اوکاڑہ میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے پارٹی کی نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے تحریک انصاف کو ’دہشت گرد پارٹی‘ اور عمران خان کو ’چور اور ڈھونگی‘ قرار دیا۔ اس سے پہلے انتخابی مہم پر نکلے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل ’تیر سے شیر کا شکار‘ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ بڑے لیڈروں کی ایسی گفتگو ملک میں پہلے سے موجود سیاسی تقسیم اور نفرت میں اضافہ کرے گی۔ حالانکہ پاکستان کو اس وقت ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات کی گرما گرمی میں ایسے بیانات عوام میں جوش پیدا کرنے اور سیاسی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ ایک بار انتخابات مکمل ہو گئے تو یہ ساری گرما گرمی ختم ہو جائے گی اور حالات معمول پر آ جائیں گے۔ ملک میں اگر سیاسی مکالمہ اور تعاون کی تاریخ خوشگوار ہوتی تو اس قسم کی رائے قابل غور ہو سکتی تھی لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے 90 کی دہائی میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کا جو ماحول بنایا تھا، اسے ابھی تک نہ تو سمیٹا جا سکا ہے اور نہ ہی اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 2005 میں میثاق جمہوریت پر دستخط بھی کیے تھے اور ملک میں جمہوری اصلاحات لانے کے علاوہ سیاسی اختلافات کے باوجود انفرادی احترام کا طریقہ فروغ دینے کا عہد کیا تھا لیکن دونوں ہی پارٹیاں اس وعدے پر قائم نہیں رہ سکیں۔
گزشتہ سال اگست میں قومی اسمبلی تحلیل ہونے تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی متعدد دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت کا حصہ رہی تھیں۔ شہباز شریف اس اتحادی حکومت کے سربراہ اور بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ تھے۔ لیکن اس اتحاد و تعاون کی حقیقت اس وقت عیاں ہو گئی جب بلال بھٹو زرداری نے تھوڑے عرصے بعد ہی مسلم لیگ (ن) کے خلاف باقاعدہ مہم جوئی کا آغاز کر دیا اور عوامی بات چیت میں یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی کہ یہ حکومت مکمل طور سے ناکام رہی تھی کیوں کہ شہباز شریف ملکی معیشت کو بہتر کرنے اور عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن چونکہ وزارت خارجہ بلاول کے پاس تھی، اس لیے خارجہ پالیسی کی حد تک بے شمار کامیابیاں سمیٹی گئیں۔
بلاول بھٹو کا دعویٰ رہا ہے کہ شہباز حکومت مکمل طور سے ناکام حکومت تھی اور مسلم لیگ (ن) اتحادی حکومت کی سربراہی کرتے ہوئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کر سکی۔ بلکہ معیشت و سیاست میں اتنا ’ملبہ‘ اکٹھا کر دیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو وزیر اعظم بن کر ہی اس کی صفائی کر سکتے ہیں۔ اگر اس طرز استدلال کو درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر پیپلز پارٹی ایسی ناکام اور عوام دشمن حکومت کا حصہ کیوں بنی رہی اور کیا وجہ تھی کہ حکومت سے علیحدہ ہو کر بلاول بھٹو نے ملک میں فوری انتخابات کا ماحول پیدا نہیں کیا۔ بلکہ دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے کہنے پر جب پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کرانے پر زور دیا گیا تو پیپلز پارٹی نے بھی اس سیاسی مطالبے اور آئینی ضرورت کی اسی طرح مخالفت کی جیسے مسلم لیگ (ن) اس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دونوں پارٹیوں کی ساز باز سے ہی ان دونوں صوبوں میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ وہاں ایسی غیر منتخب نگران حکومتوں کو کام کرنے دیا گیا، جن کا جواز آئین پاکستان سے تلاش نہیں کیا جاسکتا۔
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی تند و تیز تنقید کا جواب نہیں دیا۔ اسے ایک مستحسن طریقہ سمجھا جاتا، اگر مریم نواز آج کے جلسہ میں عمران خان اور تحریک انصاف پر غیر ضروری طور سے سنگین الزامات عائد نہ کرتیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پیپلز پارٹی سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتی اور سندھ اور بلوچستان میں چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے وہاں سے ان نشستوں پر کامیابی کی خواہاں ہے جہاں پہلے پیپلز پارٹی کامیاب ہوتی رہی ہے۔ خاص طور سے سندھ کے شہری علاقوں میں یہ سیاسی کشمکش دیکھنے میں آئے گی کیوں کہ وہاں سے تحریک انصاف کی خالی کی ہوئی نشستیں جیتنے کے لیے ہر پارٹی تگ و دو کر رہی ہے۔
انتخابی نشان سے محروم ہونے کے بعد بھی تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی نے انتخابی میدان خالی نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہر نشست پر تحریک انصاف کے امید وار اب آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں گے۔ گو کہ انتخابی نشان کے بغیر اور اعلیٰ قیادت کے زیر حراست ہونے کی وجہ سے پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن پولنگ والے دن کروڑوں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے۔ انہیں نہ تو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی وابستگی کے بارے میں قبل از وقت کوئی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں یہ قیاس کر لینا سیاسی خام خیالی ہوگی کی تحریک انصاف کو ناک آؤٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ بہر حال 8 فروری کو ہی ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) اسی بے یقینی کی وجہ سے اپنا اصل مد مقابل تحریک انصاف ہی کو مان رہی ہے۔ اور انتخابی مہم کے آغاز میں ہی تحریک انصاف کے خلاف جارحانہ طرز تکلم اختیار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو تین حوالوں سے تحریک انصاف سے شدید خطرہ محسوس کرنا چاہیے :
ایک: ملک میں ساڑھے تیرہ کروڑ رجسٹرڈ ووٹوں میں سے نصف سے زائد کی عمریں 25 سال سے کم ہیں۔ ان کی اکثریت پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلے گی اس لیے ان کے سیاسی رجحان کا حتمی اندازہ قائم نہیں ہو سکتا۔ البتہ ان کی بڑی تعداد شہروں میں آباد ہے اور ان کی سوشل میڈیا تک رسائی ہے، جہاں تحریک انصاف موثر طریقے سے اپنا پیغام ووٹروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ محتاط قیاس یہی ہے کہ اگر ان ووٹروں کی نصف تعداد بھی پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچ گئی تو انتخابی نتائج حیران کن حد تک متوقع اندازوں سے مختلف ہوسکتے ہیں۔
دوئم: شہباز شریف کی سربراہی میں اپریل 2022 سے اگست 2023 تک اتحادی حکومت قائم رہی ہے۔ اس حکومت کی کارکردگی سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف معاشی بدانتظامی کا مقدمہ بنا کر عدم اعتماد کا اہتمام کیا گیا تھا اور متبادل اتحادی حکومت معاشی اصلاح کے ایک نکتہ پر مشتمل ایجنڈے کی بنیاد پر برسر اقتدار آئی تھی۔ لیکن اس دوران میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ملکی پیدا وار زوال پذیر ہوئی۔ یہ درست ہے کہ اس کا سارا بوجھ مختصر مدت کے لیے حکومت کرنے والی شہباز حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن وہ اصلاح احوال کے لیے کوئی قابل ذکر کام بھی نہیں کرسکے۔ اس حکومت کا زیادہ وقت اپنی ’حفاظت‘ کرنے اور عمران خان کے سیاسی چیلنج کا مقابلہ کرنے میں بیت گیا۔ اب انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس سیاسی ناکامی کی کوئی مدلل وضاحت موجود نہیں ہے۔ یہ صورت حال نواز شریف کے لیے خاص طور سے اہم سیاسی خطرہ ہے۔
سوئم: بوجوہ مسلم لیگ (ن) کو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ پارٹی کہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی حد تک یہ تاثر راسخ کیا گیا ہے کہ نواز شریف ہی فوج کا نیا ’لاڈلا‘ ہے۔ مسلم لیگ (ن) یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم منتخب کروانا چاہتی ہے اس لیے اس کے لیے ’لاڈلا‘ کی پھبتی کو پورے طور سے مسترد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ نواز شریف اس بات سے نالاں ہیں کہ انہیں اور ان کی پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کا چہیتا کہا جائے۔ نواز شریف نے چند مواقع پر ملکی نظام میں اسٹیبلشمنٹ کی ناروا مداخلت پر نکتہ چینی کی کوشش کی ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کے بیان میں حقیقی جذبہ ناپید ہے۔ کیوں کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی خیر سگالی کے بغیر انتخاب جیتنا شاید مشکل ہو۔ ان کے لیے بیک وقت خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بتانا اور ساتھ ہی اس کے تعاون یا بالواسطہ ہمدردی سے کامیابی کا راستہ ہموار کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
ان تینوں نکات کی روشنی میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مہم جوئی کا مرکز بہر حال تحریک انصاف اور عمران خان ہوں گے۔ اس کے علاوہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں شریف خاندان کے لیے زندگی مشکل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ وہ کسی بھی قیمت پر پاکستانی سیاست میں نواز شریف کا اثر و رسوخ ختم کر دینا چاہتے تھے۔ اب مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو موقع ملا ہے تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ حساب برابر کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ حالانکہ یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کو مکافات عمل کا سامنا ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی میں شریف خاندان کا کوئی کردار نہیں ہے کیوں وہ تو ابھی اقتدار میں نہیں۔ لیکن نواز شریف اگر اقتدار میں آ بھی گئے تو اندیشہ ہے کہ ان کے سیاسی ایجنڈے کا پہلا نکتہ عمران خان کی سیاست ختم کرنا ہو گا۔
مریم نواز کی آج کی تقریر اسی رویہ کا عملی نمونہ ہے۔ لیکن یہ زہر ناک گفتگو ملکی سیاست میں نفرتوں کو گہرا کرے گی اور قومی مقاصد کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ کسی سیاسی پارٹی کو ’دہشت گرد‘ قرار دینا غیر سیاسی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ سانحہ 9 مئی کا الزام ضرور تحریک انصاف کے کارکنوں پر عائد کیا جاتا ہے لیکن ابھی تک ان واقعات میں ملوث لوگوں کا تعین نہیں ہوسکا۔ محض الزامات کی بنیاد پر پوری پارٹی کو شدت پسند کہنا ناجائز اور ناقابل قبول ہے۔ یہی صورت حال عمران خان کے خلاف الزامات کی بھی ہے۔ نواز شریف، مریم نواز اور شریف خاندان کے دیگر ارکان خود اس صورت حال سے گزر چکے ہیں۔ اس لیے انہیں احساس ہونا چاہیے کہ سیاسی قیادت کو نظام قانون کے ذریعے منظر نامہ سے ہٹانا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اس سے کچھ انسانی المیے ضرور پیش آتے ہیں۔ نواز شریف ایسے المیوں کا سامنا کرچکے ہیں۔ انہیں دوسروں کے لیے انسانی طرز عمل اختیار کر کے سیاست میں اصول پرستی کی روایت قائم کرنی چاہیے۔
ملکی سیاست میں کوئی بھی پارٹی اصول یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر اقتدار حاصل نہیں کرنا چاہتی بلکہ افراد، گروہ یا خاندان ذاتی جاہ پرستی کے لیے اقتدار کی جد و جہد کرتے ہیں۔ اسی لئے ایک سے چہرے ہر جیتنے والی پارٹی کا حصہ بنتے ہیں۔ اوکاڑہ میں مریم نواز نے تحریک انصاف چھوڑنے والوں کو ’بھگوڑے‘ قرار دیا ہے۔ حالانکہ انہیں اپنی پارٹی کی صفوں پر نظر ڈال کر دیکھ لینا چاہیے تھا کہ ان بھگوڑوں کو کہاں پناہ ملی ہے۔ مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والے جو لوگ مسلم لیگ (ن) میں نہیں آئے تو وہ ایسی پارٹیوں میں شامل ہیں جو اقتدار میں مسلم لیگ (ن) کی حصہ دار ہوں گی۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

