پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے سامنے آنے والے مباحث کے کئی پہلو قابل غور ہیں جو پاکستانی سماج کی سیاست کے علاوہ سماجی اور دینی رویوں اور مزاج کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ ملک کا وزیر اعظم اس بات پر ہراساں ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اپنی سیاسی کمزوری اور لاک ڈاؤن کے بارے میں ’غلط‘ فیصلوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مسلمان اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہا ہے لیکن وہ اپنے ملک میں اس بے یقینی کے بارے میں غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو کئی ہفتوں سے عمران خان کی مبہم اور ذومعنی باتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وزیر اعظم ملک میں لاک ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں یا اس کے خلاف ہیں۔ وہ معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے پابندیاں اٹھانا چاہتے ہیں یا کورونا کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے لاک ڈاؤن جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی گفتگو اور طویل بیانات سے تو یہ بھی واضح نہیں ہوپاتا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے پاس لاک ڈاؤن کرنے کا اختیار ہے یا وہ اس معاملے میں بے اختیار ہیں۔ کیوں کہ وہ خود ہی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد مرکزی حکومت بے اختیار ہے اور صوبے اس بات کا فیصلہ کریں کی انہیں کون سی حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ تاہم اس گفتگو سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں یا اس پر کف افسوس ملتے ہوئے یہ بتا رہے ہیں کہ ’عوام دوست غریب نواز‘ عمران خان کے بس میں ہو تو وہ فوراً لاک ڈاؤن ختم کردے لیکن وہ ملک میں کی گئی ایک ’ناپسندیدہ‘ ترمیم کی وجہ سے مجبور ہیں۔
یہ مجبوری بیان کرنے کے بعد جب وہ صوبوں کو فیصلے کرنے کا ’اختیار‘ دیتے ہیں ۔ سندھ کے مراد علی شاہ اس پر دلائل سے واضح کرتے ہیں کہ صوبے میں لاک ڈاؤن میں سختی کرنے کی ضرورت ہے تو وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریا ت ایک طویل پریس کانفرنس میں اس فیصلےکے نقائص گنوا کر مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کو برا بھلا کہنے کا فریضہ ادا کرتی ہیں۔ تین صوبے اگرچہ براہ راست اس پارٹی کے زیر انتظام ہیں جس کے سیاہ و سفید کے مالک عمران خان بذات خود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان صوبوں میں وزیر اعظم کی خواہش کے برعکس پہلے لاک ڈاؤن کا آغاز کیا جاتا ہے پھر اس میں نرمی کرتے ہوئے لوگوں کو فیصلے کرنے کی آزادی دی جاتی۔ کسی غریب کو پولیس چوراہے پر روک کر ہراساں کرلیتی ہے اور کوئی موٹر سائیکل یا کار پر سوار وزیر اعظم کی طرف سے ملک کے ’غریبوں‘ کو دی گئی آزادی کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ پاکستان کے متعدد شہروں میں اس آزادی کا استفادہ کرنے کے مظاہر گزشتہ ہفتے سے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ سڑکوں پر ہجوم بڑھ چکا ہے اور سماجی فاصلہ کے بنیادی تصور کو خاک میں ملایا جارہا ہے۔
وزیر اعظم کی اسی غیر واضح تقریر کے بعد ملک بھر کی مساجد میں دھڑلے سے نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد کئے گئے۔ پہلے بھی اسلام آباد کی لال مسجد سمیت ملک بھر کی متعدد مساجد میں نماز جمعہ کے علاوہ پنجگانہ نماز کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن ایسی مساجد کی تعداد پھر بھی زیادہ تھی جہاں حکومت کے فیصلہ کے مطابق پانچ افراد سے زیادہ کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ سندھ میں حکومت چونکہ سختی سے لاک ڈاؤن کی نگرانی کررہی تھی، اس لئے وہاں چند بے قاعدگیوں کے باوجود مساجد میں بڑے اجتماعات سے گریز کیا گیا۔ تاہم جب عمران خان نے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تو اس کے نتیجہ میں غریب اور دیہاڑی دار کو روزگار ملا یا نہیں البتہ ملاؤں کی چاندی ہوگئی اور انہوں نے دو روز پہلے ملک بھر کی مساجد میں پوری آن بان سے نماز جمعہ ادا کی۔ اس اعلان کے بعد سندھ میں بھی نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات کو روکا نہیں جاسکا۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مراد علی شاہ واحد وزیر اعلیٰ ہیں جو کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے لاک ڈاؤن کی اہمیت کو سمجھتے ہیں لیکن وزیر اعظم نے سیاسی دشمنی پوری کرنے کے لئے سندھ میں بھی احتیاطی تدابیر پر صوبائی حکومت کے فیصلوں اور خواہشات کے مطابق عمل نہیں ہونے دیا۔ یعنی اٹھارویں ترمیم کا عذر محض یہ بتانے کے لئے تھا کہ اس کے ہوتے مرکزی حکومت بے اختیار رہے گی۔ یہ ایک لحاظ سے وہی رویہ ہے جس کی عمران خان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے شکایت کررہے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے مسلمانوں کو مہرہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے خلاف نفرت کو ہوا دی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن پر مراد علی شاہ کے دوٹوک مؤقف کے جواب میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اٹھارویں ترمیم کو عذر بنا کر اس اہم ترمیم کے خلاف رائے ہموار کرنے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔
تاہم عمران خان کی طرف سے بطور وزیر اعظم کورونا وائرس کے حوالے سے پیدا کی گئی بے یقینی کا سب سے زیادہ فائدہ ملک کے مذہبی لیڈروں نے اٹھایا ہے۔ ایک طرف اہل پاکستان کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی سے خوف زدہ تھے تو دوسری طرف ملک کے ملاّ نماز باجماعت کو بنیادی فریضہ قرار دیتے ہوئے مساجد کھولنے اور نمازیں پڑھ کر ’روٹھے ہوئے رب کو راضی‘ کرنے کی صدائیں بلند کررہے تھے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کا حکم نافذ تھا لیکن ملک کے دینی رہنما یہ اعلان کررہے تھے کہ لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف ملک بھر میں مقامی حکام ایران سے واپس آنے والے زائرین کو کنٹرول کرنے کے ناقص انتظامات اور واضح ہدایت کے باوجود رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے بعد ملک بھر میں جانے والی تبلیغی جماعتوں کی وجہ سے کورونا کے پھیلاؤ کا سدباب کرنے کی کوشش میں مصروف تھے تو دوسری طرف ملک کے وزیر اعظم یکے بعد دیگرے مولانا طارق جمیل سے ملاقات کرکے کورونا کے خلاف مہم میں ان کی ’خدمات‘ کا شکریہ ادا کررہے تھے۔
مولانا طارق جمیل ریکارڈ پر یہ فرما چکے ہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے تو کورونا سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اس کے ذریعے کسی کو مرنا ہے تو کون اسے ٹال سکتا ہے۔ کیا یہ قیاس کرلیا جائے کہ وزیر اعظم بھی دراصل اس رائے سے متفق ہیں لیکن وہ خود میں طارق جمیل کی طرح اس کا اعلان کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ وہ غریبوں کا نام لے کر ہر قسم کی پابندی کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ملک کے ملاّؤں نے اٹھایا ہے کیوں کہ صرف تعمیراتی شعبہ کھولنے کے اعلان سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے۔ معاشی پہیہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ آمدنی ہوگی تو گاہک مارکیٹ میں آئے گا، دکانداری چلے گی تو دکاندار کارخانے کا مال اٹھائیں گے اور کارخانہ چلے گا تو غریب کو روزگار ملے گا۔ مسجد کھولنے کے لئے مولوی کو یہ پیچیدہ اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف اللہ کا حکم سنانا ہے اور لوگ جوق در جوق اس پر صاد کہنے کو آمادہ و تیار ہوتے ہیں۔
خدا کے کام اور نام پر اسی اجارہ داری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آباد کا مولوی عبدالعزیز مسلسل تین ہفتوں سے لال مسجد میں نماز جمعہ کا اہتمام کررہا ہے۔ حالانکہ اس سال کے شروع میں اسلام آباد انتظامیہ سے ایک معاہدے کے مطابق مولوی عبدلعزیز کو اس مسجد میں امامت کرنے اور خطبہ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اب پولیس اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی ذمہ داری پوری کرلیتی ہے لیکن نہ جانے کن عناصر نے اس شخص کو اتنی قوت عطا کی ہے کہ وہ ملک کے دارالحکومت میں سرکاری احکامات کی دھول اڑانے کا سبب بنتا ہے لیکن کوئی اس کی سرزنش نہیں کرسکتا۔ ملک کے چیف جسٹس بھی وزیروں مشیروں پر گرج برس کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرلیتے ہیں لیکن اپنی ہی عدالت سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ایک قانون شکن کی گرفت کرنے اور پولیس کی بے بسی ختم کرنے کا اہتمام نہیں کرسکتے۔
حرمین شریفین سمیت پورے عالم اسلام میں مساجد بند ہیں لیکن پاکستان واحد ملک ہے جہاں اس کا اختیار حکمران وقت کو نہیں بلکہ ملاّؤں کے گروہوں کو حاصل ہے۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نماز ادا کرنے سے خدا خوش ہوگا اور ہمارے گناہ معاف کردے گا یا یہ کہ اگر دکانیں کھل سکتی ہیں یا جزوی طور سے صنعتیں کھولی جاسکتی ہیں تو حکومت کو مساجد سے کیا ضد ہے۔ اس سوال کا جواب حکومت وقت کے پاس یہی ہے کہ وہ بیس نکاتی معاہدہ کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ مولوی اس کی اجازت سے ’قانون شکنی ‘ کرے گا۔ اب حکومت خوش کہ معاہدہ ہوگیا اور مولوی خوش کہ وہ حکومت سے جیت گیا۔ قانون اور لوگوں کی حفاظت سے کسی کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایسے میں متعدد دینی رہنماؤں کی یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ زندگی کی حفاظت نماز باجماعت سے زیادہ اہم ہے یا یہ کہ اگر ہاتھ ملانا سنت رسولﷺ ہے تو وبا کے عالم میں ملنے سے گریز اور ہاتھ ملانے سے انکار کرنا بھی سنت نبوی سے ثابت ہے۔ اس آوازوں کو شدت سے بھرے معاشرے میں مارجنلائز کردیا گیا ہے۔
گزشتہ بیس برس کے دوران دنیا نے دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ نتھی کردیا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم سمیت عالم اسلام کے سب لیڈروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ یہ واضح کرسکیں کہ اسلام تو امن کا مذہب ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن گردن قلم کرنے اور دھماکوں میں معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے کی ویڈیو کو کلمہ طیبہ والے پرچم اور اللہ اکبر سے بات کا آغاز کرنے والوں نے دنیا کو یہی باور کروایا کہ دہشت گرد مسلمان ہی ہوتا ہے کیوں کہ اس کا عقیدہ اسے ’جہاد‘ کے لئے تیار کرتا ہے۔
اس وقت وائرس سے احتیاط کی بجائے نماز پر اصرار کرنے والے ملاّؤں کے پاس موقع تھا کہ وہ ہمہ گیر یک جہتی سے یہ ثابت کرتے کہ اسلام انسان دوستی اور زندگی کی قدر و حفاظت کا پیغام دیتا ہے۔ پاکستان کے مفاد پرست اور گھمنڈی ملاّؤں نے اپنی ذاتی طمع و حرص کے لئے یہ نادر موقع ضائع کردیا۔ وہ مسلسل اسلام کو انتہاپسندی کا نمائیندہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

