سید مجاہد علیکالملکھاری

عمران خان فلاحی ریاست کے لئے وسائل کہاں سے لائیں گے؟/ سید مجاہد علی

انتخابات کے بعد اب مرکز اور صوبوں میں نئی حکومتوں کی تشکیل کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ نو منتخب ارکان اسمبلی اور جماعتوں کے ساتھ وابستہ کی جانے والی توقعات کی تکمیل کا تخمینہ لگا جا سکے۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار عمران خان نے کامیابی کے بعد کی جانے والی تقریر میں ان امیدوں کو انگیخت کیا ہے۔ اگرچہ ملک کے معاشی، سماجی اور سیاسی منظر نامہ پر نظر رکھنے والے ماہرین اور مبصر نہایت احتیاط سے واضح کررہے ہیں کہ نئی حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہو گی اور نہ ہی اس سے مختصر مدت میں مسائل حل کرنے کی توقع وابستہ کی جائے۔ لیکن برسر اقتدار آنے کی تیاری کرنے والے لیڈروں اور پارٹی کی طرف سے اس حوالے سے صورت حال کو واضح کرنا ضرو ری ہے۔
پاکستان متعدد مسائل میں گھرا ملک ہے جسے اپنی معاشی مشکلات حل کرنے کے لئے صبر آزما مشقت اور محنت کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ نئی قیادت اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈالنے کی بجائے، عوام پر یہ واضح کرنا شروع کرے کہ کم وسائل اور زیادہ ضرورتوں والے ملک کو حقیقی فلاحی مملکت بننے کے لئے وسائل میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ کہنا بہت بڑی غلط فہمی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم اگر پرائم منسٹر ہاؤس میں رہنے سے انکار کردے یا پروٹوکول نہ لے تو اس سے ملک کو اتنے کثیر وسائل میسر آجائیں گے کہ اس کے قرضے بھی اترنے لگیں گے اور عوام کو شفاف حکومت کے ثمرات بھی ملنے لگیں گے۔
کامیابی کے بعد عمران خان کی تقریر کی ہر جانب سے تحسین کی گئی ہے۔ یہ تقریر اس حد تک تو حوصلہ افزا تھی کہ عوام میں اشتعال ابھار کر اس مقام تک پہنچنے والے ایک لیڈر نے مصالحانہ رویہ اختیار کیا اور الزام تراشی سے اپنی زبان کو آلودہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم ان کی طرف سے پاکستان کو چین جیسی فلاحی مملکت اور مدینہ جیسی منصفانہ ریاست بنانے کا نعرہ کسی انتخابی مہم کا سلوگن تو ہوسکتا ہے لیکن پاکستان جیسے مسائل و مشکلات میں گھرے ملک کا ماٹو نہیں بن سکتا۔ البتہ عمران خان اور ان کی پارٹی اگلے پانچ برس کے دوران سرکاری پالیسیوں میں اصلاحات کے ذریعے معاشی احیا کا اہتمام کرسکیں تو وہ اس قسم کی باتیں کرتے اچھے لگیں گے۔ فی الوقت تو عمران خان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی ٹیم علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے مسائل کا ادراک اور پھر ان کا حل تلاش کرنے کے لئے صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
عمران خان نے یہ انتخاب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے جیتا ہے۔ انہیں منتخب کرنے والا ووٹر نہایت دیانتداری سے یہ سمجھتا ہے کہ ایک دیانتدار اور نئے لیڈر کو زمام اقتدار سونپ کر وہ یہ امید کرسکتے ہیں کہ اب ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ اور نو منتخب وزیر اعظم جب پہلی ہی تقریر میں ان امیدوں کو حقیقت پسندانہ موڑ دینے کی بجائے برسر اقتدار آتے ہی فلاحی مملکت کے لئے کام کا آغاز کرنے کی بات کرتے ہیں تو پانچ برس بعد ان سے اس تقریر کا حوالہ دے کر ضرور یہ پوچھا جائے گا کہ وہ فلاحی ریاست کیا ہوئی جس کا وعدہ کرتے ہوئے انہوں نے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ اس لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ابھی سے نہ صرف ملکی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ اپنے حامیوں کو بھی باور کروانا چاہئے کہ فلاحی مملکت کے قیام کے لئے صرف کسی نیک نیت شخص کا وزیر اعظم بننا کافی نہیں۔ اس کے لئے پوری قوم کو مل جل کر کام کرنے اور حالات کو بدلنے کی ضرورت ہوگی۔ تب ایک یا دو نسلوں کے بعد ایسے معاشی اور سماجی حالات پیدا کئے جاسکتے ہیں جو فلاحی مملکت کی بنیاد فراہم کرسکیں۔
ملک کی بےتحاشا آبادی اور چاروں طرف سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں میں گھرا ہونے کے سبب فی الوقت پاکستان کے لئے فلاحی مملکت کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ پاکستان کو ایک طرف کثیر آبادی کا سامنا ہے تو دوسری طرف سیکورٹی کی صورت حال کی وجہ سے اسے داخلی انتشار اور سرحدوں کی حفاظت پر دستیاب وسائل کا بیشتر حصہ صرف کرنا پڑتا ہے۔ یہ سچائی اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اگر بیرون ملک کام کرنے والے ایک کروڑ کے لگ بھگ تارکین وطن زر مبادلہ کی صورت میں وسائل پاکستان روانہ نہ کریں تو حکومت کے لئے روز مرہ اخراجات کی مد میں وسائل فراہم کرنا بھی محال ہو جائے۔ یہ وسائل ایک طرف زرمبادلہ کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں خاندان ان وسائل کی وجہ سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ اس طرح وہ حکومت سے کسی قسم کی اعانت کا مطالبہ نہیں کرتے۔
اکیس کروڑ آبادی کے ملک کے بیرون ملک مقیم پانچ فیصد کے لگ بھگ لوگ نہ صرف اپنا بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ پاکستان میں مقیم اپنے اہل خاندان کی کفالت کرکے ملکی معیشت کے لئے اہم سہارا بن رہے ہیں۔ لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ اس قسم کی عارضی معاشی مدد کے ذریعے وقتی ریلیف تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن اسے معیشت کا مستقل ذریعہ آمدنی سمجھ کر ترقی کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے آبادی پر کنٹرول اور جنگی حالات ختم کرنا بے حد ضروری ہوگا۔ اس طرح ضرورتیں کم کی جاسکیں گی اور دشمنوں میں کمی کے ذریعے دفاع کے نام پر قیمتی قومی وسائل کا اصراف محدود کیا جاسکے گا۔ آبادی کا پھیلاؤ کسی معاشرے کو گھن کی طرح کھوکھلا کرسکتا ہے۔ عمران خان چین کے فلاحی ڈھانچہ کی طرز پر پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے انہیں جاننا ہو گا کہ چین نے ون چائیلڈ پالیسی کے ذریعے اپنی صنعتی ترقی اور معاشی احیا کی بنیاد رکھی ہے۔
چین کی ترقی کو مثال بنا کر آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والی پاکستانی حکومت کو یہ بھی جاننا ہو گا کہ چین نے تصادم کی بجائے معاشی ترقی ، تجارت، برآمدات، سائینسی علوم کے حصول اور انہیں انسانوں کی بہبود کے لئے استعمال کرنے کے منصوبوں سے چین کو ایک بدحال معاشرہ سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ عمران خان ملائشیا کے مہاتیر محمد کی مثال بھی دیتے ہیں لیکن ان کے ہاں بھی ہمسایہ ملکوں سے تنازعہ اور تصادم کا مزاج دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ امن قائم کئے بغیر معاشی ترقی کی بات کرنا بے مقصد نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ پاکستان اس وقت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ تنازعہ کا شکار ہے۔ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ پاکستان سے ناراض ہے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر پاکستان کا نام ڈالنے کا واقعہ اس کی محض ایک مثال ہے۔ نئی حکومت کو اس مشکل صورت حال سے فوری طور پر نمٹنا ہوگا۔
اس کے علاوہ امریکہ ہی نہیں دنیا کے متعدد دیگر ممالک بھی دہشت گرد گروہوں کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ چین کو پاکستان میں بہترین دوست کی حیثیت حاصل ہے اور امریکہ سے دوری کے سبب چین پر پاکستان کا انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے لیکن بیجنگ بھی اپنے علاقوں میں اسلامی شدت پسند گروہوں سے نبرد آزما ہے اور پاکستان سے اس حوالے سے بہتر تعاون کی توقع کرتا ہے۔ بھارت کے علاوہ افغانستان سے تعلقات کی نوعیت اور ایران کے ساتھ سرد مہری کے معاملات بھی پاکستان کی سیکورٹی کے حوالے سے تشویشناک پہلو ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں امن کی بات کرنے کی بجائے جنگ کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود ان عسکری گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی جو مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی یا امداد فراہم کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔
عمران خان کو بطور وزیر اعظم جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ یہ کہنا گمراہ کن ہے کہ حکومت جب عوام کے ٹیکس کی حفاظت کرے گی اور انہیں یقین ہو گا کہ کہ ان کے ادا کئے ہوئے ٹیکس ان کی بہبود پر صرف ہوتے ہیں تو وہ ازخود ٹیکس دے کر ملک اور اس کی حکومت کو خوش حال بنا دیں گے۔ یہ بیان دراصل مخالف سیاست دانوں پر بدعنوانی کے الزامات کا تسلسل ہے۔ یوں تو یہ جھانسہ ملک کے عوام کو ایوب خان کی آمریت کے وقت سے دیا جارہا ہے لیکن اب اسے زبان زد عام کرکے عمران خان نے اقتدار حاصل کیا ہے۔ یہ بات صرف ملک کے ان پڑھ ووٹر ہی نہیں سمجھتے بلکہ پڑھے لکھے مبصر اور تجزیہ نگار بھی اپنے زور قلم اور قوت گفتار سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ شریف خاندان اور زرداری کی بدعنوانی نے ملک کو کنگال کردیا۔ عمران خان کو ملکی معاملات چلاتے ہوئے یہ احساس ہوجائے گا کہ یہ نعرہ دراصل ایک سیاسی سلوگن ہے جو ملک کے سیاست دانوں کو دباؤ میں رکھنے اور عسکری اسٹبلشمنٹ کو بہتر اور درست ثابت کرنے کے منصوبہ کا دیرینہ ہتھکنڈا ہے۔
ملک کی نئی حکومت نے اگر اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی ان معاملات کو سمجھ کر اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تو جلد ہی اس پر انکشاف ہو گا کہ صرف عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے ملک کا خزانہ ٹیکس اور محاصل سے بھرنا شروع نہیں ہو گا اور نہ ہی چند سیاست دانوں کی بے اعتدالیوں نے ملک کو معاشی بدحالی کے موجودہ بحران تک پہنچایا ہے۔ یہ سچ تسلیم کئے بغیر کوئی حکومت مناسب منصوبہ بندی اور حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker