یہ کوئی ربع صدی پرانی بات ہے۔ ملتان کے تینوں مخدوم سیاست میں باقاعدہ قدم رکھ چکے تھے۔ ایک روز اس صحافی کو بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کی طرف سے مقامی واحد چار تارے ہوٹل میں کھانے کی دعوت ملی۔ وہاں جا کر پتہ چلاکہ کھانے سے پہلے لیکچر سننا ہوگا۔ لیکچر دینے والا یونیورسٹی کا استاد نہیں بلکہ دیار غیر سے تازہ تازہ پڑھ کر آنے والا نوجوان سیاستدان مخدوم زادہ شاہ محمود قریشی ہے۔ ہاتھوں میں نوٹس لئے شاہ محمود مائیک پر آئے گھنٹہ بھر جدید اقتصادیات پر بولتے رہے۔ تمام طلبہ و طالبات،اساتذہ اور مہمان دم بخود سنتے رہے۔ پورا لیکچر خالصتاً معیشت پر تھا۔ کوئی سیاسی بات نہ ہوئی۔ ہمارا پہلا تاثر تھا کہ یہ نوجوان جنوبی پنجاب کا واحد نووارد سیاستدان ہے جو بات کرنے سے پہلے محنت اور تیاری کا قائل ہے۔ وقت بدلتا گیا، سیاست بدلتی گئی اور یہ نوجوان بھی منزلوں کی جانب بڑھتے ہوئے راستے بدلتا رہا۔ مسلم لیگ سے پیپلزپارٹی اور پھر تحریک انصاف، مسلم لیگ میں وہ صوبائی وزیرخزانہ تھے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں وزیرخارجہ اور اب تحریک انصاف کی حکومت میں بھی وزیرخارجہ ہیں۔ ان کے حالیہ دور میں پرانا سلگتا ہوا مسئلہ فلسطین اچانک بھڑک اٹھا تو سفارتی محاذ بھی گرم ہو گیا۔پاکستان، ترکی، تیونس، ملائیشیا سمیت متعدد مسلمان ملکوں نے اسرائیلی درندگی رکوانے کے لئے سفارتی محاذ پر سرگرمی دکھائی۔
اقوام متحدہ میں چین اور روس جیسے مستقل ارکان کے تعاون سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کی قرارداد تیار ہونے لگی، مگر امریکی ویٹو نے قرارداد منظور نہ ہونے دی، لیکن اسی دوران پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور سب سے بڑھ کر سٹریت میڈیا نے وہ کام کر دکھایا جو پوری جنرل اسمبلی کے کامیاب اجلاس اور سلامتی کونسل کے بے نتیجہ اجلاس نہ کر سکے۔ اسرائیل نے مصر کی کوششوں سے خود جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور حماس نے تباہ حال غزہ کے ملبوں پر فتح کا جشن منایا۔ سفارتی محاذ پر انتہائی سرگرم پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وطن واپس آ گئے۔ وہ ملک میں ہوں تو ہر ہفتے سنیچر اور اتوار ملتان میں گزارتے اور اپنے حلقہ ء انتخاب کے معاملات دیکھتے ہیں۔ عموماً وہ بطور رکن قومی اسمبلی دو دن ملتان میں گزارتے ہیں، مگر اس بار وہ کامیاب وزیر خارجہ کے تاثرکے ساتھ ملتان آ رہے تھے۔ پہلے وہ جہاز پر آتے ہیں اس بار وہ بذریعہ سڑک آئے تو موٹر وے سے لے کر شہر میں ان کی رہائش گاہ تک استقبال کا اہتمام کیا گیا۔ اس انتظام اور استقبال میں صوبائی وزیر اختر ملک ایم پی اے وسیم باروزئی، صوبائی مشیرندیم قریشی اور ایم پی اے سلیم لابر پیش پیش رہے۔ متعدد استقبالی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان میں ایک کا اہتمام شعبہ ابلاغ سے وابستہ متحرک نوجوان افتخار الحسن اور تجربہ کار جمشید رضوانی نے سماجی رہنما حسن خان کے تعاون سے کیا۔ ہمیں بھی عزت بخشی گئی۔ ملتان سے تقریباً ہر صحافتی ادارے کے مقامی سربراہ مدعو بھی تھے اور موجود بھی۔ شاہ محمود قریشی قدرے تاخیر سے پہنچے تو تھکی تھکی آنکھوں کے ساتھ ان کی شام کہہ رہی تھی دن بھر کا افسانہ، جمشید رضوانی نے سیاسی تشکر کے ساتھ انہیں اظہار خیال کے لئے کہا۔
اس سامع نے ربع صدی بعد انہیں لیکچر کے انداز میں گفتگو کرتے سنا تو یہ ”تبدیلی“ محسوس کی کہ اب ان کے ہاتھ میں نوٹس تھے نہ کوئی پرچی۔انہیں پورا سبق ازبر تھا۔ پون گھنٹہ بولتے رہے۔ پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ کھانے کے برتنوں کی آوازوں پر ختم ہوا۔ اپنی گفتگو میں ایک بار پھر وہ موضوع ”مسئلہ فلسطین اور پاکستان کی سفارتکاری“ سے ذرہ بھر اِدھر اُدھر نہیں ہوئے۔ البتہ دن بھر کی تقریروں اور صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سیاسی گفتگو بھی کرتے رہے۔انہوں نے خبر دی کہ عالم اسلام میں مسئلہ فلسطین پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ اب پاکستان چاہتا ہے عالم اسلام خصوصاً عرب ممالک مسئلہ کشمیر پر بھی اسی گرمجوش سفارتکاری کا مظاہرہ کریں۔ اس سلسلے میں پاکستان میں تمام 57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس مارچ 2022ء میں منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر میں گہری مماثلتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ فلسطین کا علاقہ فلسطینیوں کا ہے یہودی باہر سے آ کر قابض ہو گئے۔ اسی طرح کشمیر کشمیریوں کا ہے بھارتی باہر سے آکر قابض ہیں۔ دوسری یہ کہ اسرائیل وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ بھارت یہاں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ تیسری یہ کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بنا کر فلسطینیوں کو بیدخل کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے اور یہاں بھارتی حکومت نے قوانین تبدیل کر کے ہندوستانیوں پر کشمیر میں آباد ہونے کے دروازے کھول دیئے ہیں، چوتھی یہ کہ دونوں معاملات پر اقوام متحدہ نے نوٹس لیا اور سلامتی کونسل نے قراردادیں منظور کیں۔ پانچویں مماثلت یہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت دونوں سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان ابھی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لے آیا ہے۔ پہلے ہماری پالیسی جیو پولٹیکل تھی جو اب جیو اکنامک ہو گئی ہے۔ عالمی سیاست اپنی جگہ مگر اب ہماری نظر عالمی معیشت پر ہے۔ ہم نے اپنی معیشت مستحکم کر لی تو عالمی سیاست میں ہمارا کردار خودبخود اہم ہو جائے گا قبل ازیں دن میں کسی تقریب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ختم ہو گئی ہے اور اس گھر کو ملتان کے چراغ سے ہی آگ لگ گئی ہے۔
رات کے استقبالیہ میں ڈاکٹر امجد بخاری نے اس کی وضاحت چاہی تو مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ڈی ایم میں دراڑ اس وقت پڑی جب ملتان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم (سید یوسف رضا گیلانی) مسلم لیگ (ن) سے طے شدہ معاہدے کو بائی پاس کرتے ہوئے خود سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ اس لئے واضح ہے کہ پی ڈی ایم کو توڑنے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ یوں پی ڈی ایم کے گھر کو ملتانی چراغ سے آگ لگی ہے۔ دن بھر چاہنے والوں کے ہجوم میں زندہ باد، واہ شاہ جی واہ کے نعرے سنتے ہوئے جب پریس کانفرنس میں میڈیا سے سامنا ہوا تو ایک صحافی نے اوکھا سا سوال داغ دیا کہ ضمنی انتخابات میں حکمران تحریک انصاف کی پے در پے شکستوں سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی مقبولیت کا گراف گر گیا ہے؟اس سوال کو چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت سجائے وزیر خارجہ نے نظر انداز کر دیا۔ اسی صحافی نے جب باردگر اپنے سوال کا جواب چاہا تو زلفِ ایاز کی طرح ان کے مزاج بھی برہم ہو گئے ساری ملتانی مٹھاس اور روایتی خوش گفتاری یکلخت عنقا ہو گئی غصے سے فرمایا کہ ”نہیں دیتا جواب۔ میری مرضی“ یار لوگوں کا خیال ہے کہ اتنے کامیاب اور خوشگوار دورے کے دوران چند لمحوں کا یہ واقعہ قطعاً قابلِ ذکر نہیں۔ یوں بھی کسی کی کامیابی یا حسن کو نظرِ بد سے بچانا ہو تو روشن چہرے پر ایک کالا نقطہ سا بنا دیا جاتا ہے جسے ”نظر بٹو“ کہتے ہیں، یہ جملہ بھی شاہ جی کے مزاج کا حصہ نہیں بس نظر بٹو ہے جو عمران خان کے گرد موجود بعض بد خواہوں کی سازشوں سے شاہ جی کو محفوظ و مامون رکھے گا۔ ماضی کی طرح۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

