناک سے ایک انچ بھی آگے دیکھنے کے قابل ہو گئے یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔آج ڈان لیک کے معاملے میں آئین کی بالا دستی کی کوئی نظیر قائم ہوئی ہے تو اس میں ان سیاسی جماعتوں کا رتی برابر بھی حصہ نہیں۔ اس کا تمام تر کریڈٹ ان باشعور طبقات کو جاتا ہے جنہوں نے آئین کی بالا دستی کے لیے آواز بلند کی۔ کل میمو گیٹ کے معاملے میں جب پچھلی حکومت کی مشکیں کسی جا رہیں تھیں تو یہی میاں برادران تھے جو کالے کوٹ پہن کر جمہوریت کی جڑیں کاٹنے کے عمل میں شریک ہو کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔ آج یہی کام پی پی پی والے کر رہے ہیں، وہ اس بات سے کیا بے خبر ہیں کہ میاں نواز شریف سے انتقام کے راستے پر چل کر وہ جمہوریت کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں؟۔ شرم آتی ہے جب یہ لوگ اپنے اقتدار کی خاطر جمہوریت اور آئین کو بھی تختہ مشق بنانے سے باز نہیں آتے۔ اور جناب عمران خان بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، ان سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ چند لفظ آئین و قانون کے حق میں بول دیتے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker