ویسے تو روٹھنا اور منانا دو دھڑکتے دلوں کا معمول اور محبت کا حسن ہے ۔ ہر روٹھنے والے کے دل میں منائے جانے کی خواہش ہوتی اور بسا اوقت روٹھا ہی اس لیے جاتا ہے کہ کوئی روٹھنے کی وجہ معلوم کرے اور منانے کی کوشش بھی کرے اور پھر جب وہ منائے تو ہم مان جانے سے انکار کر دیں کہ ہمیں مان بھی تو بہت ہوتا ہے منانے والے پر اور جب کوئی منا لیتا ہے تو پھر ہم رقص کرتے ہیں ، دھمال ڈالتے ہیں ، محبت اور عشق کے گیت گا کر اپنے عشق کا جشن مناتے ہیں ۔ یہی عشق اور محبت کی معراج ہوتی ہے ۔ پھر موسم چاہے حبس کا ہی کیوں نہ ہو دل کو ٹھنڈک اور سانسوں کو روانی بخشتا ہے ۔
سہیل ساجد سٹونز آبادی کے شعری مجموعے ’’ روٹھ جانا تمہاری عادت ہے ‘‘ کا مطالعہ کیا تو نظروں کے سامنے بہت سے چہرے جھلملانے لگے ۔ ان میں دوست بھی تھے ، عزیز واقارب بھی ، احباب بھی تھے اور رشتے دار بھی ۔ کچھ ایسے چہرے تھے جو ہمارے خوابوں کا جواز بنے اور پھر ہم نے کہا ’ ترے خوابوں کی خواہش جاگتی ہے / وگرنہ کب میں سونا چاہتا ہوں ‘ ، کچھ ایسے چہرے تھے جو جیون میں پل دو پل کے لیے ملے اور دل پر وہ پل ہمیشہ کے لیے اس طرح نقش ہوئے کہ ہم ساحر لدھیانوی کے مصرعے ’ پل دو پل میرا جیون ہے / پل دو پل مری کہانی ہے ‘ کی عملی تصویر بنے اور پل دو پل کے شاعر ہو گئے ۔جیون میں کچھ جان سے پیارے ایسے بھی تھے کہ جو روٹھنے پر مان جاتے تھے ۔ اور کچھ ایسے کہ جنہوں نے نہ مان کر ایسا مان توڑا کہ پھر انہیں دوبارہ منانے کی کبھی خواہش بھی نہ ہوئی اور کچھ ایسے تھے کہ جو ایسے روٹھے کہ ہمیشہ کے لیے اُس جہان میں چلے گئے جہاں ہم انہیں اپنے اس جیون میں تو منانے کے لیے جا بھی نہیں سکتے ۔ ہمارے ویران دل کو ان کی یاد ہمیشہ آباد رکھتی ہے ۔
سہیل ساجد سٹونز آبادی کی کتاب پر بات کرنے سے پہلے ذرا اس کے نام کو وسیع تر کینوس میں بھی دیکھ لیجئے ، حالات و واقعات اور قومی و بین الاقوامی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ ہم سب ایک روٹھے ہوئے اور ناراض سماج میں جینے کی تگ و دو کر رہے ہیں ۔ برِ صغیر پاک وہند سے لے کر یورپ اور امریکا تک اور نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر ناراضیاں اور تنازعات اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ انسانی زندگیاں بے وقعت ہو کر رہ گئی ہیں ۔ایک جانب نوبیل امن انعام کا طلب گار ٹرمپ فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی بربادی کے بعد اسے گریٹر اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے للکارتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کر نے کے بعد ایک پاکستانی کٹھ پتلی کی مدد سے جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے والا نریندر مودی ہمہ وقت پھنکاراتا نظر آ رہا ہے ۔
انسان نے کرہ ارض سے انسانوں کو ہی نہیں چرند ، پرند، حیوانات اور نباتات کو بھی ختم کرنا شروع کر دیا ہے ۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہو گئیں اور خود اشرف المخلوقات سمجھے جانے والے انسانوں کے کئی قبائل بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ہم نے قدرت کے ساتھ کھلواڑ کیا تو خودقدرت بھی ہمارے ساتھ کھلواڑ پر مجبور ہو گئی ۔ ماحول تباہ ہوا ، درخت کاٹ لیے گئے ، دریا بیچ دئے گئے ، تتلیاں اور جگنو کم از کم ہمارے خطے میں تو ختم ہو گئے ۔چڑیاں اور چڑے ہم بھون کر کھا گئے ۔ ڈولفن کی نسل کو خطرات لاحق ہیں ، درختوں میں کوکتی کوئل کی ملہار ماضی کی یاد بن گئی ۔ اب صرف کووں اور چیلوں کا ہر طرف راج ہے ۔ ہم شور مچاتے کووں کی آواز کے ایسے عادی ہوئے کہ ہم نے اپنے چینلوں پر بھی ان کا بھاشن سننا شروع کر دیا ۔ اور تو اور ہم نےمردار خور گدھ بھی ختم کر دیے ہیں ۔ ایسے میں اب بادل پھٹتے ہیں ، زلزلے آتے ہیں ۔ بے موسمی بارشیں ہوتی ہیں ، جن دریاؤں کو بیچ کر ہم نے ان کی گزرگاہوں میں کالونیاں بنا لی تھیں وہ دریا جب شور مچاتے واپس آتے ہیں تو اور غریبوں کو بہا لے جاتے ہیں تو اسے اللہ کی مرضی کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں ۔۔
سہیل ساجد سٹونز آبادی اردو اور پنجابی کے کہنہ مشق شاعر ہیں ۔ ہمارا ان کے ساتھ محبت کا رشتہ کم و بیش ایک عشرے پر محیط ہے ۔خوشی کی بات یہ ہےکہ خلوص کے اس رشتے کی بنیادیں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی جا رہی ہیں ۔گردوپیش پبلی کیشنز نے ان کی پہلی کتاب ’’ ڈوبتا سورج ‘‘ 2023 میں شائع کی تھی جو ان کا ساتواں شعری مجموعہ تھا ۔جب کہ گردو پیش کے اشاعتی سفر کا وہ آغاز تھا اور ہمارے ادارے کی یہ تیسری کتاب تھی ۔ اس کے بعد ہم نے اگلے ہی برس 2024 میں ان کا پنجابی شعری مجموعہ ’’اکھر رو پئے میرے نال ‘‘ شائع کیا ۔یہ گردو پیش کے زیر اہتمام شائع ہونے والی پنجابی کی پہلی اور اب تک کی آخری کتاب ہے ۔ زیر نظر کتاب سہیل صاحب کا 9 واں شعری مجموعہ ہے ۔ان کے دیگر شعری مجموعوں کے سرورق اس کتاب کے پسِ و رق پر موجود ہیں ۔سہیل صاحب کا تعلق ہمارے ہی خطے سے ہے وہ ایک طویل عرصہ سے روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل ہمارے خطے میں ہی دھڑکتا ہے ۔ میاں چنوں کے علاقے سٹونز آباد میں پیدا ہونے والے سہیل ساجد کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایک سے ایک ناشر موجود ہے ۔ لیکن میں اپنی ہر کتاب ملتان سے اس لیے شائع کراتا ہوں کہ میرا اس خطے سے تعلق برقرار رہے جس کی مٹی کی خوشبو میرے بدن میں موجود ہے ۔۔ سہیل بھائی آپ کا شکریہ کہ آپ ہمارا مان بڑھاتے ہیں اور جاوید یاد بھائی آپ کا بھی شکریہ کہ آپ کی وساطت سے ہمیں ایک ایسا دوست ملا جس کے ساتھ اب صرف کتاب کا رشتہ نہیں رہا ۔ کتاب تو سال میں ایک بار آتی ہے لیکن سہیل صاحب سے کم و بیش ہر ہفتے کسی نہ کسی بہانے بات ہو تی رہتی ۔ ہم فون نہ کریں تو وہ خود پوچھ لیتے ہیں کہ ’’ رضی صاب کتھے او ۔۔ خیر تے ہے ؟ کوئی نراضگی تے نئیں ؟ ‘‘ یہی ان کا رویہ ہے اور یہی کتاب کا پیغام بھی ۔۔
آخری بات یہ کہ سہیل صاحب کی دو کتابوں کے سرورق تو ہم نے اس خطے کے نام ور آرٹس راشد سیال سے بنوائے تھے ۔ اس کتاب کی اشاعت پر راشد پھر یاد آ رہا ہے ۔ یہ ٹائٹل ویسا تو نہیں ہو سکتا لیکن کوشش کی ہے کہ ہم اس کتاب کے شایان شان سرورق بنوا سکیں ۔۔
فیس بک کمینٹ

