سید مجاہد علیکالملکھاری

سری لنکا حملوں میں داعش کا حصہ: جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔ سید مجاہد علی

داعش نے ایسٹر سنڈے کو سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس عالمی شہرت یافتہ گروہ نے اپنی خبررساں ایجنسی عماق کے ذریعے دہشت گرد حملہ آوروں کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی ہیں لیکن ان میں صرف ایک شخص ظہران ہاشم کی تصویر پہچانی جاسکتی ہے کیوں کہ باقی نوجوانوں کے چہرے ڈھانپے ہوئے ہیں۔ البتہ سری لنکن حکام نے حملہ آوروں کی شناخت کرلی ہے اور اب سرکاری طور پر بعض ایسے مشکوک لوگوں کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جن پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
گزشتہ اتوار کو ہونے والے حملوں کی شدت اور غیر معمولی ہلاکت خیزی کی وجہ سے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ان حملوں میں داعش یا کسی دوسرے عالمی گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے لیکن اس اندیشہ کی تصدیق کے بعد سری لنکا کے حملے ایک خاص ملک کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ انہیں دہشت گردی کی اس عالمی مہم کا حصہ سمجھا جائے گا جو پوری دنیا میں انتشار، افتراق اور بدامنی پیدا کرکے غیر واضح مقاصد حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دو ماہ قبل شام میں داعش کے آخری گڑھ کے خاتمہ پر اسلامی خلافت کے مکمل خاتمہ کا اعلان کیا تھا لیکن دہشت گردی کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے اس وقت بھی کامیابی کے اس اعلان کو قبل ازوقت قرار دیا تھا۔ کیوں کہ داعش کا مقصد کسی ریاست کا قیام اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا نہیں تھا۔ نہ ہی یہ شام یا عراق کے قوم پرستوں کا کوئی گروہ تھا جو اس علاقے میں ایک کامیاب اسلامی مملکت قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ داعش کو 2014 میں عراق کے بحران اور شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے اسے ان دونوں ملکوں کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کرنے کا موقع ملا۔ اگر یہ گروہ واقعی ایک خطہ زمین پر قبضہ کرکے ایک نئی مملکت قائم کرنے کا ارادہ رکھتا تو اس وقت اس کے پاس یہ مقصد حاصل کرنے کا سنہرا موقع تھا۔
وسیع علاقہ اس کی دسترس میں تھا۔ اس علاقے کی آبادی پر اس کا کنٹرول تھا اور وہ وہاں کے قدرتی وسائل کے علاوہ لوگوں سے محاصل وصول کرکے کسی بھی ریاست کی طرح آمدنی کے ذرائع حاصل کرچکا تھا۔ البتہ اسے عالمی طور سے تسلیم نہیں کیا گیا تھا جو کسی بھی مملکت کی خود مختاری کے لئے بے حد اہم ہے۔ لیکن اس وقت ایسے حالات موجود تھے کہ داعش کی قیادت اگر دہشت گردی، تشدد، اور نفرت کی سیاست ترک کرکے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آتی تو متعدد ممالک اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے۔
داعش نے دنیا کی تاریخ میں سب سے دولت مند دہشت گرد گروہ کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد وسیع خطہ زمین پر قبضہ کرنے کے باوجود، دہشت گردی کو ترک کرنے کی بجائے اسے پھیلانے اور تشدد عام کرنے پر پوری توجہ مبذول رکھی۔ اس کی قیادت نے زیر نگیں علاقوں میں غیر مسلم آبادیوں کے علاوہ اپنے فقہی مسلک سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے علاوہ اپنے وسائل کو مغربی ممالک کے نوجوان مسلمانوں کو اپنے ہی ملکوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کے لئے استعمال کیا۔
ان ممالک سے بڑی تعداد میں سحر زدہ مسلمان نوجوان اپنی جنم بھومیوں میں زندگی کے تمام تر مواقع مسترد کرتے ہوئے طاقت اور دہشت کے زور پر دنیا کو فتح کرنے کے نعرے سے متاثر ہو کر شام میں داعش کی خلافت میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ داعش نے اپنی قوت کو مغربی ممالک میں پے در پے دہشت گرد حملے کروانے اور مسلمان ملکوں میں اپنے ہمدرد پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اسی لئے پچاس سے زیادہ ملکوں کے اتحاد نے داعش کے خلاف جنگ کا آغاز کیا جس کے نتیجہ میں اسے اپنے تمام علاقوں کی حاکمیت سے محروم ہونا پڑا۔
علاقوں سے محرومی کو داعش کی شکست یا اس کی قوت میں کمی سمجھنے کی غلطی کی گئی ہے۔ لیکن سری لنکا کے سانحہ نے یہ بات یاد کروا دی ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت کو عام کرنے والے عناصر بدستور مستحکم اور طاقت ور ہیں۔ وہ بدستور اچھے خاندانوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ورغلانے اور مرنے مارنے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ اس گروہ نے اگرچہ مشرق وسطیٰ کے ممالک عراق اور شام میں قوت پکڑی لیکن اس میں شامل عناصر کا تعلق دنیا کے ہر ملک سے ہے اور اس گروہ کے ہمدرد دور دراز ملکوں میں بھی نیٹ ورک بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
سری لنکا میں مسیحیوں کے مقدس تہوار پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنانے کا مقصد زیادہ سے زیادہ تعداد میں عیسائیوں کے علاوہ غیر ملکیوں کو ہلاک کرنا تھا۔ تاکہ ان حملوں کا اثر دنیا بھر میں محسوس کیا جاسکے اور خوف کی فضا سے سب ملک یکساں طور سے متاثر ہوں۔ ان حملوں سے کسی حد تک یہ مقصد حاصل کرلیا گیا ہے۔ اسی لئے یہ واقعہ مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کے لئے خاص طور سے پریشانی اور تشویش کا سبب ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں میں دہشت گردی پر قابو پالینے کی باتیں کی جارہی ہیں، افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے طالبان کو ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دہشت گردی کے بارے میں متبادل بیانیہ سامنے لاکر دہشت گردوں کی فکری اور فقہی بنیاد کو نقصان پہنچا چکے ہیں، نفرت اور ہلاکت کا داعی ایک گروہ یہ پیغام لے کر سامنے آیا ہے کہ نہ اس نے ہار مانی ہے اور نہ ہی نوجوان مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔
کولمبو اور سری لنکا کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کی بڑی وجہ سری لنکن حکومت کی ناکامی بھی ہے۔ صدر میتھری پالا سری سینا اور وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے کے درمیان اختلافات اور ان کی وجہ سے انٹیلی جنس معلومات کے باوجود حفاظتی اور تادیبی اقدامات نہیں کیے جاسکے۔ اس کے علاوہ سری لنکا کے حکام نے حملوں کے بعد پے در پے غلطیاں کرکے بھی ثابت کیا ہے کہ وہاں کا ریاستی نظام ماڈرن دہشت گرد گروہوں کو پہچاننے اور ان کے ہتھکنڈوں کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
حتی کہ حکام نے مرنے والوں کی اصل تعداد سے ایک سو سے بھی زائد لوگوں کی ہلاکت رپورٹ کی جس کی اصلاح سانحہ کے پانچ روز بعد کی گئی ہے۔ اب کہا گیا ہے کہ 359 نہیں بلکہ 252 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس غلط رپورٹنگ کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ امدادی ورکر لاشوں کا درست شمار کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی ایک نوجوان لڑکی کو مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد اس غلطی پر معافی مانگ کر بھی سری لنکن حکومت نے اپنی نا اہلی اور ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
سری لنکن حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے قطع نظر اسلام کے نام پر ایک غیر متعلق ملک میں دہشت گردی کی کارروائی سے دنیا میں لوگوں، ملکوں اور عقائد کے درمیان تصادم کے مزاج کو تقویت دی گئی ہے۔ یہ حملے ان تمام کوششوں کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گے جو مغرب میں آباد مسلمانوں کے خلاف پھیلنے والی نفرت کو ختم کرنے کے لئے کی جاتی رہی ہیں۔ اب مسلمانوں کو خطرہ اور معاشروں کے لئے ’مہلک‘ قرار دینے والے عناصر کو نفرت پھیلانے کے لئے سری لنکا کے حملوں کی شکل میں نئی طاقت ور دلیل فراہم کردی گئی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حملہ کا مقصد گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد میں پچاس مسلمانوں کی شہادت کا انتقام لینا تھا۔ حالانکہ سری لنکا میں غیر مسلموں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی مظلومیت اور ان کے لئے پیدا ہونے والی ہمدردی کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
اس حملہ کے بعد سری لنکا کی دس فیصدمسلمان آبادی شدید خوف اور اندیشوں کا شکار ہوئی ہے۔ حکام نے مسلمانوں کو مساجد جانے اور وہاں عبادت کرنے سے منع کیا ہے۔ سری لنکا میں مسلمانوں کو پہلے بھی اکثریت بودھ آبادی کی نفرت کا سامنا رہاہے لیکن اب وہاں بھی میانمار کی طرح بودھ گروہ مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس حملہ سے یہ اندیشہ مستحکم ہؤا ہے کہ داعش اور اس کے نظریہ سے متاثر لوگ دنیا کے کسی بھی ملک میں دہشت گردی پر قادر ہیں اور موقع ملتے ہی اس قسم کی ہلاکت خیزی سے ہرگز نہیں چوکیں گے۔
اس لحاظ سے یہ پاکستان کے لئے ایک بری خبر ہے۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ہونے والے حملہ کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملکوں کے علاوہ عالمی سطح پر بھی پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کے سہولت کار کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ فناشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کے خلاف کارروائی بھی اسی الزام کا حصہ ہے۔ پاکستان ان دنوں اس گروہ کے اعتراضات کا جواب دے کر بلیک لسٹ سے محفوظ رہنے کی کوشش کررہاہے۔ اس مقصد میں ناکامی پاکستان کی دگرگوں معیشت کے لئے تشویشناک ہوگی۔ بھارت ان حالات کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ بھارتی میڈیا نے سری لنکا حملوں میں بھی پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جسے فی الوقت وزیر اعظم وکرما سنگھے نے سختی سے مسترد کیا ہے۔
مسلمان لیڈروں کو بالعموم اور پاکستانی قیادت کو بالخصوص یہ باور کرنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ سری لنکا کے حملوں میں بھلے مسلمان ملکوں کے لوگ نہ مارے گئے ہوں لیکن اس کا خمیازہ ہر مسلمان ملک کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کو علاقائی یا قومی مفادات کے تناظر میں جانچنے کی بجائے، دنیا بھر کے انسانوں کو لاحق خطرہ کی روشنی میں دیکھا اور سمجھا جائے۔
دہشت گرد کسی ایک عقیدہ کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ ایسے ٹارگٹ تلاش کرتے ہیں جن سے نفرت عام ہو اور فاصلے پیدا ہوں۔ مسلمان لیڈروں کو اس مقصد کے خلاف کام کرنے کے لئے عملی اور فکری طور سے متحرک ہونا پڑے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker