سید مجاہد علیعلاقائی رنگلکھاری

بد دیانت قرار دئے گئے جہانگیر ترین کے عزائم کیا ہیں ؟ ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان میں انتخابات کے بعد سودے بازی اور نمبر پورے کرنے کی گیم عروج پر ہے۔ عدالت عظمیٰ سے ’صادق و امین‘ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے جہانگیر ترین اپنے نجی طیارے کو پنجاب اور مرکز میں اراکین کی ضروری تعداد حاصل کرنے کے لئے بے دریغ استعمال کررہے ہیں تاکہ تحریک انصاف آسانی سے حکومتیں بنا سکے۔ بادی النظر میں ان کی کوششیں بارآور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف نے اگرچہ قومی یا پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت تو حاصل نہیں کی لیکن چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان کے تعاون سے عمران خان وزیر اعظم اور ان کا نامزد کردہ شخص پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس تگ و دو میں شامل ہو کر عمران خان نے گو کہ انتخاب سے ہفتہ عشرہ پہلے بی بی سی اردو کو دئیے گئے انٹرویو کے برعکس رویہ اختیار کیا ہے لیکن پاکستانی سیاست کے تناظر میں یہی بہترین، مناسب اور ضروری طرز عمل کہا جائے گا۔ انہوں نے اس انٹرویو میں اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ انتخابات کے بعد معلق پارلیمنٹ سامنے آئے گی اور اس صورت میں وہ اکثریت کے لئے تگ و دو کرنے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔ تاہم جوں ہی انتخابی نتائج کے دوران یہ واضح ہؤا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے تو انہوں نے ’قوم سے خطاب‘ کے ذریعے اپنے وزیر اعظم ہونے کا اعلان کردیا۔ حالانکہ تحریک انصاف اب بھی قومی اسمبلی کے حامی ارکان کی بار بار گنتی کر کے یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ عمران خان کو اکثریت کی طرف سے اعتماد کا ووٹ مل جائے گا۔
جہانگیر ترین جیسے جاں نثار اور فراخ دل معاونین موجود ہوں تو اکثریت حاصل کرنے والے لیڈروں کو آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں سے تعاون حاصل کرنے میں کامیابی ہو ہی جاتی ہے۔ اگرچہ عمران خان اعلان کر چکے ہیں کہ احتساب ان سے شروع ہو گا اور اس کے بعد ان کی کابینہ اور دیگر لوگوں کا نمبر آئے گا۔ البتہ یہ بات ابھی تک غیر واضح ہے کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت میں جہانگیر ترین جیسے مخلص سیاسی کارکنوں اور عدالت سے آئین کی شق 62 کے تحت جھوٹا اور خائن قرار پانے والے شخص تک بھی احتساب کی رسی دراز ہوگی یا وہ اس سختی سے آزاد تصور ہوں گے۔ ملک میں میرٹ اور سب کے لئے مساوی انصاف فراہم کرنے کے نعرے پر حکومت بنانے والے عمران خان کو فوری طور پر نہ سہی لیکن جلد ہی اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ اگر جہانگیر ترین جیسے سرمایہ کار کا کوئی مفاد وابستہ نہیں تو وہ کیوں تحریک انصاف کی حکومت بنوانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ ایک صنعت کار اور جاگیر دار کو اس کاوش سے آخر کیا حاصل ہونے والا ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد کسی سرکاری یا سیاسی عہدہ پر فائز ہونے کے لائق نہیں ہیں۔ اور اگر انہوں نے تحریک انصاف کی حکومتوں سے کسی ہمدردی اور نرمی کی توقع باندھی ہوئی ہے تو شفافیت اور مساوات کے اصولوں میں یہ اعانت کیسے فراہم کی جاسکے گی۔
یہ سارا تماشا سپریم کورٹ کے چوکس اور انصاف پسند چیف جسٹس کی نظر میں بھی ہو گا۔ انہی کی زیر صدارت ایک بنچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو انتخابی اصلاحات ایکٹ کے تحت مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے کے بعد، کام کرنے سے روک دیا تھا۔ اس سال مارچ میں یہ حکم ایسے وقت جاری کیا گیا تھا جب سینیٹ کے انتخاب کے لئے ٹکٹ جاری ہوچکے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ماضی سے نافذ ہونے والے حکم میں نواز شریف کی طرف سے جاری ہونے والے پارٹی ٹکٹوں کو مسترد کر دیا تھا اور نواز لیگ کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینا پڑا تھا۔ سوال صرف اتنا ہے کہ نواز شریف ہی کی طرح شق باسٹھ کے تحت نااہل ہونے والا ایک شخص تحریک انصاف کی سیاسی کامیابی کے لئے تگ و دو کررہا ہے ۔ کیا کل کلاں اس کی کوششیں بھی سپریم کورٹ کی نگاہ میں ’ناجائز‘ قرار پا کر عمران خان کی حکومتوں کے لئے مسائل تو پیدا نہیں کریں گی۔
تحریک انصاف انتخابات میں جیتنے والی پارٹی ہے ۔ اسے حکومت سازی کا پہلا موقع مل رہا ہے ۔ حکومتیں بنانا اس کا استحقاق ہے۔ پارٹی نے انتخاب میں ایک کروڑ ستر لاکھ کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے ہیں ۔ اس لئے اسے عوام کی جائز نمائیدہ پارٹی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پارلیمانی سیاست کی مجبوریوں اور مشکلوں کے باوجود یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بننے کا جائز حق حاصل ہے تاکہ وہ اپنے منشور اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ یہاں بیان کئے جانے والے جملہ ہائے معترضہ کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ تحریک انصاف کو مرکز یا پنجاب میں حکومت بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس گفتگو کے ذریعے صرف یہ باور کروانا مقصود ہے کہ حکومت سازی کے لئے آزاد اور ’پابند‘ اراکین کی اعانت حاصل کرنے کے لئے اختیار کئے گئے ہتھکنڈے، ان اصولوں کو زک پہنچا سکتے ہیں جن کا اعلان عمران خان بیس برس تک کرتے رہے ہیں۔ یہ ہتھکنڈے ان طریقوں سے کسی طرح مختلف نہیں ہیں جو مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی اقتدار پانے یا اس سے چمٹے رہنے کے لئے اختیار کرتی رہی ہیں۔ اگر تحریک انصاف پرانے سیاسی گر اپناتے ہوئے اپنے سیاسی اقتدار کا آغاز کرے گی تو وہ دوسری پارٹیوں کی حکومتوں سے مختلف گورننس دینے میں کیسے کامیاب ہوسکے گی۔
جیتنے والی پارٹی کی طرف سے حکومت سازی کی تگ و دو جمہوری روایت اور ضرورت کے مطابق کوئی غلط کام نہیں ہے۔ لیکن سیاسی میدان میں ہارنے اور پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے والے شہباز شریف ایک باوقار اور ذمہ دار سیاست دان ہونے کا ثبوت دینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخاب سے پہلے ایک سیاسی سلوگن کے لئے اپنے بھائی اور پارٹی کے قائد نواز شریف کی واپسی اور قید قبول کرنے کے ایثار کے باوجود دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے کی حکمت عملی ترک نہیں کی۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو غیر واضح پیغام دیا گیا۔ انتخاب سے پہلے یہ بتانے سے گریز کیا گیا کہ پارٹی واقعی ماضی کی غلط اور غیر جمہوری روایات کو مسترد کرنے کے لئےعوام کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے یا شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ بہر صورت اسٹبلشمنٹ کی شرائط پر کام کرنے کو ترجیح دے گی۔ یہ غیر یقینی کیفیت پولنگ سے پہلے بھی موجود تھی اور انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بھی شہباز شریف ایک باوقار لیڈر کی طرح شکست تسلیم کرنے اور اپوزیشن میں بیٹھ کر سیاسی کردار ادا کرنے کا اعلان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
حمزہ شہباز نے پنجاب اسمبلی میں چند ارکان کی اکثریت کا عذر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کو پنجاب میں حکومت بنانے کا استحقاق حاصل ہے۔ تاہم اب جیسے ہی یہ واضح ہورہا ہے کہ مسلم لیگ ایک ہاری ہوئی سیاسی قوت ہے ، آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیاں تحریک انصاف سے تعاون کرنے پر آمادہ ہورہی ہیں۔ لیکن اب بھی سیاسی اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار متعین کرنے کی بجائے شہباز شریف اس کوشش میں ہیں کہ جوڑ توڑ اور سودے بازی سے انہیں اقتدار کا کوئی حصہ یا ٹکڑا مل جائے۔ خبروں کے مطابق اب وہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔
جنگ کی طرح سیاسی مقابلے میں بھی ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جمہوری انتظام میں لوگوں کی رائے کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے لیڈروں کو خبر ہونی چاہئے کہ انتخابی جنگ میں ہارنے کے باوجود سیاست دان ملکی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ حکومت سازی اور روزمرہ انتظامی معاملات چلانے کا حق اسی پارٹی کو حاصل ہونا چاہئے جو اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ شہباز شریف اس سیاسی جنگ کے دوران اور بعد میں ناکام سپہ سالار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ پارٹی لیڈر کے طور پر اپنی سیاسی حکمت عملی اور ووٹر تک پارٹی کا پیغام واضح طور سے پہنچانے میں ناکام رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو 2013 کے مقابلے میں بیس لاکھ کم ووٹ ملے ہیں۔ اب وہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ان ووٹروں کی عزت افزائی کرنے میں ناکام ہورہے ہیں جنہوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ دے کر اہم سیاسی پارٹی کے طور پر زندہ رکھا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی حمایت کرنے والوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے سلوگن پر اس پارٹی کو ووٹ دئیے ہیں۔ حالیہ انتخاب حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں لڑے گئے تھے اور نہ ہی اس میں کسی منشور کے لئے ووٹ مانگے گئے تھے۔ عمران خان نے شریف خاندان کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے کرپشن کے خلاف ووٹ مانگے تھے۔ ان کے مقابلے میں نواز شریف نے سیاست میں’ خلائی مخلوق ‘ کا خاتمہ کرنے کے ایک نکاتی نعرے پر سیاسی اپیل کی تھی۔ بیگم کلثوم نواز کی علالت کے سبب نواز شریف اور مریم نواز کو انتخابی مہم کے دوران پہلے ملک سے باہر قیام کرنا پڑا پھر نیب عدالت نے انہیں قید کی سزا دے کر انتخابی مہم جوئی سے باہر کردیا تھا۔ اس دوران شہباز شریف سیاسی جذبہ پیدا کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی کو شکست سے دوچار کیا۔ اب وہ انتخاب ہارنے کی ذمہ داری قبول نہ کرکے ایک شکست خوردہ سپہ سالار کی ذہنیت کا مظاہرہ کررہے ہیں جو اپنی غطیوں کو تسلیم کرنے کے باوجود ہار کے بعد کسی طرح اقتدار کا کوئی بھی حصہ حاصل کرنے کے لئے ہر اصول کی قربانی دینے پر آمادہ ہے۔
شہباز شریف بنیادی طور پر جوڑ توڑ اور ان حلقوں کی خوشنودی کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کے قائل رہے ہیں جن کے خلاف ان کے بھائی اور قائد نواز شریف نے اعلان جنگ کررکھا ہے۔ دوران جنگ ’دشمن‘ سے مصالحت کی بھیک مانگنے والا لیڈر نہ جیت سکتا ہے اور نہ ہی اسے ایک باوقار رہنما کا رتبہ حاصل ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اگر مستقبل میں کوئی سیاسی کردار ادا کرنا ہے تو اسے چوہدری نثار علی خان کے علاوہ شہباز شریف جیسے مصلحت پسندوں سے بھی جان چھڑانا ہوگی۔ بصورت دیگر اس پارٹی کو تاریخ کا حصہ بنتے دیر نہیں لگے گی۔

( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker