تجزیےحسین حقانیلکھاری

حسین حقانی کا تجزیہ : گرے لسٹ بلیک لسٹ سے بہتر ہے

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کا مقصد ممالک کو دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی تعمیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ کوئی بھی ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ شامل ہونا نہیں چاہتا جس میں پابندیاں عائد ہوتی ہیں جن کے باعث عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کم ہوجاتی ہے۔
گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک دہشت گرد گروہوں کی فنڈز تک رسائی کو مکمل طور پر بند کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان جو گزشتہ عشرے میں کم از کم تین بار گرے لسٹ میں شامل ہو چکا ہے لگتا ہے کہ محض اتنے ہی اقدامات کر تا ہے تاکہ بلیک لسٹ سے بچ سکے۔ جب ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں جون 2020 تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی مدت میں توسیع کی گئی تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ بھارت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے میں ناکام ہو گیا۔
پاکستان کو گرے لسٹ میں برقراررکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں جن میں طالبان ، القاعدہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کی مالی اعانت کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ عالمی برادری پاکستان سے ان رہنماؤں کی فنڈز تک غیر قانونی رسائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق قوانین اور بینکاری سیکیورٹی ضوابط کو سخت کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔
لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ بیشتر بڑے ممالک پاکستان پر وہ سخت بینکاری اور بین الاقوامی مالیات کی پابندیاں عائد کرنے سے گریزاں ہیں جو اس وقت صرف ایران اور شمالی کوریا پر ہی لاگو ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کو لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف مکمل پابندیاں عائد کر کے اسے مجبور کئے جانے کی بجائے مانیٹرنگ اور دباؤکے ذریعے پاکستان سے مزید تعاون کے زیادہ امکانات ہیں۔ دوسرے ممالک جیسے ترکی ، سعودی عرب ، اور متحدہ عرب امارات ہیں وہ اپنے مسلمان پاکستانی بھائیوں پر مالی پابندیوں کے اثرات سے پریشان ہوتے ہیں۔اس وقت گرے لسٹ میں 12 ممالک شامل ہیں اور اسے باضابطہ طور پر نگرانی کا ذریعہ قرار دیا جانا ایک الگ معاملہ ہے۔اس میں شامل ممالک کے دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لئے ان کےاقدامات کا مستقل جائزہ لیا جاتا ہے۔
مثالی صورتحال تو ہوتی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کرتاکیونکہ اس کے باعث ایسے مطالبات سامنے آتے ہیں کہ وہ ان جہادی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جن کو پاکستان کم از کم تین دہائیوں سے حمایت اور حفاظت کر رہا ہے۔ لیکن گرے لسٹ بلیک لسٹ سے بہتر ہے خاص طور پر جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا فوری طور کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ جہاد کو مکمل طور پر بند کردے ۔
چونکہ کسی ملک کو ہمیشہ کے لئے گرے لسٹ میں رکھنا مشکل ہے لہذا اس بات کا ایک قوی امکان ہے کہ پاکستان ایک مناسب وقفے اور سطحی قسم کے متعدد اقدامات کے بعد اس لسٹ سے نکل جائے۔
اس طرح پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق عالمی برادری کے ساتھ چوہے بلی کاکھیل کھیلتا رہتا ہے۔ 1992 میں جب امریکیوں نے ہندوستان کو نشانہ بنانے والے جہادی گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی پرورش کرنے پرپہلی بار انتباہ کیا تھا تب سے یہ دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بہت طاق ہو گیا ہے ۔ حرکت الانصار نامی ایک گروپ کے ہاتھوں ایک امریکی سیاح کے اغوا کے بعد پاکستان نے اس گروہ پر پابندی عائد کردی اور وہی گروپ بعد میں حرکت المجاہدین کے نام سے منظر عام پر آ گیا۔ تب سے اب تک یہی ایک معروف طریقہ چل رہا ہے۔ پاکستانی عہدیدار جہادی گروہوں کو مستقل طور پر بند کیے بغیر فوری دباؤ سے بچنے کے لئے ضروری چند ایک اقدامات کرتے ہیں۔ پاکستانی اہلکار مالی پابندیوں کے خوف پرسنجیدگی سے غور کرتے ہیں لیکن اس کے تحت بھی صرف اس قدر ہی اقدامات کئے جاتے ہیں جن سے وقتی طور پر قانونی اور تکنیکی ضروریات پوری ہوتی ہوں۔
پاکستان بین الاقوامی دباؤسے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے ، اور دباؤ ختم ہونے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دباوؤ دوبارہ شروع ہونے پر ایک قدم پھر آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں انتہائی مہارت سے تیار کردہ ہتھکنڈے ملک کو اسی جگہ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔
یو این ایس سی کی قرارداد 1267 جس کے تحت تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قرار داد میں شامل افراد اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کریں ،پاکستان نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ۔ اس لسٹ میں لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور ان کے ’اسلامی خیراتی ادارے ،’ داؤد ابراہیم ، جیش محمد اور اس کے رہنما مولانا مسعود اظہر شامل ہیں۔
افغان طالبان اور سراج حقانی نیٹ ورک بھی برسوں سے اس فہرست میں شامل تھے لیکن افغانستان سے انخلا کی کوشش میں امریکہ کی جانب سے ان سے مذاکرات کے لئے آمادگی کے پیش نظر ان کی حیثیت تبدیل ہونے والی ہے۔ سیاسی مجبوریاں واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ ین الاقوامی اتفاق رائے ختم کررہی ہیں۔
ایف اے ٹی ایف جیسا کثیرالجہتی ادارہ بھی اپنے رکن ممالک کی سیاسی مجبوریوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اسے اپنے تکنیکی تعمیل کے اعلی معیار ات پر عملدرآمد پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ یہ کسی ملک یا حکومت کے ارادوں کا جائزہ لینے اور کئی سالوں کے پچھلے ریکارڈ کی بنیاد پر کام نہیں کرتا ہے۔
سن دو ہزار آٹھ میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیاجس میں منی لانڈرنگ کے بہت زیادہ خطرات تھے اور وہ دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق بین الاقوامی قوانین کو نافذ کرنے میں عدم تعاون کا مظاہرہ کررہا تھا ۔ لیکن اس وقت صرف چند تکنیکی اقدامات کے بعد ہی پاکستان کو چھوڑ دیا گیا۔
سن دو ہزار بارہ میں پاکستان کے طرز عمل پر ایک بار پھر سوال اٹھایا گیا تھا اور اسے گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا جہاں پاکستان سن دو ہزار پندرہ تک رہا۔ اس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق معاملات میں مثبت تبدیلی آنے کے بعد ملک کو گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔
اس بار پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر عمل پیرا ہونے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ آگے بڑ ھ کر اقدامات کئے ہیں ۔ اس کی ممکنہ وجہ ہندو ستان ، فرانس اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ تھا۔ پاکستان نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی اعانت کے چند جرائم کا مجرم قرار دیا ہے لیکن ممبئی حملوں یا ان کی طرف سے کئے گئے دوسرے حملوں میں انہیں سزا نہیں دی گئی۔ایک بار جب پاکستان پھر گرے لسٹ میں سے نکل جائے اور بلیک لسٹ کا خطر ٹل جائے تو اس سزا کو با آسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔
( بشکریہ : ایم این این نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker