تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:وزیر اطلاعات آصف زرداری پر کیوں برہم ہیں؟

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں نظام حکومت ’آئینی بحران‘ کا شکار ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کو اقدام کرنا چاہئے۔ کراچی میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کی شق 140 اے کے تحت سندھ میں بلدیاتی اداروں کا قیام یقینی بنانا چاہئے۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی کیوں کہ آئین میں اس کی ’گنجائش ‘ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر کا یہ بیان دو حوالے سے حیرت انگیز ہے۔ ایک تو یہ کہ حکومت جو کام خود کرنے کے قابل نہیں ، اس کا بوجھ سپریم کورٹ کی طرف موڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ یعنی وفاقی حکومت سندھ کے نام نہاد آئینی بحران سے نمٹنے کے لئے سپریم کورٹ کو اس کا فرض یاد دلارہی ہے۔ فواد چوہدری نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید تفصیل میں جاتے ہوئے یہ بھی بتا دیاہے کہ عدالت عظمیٰ آئین کی شق 140 اے کے تحت بلدیاتی ادارے قائم کرنے کا حکم دے تاکہ فنڈز مقامی سطح پر تقسیم ہوسکیں اور عوامی بہبود کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچیں۔ یعنی حکومت سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے خود تو سندھ کی حکومت گرانے اور صدارتی فرمان کے ذریعے صوبے کا انتظام سنبھالنے کی ’صلاحیت یا حوصلہ ‘ نہیں رکھتی لیکن اب وہ سپریم کورٹ سے چاہتی ہے کہ وہ اس کے لئے اس مسئلہ کو حل کردے۔
اس وقت ملک میں اداروں کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے سنجیدہ مباحث سننے میں آتے ہیں اور عام طور سے یہ رائے مستحکم ہورہی ہے کہ ملک کے سیاسی معاملات عوام کے منتخب نمائیندوں ہی کو حل کرنے چاہئیں اور کسی بھی قسم کے اداروں کو سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ ان میں صرف عسکری اداروں کی تخصیص نہیں ہے بلکہ عدلیہ سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ عدالتی دائرہ کار کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے اختیارات میں مداخلت کے لئے استعمال نہ کرے۔ ملک میں کمزور سیاسی نظام اور خاص طور سے تحریک انصاف کے دور حکومت میں پارلیمنٹ کو غیرمؤثر کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ ضد اور فساد کا رشتہ استوار کرنے کی وجہ سے متعدد عناصر عدلیہ سے مداخلت کی توقع کرتے رہے ہیں لیکن عدالتوں نے اس حد تک جانے سے گریز کیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدالت فی الوقت اس اصول پر کاربند دکھائی دیتی ہے کہ عدالت آئین کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے اور قانون سازی اور اہم امور پر فیصلے کرنے کا کام حکومتیں اسمبلیوں کی مدد سے انجام دیں۔
سپریم کورٹ نے 2019 کے آخر میں آرمی چیف کے عہدہ کی مدت میں توسیع کے فیصلہ کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کرنے اور اس بارے میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو ناقص اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے بھی یہ معاملہ پارلیمنٹ میں طے کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ یک طرفہ طور سے کارروائی کرتے ہوئے حکومت کے حکم کو مسترد کرنے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ حکومت کو یہ معاملہ چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ میں حل کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ اسی کے نتیجہ میں گزشتہ سال جنوری میں پارلیمنٹ نے ایک ترمیمی ایکٹ منظور کیا جس میں مسلح افواج کے سربراہان کے عہدہ کی مدت میں توسیع کے لئے قانون سازی کی گئی ۔ اسی قانون کے تحت جنرل قمر جاوید باجوہ دوسری مدت کے لئے آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہوئے ۔
اس نظیر کے باوجود اب وفاقی وزیر اطلاعات سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے سپریم کورٹ پر اپنی سیاسی ناکامی کا بوجھ لادنا چاہتے ہیں۔ یوں بھی وفاقی حکومت اگر کسی معاملہ میں سپریم کورٹ سے کوئی اقدام کرنے کی درخواست کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے میڈیا بیان جاری کرنے کی بجائے ایک باقاعدہ طریقہ کار موجودہ ہے۔ حکومت یا تو پٹیشن دائر کرکے کسی بحران کے حل کے لئے سپریم کورٹ سے معاونت طلب کرسکتی ہے یا پھر ریفرنس کے ذریعے کسی اہم معاملہ کی طرف اعلیٰ عدالت کی توجہ مرکوز کروائی جاسکتی ہے۔ البتہ فواد چوہدری قانون دان ہونے کے باوجود ایک اخباری بیان کے ذریعے سپریم کورٹ کو اس کی ذمہ داری یاد دلوا رہے ہیں۔ یادش بخیر سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک جج کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹ کرنے پر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دے چکی ہے۔ اصولی طور پر ان کا تازہ بیان بھی عدالت عظمی کی توہین ہی شمار ہونا چاہئے۔ حکومتی نمائیندہ اپنا کام کرنے کی بجائے عدالتوں کو بتا رہا ہے کہ کسی صوبے کے حوالے سے اس کی کیا قانونی و آئینی ذمہ داری ہے۔
فواد چوہدری کے بیان کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ سندھ حکومت پر فنڈز کی خرد برد اور سیاسی نااہلی کے متعدد الزامات عائد کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے ذریعے صوبے میں فوری طور سے بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس معاملہ کے اس پہلو پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ میں صرف سندھ حکومت ہی سے کوتاہی نہیں ہورہی بلکہ پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے۔ ان میں سے دو صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں وہ حکومت کا حصہ ہے۔ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں بلدیاتی انتخابات کروانے اور فعال لوکل باڈیز سسٹم متعارف کروانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دیگر وعدوں کی طرح وہ یہ وعدہ پورا کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ نہ جانے فواد چوہدری کس منہ سے سپریم کورٹ کو سندھ میں وہ کام کروانے کا مشورہ دے رہے ہیں جو ان کی پارٹی ملک کے باقی تین صوبوں میں کروانے میں ناکام ہے۔ اس حوالے سے آئے دن نئے نئے سبز باغ ضرور دکھائے جاتے ہیں لیکن عملی طور سے اختیارات کی مقامی سطح تک تقسیم کے لئے کام کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔
تحریک انصاف تو اقتدار سنبھالتے ہی مرکز کو مضبوط کرنے، صوبوں کو اختیارات منتقل کرنے والی اٹھارویں ترمیم کے نقائص گنوانے اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو فنڈز مختص کرنے کے طریقہ کو ترک کرنے کے لئے دلائل کا انبار لگاتی رہی ہے۔ ایک موقع پر تو ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام متعارف کروانے کی مہم جوئی بھی کی گئی تھی۔ ملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی شخصیت پرستی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے۔ اس جماعت میں فیصلوں کا اختیار عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ پارٹی ہی نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں عثمان بزدار جیسا کمزور وزیر اعلیٰ مقرر کرنے اور اسے قائم رکھنے پر اصرار کی واحد یہی وجہ ہے کہ عمران خان براہ راست اسلام آباد سے پنجاب کے معاملات کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔ اب فواد چوہدری سندھ حکومت کو بلاول ہاؤس سے چلانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے صوبے کا آئینی بحران بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ اگر اسے بحران کہا جائے گا توپنجاب کے علاوہ خیبر پختون خوا اور مرکز میں بھی فیصلے کابینہ یا اسمبلیوں کی بجائے بنی گالہ میں ہوتے ہیں۔ عمران خان کی رائے ہر معاملہ میں حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ سندھ میں بلاول ہاؤس یا زرداری خاندان کے سیاسی اثر و رسوخ کو اگر آئینی بحران کہا جائے گا تو باقی صوبوں اور مرکز میں پائی جانے والی صورت حال کو کیا نام دیاجائے گا؟
فواد چوہدری خود بھی پیپلز پارٹی میں شامل رہے ہیں اور یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ادوار میں معاون خصوصی کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ مرور زمانہ کے سبب اب وہ تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور وفاقی حکومت میں وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داری پر فائز ہیں۔ لیکن دونوں پارٹیوں میں کام کرنے کی وجہ سے وہ ضرور جانتے ہوں گے پیپلز پارٹی اپنی تمام تر کمزوریوں اور نقائص کے باوجود پچاس برس سے قومی سیاست میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ وہ ایک نظریاتی پارٹی ہے اور ا س کے متعدد لیڈر وں نے جمہوری جد و جہد کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اگرچہ پارٹی پر موروثی قیادت کے حاوی ہونے کا الزام عائد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود پارٹی میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو اہم امور پر قیادت کی رہنمائی کرتے ہیں اور اپنا تعمیری اختلاف بھی سامنے لاتے ہیں۔ پارٹی میں ہر سطح پر فیصلے کرنے کے مجاز ادارے بھی موجود ہیں۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کا پارٹی ڈھانچہ کمزور ہے۔ 2018 کا انتخاب جیتنے کے لئے عمران خان نے ’الیکٹ ایبلز ‘ کے لئے دروازے کھولتے ہوئے پارٹی کے وفاداروں کو نظر انداز کیا ۔ اس طرح پارٹی کا ڈھانچہ ہی نہیں بلکہ اس کے بنیادی اصولوں پر بھی سودے بازی کرلی گئی۔ ایک ایسی پارٹی کی حکومت میں وزارت کے منصب پر فائز فواد چوہدری کو پیپلز پارٹی یا سندھ میں اس کی حکومت کے بارے میں زبان کھولتے ہوئے احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کلچر پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کو پہلے پارٹی فنڈنگ کیس میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ہی یہ مانا جا سکے گا کہ تحریک انصاف پارٹی یا ملک میں کسی شفاف نظام پر یقین رکھتی ہے۔
فواد چوہدری کے تند و تیز بیان کی ایک وجہ تو وہی ہوسکتی ہے جس کی طرف سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اشارہ کیا ہے کہ فواد چوہدری زرداری خاندان پر نکتہ چینی کرکے عمران خان کے سامنے اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کی کوشش کرہے ہیں تاکہ ان کی وزارت پکی رہے۔ البتہ اس تندی بیان کا ایک پہلو یہ بھی ہے آصف زرداری کی سیاست نے اسٹبلشمنٹ کو تحریک انصاف کا متبادل فراہم کیا ہے۔ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف کی لڑائی اب صرف سندھ میں اقتدار کے معاملہ تک محدود نہیں ہے بلکہ عمران خان اور ان کے قریبی رفقا کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہوگا کہ اب وہ تن تنہا اسٹبلشمنٹ کے ’لاڈلے‘ نہیں ہیں۔ پاکستان میں یہ خوف سیاست دانوں کو کسی بھی حد تک جانے پر مجبور کردیتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker