صوبوں میں حکومت سازی کے بعد اب مرکز میں نئی حکومت کے قیام کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ آج قومی اسمبلی میں اتحادی پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار سردار ایاز صادق اسپیکر اور سید غلام مصطفے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے۔ انہیں بالترتیب 199 اور 197 ارکان نے ووٹ دیا۔ جبکہ سنی اتحاد کونسل (تحریک انصاف) کے امیدوار عامر ڈوگر کو 91 ووٹ ملے۔ البتہ تحریک انصاف کا مسلسل دعویٰ ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں 225 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
تحریک انصاف ہفتہ کے روز پاکستان بھر میں ’مینڈیٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس احتجاج کے ذریعے پارٹی اپنی عوامی حمایت کی سند فراہم کرے گی۔ تاہم دیکھا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف سانحہ 9 مئی کے بعد کوئی بڑا اور قابل ذکر عوامی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اگرچہ انتخابات میں اسے قابل ذکر پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواروں نے انتخابی نشان سے محروم ہونے کی وجہ سے متنوع انتخابی نشانات پر انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم پی ٹی آئی کے حامی ووٹروں کے لیے یہ کوئی بڑی رکاوٹ نہیں بنی۔ اور ہر حلقے میں تحریک انصاف کی حمایت سے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار کی شناخت کر کے اسے ووٹ دیا گیا۔ یوں تحریک انصاف 8 فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کے علاوہ سب سے زیادہ ارکان اسمبلی منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئی۔
البتہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو ناکامی قرار دے رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ دھاندلی کے ذریعے اس کی سیٹیں مخالف امیدواروں کو دے دی گئی ہیں۔ اس لیے پارٹی مسلسل احتجاج کی کیفیت میں ہے اور کسی صورت ملک کے سیاسی عمل میں مثبت حصہ داری پر آمادہ نہیں ہے۔ اس طرز عمل کی سب سے بڑی وجہ اس کے بانی چیئرمین عمران خان کی قید ہے۔ وہ متعدد مقدمات میں طویل المدت سزائیں پا چکے ہیں۔ اس لیے انہیں ہائی کورٹ سے شاید آسانی سے ضمانت نہ مل سکے۔ جبکہ مختلف مقدمات پر اپیلوں پر عدالتی غور و خوض میں کئی ماہ صرف ہوسکتے ہیں۔ اس دوران میں متعدد دوسرے مقدمات پر بھی عدالتوں میں کارروائی جاری ہے جس کے نتیجے میں انہیں مزید سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس طرح ان کی رہائی کا معاملہ مزید پیچیدہ اور تعطل کا شکار ہو گا۔
سیاسی منظر سے اپنی غیرموجودگی کی بنا پر عمران خان اپنے ساتھیوں کے ذریعے احتجاجی سیاست کرنے پر بضد ہیں۔ یہ رویہ شاید ان کی پارٹی کے طویل المدت مستقبل کے لیے بھی خطرناک اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسا کہ سب کے علم میں ہے عمران خان، اپنی ذات سے بڑھ کر سوچنے کے عادی نہیں ہیں۔ ان کے طرز سیاست کا یہی نکتہ ان کی سیاسی مشکلات کا سبب بنا ہے اور اب وہ یہ مشکل ملک کے سیاسی نظام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد عمران خان نے مسلسل اینٹی اسٹیبلشمنٹ مہم کی چلائی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت عوامی مسائل کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر سکی۔ شہباز شریف بطور وزیر اعظم صرف ایک مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا عبوری پروگرام حاصل کر لیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ اسی معاہدے کا نتیجہ تھا کہ ملک کی نگران حکومت بھی 6 ماہ کی مدت میں کسی بڑی پریشانی کا شکار نہیں ہوئی۔ تاہم اس کے علاوہ شہباز حکومت مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں یا دیگر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کوئی پیش رفت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ عمران خان کو حکومت کے خلاف بیانیہ بنانے اور خود کو مظلوم کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنے میں کامیابی ہوئی۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں نواز شریف اور مریم نواز کو ’ووٹ کو عزت دو‘ کے سلوگن کی بنیاد پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوت سمجھتے ہوئے حمایت و قبولیت حاصل ہوئی تھی۔ تاہم عدم اعتماد کے بعد سڑکوں پر نکل کر عمران خان نے خود کو نظام تبدیل کرنے والے ہیرو کے طور پر منوانا شروع کیا۔ عوام بنیادی طور پر مشکل حالات کی وجہ سے ہر اس دیدہ و نادیدہ قوت کے خلاف نعروں پر سر دھنتے ہیں جن کے بارے میں باور کروا دیا جائے کہ اصل اختیار ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے نواز شریف اپنے زوال کے بعد اسی عوامی مزاج کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے، اور اپریل 2022 کے بعد سے عمران خان اور تحریک انصاف نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور عوام کو یقین دلایا کہ اگر وہ اقتدار میں آ جائیں تو ان کے مسائل چٹکی بجاتے حل ہوجائیں گے۔
یہ نعرہ لگانا جتنا آسان ہے، اس پر عمل درآمد اتنا ہی مشکل ہے۔ پاکستانی سیاست کی بدقسمتی یہی ہے کہ سیاست دان اقتدار میں آنے ہی کو جمہوریت سمجھتے ہیں اور وہ ووٹروں کو حقیقت حال سے آگاہ نہیں کرتے۔ ورنہ معاشی صورت حال کے بارے میں آگاہی رکھنے والا عام شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ 2022 میں پچیس کروڑ کی آبادی والے ملک کی معیشت کا حجم 352 ارب ڈالر تھا۔ اور اس وقت پاکستان پر 128 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے۔ ملکی معیشت ہمہ وقت تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال کی وجہ سے مسلسل بے یقینی کا شکار رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ تو کوئی دیرپا معاشی منصوبے شروع ہوسکتے ہیں اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ یہ حالات 2013 کے انتخابات کے بعد سے جوں کے توں ہیں۔ عمران خان نے 2014 میں انتخابی دھاندلی کے خلاف دھرنا سیاست کا آغاز کیا تھا جو درحقیقت عسکری قیادت کے ہائبرڈ طرز حکومت کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی لیے دھرنوں کے بعد پانامہ ڈرامہ کے ذریعے ملک میں مسلسل بے یقینی کی کیفیت کو برقرار رکھا گیا تاآنکہ 2018 میں فوجی جرنیلوں کی آنکھ کے تارے عمران خان کو وزیر اعظم منتخب کروا لیا گیا۔
تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان تمام تر دعوؤں کے باوجود کوئی بڑا معاشی مقصد حاصل نہیں کرسکے۔ ملک پر بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوتا رہا، قومی پیداوار کی شرح کم رہی اور مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ان حالات میں اگر تحریک انصاف اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات کی طرف جاتی تو اسمبلیوں میں اس کے چند ارکان ہی منتخب ہو کر آسکتے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کی غلط سیاسی منصوبہ بندی، جسے وہ ملکی معیشت بچانے کے لیے ایثار کا نام دیتی ہیں، کی وجہ سے عمران خان کو ہیرو بنا دیا۔ اور بطور خاص مسلم لیگ (ن) کو عوامی غم و غصہ کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ صورت حال کسی حد تک انتخابی نتائج سے بھی واضح ہو رہی ہے۔ اس دوران میں عمران خان نے مسلسل اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی کوشش کی اور یہ نعرہ عام کیا کہ اسٹیبلشمنٹ، نواز شریف کے ذریعے بدعنوان سیاست دانوں کو ملک پر مسلط کرنے کے کسی نام نہاد لندن پلان پر عمل کر رہی ہے۔
بدقسمتی سے نہ تو مسلم لیگ (ن) نے اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی عسکری قیادت نے سیاسی مباحث کی نوعیت دیکھتے ہوئے سیاسی معاملات سے اپنی لاتعلقی پر اصرار کرنا ضروری سمجھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بیشتر تجزیہ نگار اور ٹاک شوز کے میزبانوں کی گفتگو کا محور یہی ایک نکتہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے خلاف ہے اور مسلم لیگ (ن) کی سرپرست بنی ہوئی ہے۔ انتخابی مہم جوئی کے دوران میں بلاول بھٹو زرداری نے اتحادی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے کے باوجود خود کو اس حکومت کی ناکامیوں سے الگ کرنے کا کوشش کی اور بار بار دعویٰ کیا کہ نواز شریف فوج کی حمایت سے سیاست اور حکومت میں واپس آرہے ہیں۔ حالانکہ اس دعوے کو ثابت کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ تو درست ہے کہ سابقہ شہباز حکومت نے فوجی قیادت کو ملکی معاشی معاملات میں ملوث کرنے کے متعدد اقدامات کیے جن میں سر فہرست سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے لیے قائم ہونے والے کونسل تھی جس میں آرمی چیف کو شامل کیا گیا تھا۔ اس حیثیت میں آرمی چیف نے ضرور کردار ادا کیا ہے اور ملکی معیشت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ البتہ اس سے قطع نظر سیاست میں فوج کی براہ راست مداخلت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ لیکن آئی ایس پی آر نے فوج کی اس پوزیشن کا پروپیگنڈا کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کیا۔ اور افواہ سازی اور قیاس آرائیوں کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اب تحریک انصاف اپنی سیاسی کامیابی کو بھی ناکامی بتا کر ملکی سیاست پر مکمل اجارہ داری کا دعویٰ کر رہی ہے۔
ہفتہ کو ہونے والا مظاہرہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے اس احتجاج کے بارے میں کہا ہے کہ اس طرح عوام پارٹی کے موقف کی تائید کریں گے۔ حالانکہ عوام نے بڑی تعداد میں تحریک انصاف کو ووٹ دے کر اور اسے ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنا کر عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے اپنی حمایت کا اظہار تو پہلے ہی کر دیا ہے۔ رؤف حسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مینڈیٹ چوری کے خلاف ہماری جد و جہد تین حوالوں سے جاری رہے گی۔ آئینی جس کے تحت اسمبلیوں میں احتجاج رجسٹر کروایا جائے گا، قانونی جس میں عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر اپنا موقف ثابت کیا جائے گا اور عوامی احتجاج، جس کے تحت ہفتہ کے روز ملک بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے‘ ۔
رؤف حسن کی دلیل کی روشنی میں ہی دیکھا جائے تو جد و جہد کے ان تین پہلوؤں کو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن تحریک انصاف کو ان کی ترتیب درست کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور الیکشن ٹریبونلز اور عدالتوں میں فارم 45 کی بنیاد پر ان 80 حلقوں میں اپنے امیدواروں کی اکثریت ثابت کرنی چاہیے جہاں عامر ڈوگر کے بقول تحریک انصاف کے امیدوار جیتے تھے لیکن دھاندلی کے ذریعے مینڈیٹ چوری کر لیے گئے۔ اس مقصد میں کامیاب ہو کر آئینی جد و جہد کی جائے۔ اس کا پہلا مرحلہ بھی قومی اسمبلی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے فیصلے تبدیل کروانا ہونا چاہیے۔ جیسا کہ سابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے بھی تحریک انصاف کے لیڈر گوہر علی کو بتایا تھا کہ اسپیکر فارم 45 کی پڑتال نہیں کر سکتا۔ وہ تو اسی نتیجہ کو مانے گا جو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہو۔
واضح ہے کہ اگر تحریک انصاف عدالتوں میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی ثابت کر دیتی ہے تو اسے سیٹیں واپس مل جائیں گی اور پارٹی لیڈر غیر ضروری بیان بازی سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن پی ٹی آئی اور ان کے درپردہ عمران خان کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا کہ صرف شور مچا کر، میڈیا کو ہتھکنڈا بنا کر اور سوشل پلیٹ فارمز پر جھوٹ پھیلا کر انتخابی نتائج تبدیل کروا لیے جائیں گے۔ اس طرح ملک میں انتشار تو پیدا ہو سکتا ہے اور عوامی مسائل کا راستہ مسدود کیا جاسکتا ہے لیکن یہ راستہ کسی باوقار حل کی طرف نہیں جاتا۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

