تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

کیا عمران خان جمہورت پر یقین رکھتے ہیں ؟ سید مجاہد علی

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے کل فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ملاقات کی خبر سامنے آنے کے بعد آج عمران خان نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ پیغام میں بتایا تھا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی اور جنرل کے عہدے پر ترقی اور پاک فوج کا سربراہ بننے پر مبارکباد پیش کی۔ اس کے علاوہ دونوں نے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آج پشاور میں درخت اگانے کی ایک تقریب میں جب عمران خان سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں نے اس بارے میں بات کی تو ماحولیات کے بارے میں ہماری کوششوں کو میڈیا میں جگہ نہیں ملے گی۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاک فوج کے سربراہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ ملک کے ایک اہم سیاستدان کی آرمی چیف سے پراسرار ملاقات کے بعد یہ مختصر جواب نامکمل اور بات کو ٹالنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ اس جواب سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف یا ملک کی سیاسی قیادت نے عمران خان سے درخواست کی تھی کہ وہ جا کر آرمی چیف سے پوچھ آئیں کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ تاکہ وہ 2018 میں انتخابات کے حوالے سے اسی جواب کی روشنی میں توانائیاں صرف کریں۔ حالانکہ سوال یہ نہیں ہے کہ فوج ملک میں جمہوری انتظام کی حمایت کرتی ہے کہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں ایسے سیاستدان موجود ہیں جن کا کیریئر سیاست میں فوج کی مداخلت کی بنیاد پر ہی استوار ہے اور یہ کہ کیا تحریک انصاف کے سربراہ خود جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان گزشتہ چند برس کے دوران اگرچہ جمہوریت کے نام پر ہر لاقانونیت اور بدزبانی کو شعار بنائے ہوئے ہیں لیکن ان کے متعدد اقدامات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کو راسخ کرنے کےلئے حکومت اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی کاوشوں کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کوششوں کا کلائمیکس اگست 2014 میں کینیڈا سے آئے ہوئے علامہ طاہر القادری کے ساتھ مل کر دھرنا دینے اور حکومت کو استعفیٰ دینے کی دھمکیوں کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت ملک میں ’’جمہوریت لانے‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی اور پی ٹی وی پر حملہ کرکے بحران کو تیز کرنے کی کوشش کی گئی۔ عمران خان کی اسی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ اس وقت پاک فوج کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کو سول اور منتخب وزیراعظم نواز شریف پر برتری حاصل ہوئی اور وہ منتخب حکومت سے اپنی مرضی اور صوابدید کے مطابق فیصلے کروانے میں کامیاب رہے۔ عمران خان نے فوج ہی کے کہنے پر یہ احتجاج ختم کیا تھا جو انہوں نے یہ نعرہ لگاتے ہوئے شروع کیا تھا کہ وہ موجودہ حکومت کے خاتمہ تک دھرنا جاری رکھیں گے خواہ احتجاجی کیمپ میں وہ تنہا ہی کیوں نہ رہ جائیں۔ دھرنا ایڈونچر کے بعد بھی دھاندلی کے حوالے سے انہوں نے حکومت پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم گزشتہ برس اپریل میں پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد انہیں منتخب حکومت کے خلاف سیاسی مہم جوئی کا ایک نیا موقع ہاتھ آ گیا۔ یہ درست ہے کہ حکمران مسلم لیگ (ن) نے بھی اس بارے میں شفاف تحقیقات کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن عمران خان نے اس معاملہ کو جس طرح حکومت کو عضو معطل بنانے کےلئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے، اس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ انہیں اقتدار میں آنے کی بہت جلدی ہے لیکن یہ بات طے نہیں ہوتی کہ وہ یہ مقصد صرف جمہوری طریقہ سے ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 2012 کے ایک جلسہ سے اچانک مقبولیت (جسے وہ سونامی کا نام دیتے ہیں) ملنے کے بعد عمران خان کا جو سیاسی کردار سامنے آیا ہے، اس سے ان کے قریب ترین ساتھی بھی مایوس ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی نے پارٹی کے ساتھ لاتعلقی بھی اختیار کی ہے یا خاموش رہنے کو بہتر راستہ سمجھا ہے۔ اب ان کے دائیں بائیں وہ وفادار ساتھی نہیں ہوتے جن کے ساتھ مل کر انہوں نے پندرہ سولہ برس قبل سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا بلکہ وہ خوشنما چہرے دکھائی دیتے ہیں جو ہر چڑھتے سورج کی پرستش کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ 2013 کے انتخاب سے ذرا پہلے کسی نامعلوم قوت نے ایسی ہی روشنی کا ہالہ عمران خان کے گرد کھینچ دیا تھا جس کے سحر میں مبتلا وہ لوگ بھی تحریک انصاف کا حصہ بننے لگے جنہیں کسی فوجی حکومت میں عہدے لینے میں بھی کوئی عار نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا مقصد اقتدار کا حصول ہے خواہ وہ عوام کے ووٹوں کے ذریعے ملے یا کسی فوجی جنرل کی نظر کرم کے طفیل نصیب ہو سکے۔ اس سارے عمل میں عمران خان یہ واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کی جہدوجہد ایک فعال اور عوام دوست جمہوری معاشرے کےلئے ہے یا وہ کسی بھی قیمت پر مسند اقتدار پر براجمان ہونا چاہتے ہیں۔ نومبر 2016 میں عمران خان اسلام آباد پر دھاوا بول کر اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کی پارٹی کے منتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے لوگوں کا گروہ لے کر بہرصورت اسلام آباد پہنچنے کے مقصد سے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ دو وجوہ کی بنا پر پرویز خٹک کو واپس جانا پڑا اور عمران خان بھی اسلام آباد کا گھیراؤ کرکے حکمرانوں کو بھگانے کے ارادے سے باز رہے۔ اس میں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے معاونین اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے جو واقعی ملک کے دارالحکومت میں زندگی کو معطل کر دیتے۔ عمران خان کو یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ اس موقع پر دس لاکھ لوگوں کو جمع کر لیا جائے گا۔ اس طرح اسلام آباد میں زندگی معطل ہو جائے گی اور حکومت کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ آج آرمی چیف کی طرف سے جمہوریت کی حمایت کی تائید کرنے والے عمران خان کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر ان کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا اور نواز شریف مستعفی ہو جاتے تو انہیں کن عناصر سے یہ امید تھی کہ وہ مداخلت کرکے تحریک انصاف کی حکمرانی کا راستہ ہموار کریں گے۔ کیا معمولی سیاسی فہم رکھنے والا شخص بھی یہ نہیں جانتا کہ ایسی صورت میں فوج مداخلت کرتی تو منتخب پارلیمنٹ کا مستقبل مخدوش ہو سکتا تھا۔ لیکن عمران خان اسے ’’جمہوری حق‘‘ قرار دے کر اپنی ضد پر قائم رہے۔ وہ تو جب دس لاکھ کی بجائے دس ہزار لوگ جمع کرنے کا انتظام نہ ہو سکا تو عمران خان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ ایسے میں جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما کیس کے حوالے سے معاملہ کی سماعت کا بیڑا اٹھایا تو عمران خان نے سکھ کا سانس لیا اور عدالت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بادل نخواستہ دھرنا اور اسلام آباد لاک ڈاؤن کا پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔ پاناما کیس کی سماعت کے دوران عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے لب و لہجہ سے یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ بدعنوانی کے ایک معاملہ کے بارے میں تحقیقات کی خواہش رکھتے ہیں۔ شروع سے ہی ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاناما پیپرز نے نواز شریف کو بدعنوان ثابت کر دیا ہے۔ اب سپریم کورٹ فیصلہ سنائے کہ وہ حکومت کرنے اہل نہیں ہیں۔ یعنی بعض دستاویز کی یک طرفہ تفہیم کی بنیاد پر سپریم کورٹ ، جو کہ ٹرائل کورٹ بھی نہیں ہے، ایک ایسے معاملہ میں دو ٹوک فیصلہ دے جس کی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔ یہ طرز عمل کسی ایسے شخص کی نمائندگی نہیں کرتا جو جمہوریت پر یقین رکھتا ہو اور اپنے سیاسی عزائم جمہموری جد و جہد سے پورے کرنے کے بارے میں پرعزم ہو۔ بلکہ ان رویوں سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان اقتدار تک پہنچنے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کےلئے فوج یا سپریم کورٹ (جو بھی آسانی سے انہیں مدد بہم پہنچانے پر آمادہ ہو) کو استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب پاناما کیس کا فیصلہ آنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے یہی بے چینی انہیں آرمی چیف تک بھی لے گئی ہو۔ ورنہ ایک جمہوری نظام میں ایک سیاسی پارٹی کے رہنما کا فوج کے سربراہ سے ’’خفیہ‘‘ طور پر ملنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس ملک کے عام آدمی کو یہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ فوج کے چیف جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ فوج کے ان معاملات سے اس ملک کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔ البتہ اس ملک کے عوام کو اپنے سیاسی لیڈروں کے ارادوں کے بارے میں شبہ رہتا ہے۔ انتخابات میں صرف ایک برس باقی ہے لیکن عمران خان پاناما کیس کے فیصلہ کے ذریعے حکومت گرانا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالات میں انہیں اپنا مقدمہ عوام کے پاس لے جانے کی تیاری کرنی چاہئے تاکہ ایک ’’بدعنوان‘‘ حکومت کے خلاف ووٹ حاصل کر کے وہ ایک بہتر حکومت قائم کر سکیں۔ اسی لئے عمران خان کو یہ بتانا ہوگا کہ کیا وہ یہ مشکل راستہ اختیار کرنے کےلئے تیار ہیں یا جمہوریت سے ان کی وابستگی مشکوک ہے اور وہ اقتدار حاصل کرنے کےلئے بدستور موقع اور شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔
(بشکریہ:کاروان)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker