قیصر عباس صابرکالملکھاری

طبلچیو ! بہار بے رونق ہوئی جاتی ہے : صدائے عدل/قیصرعباس صابر

ہم کورونا کے خوف میں ہیں ،ایسا خوف جو مسلط کردیا گیا ہم نے محسوس نہیں کیا بلکہ بس دیکھا دیکھی سہمے ہوئے ہیں۔ریاست میں سیاست،محبت میں نفرت،رفاقت میں فرقت،شفقت میں بغاوت اور حکومت میں منافقت کا کاروبار تو جاری ہے،بس رک کر رہ گئی ہے تو وہ دیہاڑی دار کی زندگی ،کیونکہ اس کے پاس بہت سارے روگ پالنے کی فرصت نہ تھی وہ صرف سوکھی روٹی کا متلاشی تھا سو اس کو فراغت کے رات دن دے کر موت کے ڈر کا لقمہ دے دیا گیا۔
کون جانے کہ اب کے جو فصل گل آئی تو کسی نے کلی کے پھول بننے کا عمل نہیں دیکھا،بلبل کا نغمہ نہیں سنا،باغباں کے چہرے پر خوشی کے رنگ نہیں دیکھے،اب کے برس بہار کے رنگ تو نرالے تھے مگر ہر طرف کورونا کا خوف مسلط تھا۔بقول احمد فراز:
کھلے تو اب کے بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن
نہ میرے زخم کی صورت نہ تیرے لب کی طرح
ریاست کے گلشن میں کرپشن کی کہانیوں کے سبب ہونے والی توڑ پھوڑ بہار سے زیادہ اہم نہیں کہ اس پھیکے اور بد مزہ موضوع پر لفظ صدقے کئے جائیں،کل سے نئی وزارتوں کی خوشی میں پیشہ ور طلبہ نواز مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں جیسے صرف کابینہ میں ذرا سا ردوبدل ہی ملک کا اہم مسلہ تھا،تیسرے درجے کے ممالک کے شہری پرائی جنج میں عبدالللہ دیوانہ بن کر باچھیں کھول کھول قہقہے لگاتے ہیں جیسے وزارتوں کی تبدیلی معاشی انقلاب لانے کا مؤجب بننے والی ہے۔
ایک چور کے بعد دوسرا چور بٹھا دیا گیا اور اس انوکھی کاوش پر بین الاقوامی مافیا کا سرغنہ داد سمیٹ رہا ہے۔واہ واہ کرنے والے درباری میراثیو،
سوچ کی غلاظت کے پہرے دارو،
محرومی کی سلطنت کے بے تاج بادشاہو،
عزت اور انا کے سوداگرو،
ان بے حسوں،انگریز کی ناجائز اولادوں نے تم سے تمہاری نسلوں کا حق زندگی چھین رکھا ہے۔یہ پہلی بار نہیں بار بار ہمارے اوپر مسلط ہوکر ہمیں گروی رکھتے آئے ہیں۔یہ تمہیں وائرس سمجھتے تھے جب سینیٹائزر کا نام بھی کوئی نہیں جانتا تھا یہ تم سے ہاتھ ملا کر تب بھی سینیٹائزر استعمال کرتے تھے،یقین نہ آئے تو اپنے اجداد سے پوچھ لو جنہوں نے وراثت میں تمہیں ہاتھوں میں قلم و کتاب نہیں طبلے پکڑائے ہیں۔
ان کی شکلوں پر انگریز کے خون کے سرٹیفیکیٹ چسپاں ہیں یہ نام نہاد اشرافیہ تمہیں تالیاں بجانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔یہ اپنے بچوں کے بچوں کے سوا کسی کو اپنا نہیں سمجھتے،اپنے بزرگوں کے جنازوں میں ان کی شرکت دیکھ کر صدقے واری جانے والو اپنے بچوں کا سوچو جو تمہیں کمی کمین سمجھ کر شرم سے پانی پانی ہوئے جاتے ہیں۔
چھوڑو ان کو اور آؤ کورونا کی وبا میں بہاروں کے سنگ جئیں۔۔۔۔
پھول،خوشبو،صبا،رنگ،اور تتلی پر ان کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ سب فطرت بھی تم سے چھین لے جاتے۔تم اگر اپنی انا کو اعصابی قوت کا وٹامن دے دو تو یہ اپنی بے بسی اور تنہائی کے خوف سے تمہیں تمہارے حصے کی ساری معاشی و معاشرتی خوشیاں دے دیں۔تم ان کی ملکیت میں چلنے والے سکولوں میں اپنے بچوں کےلئے رعائتی پیکج ہی مانگ کر دیکھ لو اپنا سا منہ لٹکا کر رہ جاؤ گے کیونکہ ان کے سامنے تم صرف طبلچی،نعرہ باز،مبارکباد کی پوسٹیں لگانے والے سائبر میراثی اور ادنی کارکن ہو،تو پھر وبا کے دنوں میں اداس چہرے لئے اپنے جیسے بھائیوں اور بچوں میں گھل مل جاؤ اور وبا کے خوف سے آزاد بہار کے رنگ دیکھو اور خوشبو سمیٹو۔
تم اپنی اہمیت اشرافیہ کے ساتھ تصویریں بنوا کر محسوس کرتے ہو تو تمہاری مرضی مگر یہ پھول اور تتلی آپ کی تسکین کا سبب بن سکتی ہے اور تمہیں اشرف المخلوقات کا درجہ دیتے ہوئے پھولے نہیں سماتی۔اس لئے سب کچھ چھوڑ کر کسی ادھ کھلے پھول،کسی کلی،تتلی،جگنو یا باد صبا کے پاس وقت گزارو اور تازہ دم ہوجاؤ کہ بہار بے رونق ہوئی جاتی ہے اور دبے پاؤں گزرتی جاتی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker