تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : مریم نواز کی بریت ، احتساب ، عدلیہ اور نظام قانون پر سوالیہ نشان

ایون فیلڈ کیس میں مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی بریت ایک بار پھر ملک کے نظام انصاف، احتساب کے طریقہ کار، عدالتوں کی خود مختاری اور عدالتی نظام کی کارکردگی پر متعدد سوال کھڑے کئے ہیں۔ اب یہ سوال اہم نہیں ہے کہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر لندن میں خریدے گئے اپارٹمنٹس کے معاملہ میں شریک جرم تھے یانہیں بلکہ زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ کیا اس ملک میں کسی جرم کی سزا دینے کے لئے واقعی شواہد اور ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے یا کوئی عدالت ایسے تکلفات کے بغیر بھی کسی شخص کو جیل میں بند کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نے جولائی 2018 میں احتساب عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو مسترد کرتے ہوئے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کردیا ہے۔ اس طرح نہ صرف ان کی جیل کی سزا ختم ہوگئی ہے بلکہ اب وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکیں گے۔ مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کے رہبر نواز شریف کی سیاسی وارث سمجھا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں اس پارٹی کی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گی۔ سیاسی میدان میں ان کی واپسی سے ملکی سیاسی مباحث کے علاوہ انتخابی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم مریم نواز کی سیاسی حیثیت و کردار موجودہ صورت حال میں نسبتاً غیر اہم اور ثانوی سوال ہیں۔ یہ سوال بھی اب اہم نہیں رہا کہ مریم نواز واقعی قصور وار تھیں یا نہیں بلکہ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام میں اگر بااختیار اور طاقت ور طبقہ کے لوگوں کو سال ہا سال تک عدالتوں کے چکر لگانے مجبور کرنے کے علاوہ کسی جواز کے بغیر جیل بھیجا جاسکتا ہے تو اس نظام میں عام شہریوں کو کس حد تک انصاف فراہم ہوسکتا ہے۔
مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ ختم ہونے سے تحریک انصاف اور عمران خان کی ناراضی قابل فہم ہوگی۔ اس فیصلہ نے ان کے اہم ترین سیاسی نعرے کو شدید ضعف پہنچایا ہے۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ شریف خاندان اور دیگر سیاسی مخالفین کے خلاف کرپشن کے الزامات اس تواتر اور شدت سے عائد کئے گئے ہیں کہ ملک کی بہت بڑی اکثریت اب عمران خان کی طرح کسی عدالتی حکم کی محتاج نہیں ہے۔ بلکہ سیاسی الزام تراشی کے ماحول میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ کسی جرم کے ارتکاب کے بارےمیں تسلسل سے الزام عائد کرنا اور یہ دعوے کرنا کافی ہے کہ متاثرہ لوگ اپنی لوٹ مار بچانے اور اس جرم میں سزاؤں سے بچنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ اس طرح انصاف اور قانون کی حکمرانی کا نام لیتے ہوئے درحقیقت ایک ایسا مزاج استوار کیا گیا ہے جس میں عدالتوں اور قانون کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس ایک خود ساختہ پیمانہ درکار ہوتا ہے جس میں اپنے مخالفین کو فٹ کرکے خود ہی ان کے قصور کا تعین کیا جاتا ہے، پھر اس کی سنگینی کو ماپا جاتا ہے اور بعد میں ’انصاف‘ فراہم کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی سزا کا مستحق قرار دیا جاتا ہے جس کی عام طور سے ملکی قوانین میں گنجائش نہیں ہوتی۔
یہ صورت حال پیدا کرنے کے لئے عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ اور حکمرانی کے پونے چار سال صرف کئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں انصاف تو عام نہیں ہوسکا اور نہ ہی قانون کی حکمرانی کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچنے کا کوئی امکان پیدا ہؤا ہے البتہ سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر گھر گھر عدالتیں ضرور قائم ہوگئی ہیں۔ ان ’عدالتوں ‘ کو اس سچائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملک کی عدالتیں کیا کہتی ہیں۔ بلکہ وہاں بعض مخالفین کے بارے میں پہلے سے ’فیصلے‘ کئے جاچکے ہیں۔ اگر کسی عدالت کا کوئی حکم ان فیصلوں کے مطابق سامنے آجائے تو پورے زور شور سے نظام قانون کو گلے لگا کر اس کی توصیف کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی فیصلہ اس طے شدہ فیصلہ کے خلاف صادر ہوجائے تو ایسے ججوں اور نظام کو مسترد کرتے بھی دیر نہیں لگتی۔ اس صورت حال نے ملک کی اعلیٰ عدالتوں پر بھی دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور متعدد مواقع پر اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی میں اس دباؤ کو محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججوں نے مریم نواز کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک ’مقبول بیانیہ‘ کے برعکس حکم دے کر درحقیقت حوصلہ مندی اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ مقدمہ کے میرٹ سے قطع نظر اور یہ دیکھے بغیر کہ کون کٹہرے میں کھڑا تھا ، اس معاملہ میں ججوں کی اس بہادری کی توصیف ہونی چاہئے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی ملک کی عدلیہ کے بارے میں عام طور سے اور اعلیٰ عدالتوں کے بارے میں خاص طور سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ وہ کس حد تک سائلین کو انصاف فراہم کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ مریم نواز کو چار برس قبل ایون فیلڈ کیس میں ناجائز آمدنی سے لندن میں فلیٹ خریدنے کے لئے اپنے والد نواز شریف اور بھائیوں کی معاونت کرنے کے الزام میں 7 سال کی سزا دی گئی تھی۔ اسی مقدمہ میں نواز شریف کو ناجائز آمدنی سے یہ فلیٹ خریدنے کے الزام میں دس سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ نواز شریف چونکہ عدالتی حکم کے باوجود اس مقدمہ کی کارروائی کے لئے پیش نہیں ہوئے ، اس لئے انہیں مفرور قرار دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی اپیل پر غور کرنے سے گریز کیا ہے۔ اسی لئے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے مقدمات کو ان کے معاملہ سے علیحدہ کرکے غور شروع کیا گیا۔ اور گزشتہ روز انہیں ان الزامات سے بری کردیا گیا۔ اس فیصلہ کی وجوہات تفصیلی فیصلہ میں سامنے آئیں گی تاہم مقدمہ کی کارروائی کے دوران جو معلومات سامنے آئی ہیں ، ان کے مطابق احتساب بیورو نہ تو ان اپارٹمنٹس پر نواز شریف کی ملکیت ثابت کر سکا اور نہ ہی یہ بتایا جاسکا کہ شریف خاندان کے ان اپارٹمنٹس کی قیمت کیا تھی۔ یعنی یہ تعین نہیں کیا گیاتھا کہ جس جائیداد کی خریداری کے لئے ’آمدنی سے زیادہ وسائل‘ صرف کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، کیا وہ واقعی شریف خاندان کے معلوم مالی وسائل سے زیادہ قیمتی تھی یا نہیں۔ ان حقائق کی روشنی اور مریم نواز کے خلاف الزامات مسترد ہونے کے بعد بظاہر ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بھی برقرار نہیں رہ سکے گی۔
اس پس منظر میں ملک کے عدالتی نظام کو یہ جواب دینا ہے کہ اس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے چار سال کی طویل مدت کیوں صرف کی گئی۔ اور کس طرح ایک زیریں احتساب عدالت نے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہ ہونے کے باوجود شریف خاندان کے تین ارکان کوسخت ترین سزائیں سنانے کا اہتمام کیا۔ یہ سوال یوں بھی اہم ہوجاتا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں سیاسی موسم کی تبدیلی کے بعد سامنے آسکا ہے۔ موسم کی اس تبدیلی کا ایک نمونہ گزشتہ ہفتے کے دوران اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے اور پھر ان کی واپسی اور وزیر خزانہ بننے کے عمل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ وہ سیاسی صورت حال سے متاثر ہوتے ہیں۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد اور شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بارے میں چونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ عسکری ادارے کی ’غیر جانبداری‘ کی وجہ سے ہی یہ تبدیلی ممکن ہوئی تھی ، اس لئے مریم نواز کے بری ہونے پر یہ سوال سامنے آنا بھی اہم ہے کہ کیا یہ حکم بھی عسکری ادارے کی طرف سے غیر جانبداری اختیار کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔ جب تک اس غیر جانبداری کا اعلان نہیں ہؤا تھا، عدالتوں کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ یہ محض ایک سوال ہے لیکن اس کا جواب عدالتوں کو اپنے فیصلوں اور اس طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے فراہم کرنا ہو گا ۔
یہ سوال دیگر واقعات کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے اس الزام کی روشنی میں بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ ایک باوردی فوجی افسر نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ ’ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانتیں منظور نہ کی جائیں ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی‘۔ شوکت صدیقی کو جوڈیشل کونسل نے سرعت سے کارروائی کرتے ہوئے اس عہدہ سے برطرف کردیا تھا لیکن جس جنرل پر یہ ’مشورہ‘ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا وہ نہ صرف انصاف کے داعی وزیر اعظم عمران خان کے چہیتے رہے تھے بلکہ مزید ترقی کرتے ہوئے اب بھی ایک اہم عہدہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نومبر میں آرمی چیف کے نئے سربراہ کے لئے جن جرنیلوں کے ناموں پر غور ہوگا، ان میں بھی ان کا نام نامی شامل ہوگا۔ ہمارے نظام انصاف میں ہائی کورٹ کے ایک سینئر سابق جج کے الزامات کے باوجود ان جنرل صاحب سے جوابدہی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور نہ ہی انہوں نے خود کبھی یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھا کہ وہ کیوں شوکت صدیقی سے ملنے گئے تھے۔
عمران خان نے ضرور ملک میں نظام انصاف کے لئے جد و جہد کی ہے لیکن انہوں نے اپنے اقتدار کے لئے ملک میں سیاسی و عدالتی نظام کو زیر نگین رکھنے والے عناصر سے ہاتھ ملاکر ’ہائیبرڈ ‘ نظام کا حصہ بن کر ایک پیج کی سیاست متعارف کرنا ضروری سمجھا تھا۔ وہ اب اسی غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن اقتدار کے لئے پھر اسی عطار کے لڑکے کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے سیاسی لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں اسٹبلشمنٹ کے بیانیے کو عام کرکے ذاتی پسند ناپسندکی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے کا مزاج متعارف کروایا ہے۔ یہی رویہ ملک کے نظام انصاف اور قانون کی حکمرانی کے راستے کی سب سے اونچی دیوار بن چکی ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker