اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا، اجلاس میں چیف جسٹس کے نامزد ججز کے نام کثرت رائے سے مسترد کردیے گئے۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کیلئے چیف جسٹس کی جانب سے نامزد کیے گئے 5 ججز پر جوڈیشل کمیشن کے ارکان میں اختلاف رائے سامنے آیا جس کے بعد جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں ووٹنگ کرائی گئی۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے نامزد ججوں کے خلاف 5 ووٹ آئے، 5 ووٹ مخالفت میں آنے پر اجلاس کچھ کہے بغیر ختم کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود، اٹارنی جنرل، اور وزیرقانون نے مخالفت میں ووٹ دیا،سندھ کے 2 ججز سے متعلق جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے بھی مخالفت میں ووٹ دیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ نے نامزدگیوں کے حق میں ووٹ دیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی نامزدگیوں کے حق میں ووٹ دیا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے 2 نامزدگیوں کی مخالفت، 3 کے حق میں ووٹ دیا۔ذرائع کے مطابق چار کے مقابلے میں 5 ووٹ مخالفت میں آنے پر اجلاس ختم کردیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس کی زیر صدارت کمیٹی روم میں ہوا، چیف جسٹس سمیت 7 ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2 ارکان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کیلئے 5 ناموں پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا گیا ہے ، اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت اٹارنی جنرل نے بھی کی، اجلاس مؤخر کرنے سے متعلق 5 ارکان کے ووٹ آئے، ناموں پر بحث کےبعدچیف جسٹس نے نئے ججز سے متعلق مزید ڈیٹا فراہم کرنےکی ہدایت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید غور کیلئےاجلاس مؤخر کرنے کی تجویزدی، جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت کی۔اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی نئی تاریخ سے ممبران کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ادھر جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے نام خط لکھا ہے ۔
خط میں انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔
قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز تقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا، مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ جسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے۔
قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

