تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : وزیر اعظم کس کس غدار کو پکڑیں گے ؟

مان لینا چاہئے کہ وزیر اعظم عمران خان کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور اہم ترین معاملات کوپس پشت دھکیل کر خود نمایاں ہونے کا ڈھب آتا ہے۔ تاہم ان کی یہ صلاحیت امور مملکت چلانے یا معیشت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت نہیں ہورہی۔ کل اپنے سیاسی دکھڑے سنانے کے لئے انہوں نے ترک صدر کے دورہ کی بھی پرواہ نہیں کی اور خود ہی میڈیا میلہ لوٹ لیا۔
پورے ملک کی توجہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک صدر طیب اردوان کی طرف مبذول تھی لیکن وزیر اعظم نے چند صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے ذریعے ملک کی سیاسی حالت کو کامیابی سے بحث کا موضوع بنادیا اور خبروں ، تبصروں اور مباحث پر چھائے رہے۔ حالانکہ ملکی مفاد کا تقاضہ بھی تھا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اہم تھا کہ ترک صدر کی باتوں کو توجہ سے سنا جاتا، ان کی تشہیر کی جاتی اور دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی کہ کشمیریوں کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرنے والا اکیلا پاکستان نہیں ہے بلکہ نیٹو کی رکنیت رکھنے والا اہم ملک ترکی بھی اس معاملہ میں اس کا ہم آواز ہے۔ صدر طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کشمیر کے سوال پر پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا اور اسے اسی طرح ترکی کا مسئلہ قرار دیا جس طرح یہ مسئلہ پاکستان کے لئے اہم ہے۔ بھارت کے حجم، سفارتی و معاشی طاقت کے باوجود ترک صدر نے نریندر مودی کی پالیسیوں کو مسترد کیا اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے خلاف بھارتی حکومت کے اقدامات کو ناجائز قرار دیا۔
اس اہم خطاب اور ایسی زوردار حمایت سے بھرپور گفتگو کا تقاضہ تھا کہ اہل پاکستان بھی اس دوران کسی دوسرے معاملہ کو زیر بحث لانے کی بجائے کشمیر کو ہی ایجنڈے کا اہم ترین نکتہ سمجھتے اور ترک صدر کی باتوں اور ان کے دورہ کے حوالےسے کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر لانے کے لئے ہمہ قسم کوششوں کو مجتمع کیا جاتا۔ تاکہ اقوام متحدہ سے لے کر امریکہ اور دیگر اہم دارالحکومتوں تک میں یہ آواز پہنچائی جاسکتی کہ پاکستان کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے ابتر حالات کی بات کرنے والے تنہا ملک نہیں ہے بلکہ ترکی جیسا اہم ملک بھی اس سوال پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم خود کو عقل کل سمجھنے کے زعم میں ترک صدر کے دورہ کی اہمیت اور پاکستان کے لئے اس کی سفارتی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی معاملہ میں بھی ہوم ورک کرنے اور کسی خاص صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے۔
اس حوالے سے حکومت کے کسی ادارے یا اہلکاروں سے شکوہ کرنے کی نوبت اسی وقت آسکتی ہے اگر وزیر اعظم خود اس بات کا شعور رکھتے کہ کشمیر کے سوال پر پاکستان کے مؤقف کی عالمی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے کا یہ نادر موقع تھا۔ صدر طیب اردوان دو ٹوک الفاظ میں پر زور طریقے سے اپنا مفہوم بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ تاہم کسی لیڈر کی باتوں سے سفارتی فائدہ اٹھانے کے لئے میزبان یا ضرورت مند حکومت کو ہی مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ترک صدر کی تقریر کا اہتمام اگر محض اہل پاکستان کی جذباتی تشفی کے لئے کیا گیا تھا تو اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔ پاکستانی عوام دل و جان سے کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھا کر بھارت پر مناسب دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو تاکہ ستر برس سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے کشمیری عوام کو انصاف اور ان کا بنیادی انسانی حق مل سکے۔
پاکستان کو کشمیر کے سوال پر فریق سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیڈر دنیا کے کسی بھی فورم پر خواہ کتنے ہی پرزور الفاظ میں اظہار خیال کریں ، اسے محض یک طرفہ مؤقف سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ کہہ کر بات ختم کردی جاتی ہے کہ دونوں فریقوں کو آپس میں بات کرکے تنازعہ ختم کرنا چاہئے۔ دوسرا فریق بھارت ہے اور وہ بوجوہ پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند رکھے ہوئے ہے۔ لیکن پرجوش تقریروں اور مدلل مقدمہ پیش کرنے والے لیڈر بھی عالمی رہنماؤں کی براہ راست حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے پاکستان کی کشمیر پالیسی کے تناظر میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کے نام پر مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقوں کی سیاسی صورت حال ہے جنہیں سفارتی ایجنڈے کے لئے ’آزاد کشمیر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن دنیا اب ایسے ڈھکوسلوں میں نہیں آتی ۔ دوسری طرف پاکستان کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور تصویر کو متوزن بنانے کی کوئی کوشش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
ایسے میں اگر ترکی جیسے ملک کا صدر ، پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے تو اس کے لئے بھرپور سفارتی حکمت عملی بنانے اور وزیر اعظم سے لے کر وزارت خارجہ اور میڈیا کے تمام حلقوں کو اسے نمایاں کرنے کی ضرورت تھی۔ دنیا کو یہ بتایا جاسکتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سنگین ہے اور نریندر مودی کی انسان دشمن حکمت عملی کی وجہ سے ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیری اپنے گھروں یا قصبوں اور شہروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک دوسرے ملک کے صدر کی باتوں کو سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کرکے پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کی کوشش کرسکتا تھا۔ تاہم پاکستانی قیادت نے یہ کام عالمی میڈیا اور لیڈروں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود ہماری باتیں سن کر انہیں سچ مان لیں اور نریندر مودی کو ’دہشت گرد اور فاشسٹ ‘ لیڈر قرار دیں۔
کشمیر کاز کو نمایاں کرنے کے اس نادر موقع سے استفادہ کرنے کی بجائے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی دیانت، فوج کے ساتھ اشتراک اور سیاسی دشمنوں میں چور لٹیرے تلاش کرنے کے علاوہ ملک و آئین کے غدار تلاش کرنے کا کام کرنا ضروری سمجھا۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں ان کا زور بیان اس بات پر تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر آئین سے غداری کی شق 6 کے تحت مقدمہ چلانا چاہئے۔ ایک صحافی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اس بارے میں انہیں تجویز وصول ہوتی ہے تو وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ وزیر اعظم کو مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر غصہ ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے نومبر کے دوران دیا گیا دھرنا اس وعدے پر ختم کیا تھا کیوں کہ انہیں تین ماہ کے اندر عمران خان کے استعفی اور نئے انتخابات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ عمران خان کے خیال میں یہ بیان ملکی آئین سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان کو صریح جھوٹ بھی مان لیا جائے تو بھی نہ جانے عمران خان اپنا یہ مؤقف کسی عدالت میں کیسے درست ثابت کریں گے کہ اس قسم کا سیاسی بیان دینا ملکی آئین سے غداری کے مترادف ہے۔ عمران خان تو ایک ایسی حکومت کے سربراہ ہیں جس نے پرویز مشرف کی ثابت شدہ آئین شکنی کو ماننےسے انکار کرتے ہوئے نہ صرف خصوصی عدالت میں اس مقدمہ کی پیروی کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ فیصلہ سنانے والی عدالت کے سربراہ کے خلاف فضا ہموار کرنے اور انہیں اس عہدے سے برخواست کروانے کے لئے ریفرنس دائر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت کوئی قومی راز نہیں ہے۔ تین فوجی ادوار کے علاوہ ہر مرحلہ پر سامنے آنے والے معاملات اس طریقہ کار کی تصدیق کرتے ہیں۔ جنوری کے شروع میں جب حکومت نے کسی وفادار ملازم کی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں سروسز ایکٹ میں ترامیم پیش کیں اور اپوزیشن پارٹیوں نے وفاداری سے ان کی حمایت کا اعلان کیا تو سیاست پر فوج کے اثر و رسوخ کے علاوہ کیا بات ثابت ہوتی تھی؟ اگر عمران خان کو ا ب بھی شبہ ہے تو وہ اپنے وزیر اور رفیق فیصل واوڈا کو بلا کر پوچھ سکتے ہیں یا ان کا فوجی بوٹ فیم شو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر سیاست میں فوج کی دسترس کے ذکر پر آئین سے غداری کا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو یہ بات تو ملک کا ہر فرد کسی نہ کسی طور سے کہتا اور مانتا ہے۔ خبروں اور تبصروں میں اس ذکر کے بغیر کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ عمران خان اتنے سارے غداروں کو کیسے پکڑیں گے؟
یا پھر وہ اسی بات کا جواب دے دیں کہ اگر ان کی حکومت منتخب ہے اور سیاسی افہام و تفہیم سے ہی حلیف جماعتوں کے ساتھ معاملات طے پارہے ہیں تو پھر انہیں یہ کہنے کے لئے کہ’ ان کی حکومت کہیں نہیں جارہی‘ ، یہ کیوں بتانا پڑتا ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں۔ اگر وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج ان کی دیانت کی وجہ سے ان کی حامی ہے تو کیا اس سے یہ اخذ کیا جائے کہ فوج کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس حکومت کو بدعنوان سمجھے ، اس کی حمایت سے انکار کردے؟ عمران خان کا یہ بیان آئین کی کون سی شق کے تحت حب الوطنی اور آئین دوستی کی دستاویز کہا جائے گا؟

( بشکریہ : کاروان۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker