تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

تنہا اور خوفزدہ نوازشریف ۔۔ سید مجاہد علی

پاناما کیس نے اس وقت پوری قوم کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ دنیا میں اہم واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو چہار طرف سے نت نئے خطرات کا سامنا ہے لیکن پاکستان کے تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کا زیادہ وقت پاناما کیس اور اس کے مضمرات پر بحث کرنے میں گزرتا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں ہے بلکہ قومی ٹیلی ویژن نشریات اور اخبارات کی سرخیوں میں بھی یہی معاملہ اہم ترین خبر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں تو اس واقعہ میں کوئی خبر نہیں ہے کہ وزیراعظم کے بڑے یا چھوڑے صاحبزادے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کے حامیوں کا گروہ تھا اور وہ ’’وکٹری‘‘ کا نشان بناتے ہوئے جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے عارضی سیکریٹریٹ میں سوالوں کے جواب دینے کے لئےپہنچے۔ لیکن مباحث اور میڈیا کی توجہ نے اس معمولی اور روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعہ کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ملک کے سنجیدہ انگریزی اخبار بھی اسے جلی سرخیوں کے ساتھ پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے لئے تو یہ بریکنگ نیوز ہے جس پر تبصرہ کرنے کے لئے پروفیشنل مبصر ہر موقع پر بال کی کھال اتارنے اور رائی سے پہاڑ کھڑا کرنے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جو ہر معاملہ پر تبصروں اور ’’سینہ گزٹ‘‘ خبروں کی ترسیل کا منظم اور موثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ جن لوگوں کو سیاست یا اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ پاناما کیس میں کس کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے، وہ بھی کسی شناسا سے ملاقات میں پہلا سوال یہی داغتے ہیں: تو سناؤ وزیراعظم کی چھٹی ہو رہی ہے۔
وزیراعظم کی معزولی یا نااہلی کے سوال نے ہی پاناما کیس کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ حالانکہ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد عدالت عظمیٰ اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کی تقریر میں دروغ گوئی سے کام لیا تھا یا ان کے بیٹے مالی بے قاعدگیوں کے مرتکب ہوئے تھے یا لندن مے فیئر کے علاقے کے مشہور زمانہ اپارٹمنٹس خریدنےکے لئے وسائل ناجائز طریقے سے حاصل کئے گئے تھے اور وزیراعظم نواز شریف براہ راست یا بالواسطہ طور سے اس کام میں ملوث تھے ۔۔۔۔ تو بھی وزیراعظم کو قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرنے اور اس کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ کے منصب سے علیحدہ کرنے کا کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سپر د ہوگا جو اس معاملہ پر غور کرنے کے بعد اور ضابطہ کی کارروائی پورا کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے گا۔ نواز شریف کی طرف سے گزشتہ اپریل میں پاناما پیپرز میں ان کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے انکشاف کے بعد جس تجاہل عارفانہ اور سیاسی ڈھٹائی سے کام لیا گیا ہے، اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ اگر موجودہ تحقیقات کے نتیجہ میں سہ رکنی بینچ بھی اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے جس کا اظہار اس معاملہ کی سماعت کرنے والے 5 رکنی بینچ کے دو سینئر ارکان اپریل میں سامنے آنے والے فیصلہ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ وزیراعظم نے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور وہ ملک کے اعلیٰ ترین منتخب ادارے کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ جیسے عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں ہیں۔ تو بھی نواز شریف اس وقت تک اس معاملہ کو لٹکانے اور اپنے عہدے سے چمٹے رہنے کو ترجیح دیں گے جب تک تمام قانونی اور انتظامی متبادل راستے ان کے استعفیٰ کی منزل پر نہ پہنچ جائیں۔ پاکستانی سیاست کا مطالعہ کرنے والے بتا سکتے ہیں کہ اس انتہائی نتیجہ کے باوجود نواز شریف کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کا اہتمام کیاجائے گا۔ اگر سیاسی طور پر سودمند ہوا تو وہ قبل از وقت انتخاب کا اعلان کریں گے اور ایک بار پھر انتخاب جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں الزام تراشی کے ماحول میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن مجروح ہونے کے باوجود، وہ دوسری پارٹیوں کے مقابلہ میں کافی مضبوط ہے۔ اور پارٹی آئندہ انتخابات میں اکثریت نہ بھی حاصل کر سکی تو بھی وہ اتنی نشستیں ضرور حاصل کر لے گی کہ بعض چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کرے یا طاقتور اپوزیشن کے طور پر برسراقتدار آنے والی حکومت کا جینا حرام کرتی رہے۔
اس حوالے سے اگر پاناما کیس اور اس کے مضمرات پر غور کیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ ایک چھوٹے سے طبقے کی انا کی تسکین کا سبب ضرور بنے گا لیکن یہ ملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی لانے میں ناکام رہے گا۔ نواز شریف پہلے ایک سخت گیر صدر (غلام اسحاق خان) اور فوجی آمر (پرویز مشرف) کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو الزام دے کر خود کو مظلوم ثابت کرتے تھے، اب وہ عدالت کے ہاتھوں شہید ہونے کا ناٹک رچائیں گے اور اپنے مداحوں، سیاسی ابن الوقتوں اور سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی رہیں گے۔ اور یہ سارا کارنامہ ایک ایسا شخص کرے گا جو گزشتہ 35 برس سے کسی نہ کسی طرح ملکی سیاست میں اہم عہدوں پر فائز رہا ہے، تیسری بار ملک کا وزیراعظم بنا ہے اور سات آٹھ سال کی جلاوطنی میں اسے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کے لئے مثبت سیاسی رویہ اختیار کرنے پر غور کرنے کا موقع ملا ہے۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف اس پوری مدت میں نہ تو جمہوری سیاسی روایت کو سمجھ پائے ہیں، نہ ان کی سوچ میں تبدیلی واقع ہوئی ہے اور نہ ہی وہ سیاست کو ذاتی طاقت اور اثر و رسوخ کا ذریعہ سمجھنے کی سوچ سے آگے بڑھ سکے ہیں۔ نواز شریف کی موجودہ مشکلات کی بنیادی وجہ ان کا یہی رویہ ہے جس میں تبدیلی کے کوئی آثار دیکھنے میں نہیں آئے۔ سیاسی سفر میں انہوں نے فوج کے گماشتے سے عوامی نمائندہ بننے کی کوشش ضرورکی ہے لیکن ان کا مطمح نظر صرف اقتدار رہا ہے۔ 35 برس کی سیاسی زندگی میں انہوں نے لوگوں کی نبض پر بس اتنا ہی ہاتھ رکھا ہے کہ کس طرح جوڑ توڑ اور دولت و طاقت کے استعمال سے سیاسی کامیابی کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ستر برس کی عمر کو پہنچنے کے باوجود اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے تو پرجوش ہیں لیکن اس بات سے قطعی بے خبر ہیں کہ ان کی سیاسی میراث Legacy کیا ہوگی۔ ان کے خیال میں اگر وہ اپنے بعد اپنی صاحبزادی کو وزیراعظم بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ حاصل زندگی ہوگا لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تاریخ کسی بھی لیڈر کو اس کے سیاسی منصوبوں اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر پرکھے گی۔ دنیا کے مسلمہ جمہوری ملکوں میں برسراقتدار آنے والے لوگ اپنے اقتدار کے تسلسل سے زیادہ اس بات پر پریشان رہتے ہیں کہ مستقبل میں آنے والی نسلیں انہیں کیسے یاد کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں سیاستدان اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک و قوم کی بہتری کے منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی یا عوام میں عدم مقبولیت کا اشارہ پاتے ہی کسی معقول سیاسی جانشین کو قیادت سونپ کر خاموش زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح جمہوری روایت بھی مستحکم ہوتی ہے اور برسراقتدار آنے والے لوگوں پر بہتر کام کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔ پاکستان میں نواز شریف سمیت سیاسی میدان میں متحرک بیشتر رہنما اس اصول کو سمجھنے اور تسلیم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ خاص طور سے نواز شریف نے موجودہ دور اقتدار میں یہ واضح کیا ہے کہ جلاوطنی کے افسوسناک تجربہ کے باوجود وہ قومی لیڈر کی خوبیوں کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے لئے بہر صورت اقتدار سے چمٹے رہنا، جس قدر 90 کی دہائی میں اہم تھا، اسی قدر وہ اب بھی اسے ہی منزل مقصود سمجھتے ہیں۔ اگرانہوں نے ان 25 برس میں اپنے سیاسی سفر سے کوئی مثبت سبق سیکھے ہوتے تو وہ موجودہ بحران کا سامنا کرنے اور عدالتوں اور جے آئی ٹی کے سامنے بے توقیر ہونے کی بجائے وزیراعظم ہاؤس سے باہر بیٹھ کر اپنی پارٹی اور حامیوں کی رہنمائی کر رہے ہوتے۔
پاناما پیپرز میں شریف خاندان کا نام سامنے آنے اور اپوزیشن کی طرف سے اسے اسکینڈل بنانے کی کوشش کا آغاز ہونے کے بعد نواز شریف اگر خاموشی اختیار کرتے اور قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں تقریر کے ذریعے اپنے خاندان کی دیانت اور امارت کے افسانوی قصے نہ سناتے تو یہ سیاسی بحران کبھی ان کی ذات تک نہ پہنچتا۔ اس کے بعد بھی جب یہ طے ہو گیا تھا کہ اپوزیشن اس معاملہ کی تحقیقات چاہتی ہے اور حکومت کی طرف سے یہ تحقیقات روکنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اور کسی دوسرے شخص کو پارٹی کی اکثریت کی بنیاد پر وزیراعظم بنوا کر، احتجاج کے اس غبارے سے ہوا نکال سکتے تھے۔ وہ یہ بروقت فیصلہ کرنے میں دو وجوہ سے ناکام رہے۔ ایک تو یہ کہ نواز شریف کی نسل کے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ تمام مسئلوں کا واحد حل اقتدار پر قابض رہنا ہے۔ اس مزاج کے مطابق اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد حالات کنٹرول میں نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور نواز شریف ملک کی وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس رویہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی صورت میں برپا ہونے والے سماجی اور مواصلاتی انقلاب کے اثرات کو سمجھنے اور ان کی قوت کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ جس طرح ماضی میں بحرانوں سے نکلتے رہے ہیں، اسی طرح اب بھی یک طرفہ پروپیگنڈے، زور زبردستی اور حرص و لالچ کے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاناما کیس میں گردن تک پھنسے نواز شریف یہ جاننے کی کوشش نہیں کر سکے کہ اب 90 کی دہائی کی طرح عدالت پر حملہ کر کے یا ججوں کو خرید کر معاملات ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا میں سامنے آنے والی رائے کسی بھی طوفان کا راستہ روکنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی ایک ایسی نسل پروان چڑھی ہے جو پاکستان کے بارے میں پرانی نسل سے مختلف اور مثبت رویہ رکھتی ہے۔ وہ یہ محسوس کر رہی ہے کہ پرانی نسل نہ تو جدید ریاست کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے اور نہ نئی نسل کی ضرورتوں کا ادراک کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اس یقین کے باوجودہ کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی سیاسی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ عوام میں مسلسل اپنی اہمیت اور احترام سے محروم ہو رہے ہیں۔ شعور کی عمر کو پہنچنے والی نئی نسل ہٹ دھرمی ، ضد اور غیر لچکدار رویوں کو قبول نہیں کرتی۔ اس کے خیال میں ایسے ہی سیاسی رویوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔
نواز شریف اور ان کے حامیوں کی طرف سے پاناما کیس یا دیگر سیاسی تنازعات پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ ملک میں ترقی کے منصوبوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ نواز شریف اگر اپنے طرز عمل پر غور کریں تو شاید یہ جان سکیں کہ پاکستان میں سیاسی بحران پیدا کرنے اور اس کے نتیجے میں اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کی صورتحال کا اصل سبب نواز شریف کی اپنی سیاسی حکمت عملی ہے۔ وہ عوام کی تائید سے برسر اقتدار آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2018 تک برسر اقتدار رہنے کا حق مانگتے ہیں لیکن یہ حق حاصل کرنے کےلئے انہیں شفاف طرز حکومت اور قومی ضرورتوں سے مکمل آگہی کا ثبوت بھی دینا چاہئے تھا۔ نواز شریف اس صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے 2013 میں ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر حق حکومت مانگتے رہنے کا مطالبہ اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔
طویل سیاسی سفر کے باوجود نواز شریف ایسے سیاسی ساتھی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو گرم و سرد میں ان کا ساتھ دے سکیں۔ کیونکہ وہ خود کو عقل کا محور سمجھتے ہوئے کسی قریب ترین ساتھی پر بھی اعتبار کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ برسر اقتدار ہونے کے باوجود سیاسی طور پر تنہا ہیں۔ یہی خوف انہیں وزارت عظمیٰ چھوڑنے سے روکتا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ وہ اقتدار سے علیحدہ ہوئے تو سیاسی اقتدار ان کے گھر سے نکل جائے گا۔ سیاسی وراثت کی بجائے خاندانی حکومت قائم کرنے کی کوششیں کرنے والے اسی انجام کو پہنچتے ہیں۔
(بشکریہ:کاروان ۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker