اس ماہ کے شروع میں شہباز شریف کی سربراہی میں حکومت قائم ہونے اور معاشی بحالی کے متعدد دعوؤں کے باوجود ابھی تک حکومت کا کوئی واضح اور ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ ملک میں سیاسی تقسیم اور شہباز شریف کی اقلیتی حکومت کی وجہ سے معاملات سادگی سے حل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور شہباز شریف وفاقی حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے اس ساری صورت حال سے آگاہ تھے۔ اس لیے اب پالیسی سازی میں کسی تساہل کو قبول نہیں کیاجاسکتا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے ایک بات پر اصرار کیا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ طویل المدت مالی معاہدہ کرنا پڑے گا۔ شہباز شریف کی سابقہ حکومت میں تین ارب ڈالر کے عبوری پیکیج کی آخری قسط وصول کرنے کے علاوہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تین سے چار سال پر محیط مالی اعانت کا ایسا معاہد کرنا چاہتی ہے جس کے تحت 6 سے8 ارب ڈالر کی مدد وصول کی جاسکے۔ سابقہ عبوری معاہدے کی آخری قسط کی ادائیگی پر مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم حال ہی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات مکمل کرکے واپس گئی ہے۔ پاکستانی حکام نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ باقی امداد جلد ہی فراہم کردی جائے گی لیکن آئی ایم ایف کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اس دوران میں نئے مالی پیکیج کی بات بھی اصرار کے ساتھ کی جارہی ہے۔
اکثر معاشی ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نیا معاہد ہ کیے بغیر پاکستانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن ماہرین میں اس بات پر اتفاق رائے نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کا نیا معاہدہ پاکستان کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ حکومتی اور مالی انتظامی ڈھانچے میں پائے جانے والے نقائص ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ جب تک ان کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک کسی بھی امدادی پیکیج کے ذریعے وقتی طور سے تو مشکل سے نکلا جاسکتا ہے لیکن اس سے طویل المدت مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وزیر خزانہ اگلے ماہ جب آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے نئی مالی امداد کے بارے میں بات چیت آگے بڑھائیں گے تو طویل المدت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا معاملہ سر فہرست ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کوئی دوسرا کام کرنے سے پہلے ملکی معاشی بحالی کے کام میں حائل دشواریوں کے بارے میں قومی معاشی منصوبہ سامنے لائے اور واضح کیا جائے کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کا سبب ہی بنے گی۔
پاکستان میں ماضی قریب کی تاریخ سے یہ سبق سیکھا جاسکتا ہے کہ اقتدار سنبھالنے والی ہر حکومت نے صرف اپنی مدت پوری کرنے کے نقطہ نظر سے حکمت عملی اختیار کی۔ کبھی آئی ایک ایف سے پیسے پکڑ لیے اور کبھی دوست ممالک کی منت سماجت سے اسٹیٹ بنک کے اثاثوں کو سہارا دینے کے لیے کچھ رقم مانگ لی گئی۔ یہ طریقے 2008 کے بعد سے قائم ہونے والی ہر حکومت نے اختیار کیے ہیں۔ یعنی کسی طویل المدت منصوبہ بندی کی بجائے فوری مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی بھی طرح وسائل حاصل کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ یہی دورانیہ تھا جب امریکہ نے بھی پاکستان کی امداد میں بتدریج کمی کرنا شروع کردی تھی۔ پاکستان نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف کے طور پر امریکہ سے براہ راست یا بالواسطہ طور سے کثیر وسائل وصول کرتا رہا تھا۔ یہ وسائل کوئی ٹھوس معاشی بنیاد فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکے بلکہ پرویز مشرف کی حکومت نے معاملات پر اپنا کنٹرول مستحکم رکھنے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری رکھا اور یہ تصور کرلیا گیا کہ کسی نہ کسی بہانے امریکہ یا دوسرے ملکوں سے امداد آتی رہے گی۔
پرویز مشرف حکومت کے آخری سالوں میں یہ خوش گمانی یا غلط فہمی البتہ ختم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی کم ہورہی تھی اور وہ کسی بھی قیمت پر وہاں سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے لگا تھا۔ البتہ پاکستانی لیڈروں نے ان آثار کو سمجھنے اور ان کے مطابق مستقبل کا معاشی پروگرام استوار کرنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی۔ ملک میں منتخب حکومتیں قائم ہونے کے باوجود سیاسی معاملات پر کسی حد تک عسکری قیادت کا کنٹرول باقی رہا اور اس وقت کی عسکری قیادت مسلسل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے طرز حکمرانی سے اختلاف کرتی رہی۔ ان پارٹیوں کو بالترتیب 2008 اور 2013 میں حکومت سازی کاموقع ملا اور لشٹم پشٹم ان دونوں پارٹیوں نے اقتدار میں اپنی مدت پوری کی لیکن ان دونوں ادوار میں عسکری قیادت نے منتخب سیاسی حکومتوں کو عاجز کرنے کے متعدد ہتھکنڈے اختیار کیے۔
ملک میں حکمرانی کے سوال پر البتہ 2018 کے انتخابات کے ذریعے عسکری قیادت نے اپنے اصل کارڈز دکھائے اور تحریک انصاف کی کامیابی کو یقینی بنا کر عمران خان کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ عمران خان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے اور بعد میں البتہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو مطعون کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا رہا۔ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے باوجود سیاسی مخالفین کے بارے میں کبھی متوازن رویہ اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے امور حکومت کو سمجھنے اور ملکی معیشت میں بہتری کے لیے کوئی کام کرنے کی بجائے محض سیاسی نعرے بازی سے کام چلایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملکی قرضوں میں اضافہ ہوتا رہا لیکن معاشی مسائل کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت بھی اپنے 16 ماہ کے دورانیہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات بحال کرکے ملک کو دیولیہ ہونے سے بچانے کے سوا کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی۔ شاید اسی لیے شہباز شریف برملا کہتے رہے ہیں کہ اپریل 2022 میں وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے اپنی سیاست قربان کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا۔
