تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:جمہوریت، عدالت اور پیسہ

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخاب پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ایک فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر ملک میں جمہوریت برقرار رہتی تو پھر سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا‘۔ ریفرنس پر کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اوپن بیلیٹ کے حق میں دلائل دیے ۔ عدالت بدستور اس معاملہ پر غور کررہی ہے۔
ملک میں جمہوریت کی پامالی کے بارے میں کئے گئے اس تبصرے کو البتہ زیادہ توجہ نہیں دی جاسکی حالانکہ اس وقت ملک کو جن سیاسی مصائب کا سامنا ہے اس کی بنیاد یہ ایک ’اگر‘ ہی ہے۔ ملک میں اس وقت چونکہ آئینی انتظام کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور عدالت عظمیٰ آئین کی پاسبانی کا دعویٰ کرتی ہے اس لئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ عدالت عظمیٰ سے جب جمہوریت کا وقار بحال کرنے اور پارلیمانی نظام کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے مدد مانگی جارہی ہے تو وہ اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
وزیر اعظم روزانہ کی بنیاد پر پر تاثیر بیانات کے ذریعے سینیٹ کے متوقع انتخابات کو اوپن ووٹنگ سے کروانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں ۔ اپوزیشن کو نشانہ بنا کر یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں ہی دراصل ملک میں جمہوریت کو کاروبار بنانے کی ذمہ دار ہیں۔ اب یہ معاملہ چونکہ سپریم کورٹ کے زیر غور ہے اور وہاں جمہوریت کے حوالے سے ’درد دل ‘ کا اظہار بھی سامنے آیا ہے لہذا یہ معاملہ محض سیاسی بیان بازی یا صرف سینیٹ کے انتخاب کی اصلاح تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔
حکمران سیاسی جماعت نے ملک کے انتخابی نظام کے بارے میں وسیع تر بحث کا آغاز کیا ہے۔ تاہم حکومت سمیت عدالتیں اور جمہوریت کو کھلونا بنانے والے ادارے اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے سامنے نہیں آتے۔ اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں کردار ادا کرنے والا کوئی ادارہ خود احتسابی کا حوصلہ نہیں کرتا۔ اسی لئے ایک تبصرے کے ذریعے دکھ و افسوس کا اظہار ضرور سننے میں آتاہے ۔ یا پر جوش بیانات میں دوسروں کو چور اور خود کو سعد ثابت کرنے کا مقابلہ روزانہ کی بنیاد پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس مقابلہ بازی سے جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ کیوں کہ جمہوریت اپوزیشن لیڈروں کو چور اچکے قرار دینے کے دعوؤں سے مضبوط نہیں ہوسکتی ۔
اس مقصد کے لئے باہمی احترام پر استوار پارلیمانی روایت کو مستحکم کرنا پڑے گا یا اصولوں کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنا ضروری ہوگا۔ آئینی شق کو صدارتی آرڈی ننس یا ریفرنس کے ذریعے ’نظر انداز‘ کرنے کی کوشش جمہوریت پسندی نہیں ہے۔ اسے سیاسی مفاد کے لئے فوری طور سے درپیش ایک مشکل سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ کہا جائے گا۔ جیسے دو برس قبل جب صادق سنجرانی کو بدستور چئیر مین سینیٹ رکھنا اور سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو زیر کرنا مقصود تھا تو خفیہ ووٹنگ مناسب بھی تھی ۔ اس میں پارٹی لائن اور ضمیر کی آواز کے خلاف ووٹ دینے والے سینیٹرز بھی قبول تھے۔ لیکن جب اگلے ماہ متوقع سینیٹ انتخابات میں یہ خوف لاحق ہؤا ہے کہ حکمران جماعت کے ارکان کسی نہ کسی وجہ سے شاید پارٹی لائن سے بغاوت کرتے ہوئے اپوزیشن کے امیدواروں کو جتوانے کا سبب نہ بن جائیں تو آئین کو نظر انداز کرنے کے لئے ملک میں سیاسی طوفان برپا کیا گیا ہے ۔
آئینی اڑچن کو دور کرنے کے لئے ضروری پارلیمانی مشاورت اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ جائز اور درست جمہوری راستہ اختیار کرنے سے عمران خان کے اس ہوائی قلعے کی بنیادیں منہدم ہوجائیں گی جنہیں کرپشن کے خیالی تصور پر استوار کیا گیا ہے۔ عمران خان کو معلوم ہے کہ جس دن انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کے بارے میں احترام اور مفاہمت کا طرز عمل اختیار کیا، اسی روز ان کی سیاست کا بت زمین بوس ہوجائے گا۔
عمران خان کی سیاست نفرت اور نعرے پر استوار ہے۔ وہ ان دونوں طریقوں کو ترک کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ حالانکہ یہ طریقہ ملک میں جمہوری رویوں کی آبیاری کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ ایک آئینی معاملہ کو گلی کوچوں کی بحث کا حصہ بناکر عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ بھی کرسکیں تو بھی عوام کی اکثریت انہیں بدستور سچا اور اعلیٰ اصولوں کا پیروکار سمجھے گی۔ گورننس ، معیشت، خارجہ پالیسی اور دیگر تمام شعبوں میں مکمل ناکامی کے بعد یہی چند نعرے عمران خان کا آخری سہارا ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح عارف علوی ملک کے صدر کی بجائے تحریک انصاف کے کارکن کے طور پر وزیر اعظم کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنے پر آمادہ رہتے ہیں، اسی طرح سپریم کورٹ بھی حکومت کے کہے کو حرف آخر سمجھے اور اپنے ہی ایک سابق چیف جسٹس کے اس فیصلہ کو پیش نظر رکھے کہ عمران خان آئین کی شق 61 کے تحت ’صادق و امین‘ ہیں ۔ اور کسی سچے آدمی کی درخواست کو ٹالنا نہیں چاہئے۔
یہ رویہ جمہوریت کش ہے۔ یا وہ جھوٹ جمہوری روایت کا قاتل ہے جو عمران خان اور ان کے ساتھی روزانہ کی بنیاد پر عام کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ آج ہی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بھی ماضی میں سینیٹ انتخاب میں ووٹ دینے کے لئے روپوں کی پیش کش ہوئی تھی۔ ملک میں جمہوریت کی پامالی پر پریشان سپریم کورٹ کے جج کیا وزیر اعظم کو طلب کرکے استفسار کریں گے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے انہیں سینیٹ انتخاب میں ووٹ دینے کے لئے روپے دینے کی بار بار پیش کش کی تھی۔ عمران خان موجودہ اسمبلی سے پہلے دو بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں۔ اس دوران سینیٹ کے دو ہی انتخاب ہوئے تھے۔ ملک میں جمہوری شفافیت کے دعویدار وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ ان دو مواقع پر کن لوگوں نے انہیں کتنی رقم کی پیش کش کی تھی۔ ریفرنس پر غور کرنے والے سپریم کورٹ کے جج اس بیان کی روشنی میں دیکھ سکیں گے کہ سینیٹ انتخابات میں رشوت ستانی کتنا بڑا مسئلہ ہے ۔ وہ کردار بھی سامنے آسکیں گے جن کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ملک میں جمہوریت میں دولت عام ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم سے یہ سوال کرنا بھی ضروری ہوگا کہ قومی اسمبلی کے ذمہ دار رکن کے طور پر انہوں نے رشوت کی پیشکش کو اسپیکر، الیکشن کمیشن یا کسی مجاز اتھارٹی یا عدالت کے نوٹس میں لانا کیوں ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ جب انہیں ایک انتخابی معرکہ درپیش ہے تو اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے وہ ماضی میں رشوت کی پیشکش کو دلیل کے طور استعمال کررہے ہیں۔
وزیر اعظم نے یہ اطلاع بھی فراہم کی ہے کہ بلوچستان میں ارکان اسمبلی کو سینیٹ میں ووٹ دینے کے لئے پانچ سے سات کروڑ روپے کی پیش کش ہورہی ہے۔ ان کے علاوہ کابینہ کے دیگر ارکان بھی گزشتہ چند دنوں میں ارکان اسمبلی کی قیمت کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ بھان متی کے کنبے کی طرح ماضی کے سارے سیاسی لوٹوں کو جمع کرکے بنائی گئی حکومت اب سینیٹ انتخاب میں مرضی مسلط کرنے کے لئے ہر جھوٹ عام کرنا ضروری سمجھ رہی ہے۔ یہ معاملہ حکومت کی ضد بمقابلہ آئین کی بالادستی کا بن چکا ہے۔ پارلیمنٹ کا دروازہ بند کرکے حکومت نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ کو ’ثالث‘ قرار دیا ہے اور عدالت کے ’مثبت‘ مشورہ کی امید پر اوپن ووٹنگ کا آرڈی ننس بھی جاری کیا جاچکا ہے۔ اس لئے جمہوریت کے لئے پشیمان عدالت عظمی کے ججوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملہ میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کریں۔ سیاسی بیانات میں سے جھوٹ نکال کر حقائق کی اصل تصویر سمجھنے میں اہل پاکستان کی مدد کریں۔ ورنہ ماضی میں جتنا نقصان جمہوری عمل کو عسکری مداخلت اور عدالتی جبر کی وجہ سے ہؤا ہے ، اتنا ہی نقصان شفافیت کے نام پر آئین کو کھلونا بنانے کے طریقہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ کسی آئینی شق کو صرف ’نیت‘ کی بنیاد پر نظر انداز کرنے کی روایت استوار ہوگئی تو یہ ملک میں جمہوریت کی حفاظت کرنے والے ہر قانون کو چٹکیوں میں اڑادینے کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں جمہوریت کی پامالی کا ذکر ایک ضمنی تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے حالانکہ یہ سوال اس سارے قضیے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ سپریم کورٹ سمیت ملک کے ہر ادارے کو اس کا جواب تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان میں جمہوریت کشی کی روایت فوجی بغاوتوں کے ذریعے استوار ہوئی تھی اور انہیں جائز قرار دینے کے لئے کمزور اور کم حوصلہ ججوں نے قانون کی ناک کو نظریہ ضرورت کے ذریعے مروڑا تھا۔ اب ملک تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ سوال دو ٹوک انداز میں پوچھا جارہا ہے کہ کیا سیاست میں غیر منتخب اداروں کا کوئی کردار قبول کیا جاسکتا ہے۔ اس سوال کا درست جواب اسی وقت دستیاب ہوسکتا ہے جب ماضی میں جمہوریت کو پامال کرنے والے دونوں ادارے اپنی غلطیوں کا ادراک کریں۔
فوجی ترجمان یہ اعلان کرچکے ہیں کہ فوج سیاست میں ملوث ہونا نہیں چاہتی۔ اگرچہ ملک کی بیشتر سیاسی پارٹیوں اور مبصرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔ فوج کا یہ بیان اس وقت تک مکمل اور قابل اعتبار ثابت نہیں ہوگا ، جب تک سیاست سے گریز کے اعلان کے ساتھ ماضی میں جمہوریت کا راستہ کھوٹا کرنے میں فوجی جرنیلوں کے کردار کو مسترد نہ کیا جائے۔ اسی طرح عدالتوں کی طرف سے آئین کی پاسداری اور ہر صورت اس کی حفاظت کا فریضہ ادا کرنے کا اعلان بھی اسی وقت معتبر ہوسکتا ہے جب سپریم کورٹ کے فاضل جج زیر غور سیاسی آئینی معاملہ کو غنیمت جانیں اور جمہوریت کی پامالی پر کف افسوس ملنے کی بجائے یہ اعلان ارزاں کریں کہ ماضی میں آئین سے ماورا عدالتی فیصلوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔ مستقبل میں یہ طرز عمل نہ تو اختیار کیا جائے گا اور نہ ہی قابل قبول ہوگا۔ غلطیوں کا اعتراف کئے بغیر اصلاح احوال کے اعلان بے مقصد اور بے وزن رہیں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker