آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو علاقائی ہائی کورٹ نے توہین عدالت پر نا اہل کر دیا ہے۔ اب آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ اس اپیل کے خلاف سماعت کرے گی۔ سردار تنویر الیاس کے خلاف بعض تقاریر میں عدالتوں پر تنقید کے الزام میں گزشتہ روز ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بیک وقت کارروائی کی تھی۔ البتہ ہائی کورٹ کے فل بنچ نے تنویر الیاس کی طرف سے غیر مشروط معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالت برخواست ہونے تک سزا دی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں دو سال کے لئے اسمبلی کا رکن بننے سے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ اب سینئر وزیر خواجہ فاروق قائم مقام وزیر اعظم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس دوران پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالتی حکم کے مطابق الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم نہ کرنے پر حکومت اور اعلیٰ افسروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کے علاوہ سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بنک کو ریکارڈ سمیت 14 اپریل کو چیف جسٹس کے چیمبر میں طلب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 10 اپریل تک پنجاب میں انتخابات کے لئے فنڈز فراہم نہ کر کے حکومت عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔ عدالتی نوٹس کے مطابق انتخابات کے لئے فنڈز کی فراہمی توہین عدالت سے زیادہ اہم ہے۔ عدالتی حکم عدولی کی سزا قانون میں واضح ہے۔
پاکستان میں اس سے قبل سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں سزا دے کر وزارت عظمی سے نا اہل قرار دیا تھا اور ان پر پانچ سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی لگائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پاناما کیس میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آئینی کی شق 62 اور 63 کے تحت صادق و امین نہ رہنے پر تاحیات کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔ یہ متنازعہ فیصلہ پانامہ تنازعہ کی بجائے جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران یہ معلومات سامنے آنے پر کیا گیا تھا کہ نواز شریف کو ماضی میں متحدہ عرب امارات کے اقامہ کے لیے ان کے بیٹے کی ایک کمپنی کا سربراہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس حیثیت میں تنخواہ نہ لے کر، اس پر ٹیکس ادا نہ کر کے اور یہ معلومات کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے ان شقات کی خلاف ورزی کی تھی۔ نواز شریف کی نا اہلی اور انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں دلوانے کے علاوہ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو ہرانے کے حوالے سے متعدد معلومات سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم کسی عدالت نے ابھی تک ان معلومات کی بنیاد پر نہ تو اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ کیا ہے اور نہ ہی متاثرہ شخص کو ریلیف فراہم کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ نواز شریف کے خلاف عدالتی حکم چونکہ آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت قائم مقدمہ میں جاری ہوا تھا، اس لیے ابھی تک اس کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جا سکی۔
پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے سوموٹو اختیار کے حوالے سے سامنے آنے والی اختلافی آرا کی روشنی میں آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی کا اختیار محض چیف جسٹس کی بجائے سینئر ججوں کی سہ رکنی کمیٹی کو دینے کا قانون منظور کیا تھا لیکن صدر مملکت نے اسے ممکنہ طور پر آئینی شقات سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ البتہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اس قانون کو دوبارہ منظور کر لیا ہے۔ یوں دس روز بعد یہ قانون نافذالعمل ہو سکتا ہے۔ اس کے تحت چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کا اختیار ختم ہو جائے گا اور تین سینئر جج مل کر ہی یہ فیصلہ کرسکیں گے بلکہ آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت مقدمات میں اپیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ یہ استحقاق ماضی سے موثر ہو گا۔ اس طرح یہ نیا قانون نافذ ہونے کے بعد نواز شریف بھی 2017 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرسکیں گے۔
یہ پس منظر آزاد کشمیر میں رونما ہونے والی صورت حال اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے جاری ہونے والے نوٹس کی روشنی میں زیادہ دلچسپی اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی عدالتوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران انتظامی معاملات میں مداخلت کا ایک نیا طرز عمل اختیار کیا ہے۔ دو وزرائے اعظم کو عدالتی اختیارات کے تحت نا اہل کرنے کی کارروائی اسی نئے عدالتی رویہ کا عملی نمونہ ہے۔ اب اس کا مظاہرہ آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ نے بھی کیا ہے۔ آزاد کشمیر کی عدالت کا حکم اس لحاظ سے بھی قابل غور ہے کہ سوموار کو عدالت نے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے عدالتوں کے خلاف بیانات کا نوٹس لیا، منگل کو انہیں طلب کر کے مختصر سزا دیتے ہوئے نا اہل بھی قرار دیا گیا۔ گویا توہین عدالت کے مسلمہ طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ نہ ہی سردار تنویر الیاس کی غیر مشروط معافی اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی درخواست کو قابل غور سمجھا گیا اور نا اہلی کا فوری فیصلہ صادر کر دیا گیا۔
پنجاب الیکشن کیس میں سپریم کورٹ کے نوٹس اور اس میں استعمال کی گئی زبان پر غور کیا جائے تو یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ حکومت سے اپنے ہمہ قسم فیصلوں پر عمل کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ آزاد کشمیر سے سامنے آنے والی تازہ مثال کی روشنی میں قیاس کیا جاسکتا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اگر اسی سختی سے عدالتی حکم پر عمل میں کوتاہی پر ردعمل ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ توہین عدالت کے الزام میں شہباز شریف کو نا اہل قرار دینے کا حکم بھی جاری کر سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا نوٹس دینے، جوابی دلائل فراہم کرنے یا معافی قبول کرنے کی جو ’بے نظیر‘ مثال قائم کی گئی ہے، اگر اس کا اطلاق پاکستانی سپریم کورٹ نے بھی ضروری سمجھا تو ملک کو ایک غیر معمولی سیاسی، آئینی اور انتظامی صورت حال کا سامنا کرنا ہو گا۔
واضح رہے کہ پنجاب میں انتخابات کا عدالتی حکم مسلسل متنازعہ ہے۔ پارلیمنٹ ایک قرار داد کے ذریعے اس حکم کو مسترد کرچکی ہے کیوں کہ پارلیمنٹ اور حکومت کی تفہیم کے مطابق یکم مارچ کو سوموٹو کے تحت ہونے والی کارروائی کو سات میں سے چار ججوں نے مسترد کر دیا تھا جبکہ چیف جسٹس کا اصرار ہے کہ یہ فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے کیا تھا اور ان میں سے دو نے اس فیصلہ کو مسترد کیا تھا لیکن تین ججوں کی اکثریت سے ہونے والا فیصلہ ہی عدالتی حکم سمجھا جائے۔ اسی نام نہاد حکم کی خلاف ورزی پر پنجاب انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلہ کے خلاف تحریک انصاف نے پٹیشن دائر کی تھی۔ ایک بار پھر پانچ رکنی بنچ بنایا گیا جس میں دو جج اختلاف کرتے ہوئے بنچ سے علیحدہ ہو گئے لیکن باقی تین ججوں نے مئی کے وسط میں پنجاب میں انتخاب کروانے کا حکم دیتے ہوئے حکومت کو اس مقصد کے لیے فوری طور سے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
حکومت نے 10 اپریل کو یہ رقم الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کے لیے مالی تجویز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کی ہے جہاں پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ اب اگر چیف جسٹس اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے کوئی ایسا حکم جاری کرتے ہیں جس سے پارلیمنٹ کا استحقاق یا حکومت کا انتظامی و مالیاتی اختیار متاثر ہوتا ہے تو غور کرنا پڑے گا کہ ملک میں انتظامی، مالی اور عدالتی معاملات کیسے چلائے جائیں گے۔ آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ سے سامنے آنے والے اشارے اس حوالے سے تشویش ناک اور ملکی نظام کو محض عدالتوں کا دست نگر قرار دینے کے مترادف ہیں۔
یہ درست ہے کہ سیاست دانوں کو بھی عدالتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن عدالتوں کو بھی یہ دیکھنا پڑے گا کہ اگر عدالتی فورمز سے مسلسل ایسے سیاسی و انتظامی معاملات پر حکم جاری ہوتے ہیں جو درحقیقت منتخب حکومت کا دائرہ کار و اختیار ہے تو کسی بھی علاقے یا ملک کا انتظام کیسے چلایا جاسکتا ہے۔ عدالتیں اگر حکومتی انتظامی معاملات میں مداخلت کے بارے میں ضبط و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتیں اور عدالتی اتھارٹی کو حکومت کے اختیار پر مسلط کرنے پر اصرار کریں گی تو موجودہ نظام قانون زیادہ دیر کام نہیں کرسکے گا۔ سردار تنویر الیاس کے معاملہ میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ یہ کارروائی انتہائی عجلت میں کی گئی اور متاثرہ فریق کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مناسب موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آج کے دوران آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے سردار تنویر الیاس کی اپیل کو ٹیکنیکل بنیادوں پر بار بار مسترد کر کے بھی کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی۔ اس حوالے سے کسی اعلیٰ عدالتی فورم پر یہ طے کرنا بھی اہم ہو گا کہ توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر کی جا سکتی ہے یا عمومی عدالتی رویہ پر آزادی رائے کا حق استعمال کرنا بھی توہین عدالت ہی قرار پائے گا۔
پاکستانی سپریم کورٹ کا طرز عمل منفی یا مثبت طور سے نئی قانونی روایت قائم کر سکتا ہے۔ پنجاب انتخابات کے لیے وسائل فراہم کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ کے زیر غور ہے۔ سپریم کورٹ اگر اسے توہین عدالت یا حکم عدولی قرار دے کر وزیر اعظم یا کسی سرکاری افسر کو ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو ملک میں پارلیمنٹ کے اختیار کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی۔ سپریم کورٹ کو مالی معاملات پر حکم صادر کرتے ہوئے یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ فاضل جج عام طور سے مالی معاملات کے ماہر نہیں ہوتے اور نہ ہی ملکی آئین عوامی وسائل استعمال کرنے کا اختیار عدالت کو عطا کرتا ہے۔ یہ استحقاق بلاشرکت غیرے پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس لیے امید کرنی چاہیے کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کی سخت زبان سے قطع نظر چیف جسٹس اس معاملہ پر ذاتی انا کی بجائے قومی مفادات اور آئینی تقاضوں کو پیش نظر رکھیں گے۔
سپریم کورٹ کے کسی سخت فیصلہ کے نتیجہ میں جو توڑ پھوڑ اور انتشار کی کیفیت پیدا ہوگی، اس کا سب سے زیادہ اثر سپریم کورٹ پر ہی مرتب ہو گا۔ اس لیے امید کرنی چاہیے کہ آزاد کشمیر میں اختیار کیا گیا طرز عمل پاکستان میں دہرایا نہ جائے اور کوئی ایسی قانونی روایت مستحکم ہو جس میں سب ادارے اپنے آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کرسکیں۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

