Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جون 3, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا
  • اک اور ’ پنکی‘ کا سامنا تھا : مظہر عباس کا کالم
  • نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش : وجاہت مسعود کا کالم
  • خانیوال میں غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»سید مجاہد علی کا تجزیہ : افغانستان میں جنگ بندی، پاکستان کا اعزاز یا تہمتوں کی تصدیق
تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : افغانستان میں جنگ بندی، پاکستان کا اعزاز یا تہمتوں کی تصدیق

ایڈیٹرفروری 23, 20201 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
shah mehmood taliban
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کابل سے ہونے والے ایک اعلان کے مطابق طالبان اور سرکاری افواج نے ایک ہفتہ کی جنگ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ اس ہفتہ کے دوران فریقین اگر جنگ بندی کا وعدہ پورا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو امکان ہے کہ 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پاجائے گا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر ایک بیان میں سارا کریڈٹ لینے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی مدد و تعاون کے بغیر نہ یہ معاہدہ ممکن ہوسکتا تھاا ور نہ ہی افغانستان میں امن کی امید پیدا ہوسکتی تھی۔ اس بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اب یہ افغان حکومت پرمنحصر ہے کہ وہ امن کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں تیز کرے اور مستقل امن کی راہ ہموار کی جائے۔ شاہ محمود قریشی کے اس بیان میں دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے شاہ محمود قریشی کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی یہ واضح کردیا تھا کہ اسلام آباد کے ساتھ بہتر تعلقات کا راستہ کابل سے ہوکر جاتا ہے۔ اب تازہ بیان میں پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکہ کو یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، اس لئے اب امریکہ بھی پاکستان کے مفادات کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
اس حوالے سے دیگر پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان نے امریکی دھمکی اور دباؤ کے بعد افغان امن مذاکرات کے لئے طالبان کو راضی کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ اگر امریکہ اسلام آباد پر دباؤ نہ ڈالتا تو شاید اب بھی مذاکرات کی بجائے اس معاملہ کا کوئی متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی۔ حیرت انگیز بات ہے کہ یہ بیان ایک ایسی حکومت کے وزیر خارجہ نے دیا ہے جو اس اصولی مؤقف کا اعلان کرتی رہی ہے کہ سیاسی بات چیت ہی افغان مسئلہ حل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس مسئلہ کو جنگ جوئی اور تشدد کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پاکستانی حکومت اس اصول کی بنیاد پر افغانستان میں امن قائم کروانے میں سرگرم تھی تو امریکی وزیر خارجہ کو پہلی ہی ملاقات میں پاکستانی ہم منصب پر کیوں یہ واضح کرنا پڑا کہ اگر اسلام آباد نے افغان امن مذاکرات کو ممکن بنانے کے لئے خلوص نیت سے کام نہ کیا تو واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات خراب رہیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے ایسی گفتگو کو براہ راست دھمکی ہی سمجھنا چاہئے۔ اب اس بات کا جواب تو شاہ محمود قریشی ہی دے سکتے ہیں کہ اگر پاکستان سیاسی مذاکرات کو ہی مسئلہ کا واحد حل سمجھتا تھا تو امریکہ کو پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ کیوں اختیار کرنا پڑا تھا؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی ہمہ قسم عسکری امداد بند کردی تھی بلکہ معاہدہ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی خدمات کا معاوضہ دینے سے بھی انکار کردیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی لیڈروں پر دھوکہ دینے اور امریکی حکومتوں کو بے وقوف بنا کر کئی ارب ڈالر وصول کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ اسی قسم کے بیانات کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف تن تنہا اپنی صلاحیت کی بنیاد پر جنگ لڑی ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کو امداد کی نہیں بلکہ اپنی خدمات کے اعتراف کی حاجت ہے۔ دنیا کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔
تاہم پاکستان پر امریکہ کا یہ دباؤ اس وقت تک جاری رہا جب تک پاکستان نے افغان طالبان کو دوحہ میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں کرلیا۔ اب شاہ محمود قریشی ان مذاکرات کے نتیجہ میں ہونے والے ممکنہ معاہدے کا سہرا پاکستان کے سر باندھ رہے ہیں۔ البتہ بہتر ہوتا کہ وہ یہ وضاحت بھی کردیتے کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرنے اور دھمکیاں دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی؟ یا مائیک پومپیو نے کیوں ان سے یہ کہا تھا کہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا راستہ کابل سے ہوکر گزرتا ہے؟
اس پس منظر اورشاہ محمود قریشی کے بیان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ تو افغانستان میں امن معاہدہ کے لئے طویل عرصہ سے بے چین رہا ہے لیکن پاکستان ، افغان طالبان کی آڑ میں افغانستان کے لئے اپنے ایجنڈے کی کامیابی پر اصرار کرتا رہا تھا۔ تاہم امریکہ کی براہ راست دھمکیوں کے بعد جب پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تو طالبان کو مذاکرات پر مجبور کیا گیا۔ اسے کسی حکومت کی اصولی فتح نہیں بلکہ دباؤ میں کئے گئے فیصلے کہا جائے گا۔
اس تصویر میں اگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو جون 2018 سے گرے لسٹ میں ڈالنے کے فیصلہ کو بھی شامل کرلیا جائے جسے پاکستان کا بازو مروڑنے کی امریکی کوشش ہی کہا جائے گا تو صورت حال مزید واضح ہوجاتی ہے۔ پاکستان اب تک اس گرے لسٹ سے نجات پانے میں کامیاب نہیں ہؤا بلکہ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ روز ختم ہونے والے اجلاس میں بھی پاکستان سے مزید ’پسپا‘ ہونے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ جون میں اس معاملہ پر از سر نو غور کیا جائے۔ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے۔ پاکستان جیسے معاشی، سفارتی اور سیاسی مشکلات میں گھرے ملک کو دباؤ میں لانے کے لئے اس کے پاس متعدد ہتھکنڈے موجود رہیں گے۔ ایسے کسی دباؤ سے بچنے کے لئے پاکستان کو شفاف اور دیانت دارنہ حکمت عملی اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ امریکہ کے علاوہ علاقے میں اپنے دشمنوں کا منہ بند کرسکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی بے شک افغان امن معاہدہ کے امکان پر خوشی کا اظہار کریں لیکن انہیں ایسا بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے تھا جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی واضح ہوتی ہے اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے ناقص دوہرے معیار کا پتہ چلتا ہے۔ افغانستان کی جنگ میں پاکستان براہ راست فریق نہیں ہے اور نہ ہی امن مذاکرات میں پاکستانی وفد کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ مذاکرات براہ راست طالبان اور امریکہ کے درمیان ہورہے ہیں۔ پاکستان کا کردار صرف اتنا ہے کہ اس نے افغان طالبان کو ان مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کیا ہے۔ پاکستان کا یہ کردار اعزاز کی بات ہونے کے باوجود اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور مستقبل میں جب امریکی افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی تو پاکستان، طالبان کےساتھ اپنے اثر و رسوخ کو کیسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ واضح ہونا چاہئے کہ دنیا کے حالات اب اسّی اور نوّے کی دہائی سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ اس لئے پاکستان نے اگر ایک بار پھر پرانے ہتھکنڈے آزمانے کی کوشش کی تو افغانستان کا امن تو تباہ ہوگا لیکن پاکستان بھی امن و سکون سے نہیں رہ سکے گا۔
یہ ستم ظریفی اپنی جگہ موجود ہے افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں جمعرات کو افغان طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی کے اس مضمون کے بعد کیا جاسکا ہے کہ ’افغانستان کے لوگ جنگ سے عاجز آچکے ہیں اور امن چاہتے ہیں‘۔ یہ بیان خوش آئیند ہے لیکن افغان عوام تو برس ہا برس سے امن کی امید لگائے بیٹھے ہیں تاہم طالبان اور دیگر عسکری دھڑوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔ سراج الدین حقانی کا گروپ ہی افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں پیش پیش رہا ہے اور اس گروہ کے حوالے سے ہی پاکستان پر عسکریت پسند گروہوں کی اعانت و حمایت کرنے اور امن میں رکاوٹ بننے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے۔ پاکستان نے بلاشبہ ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے لیکن سراج الدین حقانی کے بیان کے بعد جنگ بندی اور معاہدہ کی نوید کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا بیان تو اس بات کا ہی ثبوت فراہم کرتا ہے کہ افغان امن میں پاکستان بڑی رکاوٹ بنا ہؤا تھا۔ اگر اس نے اپنا یہ کردار تسلیم کرلیا ہے تو اسے پاکستان کی خارجہ و سیکورٹی پالیسی کا مستقل حصہ بنانے کی ضرورت ہے کیوں کہ بصورت دیگر افغانستان میں ایک نئی جنگ شروع ہونے اور خطے کے حالات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف جانے میں دیر نہیں لگے گی۔
افغانستان میں حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد وہاں کی داخلی سیاست ایک نئے بحران میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہونے کے باوجود امن کے لئے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات ضروری ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے افغان حکومت کو امن کے لئے کوششیں تیز کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیا ہے۔ تاہم اس کا انحصار بہت حد تک اس بات پر بھی ہوگا کہ پاکستان کس حد تک افغانستان کے اندرونی حالات سے الگ تھلگ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ مستقبل کے کسی غیر واضح فائدے کے لئے اگر پاکستان نے افغانستان کے معاملات میں مداخلت کا سلسلہ بند نہ کیا تو امن کا راستہ بھی مشکل ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کا اعتبار بھی داغدار ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

افغانستان امریکا شاہ محمود قریشی طالبان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleچار سال پہلے کا شرمیلا ادبی میلہ اور ماں بولی کا دن ( قندِ مکرر ) ۔۔ یاسر پیرزادہ
Next Article اتوار کو اپنے محبوب سے ملیں۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ

مئی 28, 2026

جوہری صلاحیت کا حامل ایران عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

مئی 13, 2026

کیا ایرانی پاسداران ، اسرائیلی مشن کی تکمیل میں معاونت کررہے ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

مئی 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی جون 1, 2026
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی جون 1, 2026
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 1, 2026
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا مئی 31, 2026
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار مئی 31, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.