پاک بھارت تنازعہ کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک بیان اور پاک فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا بی بی سی کو انٹرویو معاملہ کے کئی پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان دونوں کی باتوں میں پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش اور بھارت کے غیر ضروری خودپسندی کا حوالہ مو جود ہے۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی کے لیے پاکستان اور بھارت کو تجارت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ دونوں ملکوں کے لیڈروں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ انہیں امریکہ کے ’خوف‘ کی بجائے اپنے عوام کی بہبود اور خطے کی بھلائی کے لیے ایک د وسرے سے برسرپیکار ہونے کی بجائے خوشگوار تعلقات بحال کرکے ریجنل تجارت کو فروغ دینا چاہئے۔
شہباز شریف کی میڈیا ٹاک اور آئی ایس پی آر کے ڈی جی کے بی بی سی کو انٹریو میں کی گئی باتوں کو اگر آج خضدار میں ہونے والے دہشت گرد حملہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ خضدار میں ایک اسکول بس پر خود کش حملہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں تین اسکول کے بچے تھے۔ زخمی ہونے والے 52 افراد میں سے 38 اسکول کے بچے ہیں۔ اسکول کے بچوں پر یہ گھناؤنا حملہ ایک ایسے وقت ہؤا ہے جب برصغیر میں دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ و تصادم کی صورت حال موجود ہے۔ پاکستانی حکام اب بہت صاف الفاظ میں بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ایجنسیوں کے تعلق کی بات کرتے ہیں۔ بھارت کو اگر واقعی اس خطے میں امن درکار ہے اور وہ دہشت گردی سے نالاں ہے تو اسے ہمسایہ ملک میں ہونےو الی قتل و غارت گری کا بھی اسی قدر احساس ہونا چاہئے جیسا وہ اپنے ملک میں کسی دہشت گردی کے بعد محسوس کرتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج خضدار حملہ کے بعد کوئٹہ کا دورہ کیا اور ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ ایک بیان میں ان دونوں نے ’دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کا ہتھکنڈا بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وحشیانہ فعل میں ملوث تمام افراد کا آخری حدتک پیچھا کریں گے۔اس جرم کے منصوبہ سازوں ، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ہندوستان دہشت گردی کا حقیقی مرتکب ہے لیکن خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ اب اس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے گا‘۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی لیڈر اب ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات زیادہ شدت سے کررہے ہیں ۔ اس سے پہلے سرکاری طور سے بتایا جاچکا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی اشتراک و تعاون کا ثبوت ملتا ہے۔ بھارت کے حالیہ حملے اور اس کا مناسب جواب دینے کے بعد پاکستانی حکام زیادہ اصرار اور اتھارٹی کے ساتھ دہشت گردی میں بھارتی کردار کا حوالہ دینے لگے ہیں۔ اس معاملہ کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے تو پہلگام حملہ کے بعد اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور اس کی مذمت بھی کی حتی کہ اس سانحہ کی تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیش کش بھی کی۔ لیکن بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر کبھی تبصرہ نہیں کرتا۔ اس کے برعکس بھارت نے طاقت ور ہونے کے گمان میں پاکستان پر حملہ کردیا۔ اب نریندر مودی اور ان کی پارٹی عوام کے اس سوال کا جواب دینے میں ناکام ہورہی ہے کہ اگر بھارت کامیاب تھا تو صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ بالفرض بھارت کا یہ دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور پاکستان نے ہی اس کی درخواست کی تھی تو بھارت نے ایک ایسے دشمن کو ’زیر ‘ کرنے کے بعد اچانک جنگ بند کرنے کی پیشکش کیوں قبول کرلی جسے تباہ کرنے کے دعوے کرکے ہندوستانی عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت سے بھارت کے ساتھ جاری تنازعہ پر بات کی ہے۔ ان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ بھارت نے کسی ثبوت کے بغیر پہلگام سانحہ کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا اور منہ کی کھائی۔ بھارت کو یہ زعم تھا کہ وہ امریکہ یا روس کی طرح بڑی طاقت ہے اور کسی بھی وقت کسی بھی ملک پر حملہ کرکے اسے ’سزا ‘ دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ان کے درمیان جنگ ناقابل تصور ہونی چاہئے۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ بھارت نے مسلسل جنگی صورت حال پیدا کی اور ایسے حالات پیدا کیے جن میں تصادم ناگزیر ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ’ داخلی سیاسی ضرورتوں کے لیے یہ طریقہ نامناسب اور ناجائز ہے اور اسے ختم ہونا چاہئے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت جنگ چاہتا ہے تو پھر جنگ ہی سہی۔ ہم اپنے وطن کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔
اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ اطمینان بخش باتیں کہی ہیں اور بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کوزمانہ امن کی پوزیشن پر واپس آنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ اب کسی غیر جانبدار مقام پر بات چیت کا انتظار ہورہا ہے جو دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیران کے درمیان ہوگی اور اس میں امریکہ سہولت کاری کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بات چیت میں پاکستان کی طرف سے 4 اہم نکات شامل ہوں گے۔ ان میں کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی شامل ہیں۔کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ پاکستان بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پوری دنیا کے سامنے رکھے گا‘۔
امن کی خواہش اور اس کے لیے کوشش وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے عوام کو غربت اور متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ اگر ایک دوسرے کے ملک میں دہشت گردی اصل مسئلہ کی جڑ ہے تو اسے جنگ کی بجائے مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں اس وقت ضرور پشیمانی، شرمندگی، سیاسی شرمندگی اور حقائق کا سامنا کرنے سے نگاہیں چرانے کی صورت دیکھنے میں آرہی ہے۔ اسی لیے بعض مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ نریندر مودی کی حکومت جنگ میں ناکامی کی خفت مٹانے کے لیے شاید ایک بار پھر پاکستان پر حملہ کردے۔ البتہ نئی دہلی کو خوب سوچ لینا چاہئے کہ ایسا کوئی بھی حملہ صرف پاکستان ہی کو نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ بھارتی معیشت، سفارتی ساکھ اور عسکری صلاحیت کو زیر بار کرے گا۔ 7 مئی کے حملے سے پہلے تک بھارت کا یہ گمان ضرور قابل فہم تھا کہ لگ بھگ 75 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ وہ پاکستان کو عسکری میدان میں نیچا دکھا سکتا ہے۔ البتہ اس چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان اب زیادہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘۔
کسی نئی جھڑپ کی صورت میں پاکستانی افواج زیادہ بااعتماد اور حوصلہ مند ہوں گی جبکہ بھارتی فضائیہ اور فوج پاکستان کی صلاحیت اور جوابی کارروائی کے بارے میں بے یقینی اور پریشانی کا شکار ہوں گی۔ اس کیفیت سے دوچار کوئی فوج کوئی معرکہ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی۔
جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران بھی دیکھا گیا کہ چند روز کی لڑائی کے بعد ہی دونوں ملک جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے۔ کوئی بھی جنگ مسائل کو پیچیدہ اور مشکل بناتی ہے۔ انہیں حل کرنے کے لیے بہر حال فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ اس وقت نریندر مودی کی حکومت مذاکرات سے فرار چاہتی ہے کیوں کہ اسے اس میں اپنی ناکامی کا خوف ہے لیکن برصغیر میں امن اور عوام کی بہبود و خوشحالی کے لیے ان دونوں ملکوں میں امن کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
البتہ اس وقت حالات یہی اشارہ کررہے ہیں کہ اس امن یا جنگ کا فیصلہ بہر حال نئی دہلی کے حکمرانوں کو ہی کرنا ہے۔ ایک نئی جنگ مودی کے لیے نئے سوالات اور نئے چیلنجز کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

