تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

پیرا 66 اور غداری کیس کے ماند ہوتے روشن پہلو ۔۔ سید مجاہد علی

اصطلاحاً کہا جائے تو پرویز مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کی ’روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی تھی‘ کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے عدالت کے سربراہ اور فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف آئین کی شق 209 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’ تفصیلی فیصلے سے فوج کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں اوریہ کہ فیصلے کے الفاظ انسانیت، تہذیب اور مذہب سے ماورا ہیں‘۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ غیر آئینی، غیر اخلاقی، غیر انسانی ہے اور ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جس کی ذہنی حالت مشکوک ہے‘۔
حکومت اور فوج کے اس رد عمل پر گفتگو سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ تفصیلی فیصلہ کا پیرا 66 چونکا دینے والا ہے اور دہشت ناک تاثر پیدا کرتا ہے۔ پرویز مشرف کی آئین شکنی کے خلاف ٹھوس اور مدلل فیصلہ میں اس پیرا کی موجودگی سے بحث اور گفتگو کا رخ صرف اس پیرا کے مندرجات کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس طرح اس غیرضروری آبزرویشن نے فیصلہ کی اصل روح یعنی فوج کی طرف سے آئین کی خلاف ورزی کے معاملہ کو پس منظر میں ڈال دیا ہے۔ ملک میں جمہوریت و سول اختیار کی بالادستی کے اصول کے لئے یہ افسوسناک صورت حال ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی عدالتی فیصلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ ’مسلح افواج کا ہر رکن آئین کی شق 244 کے تحت حلف لیتا ہے اور پاکستان سے وفاداری اور اس کے آئین کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اس حلف میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں سے باز رہنے کا عہد بھی کیا جاتا ہے‘۔
تفصیلی فیصلہ میں اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’مسلح افواج کا ہر رکن یہ عہد کرتا ہے کہ وہ دیانتداری اور وفاداری سے قانون کے مطابق پاکستان کی خدمت کرے گا۔ ملزم کی مدد، حمایت یا سہولت فراہم کرنے والے یا اس پر خاموش رہنے والے فوجی ہائی کمان کے ہر رکن نے آئین کے دفاع و حفاظت کے عہد کی خلاف ورزی کی۔ کیوں کہ 1999 میں پہلی بار آئین شکنی کے موقع پر ملزم کا طیارہ ابھی زمین پر بھی نہیں اترا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے غیر آئینی اقدامت کئے‘۔ تاہم کسی فوجی آمر کی آئین شکنی کے خلاف اس طاقت ور اظہار کو فیصلہ کا پیرا 66 داغدار کررہا ہے۔
اس پیرا میں لاش کو اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ میں تین روز تک لٹکانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ گو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ پیرا خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے لکھا ہے۔ فیصلے کے دیگر نکات اور پرویز مشرف کو موت کی سزا دینے والی سہ رکنی عدالت کے دوسرے رکن جسٹس شاہد کریم نے پیرا 66 سے اختلاف کیا ہے۔ اس طرح یہ حکم یا آبزورویشن اقلیتی جج کی رائے ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود کسی عدالتی فیصلہ میں لاش کے ساتھ ازمنہ قدیم میں برتی جانے والی بربریت کا سلوک کرنے کی رائے نہایت افسوسناک ہے۔ اس سے نہ قانون کی بالادستی کا مقصد حاصل کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ میں اعتدال اور بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
عدالتی فیصلوں میں عبرت سے زیادہ اصلاح کا پہلو نمایاں ہونا ضروری ہے۔ معاشرے کا اہم ترین حصہ ہونے کی وجہ سے ججوں کے کہے ہوئے الفاظ عمومی مزاج سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پیرا 66 کے الفاظ خوف کے علاوہ نفرت اور ذاتی عناد کا تاثر قوی کرتے ہیں۔ ایسی آبزرویشن سے معاشرہ میں پنپنے والے انتہاپسندانہ مزاج کی بیخ کنی ممکن نہیں ہوسکتی۔ پرویز مشرف سے اس ملک کے عوام کی کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا مقصد اس اصول قانون کو مستحکم کرنا تھا کہ ملک کا ہر شہری خواہ وہ طاقت و اختیا رکے کسی بھی منصب پر فائز ہو ، قانون کے سامنے جواب دہ ہوگا۔ اگر عدالتیں لاشوں کو لٹکانے اور ان کی سر عام نمائش کرنے کے حکم جاری کریں گی تو اس سے طاقت و اختیار پر قابو پانے کی بجائے اس کے غیر ضروری استعمال کا رجحان قوت پکڑے گا۔ اس تناظر میں یہ پیرا خود فیصلہ کی روح سے متصادم کہا جاسکتا ہے۔
البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ فیصلہ کے اگلے ہی پیرا 67 میں زیر بحث پیرا 66 کی صراحت بھی کی گئی ہے۔ اس پیرا کا مطالعہ کئے بغیر پیرا 66 کے مندرجات کے بارے میں رائے بنانا درست نہیں ہوسکتا۔ پیرا 66 کہتا ہے کہ ’ہم قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مفرور /مجرم کو گرفتار کرنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون کے مطابق سزا پر عمل ہو۔ اگر وہ فوت شدہ حالت میں ملے تو اس کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک اسلام آباد لایاجائے اور تین روز تک لٹکایا جائے‘۔ اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے پیرا 67 میں کہا گیا ہے کہ ’ یقیناً فیصلے کے اس حصے اور سزا دینے کے اس طریقے کی کہیں صراحت موجود نہیں ہے۔ تاہم یہ چونکہ پہلا علامتی مقدمہ ہے اور موت کی سزا ملزم کی غیر موجودگی میں دی گئی ہے۔ اس سے پہلے اسے مفرور قرار دیاجاچکا تھا۔ اس لئے (سزا پر عمل درآمد سے پہلے) موت کی صورت میں سوال پیدا ہوگا کہ پیرا 65 میں تجویز کردہ سزا پر کیسے عمل کیا جائے‘۔
پیرا 67 کسی حد تک پیرا 66 دیے گئے حکم کا جواز فراہم کرتا ہے لیکن پاکستان کی عمومی صورت حال، انسانی تہذیب کے ارتقا اور انسانی حقوق کی جدید توجیہہ و تشریح میں اس قسم کے حکم کا کوئی جواز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ موت کی صورت میں لاش کو علامتی پھانسی دینے کا مشورہ اور عبرت کے لئے اسے دارالحکومت کے ڈی گراؤنڈ میں لٹکائے رکھنے کا حکم، شرف انسانیت کی جدید تفہیم سے متصادم ہے۔ اب دنیا کے بیشتر ملکوں میں پھانسی کی سزا کالعدم قرار دی جاچکی ہے اور متعدد تنظیمیں اور ادارے باقی ماندہ ممالک میں اسے ختم کروانے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ ایسے میں لاش کو پھانسی دینے کا حکم کسی طور قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ لاش کو پھانسی دینے کا انہونا خیال 460 برس پہلے برطانیہ میں تاج شاہی کے باغی آلیور کرامویل کی لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی دینے کے واقعہ سے ماخوذ لگتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے کے ایک قبیح فعل کی قانون و آئین کی بالادستی کا اصول مستحکم کرنے والے فیصلے میں کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔
فیصلہ کی ان چند سطروں سے اختلاف کرنے اور انہیں مسترد کرنے کے بعد یہ کہنا اہم ہے کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزا دیتے ہوئے افواج پاکستان کی طرف سے حلف کی پاسداری کا بنیادی اور دو ٹوک اصول واضح کیا ہے۔ عدالت کا یہ واضح فرمان کہ ہر وردی پوش اپنے افسر سے پہلے ملک اور اس کے آئین کا وفادار اور محافظ ہوتا ہے، کمانڈر کی غیر مشروط اطاعت اور عدالتوں کے نام نہاد نظریہ ضرورت کے پرانے تصور کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ماضی میں عدالتیں ملک میں آئین کے ساتھ کھلواڑ کی کی توثیق کرتی رہی ہیں۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ یہ روایت غلط اور ملکی آئین سے بغاوت کے مترادف تھی ۔ موجودہ فیصلہ اگر بوجوہ تبدیل بھی کردیاجائے یا اس پر عمل درآمد نہ ہوپائے تو بھی مستقبل میں کسی جنرل کے مارشل لا لگانے اور اس کا ساتھ دینے والوں کے پیش نظر رہے گا کہ کوئی جج ان کے اس فعل کو غداری قرار دے سکتا ہے۔ اسی طرح مستقبل کے جج سول حکومت کے خلاف کسی فوجی کے اقدام کی توثیق کرتے ہوئے ، اس عدالتی فیصلہ کو نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی آئین شکنی کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ اس قسم کا انتہائی اقدام صرف ایک باوردی شخص نے تنہا کیا ہو۔ اس وقت کی کور کمانڈر کمیٹی اور وہ تمام حاضر سروس افسر جو ہمہ وقت (پرویز مشرف کی) حفاظت پر مامور تھے، وہ سب بھی ملزم کے جرم میں برابر کے شریک ہیں‘۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے نوٹ کیا ہے کہ ’ وفاقی حکومت نے مشرف کے ساتھیوں اور معاونین کو مقدمہ کا فریق نہیں بنایا تھا۔ لیکن حکومت اس معاملہ میں بری الذمہ نہیں ہوجاتی۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ان افسروں کے خلاف تحقیقات کرکے مقدمے چلائے‘۔
سول حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے سامنے آنے والے اس جامع فیصلہ پر فوج کی پریشانی اور حکومت کی بے چینی محض پرویز مشرف کو ملنے والی سزا یا اس میں شامل پیرا 66 کے حوالے سے نہیں ہے۔ گو اس پیرا نے حکومت اور فوج کے ترجمان کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا ٹھوس جواز فراہم کیا ہے۔ تنقید اور کردار کشی کی یہ دھول ذرا بیٹھ جائے تو پوچھنا پڑے گا کہ فوج کے باوردی ترجمان کس حیثیت میں اور کس قانون و اختیار کے تحت ایک سول عدالت کے فیصلوں پر اپنی جانبدارانہ رائے دینے کے مجاز ہوسکتے ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے پرویز مشرف کی خدمات تو گنوائیں لیکن یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کسی باوردی افسر کی آئین شکنی پر فوج کو کس رد عمل کا اہتمام کرنا چاہئے؟
فوج نے اگر آئین شکنی کرنے والے افسروں کا احتساب کرنے کی روایت قائم کی ہوتی تو اسے آج خصوصی عدالت کے فیصلہ کی صورت میں توہین آمیز عدالتی رائے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ فوجی قیادت تو اصغر خان کیس اور تحریک لبیک دھرنا کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر عمل کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ فوج کے ردعمل کو صرف پرویز مشرف کو ملنے والی سزا کے تناظر میں دیکھنا غلط ہوگا۔ آرمی چیف کے عہدے کی مدت کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ایسے بہت سے زخموں کو عیاں کردیا ہے جو پہلے چابکدستی سے چھپا لئے جاتے تھے۔ آرمی چیف عدالتوں کو دبانے کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے ، اپنے ادارے کے وقار کے لئے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں تو بہتر ہوگا۔
حکومت وقت کی پریشانی اس سے بھی بڑھ کرہے۔ ناکامیوں کے ہجوم میں خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کی حکومت کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ دراصل فوج سے وفاداری کے عہد کی تجدید کے علاوہ عدالتوں کو کنٹرول کرنےکی دیرینہ خواہش کا پرتو ہے۔ عمران خان نے گزشتہ روز اداروں میں ہم آہنگی کی بات کی تھی لیکن خصوصی عدالت کے فیصلہ کے فوری بعد اس کے سربراہ کے خلاف وزیروں کی ہتک آمیز بیان بازی اور ریفرنس دائر کرنے کا اعلان ، اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے اور انہیں لڑانے کی کوشش ثابت ہوگی۔

( بشکریہ : کاروا ن ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker