سیاست دانوں کی بدعنوانی، بے اعتدالی، مفاد پرستی اور ریشہ دوانی کی کہانیاں ملک کے ہر باشندے کو ازبر ہیں۔ بجا طور سے سیاسی لیڈروں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیاجاتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے بعد عسکری اداروں کی سیاست میں دلچسپی اور قومی معاملات کو آئینی رہنما اصولوں کی بجائے اداروں کی مداخلت یا دباؤ کے تحت طے کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث رہا ہے اور اس پہلو سے تمام حقائق سامنے لانے اور اسٹبلشمنٹ کی مکمل ’غیر جانبداری ‘ کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔ البتہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات اور انکشافات کے بعد اب ملکی عدلیہ خود کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
روزنامہ دی نیوز کے انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رانا شمیم نے لندن میں ایک حلفی بیان پر دستخط کئے ہیں جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے اہل خاندان کے 27 ارکان کے ساتھ 2018 میں گلگت آئے ہوئے تھے۔ ایک روز باغ میں چائے نوش کرتے ہوئے انہوں نے نہایت پریشانی میں اپنے رجسٹرار کو فون کیا اور ہائی کورٹ کے ایک جج کو فون کرنے یا یہ ہدایت پہنچانےکا حکم دیا کہ نواز شریف یا مریم نواز کو کسی صورت میں انتخابات سے پہلے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد ہی ثاقب نثار کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعلقہ جج سے بات بھی ہوگئی جس میں یقین دہانی حاصل کرکے ثاقب نثار مطمئن ہوگئے اور چائے کے ایک مزید کپ کی فرمائش کی۔
رانا شمیم کا دعویٰ ہے کہ ان کے استفسار پر جسٹس (ر) ثاقب نثار نے ان سے کہا کہ وہ سمجھیں کہ انہوں نے نہ کچھ سنا اور نہ ہی دیکھا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے‘۔ رانا شمیم کا کہنا تھا کہ ان کی مرحومہ اہلیہ بھی اس موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ اس بارے میں حقائق سامنے لانے چاہئیں۔ اس لئے ان کا یہ بیان حلفی کسی سیاسی ایجنڈے پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ایک سچا واقعہ سامنے لانے کے لئے انہوں نے اس بیان حلفی پر دستخط کئے ہیں۔ رانا شمیم نے میڈیا کے مختلف نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے اس بیان کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کا بوجھ کم کرنے کے لئے یہ بیان حلفی دیا ہے۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے رانا شمیم کے دعوؤں اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایسے کسی بھی واقعہ سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی جج کو کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں دی ۔ اور اگر بالفرض ایسا کبھی ہؤا بھی ہوگا تو وہ کسی دوسرے کے سامنے کیوں ایسی حساس گفتگو کریں گے۔
جسٹس (ر) ثاقب نثار کی باتوں میں اس حد تک تو وزن ہے کہ آخر وہ اس قسم کی ’ہدایت‘ جاری کرنے کے لئے ٹیلی فون جیسا غیر محفوظ طریقہ کیوں اختیار کریں گے اور کیوں متعدد لوگوں کی موجودگی میں ایک ایسا کام کریں گے جو بادی النظر میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ تاہم اگر ثاقب نثار پاکستان کے چیف جسٹس رہے ہیں تو رانا شمیم بھی گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ اخباری بیانات کی حد تک دونوں خود کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس صورت میں عام شہری کے لئے یہ سمجھنا ہرگز مشکل نہیں ہے کہ ان میں سے دونوں تو سچے نہیں ہوسکتے۔ لازم ہے کہ رانا شمیم یا ثاقب نثار میں سے ایک شخص جھوٹ بول رہا ہے۔
اس وقوعہ کے اخلاقی پہلو اور سیاسی مضمرات سے بھی پہلے یہ حقیقت انتہائی تکلیف دہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہنے ولا کوئی ایک شخص دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے۔ یہ صورت حال ملکی عدلیہ کے کردار اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن ایسے الزامات کے بعد ان کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ شبہ تقویت پکڑتا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں ملک میں آئین کی عمل داری کے حوالے سے کہیں نہ کہیں کوتاہی کا شکار ہوتی ہیں اور اعلیٰ ترین مناصب پر فائز افراد بھی صرف قانون و آئین کے مطابق فیصلے کرنے کی بجائے ذاتی مفاد، دباؤ یا کسی خاص سازش کے تحت انصاف کا خون کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ملکی تاریخ سیاہ عدالتی فیصلوں سے بھری پڑی ہے ، اس لئے اس تازہ الزام تراشی اور ہنگامہ آرائی کے بعد یہ سوال سنگین صورت اختیار کرجائے گا کہ کس حد تک ملکی عدالتوں کو غیر جانبدار یا ہر قسم کے بیرونی اثر و رسوخ سے بالا سمجھا جائے۔ عام شہری کس حد تک یہ یقین کرسکتا ہے کہ عدالتیں اس کے بنیادی حقوق اور فیصلہ سازی میں عوام کے آئینی کردار کی محافظ ہوں گی۔ بدقسمتی سے متعدد عدالتی فیصلے اس تاثر کو زائل کرتے ہیں۔
زیر غور معاملہ چونکہ کسی عام شخص کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اسی لئے رانا شمیم کا بیان حلفی ملکی سیاست میں طوفان خیز ثابت ہورہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر ، نواز شریف کے خلاف سب مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ جسٹس (ر) ثاقب نثار کو ان کے جرم کی سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کے ترجمان رانا شمیم کے بیان حلفی کو مسلم لیگ (ن) کی سازش اور عدلیہ دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے اپوزیشن کو دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یعنی ایک بیان حلفی کی بنیاد پر عدلیہ جیسے اہم ادارے کے وقار اور جوابدہی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی بجائے سیاسی پوائینٹ اسکورنگ ضروری خیال کی جارہی ہے۔
تھوڑی دیر پہلے سامنے آنے والی ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) رانا شمیم کے معاملے میں ملوث ہوکر ’خود اپنی قبر کھود رہی ہے‘ ۔ حیرت ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نے کسی سیاسی اجلاس میں ایک ایسے معاملہ پر اظہار خیال ضروری سمجھا ہے، جس کا تعلق کسی ایک سیاسی پارٹی یا اس کے لیڈر کے مستقبل یا مقدموں سے نہیں ہے بلکہ اس بات سے ہے کہ پاکستان کا نظام عدل کس طرح کام کرتا ہے یا اس میں کیسے کردار کے حامل لوگ اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح کے لئے وسیع المدت منصوبہ بندی اور بین الجماعتی غور و فکر تو قابل فہم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر حکمران جماعت اور اپوزیشن اس معاملہ پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور الزام تراشی ضروری خیال کریں تو صرف یہی قیاس کیاجاسکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
عمران خان پر دو طرح سے اس معاملہ میں احتیاط برتنے اور سوچ سمجھ کر بات کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک تو وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ملک میں انصاف عام کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ دوسرے وہ بار بار نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر لوگوں کو تاحیات جیلوں میں بند رکھنے کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اس صورت میں اگر نواز شریف سے متعلق کہیں نہ کہیں عدالتی کوتاہی کی نشان دہی ہوتی ہے تو وزیر اعظم کو اس پر بیان بازی کرنے اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی موت پر ’پریشان ‘ ہونے کی بجائے ملک میں قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی کے معاملہ پر تشویش ہونی چاہئے۔ اس معاملہ میں اگر نواز شریف یا ان کے ساتھیوں کی سیاست ختم ہوتی ہے، پھر عمران خان کو کیا پریشانی ہے؟ وہ تو خود ان کی سیاسی قبر کھودنے میں اتنے منہمک رہے ہیں کہ اس وقت ان کی اپنی حکومت طوفان کی زد پر ہے۔ مسلم لیگ (ق) جیسی اتحادی جماعت علی الاعلان عمران خان اور ان کی حکومت پر عدم اعتماد ظاہر کررہی ہے ۔ اسلا م آباد میں منعقد آج کے اجلاس میں اتحادی جماعتوں کی منت سماجت اور وعدے وعید کے بعد بدھ کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ملک میں حکومت پر عدم اعتماد کے حوالے سے پھیلنے والی قیاس آرائیوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم کے بیان حلفی پر مشتمل خبر شائع ہونے کے بعد اس معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ عدالتی حکم میں رانا شمیم کے علاوہ رپورٹروں انصار عباسی و عامر غوری، روزنامہ جنگ و جیو نیوز کے مالک و ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کو منگل کو عدالت میں طلب کیا ہے ۔ یہ حکم دیتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھاکہ ’عدالت اس معاملہ کو بہت سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد متزلزل کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔ جسٹس من اللہ منگل کو اس معاملہ کی سماعت کریں گے لیکن حیرت انگیز طور پر ابتدائی حکم میں صحافیوں اور چیف ایڈیٹر کو تو طلب کیا گیا ہے لیکن اس سارے قضیہ کے مرکزی کردار جسٹس (ر) ثاقب نثار کو بلا کر ان سے استفسار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ حالانکہ سابق چیف جسٹس عدالت میں حاضر ہوکر حلفیہ بیان میں اس واقعہ کی تردید کردیں تو معاملہ کی تہ تک پہنچنا اور اصل ’قصور وار‘ کو تلاش کرنا آسان ہوجائے گا۔
ایک بیان حلفی کی بنیاد پر صحافیوں اور چیف ایڈیٹر کو طلب کرنے سے یہ معاملہ صاف نہیں ہوگا بلکہ اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ عدالتیں اپنا احتساب کرنے کی بجائے ہر غلطی کا بوجھ کسی کمزور فریق پر ڈالتی ہیں۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار پر لگائے گئے تازہ الزامات کا معاملہ نہایت سنگین اور پریشان کن ہے۔ اس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں خدمت انجام دینے والے جج کا نام بھی شامل ہے۔ بنیادی طور پر ان دونوں افراد کے کردار کی وضاحت سے ہی عدلیہ اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

