شدید سیاسی بحران کے عالم میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق آگے بڑھے ہیں اور حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لئے کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عید الفطر کے بعد جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام ہو گا۔ جماعت کے امیر سراج الحق کی کوشش ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور عمران خان بھی اس میں شامل ہوں۔ فی الوقت تو تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ بات چیت کے لئے سہ رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔ یہ طریقہ کسی بڑے سیاسی مفاہمت کا اشارہ نہیں ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان کوششوں کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے سراج الحق اپنی نیک نامی کی بنیاد پر دونوں لیڈروں کو کسی مفاہمت پر آمادہ کر لیں۔ لیکن سوچنا چاہیے کہ جو کام پارلیمنٹ کے ذریعے ممکن نہیں ہوسکا، اسے ایک ایسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کیسے انجام دیا جاسکتا ہے جو ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے پر کام کرتی ہے اور جسے عوام میں کوئی خاص مقبولیت بھی حاصل نہیں ہے۔ تاہم ملک کے انتہائی تشویشناک سیاسی ماحول میں سیاسی رابطوں کی خبروں اور مفاہمت کی کوششوں کو خوش آئند قرار دینا چاہیے۔
یوں بھی سیاست مل جل کر چلنے ہی کا نام ہے۔ عمران خان نے سیاست میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کھڑی کر کے باقی تمام سیاسی جماعتوں کو ’غیر ضروری‘ قرار دے رکھا ہے۔ ان کے خیال میں صرف تحریک انصاف ہی دیانت دار سیاست دانوں پر مشتمل ہے باقی سب ’چور لٹیرے‘ ہیں۔ اسی لئے وہ مفاہمت اور قومی مفاد کے لئے بات چیت پر آمادہ ہونے کے تمام تر وعدوں کے باوجود مسلسل یہ انکار کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی صورت شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے کیوں کہ وہ قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث ہیں۔
اسی حوالے سے انہوں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومت سے انتخابات کے انعقاد پر بات ہوئی تو اس میں تحریک انصاف کے دوسرے درجے کے لیڈر شامل ہوں گے۔ وہ خود اس قسم کی کسی ملاقات میں شامل نہیں ہوسکتے جہاں ملک لوٹنے والے جمع ہوں۔ حیرت ہے کہ وہ جس فعل کو خود اپنے لئے ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں، اپنی پارٹی کے ساتھیوں کو کیسے اسے اختیار کرنے کا مشورہ دے سکیں گے؟
اب ممکن ہے کہ سراج الحق نے اپنی شیریں بیانی سے عمران خان کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر آمادہ کر لیا ہو لیکن کسی بھی قومی مفاہمت کے لئے صرف مل بیٹھنا ہی کافی نہیں ہو گا بلکہ بعض بنیادی اصولوں کو تسلیم کرنا بھی لازمی ہے۔ مثال کے طور پر حکومت یہ تسلیم کرے کہ انتخابات کے علاوہ آگے بڑھنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائندے اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اس قسم کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند کریں جن کے مطابق انتخابات کو مقررہ مدت سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور موجودہ سیاسی انتظام مزید ایک یا دو سال تک جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے برعکس شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر، یہ واضح کرنا چاہیے کہ عام انتخابات بہر حال ستمبر اکتوبر کے دوران منعقد کیے جائیں گے۔ حکومت پنجاب یا خیبر پختون خوا میں قبل از وقت انتخابات کی مخالفت محض اس اصول کی وجہ سے کر رہی ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد ہوں۔
اسی طرح عمران خان کو خود اپنی اور تحریک انصاف کی طرف سے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں یہ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ ملک میں سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ سب سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کا احترام کرتے ہیں اور ملک و قوم کی بھلائی کے علاوہ ملک میں سیاسی جمہوری عمل جاری رکھنے کے لئے تمام افراد، گروہوں اور پارٹیوں سے بات چیت کرنے، مکالمہ جاری رکھنے اور مل بیٹھنے پر تیار ہیں۔ انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ سیاسی مکالمہ کا یہ عمل صرف ایک نشست یا موقع کے لئے نہیں ہو گا بلکہ اس طریقہ کو بنیادی جمہوری اصول کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
کیوں کہ سیاسی پارٹیوں میں طریقہ کار، منشور اور ترجیحات کے سوال پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان نے عوام کے ایک قابل ذکر طبقہ میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے صرف قومی سیاسی لیڈروں کے خلاف مہم جوئی ہی کو ہتھکنڈے کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ سائفر کے معاملہ کو لے کر غیر ملکی سازش کا ڈھونگ بھی رچایا تھا جس میں امریکہ کو پاکستان کا دشمن اور عمران خان کا مخالف ظاہر کر کے سادہ لوح پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب وہی عمران خان فون پر امریکی کانگرس کے لیڈروں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ تو امریکہ کے دوست ہیں اور اس کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو اس تضاد بیانی سے تائب ہونے کا وعدہ کرنا ہو گا۔
اقتدار کے دوران اور اس سے محروم ہونے کے بعد بھی عمران خان مسلسل موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو کرپٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا یہ الزام کسی حقیقت یا عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ انہوں نے اسے ایک سیاسی نعرے کی حیثیت دی ہوئی ہے جس کے مطابق عمران خان کے سوا چونکہ کوئی سیاست دان دیانت دار نہیں ہے لہذا عمران خان کے سوا کسی کو حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر اگر واقعی کسی قومی مقصد کے لئے تمام اہم لیڈروں کو ایک میز پر لانا چاہتے ہیں تو انہیں ملاقات سے پہلے یہ یقین دہانی بھی حاصل کر لینی چاہیے کہ کسی شخص کو عدالتی فیصلہ کے بغیر چور لٹیرا قرار نہ دیا جائے اور سیاسی مقاصد کے لئے ذاتی الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔ اگر وہ یہ وعدہ حاصل کیے بغیر شہباز شریف اور عمران خان کو ایک کمرے میں لانے میں کامیاب ہو بھی جائیں اور ملاقات کے بعد دونوں ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس منعقد کر رہے ہوں تو ایسی کوششیں شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ملکی سیاست کا معاملہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اختلاف سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گمبھیر ہے۔ ان دونوں گروہوں کا اختلاف اقتدار پر دسترس کے لئے ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کو حکومت مل گئی تو وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو نشان عبرت بنانے کی کوشش کریں گے اور اگر پی ڈی ایم جیت گئی تو وہ پورے نظام کو تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف استعمال کرے گی۔ عمران خان کو اس وقت ہمہ قسم سہولت اور سیاسی آزادی حاصل ہے۔ عدالتیں مسلسل انہیں ریلیف فراہم کر رہی ہیں اور گوناں گوں مسائل میں گھری شہباز حکومت میں بھی براہ راست عمران خان کو نشانہ بنانے کی سکت نہیں ہے۔ تاہم انتخابات کے بعد اگر انہیں ایک بار پھر اقتدار مل گیا تو یہ صورت حال نہیں ہوگی۔
ان اندیشوں کے پیش نظر کسی بھی بامقصد بات چیت سے پہلے دونوں فریقوں سے مزید دو باتوں کی یقین دہانی حاصل کی جائے۔ ایک تو یہ کہ مجوزہ انتخابات جب بھی منعقد ہوں، سب فریق ان کے نتائج تسلیم کرنے کا وعدہ کریں۔ دوسرے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد اپوزیشن لیڈروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع نہیں کرے گی۔ یہ وعدے اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جب نفرت کی بجائے احترام اور سیاسی عمل پر یقین کا ماحول پیدا ہو۔ اس وقت ملک میں یہ ماحول موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی جیسے چھوٹے گروہ کی کوششوں سے کسی بڑی کامیابی یا بریک تھرو کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
سیاسی الجھاؤ کے دیگر پہلوؤں میں سیاسی معاملات میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور یکے بعد دیگرے جاری کیے گئے احکامات بھی شامل ہیں۔ ایک طرف ملک کے سیاسی لیڈروں کے درمیان انتخابات کی تاریخوں کے بارے میں ملاقات کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی قیادت میں سپریم کورٹ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کا حکم دے چکی ہے۔ دو روز پہلے ہی سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے براہ راست اسٹیٹ بنک کو الیکشن کمیشن کو وسائل فراہم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ حکومت اصرار کر رہی ہے کہ پارلیمنٹ اس حوالے سے مالی بل مسترد کرچکی ہے۔
ایک ایسے ماحول میں انتخابات منعقد کرنے کے لئے مذاکرات کامیاب ہونے کی کیا امید ہو سکتی ہے جب اسی سوال پر سپریم کورٹ بھی فریق بنی ہوئی ہو اور ایک کے بعد دوسرا حکم جاری کرنے پر آمادہ ہو۔ مذاکرات کی کوئی کوشش تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے اگر تحریک انصاف اور حکومت مشترکہ طور سے سپریم کورٹ کو یہ تحریری درخواست بھیجیں کہ اب وہ سیاسی عمل کے ذریعے انتخابات کے شیڈول کا تعین کر رہے ہیں، اس لئے عدالتی کارروائی روک دی جائے۔ اور عدالت اس پر راضی بھی ہو جائے۔ اس قسم کی کسی صورت حال کے بغیر نہ تو بات چیت کا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس سے کوئی مقصد حاصل ہو سکے گا۔
انتخابات کے حوالے سے سب سے اہم بات البتہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیاب کروانے کے لئے کیے گئے اقدامات کا ایک طویل سلسلہ ہے جن کی وضاحت کے بغیر سیاسی عمل کو شفاف بنانے کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ اب یہ حقائق سامنے آچکے ہیں کہ نواز شریف کو ایک خاص منصوبہ کے تحت نا اہل کروایا گیا اور انتخابات کے دوران مختلف ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا۔ انتخابات میں دھاندلی اور بدعنوان طریقوں کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والے عمران خان اپنی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کو سازش اور قوم سے غداری قرار دیتے رہے ہیں۔
لیکن وہ سابقہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے فوج اور عدلیہ کے کردار پر کوئی بات نہیں کرتے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گے اگر ماضی قریب میں سیاسی تبدیلی کے اس غیر جمہوری طریقہ پر کوئی باضابطہ افہام و تفہیم کا کوئی راستہ تلاش نہیں کیا جاتا۔ سب سے پہلے تو عمران خان کو سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں اپنی غلطی تسلیم کر کے اعتراف کرنا ہو گا کہ وہ اقتدار کے لئے عسکری و عدالتی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاسی مخالفین کے خلاف سازش کا حصہ بنے تھے اور مستقبل میں ایسا کوئی طریقہ اختیار نہیں کریں گے۔ اس صورت میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عدالتی ریلیف اور اپنے لیڈروں کے خلاف کیے گئے ناجائز فیصلوں کو کالعدم قرار دلوانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
2023 کے دوران شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری ہے کہ 2018 کے انتخابات کے دوران اختیار کیے گئے ہتھکنڈوں کو سرکاری دستاویزی صورت میں سامنے لایا جائے اور اسے ماضی کا واقعہ قرار دے کر آگے بڑھنے کی بجائے، اس عمل میں ملوث تمام افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے خواہ ان میں کوئی سابق جنرل ہو یا چیف جسٹس۔ سراج الحق یہ معجزہ کرسکیں تو قوم پر اس سے بڑا اور کیا احسان ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

