تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:سیاست کا ناکام کپتان

وزیر اعظم عمران خان نے ایک امریکی مذہبی اسکالر کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اللہ کے احسانوں کا شکر ادا کرنے کے لئے سیاست میں آئے تھے۔ کیوں کہ جب اللہ نے آپ کو صلاحیت دی ہو اور نعمتوں سے مالا مال کیا ہو تو پھر آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے لوگوں کی فلاح کے لئے کیا کیا۔ اسی لئے سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے سیاست میں حصہ لے کر مدینہ ریاست کے اصولوں کی بنیاد پر پاکستان کے غریب عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ اور بائیس سال کی طویل جد و جہد کے بعد اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
عمران خان نے مذہب کی طرف ذاتی رجحان ، دنیا میں برائیوں کی بنیاد مذہب سے دوری اور سیاست دانوں کے حرص و لالچ پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں اشرافیہ نے ناجائز طریقے سے وسائل پر قابو پالیا ہے اور عوام کو ان کی ضرورتوں سے محروم کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں ترقی کرنے اور محنت کا پھل پانے کے قابل بھی نہیں رہے۔ وزیر اعظم کی ان باتوں سے یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسی حکومت کا سربراہ یہ دعوے کررہا ہے جو ملکی انتظام کے ہر شعبے میں ناکام ہے۔ اپنی قانونی مدت کا دو تہائی پورا کرنے کے باوجود قانون کی وہ حکمرانی پاکستان کی حد تک کہیں دکھائی نہیں دیتی جس کا سنہرا خواب بار بار عوام کو دکھایا جاتا ہے۔
اس انٹرویو میں سیاست سے اپنی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ’ میرے پاس سب کچھ تھا۔ میں ملک میں بڑا نام تھا۔ میری عزت تھی اور میرے پاس دولت کی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود میں نے وزیر اعظم بننے کے لئے 22 سال جد و جہد کی ، تو اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اللہ جب آپ کو بہت کچھ دیتا ہے تو وہ ان نعمتوں کا حساب بھی لے گا۔ میں نے ذاتی منفعت کے لئے سیاست میں حصہ نہیں لیا بلکہ میں نے پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں کی بنیاد پر فلاحی ریاست بنانے کے لئے سیاست کا راستہ اختیار کیا‘۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے یہ اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ ’ تمام مشکلات اور مایوسیوں کے باوجود انسان صرف جد و جہد کرسکتا ہے۔ کامیابی یا ناکامی پر اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ معاملہ پروردگار کے ہاتھ میں ہے‘۔ یوں عمران خان نے نہایت آسانی سے اپنی انتظامی، معاشی، سیاسی اور سماجی ناکامیوں کی مکمل ذمہ داری اللہ پر ڈال کر خود کو سرخرو کرنے کی کوشش کی ہے۔ عقیدے کے نام پر پاکستانی عوام کا جذباتی استحصال کرنے کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ ملک کی مختصر تاریخ میں متعدد لیڈر یہ ہتھکنڈا استعمال کرتے رہے ہیں لیکن جس ڈھٹائی سے عمران خان اپنی ناکامیوں کو ’اللہ کا فیصلہ‘ قرار دے رہے ہیں ، اسے مایوسی و ناکامی کا ملا جلا رویہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
کوئی بھی لیڈ ر ہوشمندی سے معاملات پر غور کرتے ہوئے بہترین صلاحیتیں بروئے کار لاکر مسائل کا جائزہ لیتا ہے اور پھر ان کا مناسب حل تجویز کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے ۔ اسے امید ہوتی ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے مسائل کا انبار کم ہوگا اور معاشرے کو بہتری کی طرف گامزن کیا جاسکے گا۔ ایک مسلمان کے طور پر ضرور انسان خود کو حوصلہ دینے اور جد و جہد جاری رکھنے کے لئے یہ کہتا ہے کہ کامیابی یاناکامی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اسے اپنے فیصلوں اور اقدامات کی ذمہ داری خود ہی قبول کرنا پڑتی ہے۔ عمران خان حکومتی سربراہ کے طور پر جو فیصلے کرتے ہیں یا جن منصوبوں کی منظوری دیتے ہیں اور وہ اگر کسی کمی یا منصوبہ سازوں کی کوتاہ نظری کی وجہ سے ناکام ہوجاتے ہیں تو اس غلطی کی ذمہ داری بھی وزیر اعظم اور ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں پر ہی عائد ہوگی۔ کسی وزیر اعظم کا یہ کہنا اپنی ناکامی سے فرار کا طریقہ کہلائے گاکہ ہم نے کوشش تو کی پر اللہ کو منظور نہیں تھا ، اس لئے کامیاب نہیں ہوئے ۔
عمران خان نے ضرور بائیس برس تک جد و جہد کی ہے لیکن کیا وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر اور اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتا سکتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اس جد و جہد میں 2018 سے پہلے کامیابی ان کے مقدر میں نہیں تھی۔ 2013 کے انتخابات سے پہلے وہ بمشکل قومی اسمبلی کی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے تھے۔ حالانکہ کرکٹ اسٹار کے طور پر انہیں مقبولیت بھی حاصل تھی، وہ 1992 میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے تھے، اس کے بعد شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جد و جہد کے ذریعے بھی انہیں عوام میں خوب پذیرائی نصیب ہوئی تھی ۔ اس کے باوجود 2004 کے انتخابات میں وہ اکیلے ہی تحریک انصاف کی نمائیندگی کرتے دکھائی دیتے تھے۔
2013 میں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستوں پر تحریک انصاف کی کامیابی کسی سیاسی جد و جہد کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ملکی سیاسی منظر نامے پر مہرے بٹھانے اور چلانے والوں نے تحریک انصاف کو سیاسی اقتدار کی سیڑھی پر راستہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمران خان نے اس تعاون کو خوش دلی سے قبول کیا اور 2014 کے دھرنے میں عوام کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت نما دھرنا دے کر ان قوتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس دھرنے کے دوران عمران خان کی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ ان میں عوام کو ریاستی انتظام کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا ہر ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ پر حملوں میں کون سے قانون کا احترام مقصود تھا؟ جب عمران خان لوگوں سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے قانونی راستوں کی بجائے ہنڈی کے ذریعے زر مبادلہ پاکستان بھیجنے کا تقاضہ کررہے تھے، اس وقت کون سے قانون کی عملداری کا عزم کیا گیا تھا؟ کیا اسلام کی کسی بھی تعبیر کے مطابق عمران خان حکومت وقت کے خلاف بغاوت نما احتجاج، قانون شکنی، سرکاری عمال پر حملوں، تھانے میں غنڈہ گردی جیسے اقدامات کا جواز تلاش کرسکتے ہیں۔ یہ سارے کام ان اشاروں کے نتیجے میں سرانجام دیے جارہے تھے جسے عمران خان خود ہی ’امپائر کی انگلی‘ کا نام دیتے رہے ہیں۔
اس دھرنے میں ملکی میڈیا نے جس محبت اور ایثار کے ساتھ عمر ان خان کا ساتھ دیا اور ان کے خطاب کے دوران خالی کرسیوں کو لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بنانے میں جو کردار ادا کیا، اس کی وجوہات بھی عمران خان پر خوب عیاں ہوں گی۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ میں ڈیڑھ سو نوجوان طالب علموں کی شہادت نے حالات کو تبدیل کردیا اور جن کے اشارے پر ڈی گراؤنڈ میں تاحیات دھرنا دیا گیا تھا، انہیں کے حکم پر اسے ختم کرنا پڑا۔ لیکن اسی دھرنے کے دوران 2018 کے انتخابات کے نتائج رقم کر لئے گئے تھے۔ عوام سے رائے لینے کا مرحلہ تو بہت بعد میں آیا ۔یہ تو کئی برس پہلے ہی طے ہوگیا تھا کہ عمران خان ملک کے نئے چنیدہ لیڈر ہوں گے۔ 2014 میں جو کام تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج سے شروع کیا گیا تھا ، اس کا کلائمیکس نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے کے دوران دیکھنے میں آیا۔ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ بنچ کی طرف سے فیصلہ لکھتے ہوئے فیض آباد دھرنے کو تحریک انصاف کے دھرنے سے شروع کی گئی لاقانونیت کا تسلسل کہا تو تحریک انصاف اور حکومت ہاتھ دھوکر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پیچھے پڑ گئی اور انہیں جج کے عہدے سے علیحدہ کروانے کا ہر جتن کیا گیا۔ یہ بھی حالات کی ستم ظریفی ہے کہ عمران خان کے سیاسی عروج میں کردار ادا کرنے والی دونوں تحریکیں ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کے ساتھ اب عمران خان کی حکومت ’ہمدردانہ‘ رویہ اختیار کررہی ہے۔ تحریک لبیک کو جائز اور وطن دوست جماعت کا سرٹیفکیٹ جاری ہوچکا ہے اور تحریک طالبان کے کو ایسا ہی سرٹیفکیٹ دینے کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔
جس لیڈر کی حکومت ملک میں د دہائی تک لاقانونیت عام کرنے، ملکی آئین کو چیلنج کرنے اور 80 ہزار انسانوں کا خون بہانے والے گروہ کو معافی دینے کی بات کررہی ہو، وہ کس منہ سے قانون کے احترام اور مساوات کی باتیں کرنے کا حوصلہ کرسکتا ہے۔ ایسا کرنے والا لیڈر یا تو خود فریبی کی وجہ سے خود کو ہی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے یا نہایت عیاری سے عوام کو چکمہ دے کر اپنی سیاسی ناکامیوں سے انحراف کا راستہ تلاش کرتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ عمران خان میں یہ دونوں علامات پائی جاتی ہیں۔ وہ انا پسندی کے خلاف بات ضرور کرتے ہیں لیکن انہوں نے ساری زندگی اپنی انا کے بت کو تعمیر کرنے اور دوسروں کو خود سے کم تر سمجھتے ہوئے بسر کی ہے۔ اگر عمران خان کی یہ بات درست مان لی جائے کہ ایمان کے درجے پر فائز شخص انا پسند نہیں ہوسکتا تو ان میں اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ ہوتا اور وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے۔ اس کا سارا بوجھ اللہ پر ڈال کر خود ذمہ داری سے یہ کہتے ہوئے عہدہ برآ نہ ہوجاتے کہ ’میرا کام تو کوشش کرنا ہے، کامیابی ناکامی تو اللہ کا کام فیصلہ ہے‘۔
ہرشخص ہر کام کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ جس طرح ہر شخص کرکٹ نہیں کھیل سکتا، صرف اسے ہی یہ موقع ملتا ہے جو اپنی محنت اور صلاحیت سے اس کا حقدار ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کا حق بھی اسے ہی تفویض رہنا چاہئے جو امور حکومت سمجھنے اور نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ حکومت سنبھالنے سے پہلے عمران خان کو یہ اندازہ نہ ہو کہ یہ کام ان کے کرنے کا نہیں ہے لیکن اگر ساڑھے تین سال میں ملکی معیشت ، سیاست اور سفارت کا حلیہ بگاڑنے کے بعد بھی انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی اور وہ بدستور اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ کیا اب اللہ ہمارے وزیر اعظم سے نہیں کہتا کہ یہ کام تمہارے کرنے کا نہیں، یہ کسی دوسرے کو کرنے دو؟ اقتدار کے لئے عمران خان کی طمع کا ایک ہی قابل فہم جواز ہے:
عمر ان خان کو ذاتی انا کی تسکین کے لئے اقتدار درکار تھا اور وہ تمام ناکامیوں کے باوجود اس سے چمٹے رہنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ عمران خان کی سیاست کا اصولوں یا قانون کی بالادستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ایک سیاست کے ایسے کپتان ہیں جسے نہ بیٹنگ آتی ہے اور نہ ہی باؤلنگ اور فیلڈنگ میں وہ ویسے ہی ڈھیر ہوجاتا ہے۔ پھر بھی چاہتا ہے کہ امپائر اس کے حق میں انگلی کھڑی کرتا رہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker