عمران خان کے دونوں صاحبزادوں سلیمان اور قاسم خان نے لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا کی درخواست دی ہے تاکہ وہ اپنے والد سے ملنے کے لیے پاکستان آسکیں۔ تاہم حکومت پاکستان انہیں ویزے جاری کرنے یا ان کی پاکستانی شہریت کے حوالے سے واضح بیان دینے کی بجائے اس معاملہ میں شدید بے حسی اور سفاکانہ رویہ کا مظاہرہ کررہی ہے۔
اس سے قطع نظر کہ عمران خان سے کوئی جرم سرزد ہؤا ہے یا ان کے خلاف قائم مقدمات میرٹ پر ہیں یا سیاسی وجوہات کی بنیاد پر انہیں ناجائز و بے بنیاد الزامات پر سزائیں دلا کر جیل میں قید رکھا گیا ہے، اس معاملہ کا ان کے دونوں بیٹوں کے پاکستان آنے اور اپنے والد سے ملنے پر کوئی اثر مرتب نہیں ہونا چاہئے۔ سلیمان خان یا قاسم خان پاکستانی معاملات میں قطعی طور سے لاتعلق رہے ہیں تاہم یہ فطری امر ہے کہ انہیں اپنے والد کی قید اور ان سے رابطہ میں مشکلات کی وجہ سے تشویش ہے۔ ایک برطانوی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے دونوں بھائیوں نے بتایا ہے کہ کئی کئی ماہ تک ان کی اپنے والد سے فون پر بات نہیں کرائی جاتی۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ رات گئے فون کرکے بتایا جاتا ہے کہ صبح 9 بجے فون ہوسکتا ہے۔ اس میں اگر اونچ نیچ ہوجائے تو مزید کئی ماہ تک یہ موقع نہیں ملتا۔ دونوں بھائیوں نے دعویٰ کیا کہ مئی کے بعد سے ان کی اپنے والد سے بات نہیں ہوئی ۔ اس ماہ کے دوران سلیمان اور قاسم خان نے پہلی بار اپنے والد کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، انہیں انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سلیمان اور قاسم خان کی طرف سے ہائی کمیشن میں ویزا کے لیے دائر ہونے والی درخواستوں پر وزارت خارجہ یا وزارت داخلہ نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ البتہ وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے اس حوالے سے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے مختلف بیانات کے حوالے سے ’ایکس‘ پر غیر ضروری وضاحتیں کیں اور الزام تراشی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سلیمان اور قاسم کے پاس پاکستان کا نائی کوپ ہے تو انہوں نے ویزا کی درخواست کیوں دی ہے۔ کیوں کہ علیمہ خان کسی بیان میں کہہ چکی تھیں کہ یہ دونوں بھائی پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس حکومت پاکستان کے جاری کردہ نائی کوپ کارڈز ہیں۔ البتہ اب انہوں نے وضاحت کی ہے کہ سلیمان اور قاسم کے نائی کوپ گم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستانی سفارت خانہ سے یہ کارڈ جاری کرنے کے علاوہ ویزا کی درخواست دی ہے۔
طلال چوہدری کو اس معاملہ پر حجت بازی کرنے کی بجائے وزیر مملکت برائے داخلہ امور کے طور پر بتانا چاہئے تھا کہ کیا عمران خان کے صاحبزادوں نے کبھی نائی کوپ حاصل کیے تھے۔ اگر سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہیں یہ کارڈ جاری ہوچکے ہیں تو حکومت کے لیے انہیں از سر نو جاری کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ یوں بھی عمران خان پاکستانی شہری ہیں۔ ان کے بیٹے قانونی طور سے پاکستانی شہری ہیں۔ انہوں نے اگر کبھی اس شہریت کے ثبوت کے طور پر نائی کوپ کارڈ نہیں بھی لیے تو بھی اب ان کی درخواستوں پر یہ دستاویزات جاری ہونی چاہئیں۔ کسی حکومت کو پاکستانی شہری کی اولاد کو ان کے حق شہریت سے محروم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ہر حکومت قانون شکنی کی صورت میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرسکتی ہے یا اس کے خلاف کوئی دوسرا قانونی طریقہ اختیار کیاجاسکتا ہے تاہم کسی کی شہریت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش سفاکانہ بے حسی کے مترادف ہے۔
روزنامہ ڈان نے آج یہ خبر بھی دی ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے فون پر بات کروادی گئی ہے۔ عمران خان نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران اپنے بچوں سے رابطے کی تصدیق کی۔ عمران خان نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی اپنے بچوں سے ڈیڑھ گھنٹے ٹیلیفون پر گفتگو کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بچے صرف مجھ سے ملنے پاکستان آئیں گے، میرے بچے سیاست یا احتجاجی تحریک کاحصہ نہیں بنیں گے‘۔ اگرچہ اس حوالے سے علیمہ خان نے غیر واضح اور متضاد بیانات دیے ہیں کہ کیا سلیمان اور قاسم پاکستان آکر کسی احتجاج کی قیادت کریں گے یا صرف اپنے والد سے ملاقات کریں گے۔ تاہم وفاقی وزرا کی جانب سے اس انسانی سوال کو سیاسی بیان بازی کا حصہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ طلال چوہدری کی یہ وضاحتیں غیر ضروری ہیں کہ سلیمان اور قاسم خان اگر دوہری شہریت رکھتے ہیں تو ان کے ساتھ پاکستانی شہری کے طور پر سلوک ہوگا اور اگر وہ برطانوی شہری کے طور پر ویزا لے کر پاکستان آتے ہیں تو ان سے غیر ملکی کے طور پر نمٹا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کوئی وفاقی وزیر کسی شخص کے بارے میں محض قیاسات کی بنیاد پر کیسے بیان بازی کرکے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ سلیمان اور قاسم پاکستان آکر لازمی حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کے باوجود احتجاج میں حصہ لیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
ان دونوں بھائیوں نے دو سال انتظار کے بعد اپنے والد کی گرفتاری پر بیان دیے ہیں اور اڈیالہ جیل میں عمران خان کو حاصل سہولتوں کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔ حکومت کو یہ پریشانی مثبت طریقے سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی اور واضح کرنا چاہئے تھا کہ عمران خان کے بیٹے جب بھی پاکستان آنا چاہیں تو انہیں مکمل سہولتیں فراہم ہوں گی اور ان کی فوری طور سے اپنے والد سے ملاقات کرا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کوئی بھی سرکاری طریقہ غیر انسانی ، مسلمہ اصولوں اور قانونی ضابطوں کے خلاف ہے۔ حکومتی وزیروں نے دو ایسے نوجوانوں کے بارے میں قانون شکنی کے اندازےقائم کرکے، درحقیقت عمران خان کی سیاسی مقبولیت و طاقت سے خوف کا مظاہرہ کیا ہے۔
سلیمان اور قاسم خان کی عمران خان کی صحت اور ان کے قانونی مسائل کے بارے میں پریشانی حقیقی اور فطری ہے۔ انہوں نے برطانوی صحافی پئیرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی تکلیف کا اظہار کیا ہے۔ ان کایہ دعویٰ قابل فہم ہے کہ وہ پرائیویٹ زندگی گزارنے کے عادی ہیں اور پبلک فگر نہیں ہیں لیکن والد کی تکلیف نے انہیں اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور کیا ہے۔ اس مقصد سے وہ امریکہ میں کانگرس کے ارکان سے بھی ملے ہیں اور اس انٹرویو میں بھی انہوں نے صدر ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ جب کسی کے بچے اپنے باپ کی رہائی کی بات کریں یا اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر تشویش ظاہر کریں تو اس میں نہ تو حیران ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی اولاد کو اس بنیادی و فطری حق سے محروم کرنا چاہئے۔ سلیمان اور قاسم خان کو اس سے قطع نظر کہ عمران خان کے خلاف مقدمے سچے ہیں یا جھوٹے ، ان کی رہائی کی بات کرنے اور اس مقصد کے لیے ہر قسم کی کوشش کا حق حاصل ہے۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے ان کی کوششوں یا بیانات کو بنیاد بناکر انہیں پاکستان آنے سے روکنے کی کوشش نہ کرے تو بہتر ہوگا۔وزیر اعظم شہباز شریف متعدد بار اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھانے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کی بات کرچکے ہیں۔ حکومت اور تحریک انصاف میں جب بھی ایسی بات چیت ہوگی تو اس میں پارٹی قیادت کے خلاف فیصلوں، مقدمات اور ناانصافی کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی نے ہر سطح پر عمران خان کی رہائی کو بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا ہے۔
حکومت اگر واقعی عمران خان یا تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے خوش دلی سے سلیمان اور قاسم خان کو باعزت طریقے سے پاکستان میں احترام دینا چاہئے ۔اور کسی شرط یا پریشانی کے بغیر عمران خان کے ساتھ ملاقات کرانی چاہئے۔ خیر سگالی کا ایسا اظہار مشکل سیاسی مسائل حل کرنے میں بھی معاون ہوسکتا ہے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ
#ImranKhanSons #GovtBehavior #TargetingFamilies #RespectPrivacy #PoliticalVendetta #ImranKhanFamily #UnfairTreatment #HumanRightsViolation #StopPoliticalHarassment #JusticeForImranKhanFamily #عمران_خان_کے_بیٹے #حکومت_کا_رویہ #سیاسی_انتقام #گھریلو_زندگی_کا_احترام #عمران_خان_کا_کنبہ #حکومتی_زیادتیاں #سیاسی_دباؤ #انصاف_دو #خاندانی_حملے_نامنظور #انسانی_حقوق_کی_خلاف_ورزی

