تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:کینیڈا میں مسلمان خاندان کا قتل: کیا نفرت کو نفرت سے ختم کیا جاسکتا ہے

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں گزشتہ شام ایک ہی خاندان کے چار پاکستانی نژاد شہریوں کو ایک ٹرک سے کچل کر ہلاک کردیا گیا۔ ان میں ماں باپ ، ان کی پندرہ سالہ بیٹی اور عمررسیدہ والدہ شامل تھیں۔ سیر کے لئے نکلے ہوئے اس خاندان کا ایک 9 سالہ بیٹا حملہ میں زندہ بچ گیا اور ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس واقعہ کو نفرت کا شاخسانہ اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔ پولیس مبینہ قاتل کے خلا ف مقدمہ میں دہشت گردی کی شقات شامل کرنے پر غور کررہی ہے۔
یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے جس میں محض عقیدہ کی وجہ سے ایک نوجوان نے نفرت کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے ایک ہی خاندان کی تین نسلوں کی جان لے لی گئی۔ جدید معاشروں میں ایسی نفرت اور اس قسم کے رد عمل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حملہ میں ملوث نوجوان کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ، اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس نے کیوں ایک مسلمان خاندان کو نشانہ بنایا۔ تاہم مغربی ممالک میں متعدد انتہا پسند گروہ نوجوانوں کے اذہان کو جھوٹے اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے زہر آلود کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے گروپ فعال ہیں جو نفرت اور غلط معلومات پھیلانے میں ملوث رہتے ہیں۔ اسی جھوٹ اور نفرت کا اظہار بعض اوقات ایسے سانحات کی صورت میں بھی ہوتا ہے جس کا ایک نمونہ گزشتہ شب کینیڈا میں پیش آیا ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس نفرت کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ خاص طور سے مسلمان ہی اس وقت نسل پرست، انتہا پسند گروہوں کا تختہ مشق بنتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اس سانحہ پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خلاف کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تو زور بیان میں اس حد تک آگے بڑھے کہ انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے کہا کہ ’یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے ۔ وہ کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں‘۔ جسٹن ٹروڈو مسلمان دوستی اور وسیع المشربی کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ کثیر اثقافتی معاشرے کے نمائیندے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی لیڈروں کے بیانات آنے سے پہلے ہی ایک ٹوئٹ میں اس سانحہ کی مذمت کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ’ لندن، اونٹاریو سے آنے والی خبر سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ جن افراد کے پیاروں کو اس نفرت آمیز واقعے نے دہشت زدہ کیا ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ہم اس بچے کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس وقت ہسپتال میں داخل ہے۔ ہمارے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘۔
کسی سانحہ پر کسی ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے یہ ایک طاقت ور بیان تھا اور اس عزم کا اظہار تھا کہ کینیڈین معاشرہ، ریاست اور حکومت اس نفرت کی تائد نہیں کرتی جس کا اظہار گزشتہ شب انتہائی بہیمانہ طریقے سے ایک مسلمان خاندان کو ہلاک کرکے کیا گیا تھا۔ صرف جسٹن ٹروڈو ہی نہیں اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ بھی مقتولین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔ اُنہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’نفرت اور اسلامو فوبیا کی اونٹاریو میں کوئی جگہ نہیں ہے‘۔ لندن شہر کے مئیر ایڈ ہولڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’لندن کے تمام شہریوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ ہم اس خاندان کے لیے افسردہ ہیں جس کی تین نسلیں فوت ہو گئی ہیں‘۔ میئر نے لندن سٹی ہال کے باہر پرچم کو تین روز کے لیے سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ شہر کے اعلیٰ ترین اہلکار کی طرف سے سرکاری سوگ منانے کا اعلان تھا۔ اس کے علاوہ عام شہریوں نے جائے حادثہ پر مرنے والوں سے عقیدت کے اظہار اور نفرت کو مسترد کرنے کے لئے پھول رکھنے شروع کئے ۔ عام شہری وہاں آتے اور سر جھکا کر عقیدت و احترام کا اظہار کرتے ۔
یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ معاشرے میں اگر نفرت کا پرچار کرنے والی قوتیں سر اٹھا رہی ہیں تو ان سے انکار کرنے والے لوگ بھی پوری قوت سے مدافعت اور اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ نفرت کا اظہار ایک بھونڈے طریقے سے بزدلانہ حملے میں کیا گیا لیکن حکمرانوں کے علاوہ عام شہری بھی علی الاعلان اس سوچ، طریقے اور مسلم دشمنی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہی کسی بھی مہذب معاشرے کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ کسی شہری کے خلاف مجرمانہ کارروائی کے بعد جب پورا معاشرہ مل کر اسے مسترد کرتا ہے تو نفرت پھیلانے اور مکالمہ کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے مٹھی بھر عناصر کو پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کے لئے اس معاشرہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ درپردہ سازشوں سے نفرت پھیلانے کی جو کوششیں کرتے ہیں، معاشرہ اپنی قیادت اور شہریوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرے گا۔ اسی عزم کا اظہار وزیر اعظم جسٹن ٹردڈو نے اس سانحہ پر پارلیمنٹ سے خطاب میں بھی کیا۔ جہاں عوامی نمائیندوں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے مرنے والوں سے عقیدت اور یک جہتی کا اظہار کیا۔
اس پس منظر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ ’دہشتگردی کا یہ واقعہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافے کا اشارہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنا ہو گی‘۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ پر سخت احتجاج کرنے اور کینیڈین حکومت کو شہریوں کی حفاظت کی تلقین کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس سانحہ پر غم و غصہ کا اظہار کیا اور اسلامو فوبیا کے خلاف کام کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی قائدین کے شدید رد عمل کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستانی حکمران بیرون ملک پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں خواہ وہ ملک سے کتنا ہی دور کیوں نہ رہتے ہوں۔ ایسے ملک کی حکومت کے لئے یہ مؤقف اختیار کرنا بے حد اہم و ضروری ہے جس کی معیشت پاکستانی تارکین وطن کی ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے۔ ان میں اضافے کو حکومت اپنی بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو داخلی سیاسی صورت حال سے ہے۔ یعنی غیر متعلقہ امور پر زوردار بیان بازی کے ذریعے عوام کو باور کروایا جائے کہ حکومت صرف پاکستان کے شہریوں ہی کے لئے پریشان نہیں ہے بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے بھی پر جوش ہے۔ اس طرح ملک کے ان مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے جو معاشی ، سماجی، سلامتی اور سیاسی شعبوں میں درپیش ہیں اور حکومت بوجوہ ان کا مناسب حل فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
گزشتہ ماہ کے دوران غزہ پر اسرائیلی بمباری سے پیدا ہونے والی صورت حال میں بھی ایسی ہی گرمجوشی دکھائی گئی تھی۔ حالانکہ جس طرح پاکستان اسلاموفوبیا کے حوالے سے عالمی منظر نامہ میں کوئی کردار ادا کرنے کا اہل نہیں ہے، اسی طرح فلسطین کا مسئلہ حل کروانے کے لئے پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیڈر ایسے موضوعات پر بیان بازی ضروری سمجھتے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو جذباتی طور سے مطمئن کرسکیں۔ اس حکمت عملی کا ضرور کچھ سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہوگا لیکن اس کے دوررس نتائج پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ اس قسم کی سیاست بازی سے لوگوں میں تعصبات، بے بنیاد نفرت اور انتہا پسندی فروغ پاتی ہے۔ یہی عوامل کسی معاشرے کو تشدد کے راستے پر گامزن کرتے ہیں اور انہی کی وجہ سے دہشت گردی جیسا عفریت جنم لیتا ہے۔ پاکستا ن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے فروغ اور اس کے نقصانات کا وسیع تجربہ کرچکا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی لیڈر ان وجوہات کو سمجھنے اور ان کا قلع قمع کرنے پر تیار نہیں ہوتے جو انتہاپسندی و خوں ریزی کا سبب بنتی ہیں۔ کیوں کہ یہ حکمت عملی فوری مقبولیت کا سبب نہیں بنتی ۔ خاموشی کی صورت میں یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن حکمرانوں پر سودے بازی کا الزام عائد کرنا شروع کردے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کینیڈا یا مغربی ممالک کو اسلامو فوبیا کا ہوّا دکھا کر کیا پاکستان اپنے ان بدنما داغوں کو چھپا سکتا ہے جو اس کے اپنے معاشرے میں اقلیتوں کے خلاف جرائم اور عقیدہ کی بنیاد پر قتل و غارتگری کی وجہ سے نمایاں ہیں۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والی کم سن بچیوں کو اغوا کے بعد مسلمان کرکے ان سے شادیاں رچائی جاتی ہیں لیکن ملکی قانون اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہے۔ پاکستان کو کسی ایک عقیدہ کو ’غیراسلامی‘ قرار دینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ احمدیوں کو آئینی طور سے غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان سے زندگی کا حق بھی چھینا جاتا ہے۔ احمدیوں کے قبرستانوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور آئے دن کسی احمدی کو دفن کرنے کے معاملہ پر تنازعہ اور فساد کی صورت دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستان کو یہ مخصوص اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ایک خاص عقیدہ کے لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا کہ وہ خود کو کیا کہلواناچاہتے ہیں بلکہ ملکی آئین اور قانون سازی کے ذریعے طے کیا گیا ہے احمدیوں کو ’قادیانی ‘ کہا جائے۔ رہی سہی کسر انتہا پسند گروہوں اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مولوی پوری کردیتے ہیں۔
کیا اپنے معاشرے سے مذہبی منافرت کا خاتمہ کرنے میں ناکام حکومت مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کے خلاف مؤثر مہم جوئی کرسکتی ہے؟ کیا اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے والا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں ایک سانحہ پر وہاں کی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے؟ کینیڈا کی پارلیمنٹ نے ایک مسلمان خاندان کے قتل ناحق پر ایک منٹ خاموشی اختیار کی ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے تشدد کا شکار ہونے والے کسی غیر مسلم کےساتھ ظلم پر کبھی تاسف کا اظہار کیا ہے؟ کینیڈین حکومت سانحہ میں زندہ بچ جانے والے بچے کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیا تشدد میں مارے جانے والے کسی پاکستانی خاندان کے زندہ بچنے والے بچے کو بھی یہ احساس دلوایا جاسکا؟مغرب میں اگر مسلمانوں سے نفرت کا رجحان موجود ہے تو ان میں نیوزی لینڈ، ناروے، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک بھی شامل ہیں جو مساجد پر حملہ کرنے والوں کے خلاف پوری قومی قوت سے کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کبھی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والوں سے بازپرس کی گئی ہے؟
اسلاموفوبیا یقیناً ایک اہم مسئلہ ہے لیکن عمران خان جیسے لیڈر اگر اس پر سیاست کریں گے تو اس سے فاصلے کم ہونے اور نفرت کے تدارک کی بجائے غلط فہمیاں پیدا ہوں گی اور پاکستان کا بطور ریاست وقار خطرے میں پڑے گا۔ نفرت کو نفرت سے نہیں محبت اور ہم آہنگی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ کینیڈا یا دیگر ملکوں کے مسلمانوں کی حفاظت کا مطالبہ کرنے والے لیڈروں کو اپنے ملک کی مذہبی و مسلکی اقلیتوں کو گلے لگانا چاہئے۔ لیکن یہاں تو ہزارہ اپنے مقتولوں کی لاشیں لے کر بیٹھے رہتے ہیں اور وزیر اعظم کا اصرار ہوتا ہے کہ وہ ’بلیک میل نہیں ہوں گے‘۔ ایسے گھمنڈ اور عاقبت نااندیشی سے نہ نفرت ختم ہوگی اور نہ ہی پاکستان کو عالمی لیڈر کا رتبہ ملے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker