سید مجاہد علیکالملکھاری

جہانگیر ترین کی نااہلی : یہ قانون کا نہیں، اصول جمہوریت کا معاملہ ہے۔۔سید مجاہد علی

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کےفیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ ملک کی عدالت عظمیٰ نے خود کو آئین کی تشریح، اپنے اختیار کے گمان اور سیاسی اصلاح کے مشن میں اس طرح جکڑ لیا ہے کہ شاید موجودہ چیف جسٹس کی موجودگی میں کوئی دوسرا فیصلہ ممکن بھی نہیں تھا ۔ ورنہ ایسی دھول اٹھتی جو توہین عدالت کے قانون و اختیار کے بے دریغ استعمال کے باوجود بٹھانا ممکن نہ ہوتی۔ مسلم لیگ (ن) کے بعد بہر حال اب تحریک انصاف کوبھی یہ واضح پیغام مل گیا ہے کہ سیاسی معاملات میں عدالتوں کو ملوث کرنے کی کوشش کی جائے گی تو نہ قانون کی سربلندی ہوگی اور نہ ہی انصاف کے پھریرے لہرائیں گے بلکہ سیاسی معاملات میں عدالتوں کی مداخلت سے پیدا ہونے والی صورت حال میں ووٹ کی طاقت چیلنج ہوتی رہے گی۔ پارلیمنٹ کا اختیار جی ایچ کیو اور سپریم کورٹ میں رہن رہے گا۔ اب پارلیمنٹ ہی اس کربناک صورت حال کو تبدیل کرنے کا اقدام کرسکتی ہے ۔ وہیں آئین کی ان شقات پر غور کرنے کے بعد تبدیلی کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے جس کے تحت ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگوں کو نااہل قرار دینے کی 62 (1) ایف جیسی شق کو جو ایک فوجی آمر کی خواہش پر آئین کا حصہ بنی تھی، تبدیل یا منسوخ کیا جائے۔ تاہم جو حکومت اس وقت فوج اور سپریم کورٹ کی چہیتی ہونے کا اعزاز رکھتی ہے اور جس وقت ملک کی اہم اور تیسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اٹھارویں ترمیم کی بحالی کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں ۔۔۔ ایسے حالات میں آئین کی اصلاح کی طرف پیش رفت کا تصور محال ہونا چاہئے۔
یوں بھی جہانگیر ترین کی سیاست سے تاحیات نااہلی کےحکم کی تصدیق کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اسی بنچ نے آج ہی وزیر اعظم کو ’صادق و امین ‘ قرار دینے کے حکم پر نظر ثانی کے لئے فل کورٹ پر مشتمل بنچ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ یہ بنچ دسمبر 2017 میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر عمران خان کو شق 62(1) ایف کی تشریح کے مطابق صادق و امین قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ درخواست گزار فارن فنڈنگ کیس کے براہ راست متاثرین میں سے نہیں ہیں۔ عدالت کا تحریک انصاف کے سربراہ کے بارے میں فیصلہ تھا کہ انہیں اپنی آف شور کمپنی یا لندن کے فلیٹ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عمران خان کو بنی گالہ کی اراضی خریدنے کے لئے ان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے رقم فراہم کی تھی۔ اس طرح عمران خان اہل اور جہانگیر ترین نااہل ہوگئے کیوں کہ سپریم کورٹ کو ان کی لندن میں واقع جائیداد کے بارے میں شبہات تھےا ور اس کا مؤقف تھا کہ اس معاملہ میں جہانگیر ترین نے درست معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔ اس لئے وہ متعلقہ آئینی شق کے تحت صادق و امین نہیں رہے۔ جہانگیر ترین کو ملک کا ڈی فیکٹو وزیر اعظم ، بادشاہ گر اور عمران خان کا معتمد ترین ساتھی کہا جاسکتا ہے۔ گزشتہ برس ان کی نااہلی کے وقت اگر نواز شریف کی معزولی اور نااہلی کا زخم سہنے والی مسلم لیگ (ن) نے خوشی کا اظہار کیا تھا تو تحریک انصاف کی طرف سے فیصلہ مانتے ہوئے بھی اس پر شدید تحفظات سامنے آئے تھے ۔ جو عمران خان، نواز شریف کے خلاف ہر عدالتی سطح پر آنے والے ہر مخالفانہ فیصلہ کو انصاف کی سربلندی قرار دیتے رہے ہیں، انہیں جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ کے ناقص اور غلط ہونے کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے جہانگیر ترین کی طرف سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر استعفیٰ بھی قبول نہیں کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے ایک دوسرے فیصلہ کی روشنی میں شق 62 (1) ایف کے تحت نااہل ہونے والا ساری زندگی نہ انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے اور نہ ہی کسی پبلک عہدہ پر کام کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود نہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی سیاسی حیثیت کو مسترد کیا اور پارٹی صدارت سے ان کی جبری علیحدگی کے بعد انہیں رہبر اعلیٰ کا منصب دے کر ان کی قیادت و سیادت پرمہر تصدیق ثبت کی۔ اور نہ ہی تحریک انصاف نے جہانگیر ترین کی نااہلی کو قبول کیا۔ بلکہ انتخابات اور اس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کو جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی اپیل منظور ہونے کی اس حد تک امید تھی کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے ان کی نامزدگی کا انتظار کیا جارہا تھا۔ عثمان بزدار جیسے غیر معروف شخص کو اس عہدے پر فائز کرنے کی اصل وجہ یہ بتائی جاتی رہی ہے کہ نظرثانی کی درخواست منظو ہونے کے بعد جہانگیر ترین پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ سپریم کورٹ نے آج جب جہانگیر ترین کی اپیل کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کہ ان کی درخواست میں کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس لئے اس معاملہ پر مزید غور نہیں کیا جاسکتا تو اس سے تحریک انصاف اور عمران خان کی جہانگیر ترین سے وابستہ امیدوں پر بڑی حد تک پانی پھر گیا ہے۔
پہلے فیصلہ کی طرح یہ فیصلہ بھی دراصل سیاسی ماحول کی پیدا کردہ مجبوریوں کے تناظر میں ہی کیا گیا ہے اسی لئے یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ پہلے فیصلہ کی طرح عدالت عظمیٰ کا آج کا فیصلہ بھی درست نہیں۔ اس میں آئین کی شق کو بطور عذر یا ہتھیار ضرور استعمال کیا گیا ہے لیکن اس کے عوامل سراسر سیاسی ہیں۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد شق 62(1) ایف کے تحت اختیار کے حوالے سے سپریم کورٹ ذبردست دباؤ کا شکار رہی ہے۔ یہ بات تسلسل سے کہی اور تسلیم کی جاتی ہے کہ نواز شریف کو نااہل اور معزول کرنے کا فیصلہ کسی حد تک سپریم کورٹ کی ’مجبوری‘ بن چکا تھا۔ ملک کی سیاست میں نواز شریف کا راستہ روکنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ، اس لئے ان کا نااہل ہونا اور سیاسی منظر نامہ سے غائب کیا جانا ’بظاہر‘ نظام کی مجبوری تھا۔ سپریم کورٹ بھی باقی غیرمنتخب اداروں کی طرح نظام کا حصہ ہے اس لئے اسے بھی اپنا کردار فعالیت سے ادا کرنا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد تاہم جب حنیف عباسی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف تقریباً ویسے ہی الزامات کے ساتھ سپریم کورٹ جا پہنچے تو عدالت کے لئے مشکل صورت پیدا ہوگئی۔ نہ اس معاملہ کو انتخابات کے بعد تک ٹالا جا سکتا تھا اور نہ ہی عمران خان کو نااہل قرار دے کر قوم کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکتا تھا۔ اس لئے بظاہر عمران خان کو بچانے کے لئے جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بننا پڑا۔
اب نظرثانی کی اپیل کےوقت سپریم کورٹ خود ہی اپنے بچھائے ہوئے جال میں آچکی تھی۔ وہ اگر اس وقت بھی جہانگیر ترین کی اپیل منظور کر لیتی تو ان گرما گرم مباحث کو روکنا کسی کے بس میں نہ ہوتا کہ اصل مقصد نوازشریف کو منظر نامہ سے ہٹانا تھا ، اسی لئے جہانگیر ترین کی اپیل منظور کرلی گئی ہے۔ اس دباؤ میں تحریک انصاف کی حکومت بنوانے کے لئے جہانگیر ترین کے کردار و محنت اور ان کے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں نے بھی اضافہ کیا۔ اس طرح سپریم کورٹ کے لئے اس کمبل سے جان چھڑانے کا یہی واحد طریقہ بچتا تھا کہ وہ نظر ثانی کی اپیل مسترد کردے۔ اس طرح یہ فیصلہ بھی پہلے دو فیصلوں کی طرح قانونی میرٹ کی بجائے سیاسی مجبوریوں کا آئینہ دار ہے۔ نواز شریف کے معاملہ اور حنیف عباسی کی درخواست پر فیصلہ کے وقت کچھ اور طرح کی سیاسی مجبوریاں تھیں تاہم اب سپریم کورٹ کی ساکھ داؤ پر تھی ۔ اسے بچانے کے لئے ہونے والا فیصلہ بھی سیاسی ہی کہا جائے گا۔
ملک میں جمہوریت کی پامالی میں غیر منتخب اداروں کے کردار پر بات کرتے ہوئے اس سچ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ سیاست دانوں نے اس میں منفی اور افسوسناک کردار ادا کیا ہے۔ اسی کی بنا پر ملک کے عسکری اداروں کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور سیاست دانوں کی باہمی چپقلش اور غیر اصولی حکمت عملی کی وجہ سے ہی عدالتوں کو سیاسی فیصلے کرنے پر مجبور ہونا پڑا یا سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع ملتا رہا۔ اس کا اظہار پاناما لیکس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور سیاسی دنگل کے بعد عدالتی منظر نامہ میں بھی ہؤا۔ عمران خان و جہانگیر ترین کے خلاف حنیف عباسی کی درخواست بھی سیاست دانوں کی کم فہمی اور اپنے سیاسی مفادات کےلئے وسیع تر قومی و جمہوری مفادات کو پس پشت ڈالنے ہی کی داستان ہے۔
سپریم کورٹ نے آئین کی شقات 184 (3) اور 62 (1) ایف کے تحت علیحدہ علیحدہ یا ان دونوں کو ملاکر جس طرح اختیارات کو استعمال کرنے کی روایت راسخ کی ہے، اس پر ملک کے قانون دان حلقوں کی طرف سے مسلسل تشویش کا اظہار سامنے آرہا ہے۔ تاہم اس مسئلہ کا اصل حل سیاست دانوں کی بیداری، جمہوریت سے ان کی وابستگی اور آئین میں موجود سقم کو دور کرنے سے ہی ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں اٹھارویں ترمیم کو ختم کرتے ہوئے شق 62 (1) ایف کو ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی تھی لیکن اس وقت مسلم لیگ (ن) اس کی مخالفت کررہی تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس پارٹی کو اسی شخص کی قربانی دینا پڑی وہ خود جس کے نام سے موسوم ہے۔ اب تحریک انصاف کو بھی اس کے حصے کا سبق مل گیا ہے جب اس کے ممتاز ترین لیڈر کو تاحیات نااہل قرار دینے کے فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کو صرف یہ سوچنا ہے کہ متحارب سیاسی قوتوں کے ساتھ دشمنی کو نبھانا ہے یا ملک میں جمہوری روایت کو زندہ کرنے کے لئے آئین میں اصلا ح کے لئے وسیع سیاسی اشتراک پیدا کرنا بہتر ہے۔ سیاسی دشمنی میں عمران خان فوری طور پر تو سرخرو ہوں گے لیکن منتخب نمائیندے اگر عدالتوں اور فوجی اداروں کے فیصلوں کے رحم و کرم پر رہیں گے تو کسی بھی سیاسی لیڈر کی سرخروئی وقتی ثابت ہوتے دیر نہیں لگے گی۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker