سید مجاہد علیکالملکھاری

بلاول کو لیڈر آف اپوزیشن بنایا جائے / سید مجاہد علی

انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کا مرحلہ درپیش ہے۔ اگرچہ یہ یقین کیا جارہا ہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے لئے اکثریت کی حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا اور وہ آزاد ارکان اور متعدد ایک رکنی اور دو رکنی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن پنجاب میں حکومت سازی کے لئے تحریک انصاف کو زیادہ سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ صوبے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) جو گزشتہ دس برس تک پنجاب میں حکومت کرچکی ہے، اب بھی اس مقابلے سے باہر ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کو علم ہے کہ اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار ہوئی تو مرکز میں حکومت کرنا آسان نہیں ہو گا۔
سیاسی جوڑ توڑ کے اس ہنگامے کی شدت اور سنگینی کا اندازہ ان خبروں سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ انتخاب میں حصہ لینے والی مسلم لیگ (ق) کو اگرچہ پنجاب میں سات اور قومی اسمبلی میں چار نشستیں حاصل ہوئی ہیں لیکن اس کی طرف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ یا مرکز میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ مانگا جارہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ہدایت پر نواز لیگ کے لیڈروں نے بھی چوہدری پرویز الہیٰ سے رابطہ کیا ہے۔ اس طرح ایک بڑے صوبے کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی دونوں پارٹیاں ایک غیر اہم اور بہت ہی قلیل کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی کے مطالبات پر ’غور‘ کررہی ہیں۔
پنجاب کی حد تک آزاد ارکان کی کافی بڑی تعداد کامیاب ہوئی ہے جو حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ اب مسلم لیگ (ق) کے چوہدری بھی اپنی اہمیت اور سیاسی قوت کو مستحکم کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چوہدریوں کے پاس آزاد ارکان کے لئے یہ پیشکش ہوگی کہ ان کے ساتھ مل کر وہ اقتدار میں بہتر حصہ حاصل کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اپنی موجودہ حیثیت میں یا آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کے ذریعے دو بڑی پارٹیوں کے باہمی سیاسی تصادم میں اپنے سیاسی مفادات کے لئے جگہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کوششوں کو سیاست کہنا جمہوری سیاسی عمل کی توہین کے مترادف ہوگا۔
اسی طرح صوبائی اسمبلی میں ایک سو سے زائد نشستیں جیتنے والی پارٹیاں اگر حکومت سازی میں ایک چھوٹی پارٹی کے ہاتھوں ’بلیک میل ‘ ہو کر اس کے غیر ضروری مطالبات ماننے پر آمادہ ہوجاتی ہیں تو یہ بھی عوام کے ووٹوں کے ساتھ مذاق ہو گا۔ اس کا بہترین حل تو یہی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت بلوغت کا مظاہرہ کرے اور چھوٹے گروہوں یا آزاد ارکان کو اہمیت دینے اور بادشاہ گر کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی بجائے ایک دوسرے کی سیاسی اہمیت کا احترام کرتے ہوئے سیاسی لین دین کے نام پر ’بلیک میل‘ نہ ہو۔ اور اکژیت رکھنے والی پارٹی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ یہ کام مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بھی کرسکتی ہیں اور پنجاب اسمبلی میں بھی اس کی بے حد ضرورت ہے۔
شہباز شریف اقتدار کی ہوس میں ہاتھ پاؤں ضرور مار رہے ہیں اور اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتے ہیں لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں نہ صرف خود ان کے برابر (129 کے مقابلے میں 123) نشستیں حاصل کی ہیں بلکہ گزشتہ روز جہانگیر ترین کی کوششوں سے جنوبی پنجاب کے چند ارکان نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرکے تحریک انصاف کو عددی برتری بھی دلوا دی ہے۔ اس صورت میں ان کے لئے باعزت طریقہ تو یہی ہو گا کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر ان منصوبوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں جو گزشتہ دس برس کے دوران پنجاب میں شروع کئے گئے تھے اور نئے منتخب لیڈروں کے اپنے منشور کے مطابق فیصلہ کرنے کے استحقاق کو قبول کریں۔
اگرچہ یہ ایک مشکل اور جاں گسل فیصلہ ہوگا لیکن اس سے ملک میں سیاسی مفاہمت اور احترام کے ایسے رویہ کی بنیاد رکھی جاسکے گی جو کاغذ پر لکھے کسی بھی میثاق جمہوریت سے زیادہ اہم ہو گا۔ اس طرح نہ صرف آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کو غیر ضروری سیاسی اہمیت دینے سے گریز ہو سکے گا بلکہ سیاسی عمل میں مثبت اور صحت مند تعاون کا آغاز کیا جاسکے گا۔ اس قسم کے تعاون کی صورت میں حکومت بنانے والی پارٹی کو بھی یہ احساس رہے گا کہ ان کے مد مقابل گروہ کو بھی مساوی تعداد میں سیٹیں حاصل ہوئی ہیں لہذا صوبے کی بھلائی کے لئے اقدامات کرتے ہوئے اس کے نظریات کا خیال رکھا جائے اور تجاویز کا مثبت جواب دیا جائے۔
مرکز میں ایسی ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی مضبوط حکومت کے قیام کی خواہش کو حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے جس کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن عملی طور سے صرف ایسی حکومت کو مضبوط سمجھتے ہیں جس کی قیادت ان کی پارٹی کررہی ہو۔ خواہ یہ حکومت کئی افراد اور چھوٹی پارٹیوں کے رحم و کرم پر قائم کی گئی ہو۔ قومی اسمبلی کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی دونوں پارٹیاں اگر اس سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر سکیں تو سیاسی عمل میں خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کے نام سے ہونے والی مداخلت کا راستہ بھی مؤثر طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔ سیاست دانوں سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جان سکتا کہ اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرنے والے اسی لئے کمزور پڑ جاتے ہیں اور انہیں اپنے نظریات کے برعکس مفاہمت کرنا پڑتی ہے یا تصادم کا شکار ہو کر اقتدار سے محروم کئے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال پیدا ہونے کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ سیاسی قوتیں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لئے ان عناصر کی امداد اور تعاون کو ترجیح دیتی ہیں جن پر جلسوں اور تقریروں میں سیاسی مداخلت کے الزام عائد کئے جاتے ہیں۔
موجودہ انتخابی عمل میں اسٹبلشمنٹ کے بارے میں ہر قسم کے اشاروں اور دعوؤں کے باوجود عوام کی بڑی اکثریت نے اپنی اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹروں کی حمایت سے قومی اسمبلی میں 115 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ان ووٹروں کی رائے کو عزت فراہم کرنے کے لئے کم تعداد میں نمائیندگی حاصل کرنے والی پارٹیوں کو دست تعاون دراز کرنا چاہئے۔ اس طرح قوم کے جس درد کا اظہار ہر تقریر اور پریس کانفرنس میں کیا جاتا ہے اس کے مداوا کے لئے عملی اقدام کیا جاسکے گا۔
اگر اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کو چھوٹے گروہوں اور انفرادی طور سے منتخب ہونے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو دراصل وہ انہیں اسٹبلشمنٹ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی راہ پر دھکیلنے کا سبب بنیں گے تاکہ وہ خود کسی ساز باز کے ساتھ اپنی باری وقت سے پہلے حاصل کرسکیں ۔ ایسے کسی بھی لیڈر کو جمہوریت اور ’ووٹ کی عزت‘ کا نام لینے کا حق حاصل نہیں ہو سکتا۔عوام میں غیر جمہوری اداروں کی سیاسی مداخلت کے خلاف رائے موجود ہے۔ اب سیاست دانوں کو اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا ہے وہ اس رائے کا احترام کرتے ہیں۔
جمہوری عمل میں غیر منتخب اداروں کی مداخلت اور دسترس کی صورت حال صرف سیاست دانوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ سیاست دان اگر اس سچائی کو تسلیم کرکے مثبت اور جمہوریت پسند رویہ اختیار کرنے کی طرف قدم بڑھائیں تو عسکری اداروں کی ہر قسم کی مداخلت اور عدالتوں کی غیر ضروری فعالیت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں میں بھی یہ اعتماد پیدا کیا جاسکتا ہے کہ وہ سیاست دانوں پر بھروسہ کرسکتے ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہیں آرمی چیف یا چیف جسٹس کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق 25 جولائی کو ووٹ دینے والوں کی تعداد میں معمولی ہی سہی لیکن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین ووٹروں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ جمہوری عمل میں رائے کا اظہار کرنے والے صرف اپنی پسند کے امید وار کو کامیاب کروانے میں ہی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ وہ یہ اقرار بھی کرتے ہیں کہ جمہوریت کے ذریعے منتخب ہونے والے لوگ ہی قومی معاملات طے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس حق کو سیاست دان اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے غیر منتخب اداروں کے پاس یرغمال رکھنے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اس لئے ووٹ کو عزت دو کے سلوگن اور جمہوری استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اب جیتنے والی پارٹی کو اسٹبلشنٹ کا گھوڑا قرار دینے کا طرز عمل ترک کیا جائے اور اسے اعتبار اور احترام کے ماحول میں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
دہشت گردی کے خاتمہ سے لے کر معاشی احیا اور پانی کی کمیابی جیسے سب مسائل کا حل ملک میں سیاسی استحکام اور ایک دوسرے کے لئے وسیع تر احترام کا جذبہ پیدا کرنے سے ہی ممکن ہے۔ حالیہ انتخابی عمل نے ایک بار پھر سیاسی قوتوں کو یہ نادر موقع فراہم کیا ہے۔ اگر اسے بھی ضائع کیا گیا تو یہ لیڈر خود سیاسی عمل میں غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنے رہیں گے۔
ملک میں حکومت سازی اور اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کی تگ و دو میں فی الوقت اپوزیشن کے کردارپر بات کرنے کی نوبت نہیں آئی ہے حالانکہ فعال جمہوریت میں اپوزیشن کو بھی پوزیشن میں ہونے والی جماعت یا گروہ جتنی ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 64 اور پیپلز پارٹی 43 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ دیگر چھوٹی جماعتیں بھی اپوزیشن کا حصہ ہوں گی۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان چئیر مین بلاول بھٹو زرداری بھی لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے پنجاب اور دیگر صوبوں میں اپنی پارٹی کی کمزور سیاسی پوزیشن کے باوجود سرگرمی سے ووٹروں تک پہنچنے اور مہذب انداز میں روشن خیال نقطہ نظر لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ نفرت اور شدت سے لبریز سیاسی ماحول میں بلاول بھٹو زرداری کا طرز سیاست قابل تحسین رہا ہے اور انہیں اس حوالے سے سراہا بھی گیا ہے۔
اگرچہ یہ طے ہے کہ مسلم لیگ (ن) دوسری بڑی جماعت ہونے کے ناتے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرے گی لیکن اگر اس کی قیادت دور اندیشی اور ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کسی رکن کی بجائے نوجوان بلاول بھٹو زرداری کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کرے تو ملک کے سیاسی ماحول میں ایک شگفتہ اور مثبت پیش رفت دیکھنے میں آسکتی ہے۔ اس طرح نہ صرف اپوزیشن جماعتوں میں تعاون و تعلق میں بہتری پیدا ہو گی بلکہ حکمران جماعت کو بھی خبر ہو گی کہ اپوزیشن جماعتیں اعلیٰ سیاسی روایات کو آگے بڑھانے کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس طرح اسے بھی چوکس اور فوکس رہنا پڑے گا۔ اس سے جمہوریت مستحکم اور سیاسی لیڈروں کو عزت نصیب ہو گی۔
مسلم لیگ (ن) کے زیر حراست قائد نواز شریف نے سینیٹ چئیرمین کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کا نام تجویز کیا تھا۔ آصف زرداری نے اس وقت اپنی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے اس پیشکش کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ لیکن اگر نواز لیگ بلاول بھٹو زرداری کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی پیشکش کرے تو اس کا نہ صرف خیر مقدم ہو گا بلکہ اس سے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ممکن ہوگا۔ سیاسی لیڈر اس طرح ملک کے عوام کو یہ پیغام بھی دے سکیں گے کہ وہ نوجوان قیادت کے لئے جگہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker