تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ہندو انتہاپسندی: دنیااسلامی دہشت گردی کو بھول جائے گی

نئی دہلی کے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 تک پہنچ چکی ہے لیکن بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے اس تشدد کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا آغاز کیا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ترمیمی شہریت بل پر احتجاج کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اس خوں ریزی کی بنیاد رکھی تھی۔
نئی دہلی میں بظاہر حالات معمول پر آرہے ہیں لیکن اتوار سے شروع ہونے والے نسلی فسادات کے سبب پیدا ہونے والے خوف و ہراس اور غیر یقینی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب یہ شبہ بھی تقویت پکڑرہا ہے کہ ان ہنگاموں کا آغاز بھارتی جنتا پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت نے اپنے انتہا پسند حامی گروہوں کی ذریعے جان بوجھ کر کیا تھا۔ اسی لئے ان ہنگاموں میں ہندو گروہوں کے ہاتھوں مسلمان آبادیوں پر حملوں ، قتل و غارت گری ، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات کے باوجود، نہ وزیر داخلہ ذمہ داری قبول کرنے پر تیار ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے کھل کر اس تشدد کی مذمت کرنے اور دارالحکومت میں امن و امان بحال کرنے کے لئے کوئی مؤثر پیغام دیا ہے۔
اتوار سے منگل تک بدترین تشدد کے دوران نریندر مودی بھارت کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر کی میزبانی میں مصروف رہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قیام کے دوران نئی دہلی میں ہونے والی قتل و غارتگری پر ایک لفظ کہنے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے نریندر مودی کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فسادات کو ملک کا اندرونی معاملہ قرار دیا ۔ اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ دنیا کی سپر پاور کا لیڈر اور خود کو مہذب دنیا کا رہنما قرار دینے والا امریکی صدر اپنی سیاسی کامیابی کے لئے انسانوں کا خون بہانے دہشت و تشدد عام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔
اسی لئے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کرنے والے سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کے رویہ کو شرمناک اور مہذب اقدار کے منافی قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہ کر صدر ٹرمپ نے ثابت کیا ہے کہ وہ مہذب دنیا اور سول اقدار کی نمائیندگی کے اہل نہیں ہیں۔ البتہ اس قسم کے اکا دکا بیان سے قطع نظر امریکہ ہی نہیں پورے یورپ کی طرف سے بھی جس بے حسی اور خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس سے نام نہاد مہذب دنیا کی معاشی مجبوریوں کے مقابلے میں اعلیٰ انسانی اقدار کی کم ہوتی قدر و قیمت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
حالیہ فسادات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی کے متعدد اشارے موجود ہیں۔ سب سے پہلے تو وزیر داخلہ امیت شاہ اگرچہ احمد آباد میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں معقد تقریب چھوڑ کر فوری طور سے نئی دہلی پہنچے لیکن وہ قانون نافذ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ شواہد سے البتہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کی کوئی کوشش بھی نہیں کی کیوں شمالی دہلی میں انسانی خون سے ہولی کھیلنے کا تماشہ بی جے پی کے سیاسی مقاصد کے لئے ہی شروع کیا گیا تھا۔ پولیس حملے کرنے والے ہندو گروہوں کو من مانی کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ متعدد مواقع پر ان کی اعانت کرتی پائی گئی۔
ہائی کورٹ کے جسٹس مرالی دھر نے جب اس بے حسی اور نااہلی پر تند و تیز سوالات اٹھائے تو چند گھنٹوں کے اندر ان کا تبادلہ کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ عدلیہ کی آزادی و خود مختاری انتہاپسند ہندو حکومت کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ جمعرات کو جسٹس مرالی دھر کی بجائے دوسرے ججوں پر مشتمل بنچ نے اس معاملہ کو ایک ماہ کے لئے مؤخر کرکے عدالتوں کی بے بسی اور بے حسی کو ثابت کردیا۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈیول کا بیان کہ ’جو ہؤا سو ہؤا‘ اس بات کی سند فراہم کرتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے زیر انتظام کام کرنے والی حکومتی مشینری نئی دہلی کے فسادات میں پوری طرح شریک تھی۔ ایک خاص ڈھب سے مسلمانوں پر حملے کرواکے، ایک خاص منصوبے کے تحت انہیں ’کنٹرول‘ بھی کرلیا گیا ۔کیوں کہ فی الحال خوف کی فضا پیدا کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنا تھا۔
یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب رہے گا کہ کیا خاص طور سے صدر ٹرمپ کی موجودگی میں یہ ہنگامہ آرائی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ عام طور سے حکومتیں کسی غیر ملکی مہمان کی موجودگی میں اپنے ہاں تشدد کےمظاہرے سے بچنا چاہتی ہیں لیکن نریندر مودی کے سوچنے اور سیاسی منصوبہ بندی کا طریقہ بالکل جدا ہے۔ وہ گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوکر دوسروں پر اس کا الزام لگانے کے عادی ہیں۔ 2002 میں جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور دو ہزار مسلمانوں کو مار دیا گیا لیکن دنیا کے شور مچانے کے باوجود بھارت کا انتظامی، سیاسی اور عدالتی نظام انہیں اس جرم کی سزا دینے یا قصور وار قرار دینے میں ناکام رہا۔
اب اسی تجربہ کو محدود پیمانے پر نئی دہلی میں دہرایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ اگر اس پر انگلی اٹھانے کی کوشش کرتے تو بھارتی میڈیا کے ذریعے ایسی کہانیاں تیار کرلی گئی تھیں جن میں مسلمانوں پر انتہا پسندی کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ باور کروایا جاتا کہ حکومت کو پاکستان کی ’اعانت‘ سے تشدد پر آمادہ مسلمانوں کے گروہوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فساد کی صورت پیدا ہوئی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر قتل و غارت گری کا الزام لگاکر اس حکمت عملی کے ایک پہلو سے پردہ اٹھا بھی دیا ہے۔
بھارتی راجدھانی میں ہنگاموں کے دوران پولیس لاتعلق تھی۔ وزیر اعلیٰ نئی دہلی اروند کیجر وال کی اپیل کے باوجود پولیس کی تعداد میں اضافہ کرنے یا انہیں فرض شناسی سے بلوائیوں کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دیا گیا۔ بی جے پی کو حال ہی میں نئی دہلی کے انتخابات میں شرمناک شکست ہوئی ہے۔ اس خوں ریزی کے ذریعے دہلی کے شہریوں سے انتقام لینے کے علاوہ یہ سیاسی نکتہ سامنے لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اگر وفاقی حکومت نہیں چاہے گی تو ان کی منتخب کردہ صوبائی حکومت شہریوں کی حفاظت نہیں کرسکے گی۔ اس طریقہ کار سے ملک کے جمہوری انتظام کو براہ راست نقصان پہنچے گا لیکن نریندر مودی اور امیت شاہ کے لئے اپنا اقتدار سب سے اہم ہے۔ انہیں اچھی طرح خبر ہے کہ ان کا یہ اقتدار کسی معاشی کارکردگی یا سفارتی کامیابی کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ ہندو انتہاپسندی کی دین ہے۔ اب وہ اس انتہا پسندی کے مظاہر عام کرکے چند ماہ بعد بہار کے انتخابات میں اپنی کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں بی جے پی کااقتدار محفوظ رکھا سکے۔ مودی کا اقتدار نفرت اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر ہی پروان چڑھتا رہا ہے۔ وہ اس تجربہ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی نے ہندوؤں میں اقلیتی گروہوں کے خلاف نفرت ابھار کر اقتدار کا راستہ ضرور ہموار کیا ہے لیکن یہ نفرت جب بارآور ہوگی تو اس کی زد میں صرف نئی دہلی کی مسلمان آبادیاں نہیں آئیں گی بلکہ ملک بھر میں آباد مسلمانوں کے علاہ دیگر عقائد کے لوگ یا انتہاپسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے شہری گروہ بھی ان کے نشانے پر ہوں گے۔ یہ ایسا خطرناک کھیل ہے جسے شروع کرنے کے بعد اس پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا۔
دنیا نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ابھرنے والی اسلامی دہشت گردی سے نبردآزما ہونے میں کثیر وسائل صرف کئے ہیں اور ابھی تک اس کے اثرات سے بچنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ لیکن بھارت جیسے بڑے ملک میں دہشت گرد ہندوؤں کے پنپنے سے جو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، اس کی شدت، تباہ کاری اور ہولناکی کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ایک ارب کے لگ بھگ ہندو آبادی ہندوستان میں ایک ہی نظام کے تحت رہتی ہے۔ اس عقیدہ میں دہشت گرد گروہوں کو پروان چڑھانے اور مستحکم کرنے کے بعد ان کو کنٹرول کرنا یا شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔ یہ تشدد اسلام کے نام پر پھیلنے والی دہشت گردی سے تباہ کاری اور انسان دشمنی میں کہیں زیادہ ہوگا۔ ہندو آبادی میں پیدا کی گئی نفرت، ان کے عقیدہ کی بنیاد پر دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی محافظ و معاون بنے گی۔
تصویر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ یا افغانستان میں پسپا ہونے والے مسلمان دہشت گرد گروہوں کو شکست ضرور ہوئی ہے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی ہے۔ وہ نئے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔ بھارت کے22 کروڑ مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی وطن اور گھروں میں تنہا اور بے گھر کرنے کی کوشش کی گئی تو ان اسلامی دہشت گرد وں کو انڈیا کے مسلمانوں کی صورت میں بہترین پناہ گاہیں، زاد راہ اور نئے شکار دستیاب ہوں گے۔
دنیا نے اگر بھارت میں ہندو انتہا پسندی کو قابو کرنے اور نریندر مودی جیسے متعصب اور دہشت گرد لیڈر کا راستہ روکنے کی ٹھوس حکمت عملی پر غور نہ کیا اور بھارت کے ساتھ وابستہ سطحی مالی مفادات کے نام پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو بھارت ہی نہیں پوری دنیا کو نفرت، جنگ جوئی اور تباہی کے ایک نئے دور کی طرف دھکیلنے کی ساری ذمہ داری بھی، اسی مہذب ، ترقی یافتہ اور نام نہاد انسان دوست اقوام پر عائد ہوگی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker