سید مجاہد علیکالملکھاری

امریکی وزیر خارجہ کا مختصر دورہ اور شاہ محمود قریشی کی خوش گمانیاں /سید مجاہد علی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھارت جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لئے اسلام آباد قیام کیا۔ اس دورہ میں ان کے ہمراہ امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی تھے۔ امریکی حکومت اور فوج کے نمائیندوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ وزارت خارجہ میں باہمی مفادات اور سیکورٹی تحفظات پر ہونے والے مذاکرات بیس منٹ پر محیط تھے۔ اس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں امریکی مہمانوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل تھے۔ پاکستان اور اس کی حکومت کے لئے یہ اچھی خبر ہے کہ اگرچہ مائیک پومپیو امریکی حکومت کا پرانا پیغام ہی اسلام آباد میں فوجی اور سیاسی لیڈروں تک پہنچا کر گئے ہیں لیکن اس بار صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کی طرح میڈیا کے ذریعے درشت اور سخت گیر لب و لہجہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اس لئے پاکستان کے ترجمان یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئی ہیں اور طرفین نے اپنا مؤقف کھل کر بیان کیا ہے۔
مائیک پومپیو نے پاکستان آنے سے پہلے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے واضح طور سے اس دورہ کا مقصد بیان کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت آئی ہے۔ اس لئے وہ پہلی فرصت میں نئے وزیر اعظم سے مل کر امریکہ کا مؤقف بیان کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ تاہم اس خوشگوار خواہش کے درپردہ مقصد کے بارے میں پاکستانی حکومت یا کسی مبصر کو کسی خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ کا پیغام بھی پرانا ہے اور اس کی حکمت عملی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ایسا کوئی اشارہ سامنے آیا ہوگا۔ البتہ امریکی وزیر خارجہ اور فوجی کمانڈر نے شاہ محمود قریشی، جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کے ساتھ کیا باتیں کی ہیں، ان کی تفصیلات کسی طرف سے سامنے لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ نہ ہی کسی اعلیٰ غیر ملکی شخصیت کے دورہ کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ کانفرنس قسم کا کوئی وقوعہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مائیک پومپیو صرف یہ بتانے کے لئے اسلام آباد میں رکے تھے کہ امریکہ بدستور پاکستان سے افغانستان میں حالات کو درست کرنے کے لئے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے اور اب ملک میں چونکہ نئی حکومت سامنے آئی ہے، اس لئے وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے کیا پیش قدمی کرتی ہے۔ اس لئے جمع خاطر رکھی جائے کہ شاہ محمود قریشی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نئے آغاز کی جو بات کررہے ہیں یا وزیر اعظم عمران خان برابری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے کا جو دعویٰ کرچکے ہیں، ان کے باوجود امریکہ کا پرنالہ وہیں موجود ہے جہاں وہ گزشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی طرف سے افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف انتباہ اور سخت الفاظ کے استعمال کے ذریعے گرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکی پالیسی کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے صدر ٹرمپ کے اس سال کے آغاز پر جاری ہونے والے ٹویٹر پیغام کو از سر نو پڑھ لینا چاہئے۔ اس پیغام میں امریکی صدر نے پاکستان کے بارے میں یہ گوہر افشانی کی تھی: ’ امریکہ نے احمقانہ طور سے پاکستان کو گزشتہ 15 برس میں امداد کے طور پر 33 ارب ڈالر دئیے ہیں۔ اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ وہ ہمارے لیڈروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔۔۔۔وہ (پاکستان) ان دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں پیچھا کرتے ہیں۔ وہ ہماری مدد نہیں کرتے۔ اب ایسا نہیں چلے گا‘۔
صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت اس کے بعد سے اپنی اس حکمت عملی پر قائم ہے۔ پاکستان کی ہر قسم کی فوجی امداد بند کردی گئی ہے۔ پاک فوج کے افسروں کے لئے امریکی اکیڈمیز میں تربیت کا پروگرام ختم ہو چکا ہے اور کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے پاکستان کو ہونے والی ادائیگیاں کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ مائیک پومپیو کے دورہ اسلام آباد سے پہلےامریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی 300 ملین ڈالر کی ادائیگی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسے امریکہ کی طرف سے اصول کی خلاف ورزی اور اخلاقی ذمہ داری سے گریز قرار دیا تھا۔ تاہم اسلام آباد روانگی سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ یہ خبر اگرچہ شہ سرخیوں میں رہی ہے لیکن پاکستان کو اس بارے میں واضح طور سے پتہ تھا کہ امریکہ پاکستان کو یہ رقم فراہم نہیں کرے گا۔ ہم پاکستان سے جو تعاون چاہتے ہیں، پاکستان وہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لئے ہم بھی پاکستان کو رقم نہیں دیں گے۔ البتہ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا کہ پاکستان کی امداد بحال ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے البتہ امریکہ اپنے مطالبوں پر قائم ہے۔ کہ پاکستان، افغان طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے عناصر کو پاکستانی قبائیلی علاقوں سے نکالے یا افغان طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا آغاز کرنے میں مدد فراہم کرے۔
بدقسمتی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دوسرے ملکوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور ضرورتوں کے محتاج ہوچکے ہیں۔ امریکہ محض اس لئے پاکستان سے مواصلت قائم رکھنا چاہتا ہے کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں معاون ہو سکتا ہے یا ان کے خلاف کسی سطح پر فوجی کارروائی کرکے دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔ دوطرفہ تعلقات میں امریکہ کو پاکستان کی اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔ اس کا مظاہرہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں دونوں ملکوں نے افغانستان میں امن کے لئے اپنی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سوچا جائے کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو شاید امریکہ کے عہدیدار پاکستان کا ذکر کرنا بھی ضروری نہ سمجھیں۔
پاک امریکہ تعلقات کی دوسری جہت کاتعلق امریکہ کی بھارت کے ساتھ دوستی و ضرورت اور چین کے خلاف معاشی اور اسٹرٹیجک محاذ آرائی سے ہے۔ دونوں ملکوں کے لیڈر اسی دائرے میں باہمی تعلقات کو دیکھنے، بہتر بنانے اور تسلیم کرنے کو کافی جانتے ہیں۔ امریکہ کی حد تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس علاقے میں پاکستان اب اس کے مفادات کے لئے ضروری نہیں ہے۔ اسے بھارت کا تعاون حاصل ہے جسے ایک کے بعد دوسرا امریکی لیڈر بہترین دوست، امن کا داعی اور سب سے بڑی جمہوریت قرار دے کر خوشامد کی حد تک بھارت نوازی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لئے نہایت تشویش اور پریشانی کا سبب ہونی چاہئے کیوں کہ ایک تو پاکستان طویل عرصہ تک امریکہ کا قریب ترین حلیف رہا ہے لیکن اب بد اعتمادی میں اس حد تک اضافہ ہو چکا ہے کہ ایک دوسرے سے مطالبے کرنے یا نیچا دکھانے کے طعنے دینے تک نوبت پہنچ چکی ہے۔ امریکہ سے دوری کے جو بھی اسباب ہوں پاکستان نہ تو ان تعلقات کو بہتر کرنے کی تدبیر کرسکا ہے اور نہ ہی اپنے سفارتی اور اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لئے کوئی متبادل انتظامات کئے گئے ہیں۔ چین کے ساتھ دوستی اور سی پیک منصوبہ ابھی تک پاکستان کے لئے معاشی یا عسکری تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکا ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا سلسلہ شروع ضرور ہؤا ہے لیکن یہ بھی سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان کی صرف یہی مجبوری نہیں ہے کہ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ بلکہ اس کی قیادت امریکی ناراضگی مول لیتے ہوئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کوئی متبادل انتظام کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی پالیسی صرف اس امید کے گرد گھومتی ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلے گا تو کابل پر اثر و رسوخ کے لئے طالبان ہمارے معاون ہوں گے۔
امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے لیکن وہاں کابل حکومت پر نگرانی اور بھارت کے اثر و رسوخ کے ذریعے اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ یہ بھی سمجھنے لگا ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر طالبان کے علاوہ پاکستان کو بھی اپنی شرائط ماننے پر مجبور کردے گا۔ دوسری طرف طالبان امریکہ سے براہ راست بات چیت کا اشارہ دینے کے باوجود عملی طور پر خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ صدر اشرف غنی کی طرف سے مصالحت کی کوششوں کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ افغان طالبان کے علاوہ متعدد دوسرے عسکری گروہ افغانستان میں پاؤں مضبوط کرچکے ہیں اور ان سب پر قابو پا کر سیاسی مذاکرات کے ذریعے کسی متفقہ حکومت یانظام پراتفاق رائے پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے۔
پاکستان کی نئی حکومت نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ بنا کر اور وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرکے واضح کردیا ہے کہ پاکستان بھی اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ان حالات میں امریکی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے چند گھنٹے طویل قیام کے بعد خوش گمانی میں مبتلا ہونا سنگین سیاسی و سفارتی غلطی ہو گا۔
کہاں کا وصل، تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے آ جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker