ایمنسٹی انٹرنیشنل، گلوبل میڈیا واچ اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پاکستان میں تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کو خاموش کروانے کے لئے سنگین قوانین کے تحت مقدمے درج کرنے کی مذمت کی ہے۔ نیز ان قوانین کے استعمال کو آزادی رائے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں نے خاص طور سے سات صحافیوں یا سرکاری پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں شاہین صہبائی، وجاہت سعید خان، اینکر صابر شاکر، معید پیرزادہ، سابق فوجی افسر اور یوٹیوبر عادل راجہ اور سید حیدر رضا مہدی کے علاوہ ایک شخص سید اکبر حسنین کے نام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے آج ایک شہری کی درخواست پر اینکر و صحافی صابر شاکر اور معید پیرزادہ کے خلاف دہشت گردی اور ریاست سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے 9 مئی کے روز شہریوں کو فوج پر حملے کرنے اور ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ دیگر صحافیوں و یوٹیوبر کے خلاف اس سے پہلے اسی قسم کے الزامات میں مقدمے درج کیے جا چکے ہیں۔ جن افراد کے خلاف مقدمے درج کیے گئے، ان میں سے اکثر ملک سے باہر مقیم ہیں اور ان کی باتیں پاکستان میں سامعین تک پہنچنے پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان کے علاوہ عمران خان کے حامی اور مقبول یوٹیوبر عمران ریاض کئی ہفتے سے لاپتہ ہیں لیکن پولیس ہائی کورٹ کو ان کے بارے میں ٹھوس معلومات فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس دوران کراچی سے جیو نیوز کے ایگزیکٹو پروڈیوسر زبیر انجم کو اس ماہ کے شروع میں کراچی سے اٹھا لیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں کہ وہ کہاں ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ان ساتوں افراد کے خلاف ریاست مخالف اقدامات اور دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے انسداد دہشت گردی قوانین میں پولیس اور مسلح افواج کو بے پناہ اختیارات دیے گئے ہیں اور اس حوالے سے ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ان قوانین کے تحت انسانی حقوق نظر انداز کر کے کسی قانونی تحفظ کے بغیر لوگوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور انہیں دوران حراست ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی حکام کو دہشت گردی اور ریاست مخالف اقدامات کے حوالے سے قوانین کو تنقیدی آوازیں بند کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے‘۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعتراف کیا ہے کہ کسی جرم میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف اقدام ہونا چاہیے لیکن یہ کارروائی ایسے عام قوانین کے تحت ہو جسے عالمی طور سے قبول کیا جاتا ہے اور ملزمان کو کسی سول عدالت میں پیش کیا جائے۔ ایسی کسی کارروائی کو آزادی اظہار کو دبانے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے مشتبہ اور ناقابل اعتبار شکایات پر بغاوت کے الزامات میں مقدمے قائم کرنے کو غلط قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جن صحافیوں یا یوٹیوبرز کے تحت ایسے سنگین الزامات میں مقدمے قائم کیے گئے ہیں انہیں واپس لیا جائے اور یہ مقدمے ختم کیے جائیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور صحافی تنظیموں کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو مزید صحافیوں و اینکرز کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت جیسے سنگین الزامات میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ الزامات کی نوعیت سے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ مقدمے خوف پیدا کرنے اور کسی بھی سرکاری پالیسی کے خلاف رائے سامنے لانے کی حوصلہ شکنی کے لئے قائم کیے گئے ہیں۔ عالمی تنظیموں نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بصورت دیگر یہ سب لوگ تو ملک سے باہر ہیں اور حکومت کے اثر و رسوخ اور پابندیوں کی وجہ سے ان لوگوں کو مین اسٹریم میڈیا چینلز سے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔ اب وہ جو بھی بات کرتے ہیں، اسے یوٹیوب یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پھیلاتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسی نشریات کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اس لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ ان بیانات میں جن سات صحافیوں کا ذکر ہے، وہ پاکستانی کی قومی سالمیت کو کوئی نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں ہیں۔
ایسے میں یہ تجسس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پھر ریاست ملک سے باہر مقیم لوگوں کے خلاف مقدمے قائم کرنے اور تحقیقات جیسے مشکل مرحلے پر وسائل صرف کرنے میں کیوں دلچسپی لے رہی ہے؟ ایسی کسی کارروائی سے ان افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ پاکستان، امریکہ یا کسی دوسرے مغربی ملک سے ایسے افراد کو واپس لانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس نام نہاد قانونی کارروائی کا ایک ہی قابل فہم مقصد باقی رہ جاتا ہے کہ مقدمے قائم کر کے ملک میں موجود صحافیوں اور اینکرز میں خوف پیدا کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ اگر وہ کوئی ناپسندیدہ بات نشر کریں گے تو سرکاری طاقت سے ان کی گرفت کی جائے گی۔ ان پر ایسے الزامات عائد کیے جائیں گے جن میں طویل المدت قید کی سزا ہی نہیں بلکہ موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ خوف کی یہ فضا آزادی اظہار پر براہ راست حملہ ہے۔ ایک سول حکومت کی نگرانی میں ایسی کارروائی انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔
اس حوالے سے یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ جن صحافیوں کے حوالے سے یہاں بات کی جا رہی ہے، ان کے خلاف مقدمات پولیس یا سرکاری ایجنسیوں کی معلومات یا تحقیقات کی بنیاد پر درج نہیں کیے گئے بلکہ کوئی ’ذمہ دار محب وطن شہری‘ اچانک پولیس کے پاس پہنچتا ہے اور کوئی ایسی کہانی سناتا ہے کہ وہ کسی دوست کے پاس بیٹھا تھا یا اتفاق سے کسی سوشل میڈیا پر موجود تھا کہ اس نے متعلقہ افراد کو فوج کے خلاف اکسانے یا ریاست کے خلاف بغاوت جیسا پیغام عام کرتے سنا۔ یہ ’محب وطن شہری‘ تصور کر لیتا ہے کہ ان مشتبہ افراد کی باتوں سے عوام میں اتنا اشتعال پیدا ہوا کہ وہ 9 مئی کو جتھے بنا کر عسکری تنصیبات اور قومی یادگاروں کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ ملک کی ’سادہ لوح‘ پولیس ان باتوں پر یقین کر لینے کے بعد سنگین ترین دفعات کے تحت متعلقہ شخص کے خلاف مقدمہ قائم کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔
پاکستان میں ایسی کارروائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ریاست کے ’محب وطن شہری‘ ہمہ وقت سماج دشمن عناصر کے خلاف پولیس کو متحرک کرنے اور نظام انصاف میں دہائی دینے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ اگر پولیس میں ایف آئی آر درج نہ کروائیں تو کسی وکیل کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں میں مقدمے دائر کر کے تماشا لگانے کو ہی ملکی مفادات کا تحفظ سمجھتے ہیں۔ یہ کون عناصر ہیں۔ ان کے پاس اتنا فالتو وقت اور وسائل کہاں سے دستیاب ہوتے ہیں اور یہ ہمہ وقت صرف انہیں لوگوں کے خلاف کیوں سرگرم رہتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے کوئی ایسی بات کر رہے ہیں جو بوجوہ حکومت وقت اور ریاستی اداروں کو ناگوار گزرتی ہے۔
کیا ریاست پاکستان کے یہ رضاکار شہری محض جذبہ حب الوطنی سے مجبور ہو کر پولیس کے پاس پہنچ جاتے ہیں؟ حالانکہ پاکستانی پولیس کے بارے میں تو یہ دعائیہ جملہ کہا جاتا ہے کہ ’خدا دشمن کو بھی پولیس کے چکر میں نہ ڈالے‘۔ پھر یہ لوگ کیوں خدائی فوجدار بن کر ایک ایسے ادارے کے پاس پہنچتے ہیں جو انصاف دلانے سے زیادہ قانون و انصاف کا خون کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔ اور پولیس جو عام طور سے کسی جائز وقوعہ پر قریب ترین لواحقین کی شکایت پر بھی ایف آئی آر درج کرنے پر تیار نہیں ہوتی، کیوں ان ’قومی رضاکاروں‘ کا خوش دلی سے استقبال کرنے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھی ہوتی ہے۔
ملک میں آزادی رائے کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں یہ تخصیص کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ بعض افراد کو کسی الزام یا عذر کے بغیر اچانک لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ طویل مدت تک کہیں روپوش رہتے ہیں اور پھر اچانک سامنے ضرور آتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں بتاتے کہ وہ کہاں اور کس کے پاس تھے۔ ان کی خاموشی، اس ظلم و استبداد کی ان کہی کہانی ہوتی ہے جو پاکستانی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف روا رکھنا جائز سمجھتی ہے۔ البتہ اس حوالے سے متاثرین کی دوسری قسم وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی خوف کی وجہ سے پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن پھر بھی ریاست ان کے خلاف سنگین الزامات میں مقدمے قائم کر کے انہیں متنبہ کرنے اور ملک میں موجود دیگر لوگوں کو خبردار کرنا ضروری سمجھتی ہے۔
حیرت ہے کہ اس حوالے سے عالمی سطح پر ملک و قوم کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اگر یہ لوگ پاکستان میں رہ کر وہی باتیں کرتے رہیں اور ریاست انہیں نوٹس نہ کرے تو یہ لوگ رائے عامہ کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن پابندیاں لگانے، تادیبی کارروائی کرنے اور سنگین الزامات میں مقدمے قائم کر کے بعض ایسے صحافیوں یا افراد کو بھی عالمی شہرت دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کی پروفیشنل ساکھ مشکوک اور حلقہ اثر محدود ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ کسی میرٹ کے بغیر شہرت حاصل کرلیتے ہیں۔ اور پاکستان کو انسانی حقوق کے دشمن اور آزادی رائے مخالف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومت کو معاملہ کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ بعض صحافیوں اور یوٹیوبرز نے بے بنیاد، غلط اور گمراہ کن باتوں کو پھیلا کر صحافت کو شدید نقصان پہنچایا اور آزادی رائے کو ناجائز طور سے استعمال کیا ہے۔ لیکن ایسے ناجائز رویوں کے خلاف جب ریاست نہایت شدت سے مشکوک قوانین کے تحت مقدمے قائم کرے گی تو نہ تو ایسے عناصر کی اصلاح ہوگی اور نہ ہی حقیقی معاملات تک عوام کی رسائی ہو سکے گی۔ آزادی رائے کی حرمت کا تقاضا ہے کہ پابندیاں لگانے کی بجائے حقائق تک عوام کو رسائی دی جائے۔ یوں جھوٹ کا پردہ خود ہی فاش ہو جائے گا۔
کوئی فرد یا ادارہ کسی مجرم کی حمایت نہیں کرتا لیکن کسی بھی قصور وار کے خلاف اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق شفاف نظام انصاف میں کارروائی ہی ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ کرے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان سے یہی مطالبہ کیا ہے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