البتہ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ کسی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے کیا ایک نئے معاشی و مالی بحران کی بنیاد رکھنا دانشمندانہ پالیسی ہوسکتی ہے؟ اگر کوئی حکومت غیر ملکی امداد کو معاشی اصلاح کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو کوئی بھی ملک کسی بہتری کی امید نہیں کرسکتا۔ پاکستان تو ایک بڑا ملک ہے جس کی آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اسے لاکھوں فوجیوں پر مشتمل ایک بڑی فوج کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں عبوری نوعیت کے فیصلے کرتی رہیں اور قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لینے کی پالیسی جاری رہی۔ اس دوران میں بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہر حکومت کی مجبوری رہی ہے کیوں کہ وہ قومی آمدنی میں اضافہ کے دوسرے متبادل راستے تلاش کرنے یا انہیں نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
شہباز شریف کو گزشتہ پندہ سال میں جمع ہونے والے سنگین مالی مسائل کا سامنا ہے۔ اب یہ نوشتہ دیوار ہے کہ یہ مسائل حل کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ ان مسائل کو اگر تین بنیادی نکات میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو انہیں یوں بیان کیا جاسکتا ہے:
1: ایسے سرکاری اثاثوں سے نجات حاصل کی جائے جو سال ہا سال سے قومی خزانے پر شدید بوجھ بنے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورت پیداواری صلاحیت بڑھانے یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ ان میں پی آئی، اسٹیل مل اور ریلوے جیسے قوی الجثہ ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں کی نجکاری پر مسلسل بات کی جاتی ہے لیکن ہر حکومت حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
2:حکومت قومی آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکام ہے۔ عوام میں سیاست دانوں کے خلاف رائے تو ہموار کی گئی ہے لیکن ان میں یہ شعور پیدا نہیں کیا جاسکا کہ ملک میں کوئی بھی حکومت آئے قومی اخراجات پورے کرنے کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ ضروری ہے۔ یہ تو کہا جاتا ہے کہ عوام پر محاصل کا بوجھ بڑھا دیا گیا لیکن یہ کوئی بھی سوچنے پر آمادہ نہیں ہے کہ اس بوجھ کی وجہ کیاہے۔ اس کی ایک ہی قابل فہم وجہ ہے کہ جن لوگوں کو اپنی آمدنی پر ٹیکس دینا چاہئے ، وہ بوجوہ اس سے انکار کرتے ہیں جبکہ سہولتیں لینے کے معاملہ میں ہر شعبہ اپنا حصہ مانگتا ہے۔ اسی لیے ملکی معیشت اس وقت سبسڈی اور خیراتی منصوبوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے لیکن یہ اخراجات پورے کرنے کے لیے فنڈز مفقود ہیں۔ یہ ضرورت اب تک قرض لے کر پوری کی جاتی رہی ہے لیکن اب یہ طریقہ مزید کامیاب نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے وسائل کے لیے بات چیت میں اس ایک نکتہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
3:قومی آمدنی میں اضافہ کے لئے ایک طرف ٹیکس نیٹ بڑھانا ضروری ہے، غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات کم کرنا اہم ہے تو دوسری طرف برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنا بھی بے حد اہم ہے۔ پاکستانی پیداواری صلاحیت کو عالمی منڈیوں کی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس کی پرانی مصنوعات کی مانگ مسلسل کم ہورہی ہے۔ آج ہی کی رپورٹ کے مطابق یورپین یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس ہونے کے باوجود یورپ کے لیے پاکستانی برآمدات کم ہورہی ہیں۔ کیوں کہ پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اس مسئلہ کو قومی پیداواری صلاحیت میں تنوع لاکر اور تبدیلیاں پیدا کرنے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
ملکی معاشی بحالی کے لیے داخلی سطح پر افہام و تفہیم اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار کرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کسی بھی ملک سے خواہ وہ افغانستان جیسا چھوٹا اور کمزور ملک ہی کیوں نہ ہو، تعلقات کشیدہ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیوں کہ خطے میں امن و امان پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میں بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی وزارت تجارت کا ایک وفد سوموار کو کابل جاکر دونوں ملکوں کی تجارت میں حائل مشکلات دور کرنے پر بات چیت کرنے والا ہے۔ یہ دونوں خوش آئیند خبریں ہیں لیکن ایسی خبریں اشاروں کنایوں اور غیر واضح بیانات کی شکل میں سامنے لانے کی بجائے، انہیں ایک ہمہ گیر قومی حکمت عملی کے ذریعے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف ضرور حکومت کریں لیکن اگر وہ معاشی بحالی کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سیاسی دوستوں و دشمنوں اور ریاستی اسٹیک ہولڈرز کے سامنے چند بنیادی نکات رکھ دینے چاہئیں اور بتا دینا چاہئے کہ ان پر اتفاق رائے کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ اگر وہ اس ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو بہتر ہو گا کہ وہ لولی لنگڑی وزارت عظمی سے چمٹے رہنے سے انکار کردیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

