یہ ہندوستان میں ہماری آمد اور ہندوستان پر چھا جانے سے پہلے کی بات ہے۔تب ہندوستان اقوام عالم کیلئے دلکش اوردلفریب ملک تھا۔ سب کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ دنیا کے اس خطہ میں ازلی اور اوائلی کشش تھی۔ ہندوستان ایک تو دولتمند اور قابل دید ملک تھا، دوسرے یہ کہ دلفریب اور موہ لینے والا ملک تھا۔ ملک گیری کی ہوس میں جنگجو ممالک وقفہ وقفہ سے ہندوستان پرحملہ آور ہوئے۔ پورچوگیز والے آئے۔ڈچ آئے۔ فرانس والے آئے۔ برطانیہ والے آئے۔ سکندر اعظم کی سربراہی میں یونانی آئے۔ عرب آئے۔ غزنوی آئے۔ افغانی آئے۔ ترک آئے۔ روایت ہے کہ یورپ سے جنگجو قبائل ھنHunنے بھی قسمت آزمائی کی تھی۔ ان اقوام نے سندھ پرتوجہ نہ دی۔ میں یورپ والوں کی بات کررہا ہوں، ورنہ انگریز سے بہت پہلے عربوں نے سندھ فتح کیاتھا۔مگر انگریز زیادہ ہوشیار تھے۔ ہندوستان پر مکمل تسلط حاصل کرنے کے بعد انگریزوں نے سندھ کے حکمرانوں سے اچھے تعلقات قائم کیے اور حیلے بہانوں سے اپنا وفد مستقل طور پر سندھ میں چھوڑ دیا۔ انگریزوں نے مستند دستاویزات تیار کیں۔ دستاویزمیں سندھ کے چپے چپے کا تجزیہ کیا۔ دبے لفظوں میں کولاچی کو جدید بندرگاہ میں تبدیل کرنے کی بات کی۔ حالانکہ سندھ کے حکمراں لمبے عرصہ تک افغانوں کو پابندی سے بھتہ دیتے رہے تھے، لیکن افغانوں کو سندھ میں شکار پور سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیا۔
سندھ مغلوں کے تحت بھی رہا۔ مگر مغلوں کو کولاچی کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک مرتبہ میروں سے اجازت لیکر انگریز نے دریائے سندھ کے راستے افغاستان پر حملہ کیا تھا، مگر شکست کھاکرلوٹ آئے تھے۔ اسکے بعد افغانستان اور سندھ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ ایک مرتبہ راجا رنجیت سنگھ نے سندھ کے حاکموں کو سندھ پرحملہ کی دھمکی دی تھی۔ گھبرا کر سندھ کے حاکموں نے انگریز سے معاہدہ کرلیا کہ اگر سندھ پرکبھی سکھوں نے حملہ کیاتو انگریز سندھ کا دفاع کریگا۔ اٹھارہ سو تینتالیس میں سر چارلس نیپر نے لڑتے ہوئے سندھ فتح کیا۔ پہلے سے تیار دستاویزات میں دی گئی تجاویز کے مطابق کو لاچی کو جدید بندرگاہ میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ تعمیراتی کام سمندرکے کھارے پانی سے نہیں ہوتا۔ سفارتی تعلقات کے دوران انگریز نے پتہ چلالیاتھا کہ کولاچی کے آس پاس میٹھے پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ یا ذریعہ نہیں تھا کہ جس سے اتنے بڑے تعمیراتی کام میں ہاتھ ڈالا جائے۔ لہذا کو لاچی سے تیس پینتیس میل دور ڈم لوٹی نام کے مقام پر انگریز نے پانچ کنویں کھدوائے۔ دریائے سندھ کے پانی سے کنوئیں خود بخود بھرنے لگے۔ ڈم لوٹی سے کیماڑی کے علاقہ تک پائپ لائنیں بچھادیں۔ اس طرح کراچی کی بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس جگہ کو کیماڑی کا نام دیا گیا۔ جب اتنے بڑے پیمانے پرکام شروع ہوتا ہے، تب اس پر سینکڑوں مزدور، مستری، بڑھئی، انجینئر اس کام سے جڑ جاتے ہیں۔ لہذا ان کیلئے کالونی بنائی گئی۔ انگریز دلجمعی سے کام کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ انکی چھوٹی بڑی کوٹھیاں بنیں۔ کاغذی کارروائی کیلئے دفتر بنے جہاں انگریز بندرگاہ پر ہونیوالے کام کاج کا حساب کتاب رکھتے تھے۔ یہ تھی جدید شہر کراچی کے بننے کی ابتدا۔ انگریز افسران کیلئے کلب بنایا گیا۔ کالونی میں رہنے والے مزدوروں ،بڑھئی،راج مستریوں، کاریگروں کی سہولت کیلئے چھوٹی بڑی دکان کھل گئی۔ ایک چھوٹا سا بازار بننے لگا۔ کالونی میں رہنے والے اپنے بال بچوں سمیت بندرگاہ کے قریب آباد ہوگئے۔ بچوں کیلئے اسکول کھولے گئے۔ اس دوران انگریز نے اپنے وضع کردہ منصوبہ کے مطابق بندرگاہ سے مال لیجانے اور لانے کیلئے ریل کی پٹریاں بچھانی شروع کردیں۔ کراچی کا خوبصورت سٹی اسٹیشن بنا۔ کچھ عرصہ بعدانگریز نے ریل کی پٹریاں کوٹری تک بچھا دیں۔ بندرگاہ پرمال بردار اور پیسنجر جہازوں کی آمدورفت کیلئے ڈیک بنوالیے۔ کراچی سے بمبئی، سورت، کلکتہ اور مدراس کے ساحلوں تک رابطہ قائم ہوا، گوا، بمبئی ، کلکتہ،سورت ،مدراس سے لوگ جوق درجوق کراچی آنے لگے۔ آہستہ آہستہ کراچی میں کاروباری مراکز کھلنے لگے۔ گوا سے زیادہ تر کرسچن کراچی آئے اور صدر کے علاقے میں بہت بڑی تعداد میں آباد ہو گئے۔ انہوں نے صدر میں ہی اپنا خوبصورت مرکز بنایا جو آج بھی گوئن ایسوسی ایشن کے نام سے صدر میں جہانگیر پارک کے قریب ، بمبینوسینما کے سامنے موجود ہے۔
گوئنز نے اپنا عالیشان کرکٹ گراؤنڈ بھی بنایا۔ وہ کرکٹ گراؤنڈ پاکستان بننے کے بعد بھی پرانی نمائش کے قریب فعال تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے صدر پر کرسچن چھا گئے۔ بمبئی اور کلکتہ سے ایرانی بہت بڑی تعداد میں آئے، اپنے ساتھ اپنا کاروبار بھی لے آئے۔ کراچی میں ایرانی ہوٹل کھلنے لگے۔ وہ لوگ کہلوانے میں پارسی آتے تھے۔ کراچی میں پارسیوں کی دیدہ زیب کالونیاں بننے لگیں۔ پارسیوں نے دل کھول کر کراچی پر خرچ کیا۔ خوبصورت پارک اور عمارتیں بنوائیں۔ اس دوران اندرون سندھ سے تعلیم یافتہ اور کاروباری ہندو بڑی تعداد میں کراچی میں آئے اور برنس روڈ اور فریئر روڈ پر عالیشان فلیٹ بنوائے جوآج بھی موجود توہیں مگر بے توجہی کی وجہ سے کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ لوگوں کی سہولت کیلئے انگریز نے کراچی میں ٹرام کی پٹریوں کا جال بچھا دیا ۔ہم لوگوں نے ٹرام بند کرکے، پٹریاں اکھاڑ دیں۔ انگریز کے دور کی جتنی خوبصورت عمارتیں تھیں ہم نے بدصورت کردیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی میں بیس پچیس سینما چلنے لگے۔ تین چار تھیٹر کام کرنے لگے۔ اسکے بعد کراچی نے پھر کبھی مڑکر نہیں دیکھا، اوائلی دور میں انگریز کراچی کو انگلش میں اس طرح لکھتے تھے،Kurra chee
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

