تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔شتروگن سنہا کے ذریعے کشمیر ’فتح‘ کرنے کا منصوبہ

بھارتی اداکار اور سیاست دان شتروگن سنہا اگرچہ دورہ لاہور کے باعث گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے توجہ اور خبروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں لیکن گورنر ہاؤس لاہور میں صدر عارف علوی کے ساتھ ان کی ملاقات نے سرحد کے دونوں طرف تنقید اور تبصروں کا بازار گرم کیا ہے۔ ایسے میں پاکستانیوں کے لئے دلچسپی کا سبب یہ سوال ہے کہ کیا حکومت کے پاس بھارت کے ساتھ سفارتی مواصلت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہیں کہ ایک متنازعہ بھارتی اداکار اور سیاست دان کے ذریعے سلسلہ جنبانی کی کوشش کی جارہی ہے۔
تنازعات کا شکار ممالک ایک دوسرے سے مواصلت کے لئے متعدد ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ یہ مواصلت سفارتی تعلقات منقطع ہونے یا جنگ کی صورت حال میں بھی جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اورتنازعہ ضرورت سے زیادہ طول نہ پکڑ سکے۔ عام طور سے کسی تیسرے ملک کے سفارت خانہ کے ذریعہ مواصلت اور ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یا پھر جنگ کی صورت اقوام متحدہ کے زیر انتظام اداروں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے معلومات کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
البتہ پاکستان اور بھارت نے شدید تصادم کے موجودہ ماحول میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال رکھے ہوئے ہیں اور ان کے سفارت کار ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں موجود ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال اگست میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں یک طرفہ فیصلے کرنے اور وادی کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نئی دہلی سے اپنا سفیر واپس بلالیا تھا ۔ روایتی طور پر بھارت کو بھی اسلام آباد سے اپنا سفیر واپس بلانا پڑا تھا۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں کے سفارت خانے کام کررہے ہیں اور سرکاری سطح پر اسلام آباد اور نئی دہلی کا رابطہ استوار ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات اور دشمنی کے پیچیدہ اور مشکل پس منظر کی وجہ سے دونوں ملکوں کے ریٹائرڈ سیاست دان، سفارت کار یا انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے لوگ بھی رابطے بحال کرنے اور تنازعات کم کرنے کے لئے کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس قسم کی بات چیت یا مواصلت کو بیک ٹریک ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔ اسے اگرچہ براہ راست حکومت کی سرپرستی تو حاصل نہیں ہوتی لیکن ان لوگوں کے اپنی اپنی حکومتوں کے ساتھ روابط موجود ہوتے ہیں اور ایسی ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت اور سامنے لائے گئے پہلوؤں کی روشنی میں دونوں ممالک کے سیاست دان اور ماہرین تنازعہ ختم کرنے اور کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچنے کے امکان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ تاہم بھارت میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہونے اور خاص طور سے گزشتہ سال کے شروع میں پلوامہ سانحہ کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہوچکے ہیں۔
پلوامہ میں ایک فوجی قافلہ پر حملہ کرنے والا نوجوان مقامی تھا اور وہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے جبر سے تنگ آکر اس افسوسناک اور انتہائی اقدام کرنے کا موجب بنا تھا۔ بھارت نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں میں پیدا ہونے والی نفرت کا جائزہ لینے اور اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی بجائے پاکستان پر اس دہشتگردی کا الزام عائد کرکے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدہ کرلیا۔ گزشتہ برس کی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان دشمنی کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھا تھا۔ پلوامہ سانحہ کے بعد پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹ بول کر بھارتی عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ بھارت کو پاکستان پر عسکری برتری حاصل ہے اور نریندر مودی کی قیادت میں ہی بھارت پاکستان سے ’انتقام‘ لینے کا حوصلہ کرسکتا ہے۔ پلوامہ کے بعد فروری 2019 کے آخر میں بھارتی فضائیہ نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ایک کیمپ پر حملہ کرنے اور سینکڑوں دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ۔ تاہم اگلے ہی روز پاک فضائیہ کے ساتھ ایک جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے گئے اور ایک پائیلٹ ابھے نندن کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
بھارت کی اشتعال انگیزی اور جھوٹے دعوؤں کے باوجود پاکستان نے تحمل اور خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی پائیلٹ کو غیر مشروط طور پر رہا کردیا تھا۔ لیکن بھارتی جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی حکومت اس کے باوجود اس معاملہ کو انتخابات میں پاکستان کی شکست اور ناکامی کے طور پر پیش کرتی رہی۔ ابھے نندن کے انتخابی پوسٹر شائع کئے گئے اور اسے قومی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتی الیکشن کمیشن کی مداخلت پر ابھے نندن یا دیگر فوجیوں کے سیاسی پوسٹر بنانے کا سلسلہ تو رک گیا لیکن مودی اور اس کی پارٹی نے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کا سلسلہ بند نہیں کیا۔
نریندر مودی کی حکومت نے بھارت میں پاکستان دشمنی کا محاذ گرم کرنے اور اسے اپنی حکومت کا طرہ امتیاز بنانے کے لئے صرف دھمکیوں اور زبانی اشتعال انگیزی کا سلسلہ ہی جاری نہیں رکھا بلکہ پاکستان کے ساتھ کھیل کے علاوہ سماجی و ثقافتی سطح پر ہمہ قسم روابط ختم کرنے کا اقدام کیا ہے۔ پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے مقابلے شروع نہیں ہوسکے۔ بالی وڈ پر دباؤ کے ذریعے پاکستانی اداکاروں اور گلوکاروں کا بھارتی فلموں میں راستہ بند کیا گیا اور پاکستانی فنکاروں کے بھارت جانے کے راستے مسدود کئے گئے۔
گزشتہ اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور وہاں مواصلات کی ہر قسم کی سہولت کے خاتمے پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا اور وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اس ظلم اور انسانی المیہ کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور مذاکرات کی پاکستانی دعوت کو شدت سے مسترد کیا جاتارہا ہے۔ حتیٰ کی امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے خیر سگالی کے لئے رابطہ کار کے طور پر خدمات کی پیش کش کو بھی تکبر سے مسترد کردیا گیا۔ بھارت ہر سطح پر پاکستان کو سفارتی طور سے تنہا اور معاشی لحاظ سے بدحال کرنے کی حکمت عملی پر عمل کررہا ہے۔ بھارت میں اس قدر شدید پاکستان دشمن ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ہونے والے کسی ثقافتی شو کو سپانسر کرنے والوں میں اگر کسی پاکستانی نژاد شخص کا نام شامل ہو تو بھارتی اداکاروں و فنکاروں کو اس تقریب کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سماجی و ثقافتی تبادلے کے سارے راستے بند ہوچکے ہیں۔
اس پس منظر میں بھارت کے ساتھ مواصلت شروع کرنے اور تعلقات کی شدت کو کم کرنے کی کوئی بھی پاکستانی کوشش قابل فہم ہوسکتی ہے۔ لیکن اس قسم کے اقدامات کو بھی قومی وقار اور سفارتی امتیاز کے ایک خاص فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے انجام دینے کی ضرورت ہے۔ کسی نجی دعوت پر کسی بھارتی اداکار اور سیاست دان کا پاکستان آنا ہرگز معیوب نہیں ہے لیکن اسے پاکستانی صدر کی طرف سے ملاقات کی دعوت دینا اور مملکت کے اعلیٰ ترین عہدیدار اور ریاست کے وقار کی علامت شخص کا اس داکار کے ساتھ کئی گھنٹے بتانا اور گپ شپ کرنا کسی طرح بھی متوازن اور قابل قبول طرز عمل نہیں ہوسکتا۔ اس سے پاکستان کی کمزوری اور ہر قیمت پر بھارت کو خوش کرنے کی خواہش ہی کہا جائے گا۔
خاص طور سے صدر پاکستان کے ٹوئٹ پیغام اور بھارتی اداکار شتروگن سنہا کے بیان میں اس ملاقات کے بارے میں دو متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔ اس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کے حوالے سے صورت حال مشکل ہوئی ہے اور شرمندگی کا باعث بنی ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں صدر مملکت کے ٹوئٹ کا متن یوں ہے: ’ بھارتی سیاست دان شتروگن سنہا نے آج لاہور میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔ ا نہوں نے سرحد کے دونوں جانب امن کے پل بنانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ شتروگن سنہا نے مقبوضہ کشمیر میں دو سو دن سے زائد مدت تک لاک ڈاؤن جاری رکھنے پر صدر کی تشویش سے اتفاق کیا‘۔
اس ملاقات کے بارے میں شتروگن سنہا نے متعدد ٹوئٹ پیغامات میں اپنا مؤقف یوں بیان کیا ہے: ’ میرے لاہور میں قیام کے آخری دن جب ہمیں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا دعوت نامہ ملا تو یہ خوش گوار اورحیران کن تھا۔ یہ دعوت ہمارے دوست مسٹر اسد احسان کے بیٹے احمد اسد کی شادی کے استقبالیہ سے کچھ دیر قبل موصول ہوئی تھی۔ صدر کی طرف سے خیر سگالی کا یہ اظہار ہمارے لئے خوشی و مسرت کا باعث تھا۔ ہم نے بھی اس کے جواب میں محبت، گرم جوشی اور شکرگزاری کا اظہار کیا۔ میں نے کچھ سال پہلے کراچی میں جناب صدر کے صاحبزادے کی شادی میں شرکت کی تھی۔ اس طرح میں ان کے خاندان کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ تبادلہ خیال کا اعلیٰ موقع تھا جس میں جناب صدر کی اہلیہ بھی شامل ہوگئیں۔ بلا شبہ یہ خیر سگالی کا عمدہ اظہار تھا۔ اگرچہ یہ ملاقات کچھ وقت تک جاری رہی لیکن یہ خالصتاً سماجی اور نجی نوعیت کی ملاقات تھی۔ خیرسگالی کی یہ ملاقات احترام کا اظہار تھا۔
ہم نے سماجی اور ثقافتی معاملات کے بہت سے پہلوؤں پر بات چیت کی لیکن سیاست زیر بحث نہیں آئی۔ یہ ملاقات نہ سیاسی تھی اور نہ ہی سرکاری نوعیت کی تھی۔ میرے دوست ، بہی خواہ ، پرستار اور میڈیا کو آگاہ ہونا چاہئے کہ کسی غیر ملک میں کسی فرد واحد کو اس وقت تک ملکوں کی سیاست یا حکمت عملی پر بات نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ اسے مجاز اور بااختیار حکومت نے اس کا اختیار نہ دیا ہو‘۔
صدر مملکت کے ٹوئٹ اور شتروگن سنہا کے اس بیان میں موجود تضاد نہ صرف پاکستانی حکومت کے سفارتی ہتھکنڈوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ صدر مملکت کے رتبہ اور وقار کے بھی منافی ہے جس سے براہ راست پاکستان کو بطور ریاست ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی صدر بننےکے باوجود تحریک انصاف کی وفاداری اور اس کی نمائیندگی کا رویہ ترک کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن بطور صدر ان سے کم از یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ ان کے طرز عمل سے دشمنوں کو پاکستان کا مذاق اڑانے اور صدر کے بیان کو گمراہ کن قرار دینے کا موقع نہ ملے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker