چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جب آئینی تقاضے موجود ہوں تو سپریم کورٹ کے جج پلک نہیں جھپک سکتے۔ ان پر لازم ہے کہ آئینی شقات پر عمل درآمد کروائیں۔ لاہور کی ایک تقریب میں پنجاب کے صوبائی انتخابات کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آئین اگر 90 دن میں انتخابات کا کہتا ہے تو اس پر عمل کرنا ہو گا‘۔
انہوں نے یہ باتیں آنجہانی جسٹس کارنیلیس کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب سے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ عدالت کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں آئین کی عمل داری کے لئے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ ملک کے طاقت ور عدالتی عہدے پر سرفراز جسٹس عمر عطا بندیال نے خود کو عاجز اور معمولی انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو سپریم کورٹ کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ کسی ایک فرد کا۔ سپریم کورٹ اور اس کے ججوں کا انفرادی طور پر کوئی وجود نہیں ہے۔ ہم ایک اکائی اور ایک آئینی ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں‘۔
چیف جسٹس نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ آئین نے مذہبی آزادی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ آرٹیکل 22 تعلیمی اداروں کو مذہب کے حوالے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں کسی طالب علم کو اپنے مذہب کے علاوہ کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی مختلف مذہب کی تقریب میں شرکت پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے بارے میں 2014 کے ایک عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے یہ فیصلہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی باتوں کی رعنائی سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ حقیقت حال اتنی ہی خوشنما ہے جتنی چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے زبردستی تبدیلی مذہب کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر واویلا بھی کرتی رہتی ہیں لیکن صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کے کسٹوڈین چیف جسٹس کے علم میں ہو گا کہ سماج کے جس غریب طبقہ کو مذہبی تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے پاس اس ناانصافی سے پناہ حاصل کرنے کے لئے عدالتوں تک پہنچنا ممکن ہی نہیں۔ نہ وہ وکیلوں کی فیسیں ادا کر سکتے ہیں اور نہ عدالتی مصارف برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیریں عدالتیں مقامی مذہبی گروہوں اور طاقت ور لوگوں کے زیر اثر ہوتی ہیں۔ اس لئے حقوق کی حفاظت کے لئے مامور جج بھی مظلوم کا ساتھ دینے کی بجائے طاقتور کو درست قرار دے کر خود اپنی جان چھڑا نا مناسب سمجھتے ہیں۔
ملک میں نام نہاد توہین مذہب کے قوانین کے حوالے سے جس طرح انسانی حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور بے گناہ لوگ یا تو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں یا سال ہا سال تک جیلوں میں ایسے گناہ کی پاداش میں قید رہتے ہیں جو ان سے سرزد بھی نہیں ہوا۔ ملتان کے استاد جنید حفیظ کی صورت حال کو اس ناانصافی اور ظلم کی نمایاں مثال کے طور پیش کیا جاسکتا ہے۔ ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں ایک خاص مذہبی گروہ کے اشتعال دلانے پر جنید حفیظ کو 2013 میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ راشد رحمان کو اگلے ہی سال ان کے دفتر میں قتل کر دیا گیا۔ جنید حفیظ دس سال سے قید ہیں لیکن اس کے خلاف الزامات کی سماعت مکمل ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یوں تو درجنوں لوگ توہین مذہب کے بے بنیاد الزامات میں جیلوں میں بند ہیں لیکن جنید حفیظ کا معاملہ اس لحاظ سے الگ ہے کہ ان کے مقدمے کو قومی اور عالمی میڈیا میں متعدد بار پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی جج اس معاملہ میں ہونے والی نا انصافی سے آگاہ نہ ہو لیکن ایسے کسی معاملہ میں سو موٹو نوٹس لے کر بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرنا شاید اعلیٰ عدلیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
ملکی قانون میں توہین مذہب کی شقات سابق فوجی آمر جنرل (ر) ضیا الحق کی اسلامائزیشن کی مہم جوئی کے دوران شامل کی گئی تھیں۔ بعد میں مذہبی جماعتوں نے اس انتہا پسندی کو اپنی طاقت سمجھ کر اس قانون میں اصلاح کی ہر کوشش و امید کو ناکام بنایا۔ ملک کے کسی چیف جسٹس نے بھی آج تک یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جن شقات کی وجہ سے لوگوں میں شدت پسندی در آئی ہے، انہیں آئینی اصولوں کے آئینے میں پرکھ کر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جو اقلیتوں کی بہبود کے لئے ویسا ہی خوشنما ہو جیسی جسٹس عمر عطا بندیال کی باتیں تھیں۔ انہی قوانین کی وجہ سے مذہب کے نام پر خوں ریزی اور ہولناک تشدد کے المناک واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ 2014 میں عیسائی جوڑے شہزاد اور شمع کو اینٹوں کے بھٹے میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا۔ 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو ساتھی طالب علموں نے بے رحمی سے تشدد کر کے ہلاک کیا اور دو سال قبل سیالکوٹ کی ایک فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمار کو اس کے ماتحت کارکنوں نے زد و کوب کر کے، شدید اذیت دے کر ہلاک کیا۔ لیکن سپریم کورٹ کا کوئی چیف جسٹس سوموٹو اختیار کو ایک ایسے ناجائز قانون کی اصلاح کے لئے استعمال کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکا جس کا سہارا لے کر ملک میں مذہبی اقلیتوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جاتی ہے اور ہجوم کو خود ہی منصف بننے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا اختیار البتہ ایک ایسی آئینی شق کی نئی تشریح کرنے کے لئے ضرور استعمال کیا گیا ہے جسے ان کے ساتھی ججوں نے ہی آئین کو از سر نو لکھنے کا عمل قرار دیا تھا لیکن چیف جسٹس اپنے حامی ججوں کے ساتھ اس تشریح کو نافذ کر کے ملکی سیاست کا نقشہ تبدیل کرنے پر مصر رہے۔ اب وہ آئین کی بالادستی کا دعویٰ ضرور کر رہے ہیں لیکن انہیں سب سے پہلے اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ کیا آئین کی حفاظت صرف چیف جسٹس اور ان کے پسندیدہ ایسے ججوں کے نازک کاندھوں پر ہی آن پڑی ہے جن کے خلاف جانبداری اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں؟ اور کیا آئین نافذ کرنے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آئین چیف جسٹس کو اس بات کا بھی پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے ججوں کے ساتھ مل کر ملکی سیاست میں مداخلت کریں اور اسے آئین کی حفاظت کا نام دیا جائے۔
انہوں نے اپنی حمایت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں خود ہی فرمایا ہے کہ یہ احتجاج ایک فرد کے لئے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو بطور ادارہ مضبوط کرنے کے لئے ہونا چاہیے۔ لیکن پہلے انہیں خود اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ جس ادارے کو وہ اپنی گروہ بندی کی وجہ سے تقسیم کر رہے ہیں، قوم اسے ایک ادارے کے طور پر کیسے احترام دے سکتی ہے؟ جسٹس بندیال کا دعویٰ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سب جج برابر ہیں اور وہ خود بھی ان میں سے ایک ہیں لیکن جب پارلیمنٹ اختیارات کی تقسیم کے اصول پر استوار ایک مناسب اصلاح قانون کی صورت میں نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے عدالت کی آزادی پر حملہ قرار دے کر معطل کرنے میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ اگر سپریم کورٹ کے سب جج ایک ہی رتبے کے حامل ہیں تو کیا وجہ ہے کہ چیف جسٹس کے اختیارات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے اپنی قیادت میں بنچ بنانے کی بجائے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کوئی بنچ نہیں بنایا گیا تاکہ کسی کو بھی انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ یا پاکستان بار کونسل کی یہ درخواست کیوں بار بار مسترد کی جاتی رہی ہے کہ متنازع آئینی امور کا فیصلہ کرنے کے لئے فل کورٹ بنچ بنا دیا جائے؟
اسے انتہائی بدقسمتی کہا جائے گا کہ عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات پر گفتگو کرنے یا رائے دینے سے گریز کی مستند روایت موجود رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود ہی ایک تقریر میں ایک ایسے مقدمے پر بات کر رہے ہیں جو نہ صرف ابھی زیر سماعت ہے بلکہ اس پر حتمی فیصلہ بھی جسٹس بندیال کی قیادت میں سہ رکنی بنچ نے ہی کرنا ہے۔ نہ جانے چیف جسٹس اپنی کس کوتاہی یا غلطی کی وضاحت کے لئے ایک پبلک پلیٹ فارم کو استعمال کرنے پر مجبور ہوئے لیکن ملک میں اعلیٰ ترین عدالتی فورم کے سربراہ نے عدل و انصاف کے اس اصول کو نظر انداز کیا ہے کہ زیر سماعت معاملات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہیے ورنہ اسے توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ آئین کا تقاضا ہو تو سپریم کورٹ کے جج آنکھ نہیں جھپک سکتے لیکن وہ خود بھی ایسے فیصلوں میں شریک رہے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے ججوں نے آنکھیں بند کر کے اسٹبلشمنٹ کے ایک خاص سیاسی منصوبہ کو مسلط کرنے کے لئے فیصلے لکھے اور نا انصافی کی مثال قائم کی۔ اور ایسے فیصلوں کا حوالہ دینا تو وقت کا ضیاع ہے جب فوجی غاصبوں کو سزا دینے کی بجائے آئین میں ترمیم کا ’اختیار‘ دے کر انعام سے سرفراز کرنے کی مثال قائم کی گئی یا پی سی او کے تحت حلف لے کر آئین اور اپنے حلف کا مذاق بنایا گیا۔ ایک فوجی آمر کی سیاسی ضرورت کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کو قانون و ضابطے نظر انداز کر کے پھانسی کا حکم دیا گیا لیکن اس پر پشیمانی کا ایک لفظ کسی جج کے منہ سے سنائی نہیں دیا۔
حیرت ہے کہ ایک ایسی عدالت کا سربراہ آئین کے سامنے سرنگوں ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے جس کے اپنے فیصلے متنازع ہیں۔ چیف جسٹس کے اپنے ہی ساتھیوں کی اکثریت پنجاب انتخابات پر ان کے سوموٹو اختیار کو مسترد کرچکی ہے۔ جسٹس بندیال کی یہ بات درست ہے کہ آج نہیں تو کل عدالتی اتھارٹی اور آئینی بالادستی نافذ ہو گی۔ البتہ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب اکثریت کے فیصلے کو اقلیتی حکم سے مسترد کرنے کے طریقہ کا سدباب ہو گا۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

