رواں سال بنگلہ دیش نے اپنا 50 واں یوم آزادی منایا جبکہ پاکستان میں یہ دن تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ اس دن پاکستان دو ٹکڑے ہوا تھا ۔ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا اور بنگلہ دیش بن گیا ۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں ان کا دو بارہ ذکر مناسب نہیں ۔ آج بنگلہ دیش ہر میدان میں پاکستان سے آگے بڑھ چکا ہے بنگلہ دیش نے یہ سب کچھ 50 سال میں حاصل کرلیا جو ہم 74 سال گزرنے کے باوجود تاحال حاصل نہیں کرسکے ۔
اس وقت اگر معاشی اعداد و شمار کی بات کریں یا ترقی کے گراف کو دیکھیں تو بنگلہ دیش کہیں آگے کھڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنے 50 ویں جشن پر معاشی رپورٹ بھی جاری کی ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاشی تقابلے پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
عالمی اداروں کے اعداد و شمار کی بات کریں تو گلوبل اکانومی کی ویب سائٹ جو دنیا بھر کا ڈیٹا نمبروں میں شئیر کرتی ہے اس کے مطابق سیاسی استحکام کے لحاظ سے بنگلہ دیش 161 جبکہ پاکستان 184 درجہ پر ہے جبکہ کمزور ریاست کی درجہ بندی میں بنگلہ دیش 37 جبکہ پاکستان 27 واں نمبر ہے ۔
دوسری طرف اگر مجموعی پیداوار پر تقابلی جائزہ لیں تو بنگلہ دیش کی سنہ 1971 میں قومی مجموعی پیداوار 8.7 ارب ڈالر تھی جو پچھلے برس سنہ 2020 تک 324 ارب ڈالر تھی (یعنی 7.71 فیصد سالانہ اوسط شرحِ نمو، جبکہ 49 برسوں میں 38.1 گنا اضافہ)۔ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی سنہ 2019 میں 302 ارب ڈالر تھا۔ اور سنہ 2020 میں فی کس آمدن 1968 ڈالر تھی ۔ تاہم پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سنہ 1971 میں 10.6 ارب ڈالر تھی جو کہ پچھلے برس تک 263 ارب ڈالر تھی یعنی سالانہ اوسط شرح نمو 6.68 فیصد تھی اور 49 برسوں میں 23 گنا اضافہ ہوا)۔ سنہ 2019 میں پاکستان کے جی ڈی پی کی مالیت 288 ارب ڈالر تھی جو کہ سنہ 2018 میں 314 ارب ڈالر تھی۔پیچھلے برس تک پاکستان میں فی کسی آمدن 1193 ڈالر تھی۔
پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 20.8 ارب ڈالرز ہیں جبکہ بنگلہ دیش کے 42 ارب ڈالرز ہیں۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات کا تناسب بنگلہ دیش میں 25 ہے جبکہ پاکستان میں 59 ہے۔ پاکستان میں 72 فیصد بچے پرائمری سکولوں میں داخل ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں یہ تناسب 98 فیصد ہے۔
اقوام متحدہ کے 193 ممالک کی ترقی کے ایک آزاد جائزے کے مطابق جو کہ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ رپورٹ 2021 میں شائع ہوا، پاکستان کا نمبر 129 ہے، انڈیا کا نمبر 120 ہے اور بنگلہ دیش کا نمبر 109 ہے۔ اس رپورٹ میں فِن لینڈ، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ترقی یافتہ ممالک سرِ فہرست ہیں جبکہ صومالیہ، چاڈ اور ساؤتھ سوڈان کے نام فہرست میں نیچے آتے ہیں۔
ورلڈ جسٹس فورم ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارہ ہے جو کسی بھی ملک کے رُول آف لاء انڈیکس بارے معلومات فراہم کرتا ہے جس کے مطابق پاکستان کو 130ویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔ جبکہ اسی انڈیکس میں بنگلہ دیش کی درجہ بندی 124 ہے۔
اوپر مختلف انڈیکٹرز زیر بحث لائے گئے ہیں جن سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاشی ترقی کے جتنے پہلو ہیں ان پر نظر دوڑائی جائے تو ہر پہلو پر بنگلہ دیش نے محنت کی جستجو اور لگن سے کام کیا اور اپنے ٹکے کی عزت بڑھائی ۔ پاکستان میں ایک ڈالر 170 روپے کا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ایک ڈالر 90 ٹکے کا ہے مطلب بنگلہ دیش کا ٹکہ ہم سے آگے نکل گیا ۔ 1971 میں جب انہیں پست قد ، کمزور اور حقارت کی نظر سے دیکھ کر دور کردیا جاتا تھا بیوروکریسی چاہے وہ سول ہو یا ملٹری ان کا تناسب انتہائی کم تھا دیگر میدان میں انہیں یکسر نظر انداز کردیا جاتا تھا آج وہ 50 ویں یوم آزادی کا جشن منا کر اپنی ترقی سے ایک پیغام دے رہے ہیں ۔
اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو آج بنگلہ دیش تیزی سے ترقی کررہا ہے ۔ ہم یہ ترقی کیوں نہیں کرسکے ہمارے پاس تو دنیا کی ہر سہولت ہر چیز موجود ہے ہمارے پاس قابل لوگ مضبوط دفاع ہے پھر پیچھے کیوں رہ گئے لیکن اس دوران مجھے اپنے دوست مبشر چاون کے ڈیرے پر موجود چاچا مصلی کا وہ قصہ یاد آگیا اور مجھے اپنے تمام سوالات کا جواب اس قصے میں مل گیا ۔ ایک دن چاچا مصلی نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے کنویں میں پہاڑی علاقوں کا بکرا ان کے علاقے میں آنکلا دیہاتیوں نے تعاقب کیا تو وہ پانی والے کنویں میں جا گرا ۔ جس سے اس کنویں کا پانی بدبودار اور گندا ہو گیا ۔ گاؤں والے کئی دنوں تک بالٹیوں سے اس کنویں سے پانی نکالتے رہے لیکن وہ پانی صاف نہ ہوا تو چچا مصلی نے کہا کہ "پانی نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک اس کنویں سے پہاڑی بکرا کو نہیں نکالو گے تمہارا پانی صاف نہیں ہوگا ” ۔
چاچا مصلی کے اس قصے نے میرے تمام سوالات کا ایک جواب دیا جو شاید ہمارے تعلیمی درسگاہوں یا کسی پلیٹ فارم پر دانشور ، محقق بھی نہ دے سکتے ۔
فیس بک کمینٹ

