تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ٹرمپ ، عمران ملاقات میں ثالثی و معاشی تعاون کا لولی پاپ

وزیر اعظم عمران خان نے ڈیووس اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے ۔ ٹرمپ نے حسب معمول عمران خان کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر کشمیر کے مسئلہ پر ’ثالثی‘ کی پیش کش کی ہے۔ اس دوران پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی امریکی وزارت خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے اسلام آباد میں پاک چین اقتصادی راہداری کو پاکستانی معیشت کے لئے نقصان دہ اور خطرناک قرار دیا ہے۔
ڈیووس میں ملک کے وزیر خارجہ امریکی صدر کے متوقع دورہ پاکستان کی اطلاع دے رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا سے مختصر بات چیت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ماہ بھارت کے متوقع دورہ کے موقع پر پاکستان آنے سے معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پروگرام بہت پہلے سے ترتیب دیا گیا تھا، اس لئے وہ اس موقع پر پاکستان کا دورہ نہیں کرسکیں گے۔ البتہ شاہ محمود قریشی نے یہ اطلاع دی ہے کہ صدر ٹرمپ ’جلد ‘ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ یہ جلد کتنے ماہ یا سالوں پر محیط ہوگا، اس کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کی جاسکتی۔ البتہ اس کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہوگا کہ افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور کسی معاہدہ تک پہنچنے کے لئے کیا پیش رفت ہوتی ہے۔ اگر سال رواں کے دوران امریکہ کا طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاگیا اور افغان حکومت بھی اس کا حصہ بن سکی اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر بننے میں بھی کامیاب ہوگئے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی صدارت کے اگلی مدت کے دوران پاکستان کی حوصلہ افزائی کے لئے اسلام آباد کا دورہ کرنے کی حامی بھریں۔
وزیر اعظم عمران خان کی ڈیووس میں سرگرمیوں اور صدر ٹرمپ کے ساتھ مختصر غیر رسمی ملاقات کو جو اہمیت شاہ محمود قریشی دینے کی کوشش کررہے ہیں، وہ خوش گمانی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ وزیر اعظم عمران خان نے جو باتیں اب کہی ہیں ، وہ برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلسل دہرا رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے آخر میں اقوام متحدہ کے دورہ کے دوران بھی انہوں نے کشمیر کے مسئلہ پر جذباتی تقریریں کی تھیں اور اس موقع پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے پر ’ثالثی‘ کروانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ امریکی صدر کا یہ بیان کہ ہم صورت حال کا سنجیدگی سے مشاہدہ کررہے ہیں، کسی طور بھی پاکستانی حکومت کی اس پریشانی کا ازالہ نہیں کرتا کہ بھارت کی طرف سے کسی اچانک مہم جوئی کے نتیجے میں برصغیر میں کوئی بڑا تصادم ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے ڈیووس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک بھارت جنگ کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ یہ بیان عمران خان کے پہلے دیے جانے والے ان بیانات کے مقابلے میں زیادہ سلجھا ہؤا اور سفارتی لحاظ سے متوازن ہے جو وہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کے حوالے سے دیتے رہے ہیں۔ اگر چہ اس بار بھی انہوں نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کی مذاکرات اور مفاہمت کی کوششوں کو مسترد کرنے کا شکوہ کیا ہے۔ بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورت حال ، اس حوالے سے بھارتی سیاسی و فوجی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کا تبادلہ نہایت سنگین صورت حال ہے۔ پاکستان کی اس پر تشویش بجا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چین کے علاوہ دنیا کے کسی دوسرے ملک نے اس معاملے پر کسی بھی عالمی فورم پر آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو امریکہ نواز بیانات دیتے ہوئے یا عوام تک یہ پیغام پہنچاتے ہوئے کہ پاک امریکہ تعلقات میں عمران خان کی وجہ سے ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے، معروضی حالات اور امریکہ کی بھارت نواز حکمت عملی کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی توصیف کرنے کے لئے یا کسی کی تنقیص کرتے ہوئے بھاری بھر کم الفاظ استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ اسی لئے صدر بننے کے بعد انہوں نے اپنے مشہور زمانہ ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے پاکستان کے بارے میں سخت تنقیدی بیانات جاری کئے تھے لیکن افغا ن طالبان کو امن مذاکرات پر آمادہ کرنے میں پاکستان کے تعاون کی وجہ سے اب وہ گاہے بگاہے پاکستان اور عمران خان کی توصیف میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ شاید پاکستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں 180 ڈگری کی تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا ڈیووس سے بیان تو اسی تفہیم کا نمائیندہ کہا جاسکتا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے اس کا زمینی حقائق، امریکی پالیسی اور اس خطے کے بارے میں اس کے عزائم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کے لئے پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی امریکی وزارت خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز کے اسلام آباد میں دیے گئے بیانات پرنظر ڈال لینی چاہئے۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے بلکہ سی پیک کے بارے میں بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی اصل وجہ سی پیک کے تحت چین سے مہنگے قرضے حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے ایک تقریر میں تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سی پیک کے تحت بعض ایسی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں جنہیں اقوام متحدہ بلیک لسٹ کرچکی ہے۔ جو امریکی سفارت کار اپنے پبلک خطابات میں اس قدر واضح الفاظ میں پاکستانی معاشی اور خارجہ حکمت عملی پر نکتہ چینی کررہی ہو، قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وزارت خارجہ و داخلہ کے علاوہ دیگر سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں انہوں نے امریکی حکومت کا کیا پیغام پہنچایا ہوگا۔ بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو اس پیغام کے مندرجات اور اس پر حکومت کے جواب سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔
سی پیک کو پاکستان میں ’گیم چینجر‘ کے طور پر ہیش کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ نے شروع دن سے اس کی مخالفت کی ہے۔ ا س کی وجوہات بھی معاشی کے علاوہ سیاسی اور اسٹریجک ہیں۔ لیکن پاکستانی عوام کو ہمیشہ یہی بتایا گیا ہے کہ چین ہی کی وجہ سے پاکستان اپنی موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پانے اور عالمی سفارتی تنہائی سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ دعویٰ شاید پوری طرح غلط بھی نہیں ہے۔ عالمی سفارتی تنہائی کے اس ماحول میں کشمیر کا معاملہ ہو یا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان پر پابندیاں لگانے کا معاملہ، چین ہی پاکستان کی مدد کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ تاہم چین کی اپنی حدود ہیں اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح وہ بھی تمام فیصلے اپنے معاشی، سیاسی اور سفارتی مفادات کی روشنی میں ہی کرتا ہے۔
تحریک انصاف اقتدار میں آنے سے پہلے سی پیک پر اعتراضات اٹھاتی تھی بلکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی بعض وزرا سی پیک منصوبوں کو ناقابل عمل قرار دیتے رہے تھے۔ تاہم دیگر معاملات کی طرح عمران خان نے اس معاملہ پر بھی یو ٹرن لیا اور چین کے ساتھ دوستی ہمالہ سے اونچی ہونے کے دعوے ایک بار پھر پاکستان کے در و دیوار میں گونجنے لگے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ نہ سابقہ حکومت کے دور میں اور نہ ہی اب پاکستانی عوام کو سی پیک کی تفصیلات ، شرائط، حجم، منصوبوں کی اہمیت و ضرورت اور ان پر اٹھنے والے اخراجات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں کبھی ان امور پر تفصیلی اور پالیسی نقطہ نظر سے مباحثہ نہیں ہؤا۔ اس لئے عام لوگوں کے لئے یہ سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ اس منصوبہ کے تحت پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا ، اس کی کیا مالی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اس کے کیا سفارتی عواقب ہوں گے۔
پاکستان اس وقت سی پیک کے حوالے سے چین اور امریکہ کے درمیان پھنسا ہؤا ہے۔ وہ امریکہ کی تنقید کو بھی خوش دلی سے قبول کرتا ہے اور چین کی وضاحتوں پر بھی مسرت و اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے امریکی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، شاہ محمود قریشی نے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران یہ امید ظاہر کی تھی اور اب ڈیووس میں بھی اس بارے میں اشارہ دیاگیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا امریکہ واقعی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے چنگل سے نجات دلوانے میں کردار ادا کرے گا۔ اگر سفارتی رابطوں میں ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے تو اس کی کیا ’قیمت‘ طلب کی گئی ہے۔ جب تک یہ امور کھل کر عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے پاکستان کی سفارتی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں حتمی رائے بنانا ممکن نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح کشمیر کے حوالے سے بھی ملے جلے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ کبھی یہ خبر چلتی ہے کہ عمران خان ’خود مختار‘ کشمیر کی حمایت کریں گے اور کبھی آزاد کشمیر حکومت کو تحریک انصاف کی دسترس میں لانے کے لئے کوششوں کا ذکر ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ پاکستان اصولی طور پر کشمیر کی تقسیم کو قبول کرتے ہوئے ’جو جہاں ہے جیسا ہے ‘ کی بنیاد پر کوئی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ یعنی آزاد کشمیر پاکستان کے پاس رہے گا اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ قبول کرلیا جائے گا۔ یہ ساری خبریں قیاس آرائیاں یا افواہیں بھی ہوسکتی ہیں لیکن حکومت جب تک عوام کو ان معاملات پر اعتماد میں لینے کا اقدام نہیں کرتی ان افواہوں کی بیخ کنی نہیں کی جاسکتی۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر توصیفی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کشمیر میں ’ثالثی‘ کا اعلان کیا ہے۔ اگر اہم معاملات میں کوئی ’بڑے‘ فیصلے کئے جاچکے ہیں تو اس کی ذمہ داری قبول کی جائے اور عوام کو ان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ کیا پاکستان اپنے علاقائی ، معاشی اور سیاسی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرپائے گا؟ یا سفارتی غلط اندازوں اور خوش فہمیوں کے غبار میں پاکستان کو ان دونوں طاقتوں کی اقتصادی پراکسی وار کا میدان بنا دیا جائے گا؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker