تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:ملالہ کا نام لینا منع ہے

قومی شعور کی اس سطح کو کیا نام دیاجاسکتا ہےجس کے تحت پاکستان میں اسکول کے بچوں کو ملالہ یوسف زئی کے نام سے نابلد رکھنا ہی قومی مفاد کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔ اسی مزاج کے عین مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ساتویں جماعت کے لئے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع شدہ ایک نصابی کتاب ضبط کرنے کا حکم دیا ہے کیوں کہ اس میں پاکستان کے مشاہیر کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کی تصویر بھی شائع کی گئی تھی۔ پاکستانی قومی غیرت کو یہ ’ہتک‘ گورا نہیں ہے۔
ملالہ یوسف زئی ایک ایسی نوجوان خاتون کا نام ہے جس سے شاید دنیا کا بچہ بچہ آشنا ہے۔ دنیا کے کسی اسکول کے کسی طالب علم کے سامنے اگر ملالہ کا نام لیا جائے تو وہ بتا سکتا ہے کہ وہ کون ہے اور دنیا اسے کس بنا پر اعزاز دیتی ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں کے اسکول وکالج تو کیا شاید یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی یا تو ملالہ کے نام سے شناسا نہیں ہوں گے یا ایسا ظاہر کرنے میں ہی عافیت سمجھیں گے۔ جو بچے یانوجوان یہ تسلیم کریں گے کہ وہ ملالہ کو جانتے ہیں، وہ اس کے بعد یہ بتانا اپنا قومی فرض سمجھیں گے کہ ہاں وہ ننگ ملت ، ننگ دین، ننگ وطن ہے جس نے ’غیروں‘ کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر پاکستان کے قومی وقار کا سودا کیا ہے۔ پاکستانی ریاست اور حکومت اس تاثر کی تائد نہیں کرتی لیکن اسے ایک نوجوان پاکستانی خاتون کے بارے میں یہ منفی تاثر قومی مزاج کا حصہ بننے پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے ۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے جب ملالہ کی تصویر والی کتاب ضبط کرنے کا حکم دیا اور پبلشر کے علاوہ بک اسٹورز پر چھاپے مار کر جب کتاب کی سب کاپیاں بحق سرکار ضبط کی گئیں تو دراصل اس صوبائی اتھارٹی نے اسی قومی مزاج کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
سوشل میڈیا کے وہ جاں باز جنہوں نے کئی ہفتوں تک اس کتاب کے ملالہ کی تصویر والے صفحہ کی تصویریں عام کرکے قومی غیرت کو للکارنے کی بھرپور کوشش کی تھی بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور اس کا کریڈٹ لینے میں بھی بخل سے کام نہیں لے رہے۔ اس رائے کے مطابق کئی ہفتوں سے اس طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن اب جاکر انہیں ہوش آیا ہے اور قومی مفاد اور دینی حمیت پر ہونے والے اس ’گھناؤنے حملے‘ کا تدارک کیا جاسکا ہے۔ پاکستانیوں کو ایک ایسی قوم بنا دیا گیا ہے جو ناجائز کام کو پورے حوصلے اور دیدہ دلیری سے کرتی ہے لیکن ’جائز‘ کام کرنے کے بعد شرمساری محسوس کی جاتی ہے اور اس کی عذر خواہی کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ جیسا کہ ملالہ کی تصویر والی کتاب ضبط کرنے کے بعد پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ترجمان وضاحتیں دے کر اپنے فیصلے کی ’حجت‘ پیش کررہے ہیں۔ بورڈ کا مؤقف ہے کہ ہر سال درجنوں کتابیں مناسب این او سی نہ ہونے کی وجہ سے ضبط ہوجاتی ہیں۔ اب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی کتاب بھی اسی عذر کی بنا پر ضبط کی گئی ہے کہ اس کی اشاعت کے لئے این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔
پاکستانی پریس کے جس محدود حصے نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے اس دلیرانہ اور بروقت فیصلہ کو عوام تک پہنچانا ضروری سمجھا ہے، اسی کے نمائیندے نے بعض ایسے ذرائع کے حوالے سے جو نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے، یہ خبر بھی دی ہے کہ اس کتاب کے لئے 2019 میں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی درخواست دی گئی تھی لیکن بورڈ نے اس کے مندرجات کو پاکستانی طالب علموں کے لئے ’خطرناک‘ سمجھتے ہوئے اشاعت کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے یہ کتاب پھر بھی شائع کردی۔ اس کا مقصد یہی بیان کیا جاتا ہے کہ متعدد کتابیں این او سی نہ ملنے پر نصاب میں تو شامل نہیں ہوتیں لیکن انہیں غیر نصابی کتابوں کے طور پر استعمال کرلیا جاتا ہے۔ البتہ پبلشر اس حوالے سے شاید پاکستانی قوم کے اس عزم کا اندازہ نہیں کرسکا کہ اسے علم سے دست برداری قبول ہے لیکن وہ اپنی قومی غیرت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دے گی۔ اسی لئے شاید اس کتاب کو شائع کرکے عام کرنے کی ’سازش‘ کا قلع قمع کرنا ضروری تھا۔
آخر ملالہ یوسف زئی نے ایسا کیا کیا ہے کہ اس کا نام لینا اور اس کی تصویر کو کسی نصابی کتاب میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیا اس نے پاکستان کو دہشت گرد کہا ہے، کیا اس نے کبھی پاکستان کے خلاف کوئی بیان دیا ہے، کیا اس نے کبھی پاکستان کو کسی بھی طرح کسی دوسرے ملک سے کم تر کہنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس وہ تو آج بھی پاکستانی ہونے پر فخر کرتی ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی تقریب اور اہم ترین موقع پر بھی پاکستانی لباس پہن کر اور سر ڈھانپ کر جاتی ہے ۔ وہ تو حجا ب کو اپنی ثقافت اور مذہب کی علامت قرار دیتی ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتی ہے۔ پھر ملالہ کیوں پاکستانیوں کے اعصاب پر یوں سوار ہے کہ اس کا نام لینا ملک و قوم یا عقیدہ سے دوری کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ملالہ جیسی نامور اور باہمت خاتون پاکستان نہیں آسکتی۔اپنے ہی علاقے میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے وطن کی خدمت نہیں کرسکتی۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست نہ تو ملالہ یوسف زئی کی سلامتی کی ضامن بنتی ہے اور نہ ہی اس قابل ہے کہ اگر ملالہ وطن واپس آنا چاہے تو اس کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔ یہی مجبور ریاست گزشتہ کئی برس سے پوری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا وزیر خارجہ اور وزیر اعظم تواتر سے قوم کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم اور کامیابیوں سے بہت متاثر ہے اور اس کی توصیف کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کارناموں کی تعریف کرنے والی یہ ’دنیا‘ کیا کبھی شاہ محمود قریشی سے یہ بھی پوچھتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کا ملک اپنی ہی ایک ایسی شہری کو اپنے ہاں آنے نہیں دیتا جس کی میزبانی کرنا دنیا کا ہر ملک اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے؟
ملالہ یوسف زئی کو یہ اعزاز دہشت گردوں کے مقابلے میں کھڑا رہنے پر دیا جاتا ہے۔ اکتوبر 2012 میں سوات میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد جب اس لڑکی نے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں آنکھ کھولی تو اس نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔ جان لیوا حملے سے بچنے کے بعد اس نے دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے تعلیم کے حق کو اپنا مشن بنایا اور مہذب دنیا نے اس کے اس مطالبے کو تسلیم کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سینہ سپر رہنے ہی کی وجہ سے اسے 2014 میں دنیا کے سب سے بڑے سول اعزاز نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ سترہ برس کی عمر میں یہ انعام جیتنے والی ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر فرد تھی۔ پوچھا جاتا ہے کہ آخر ملالہ ہی کیوں؟ دہشت گردی کے خلاف تو بہت لوگوں نے آواز اٹھائی ہے اور بہت لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف مغربی سازشوں کے نظریات فروخت کرنے والے پاکستانی ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں اور پھر اس سے ان نامعلوم سازشوں کا سراغ لگاتے ہیں جنہیں ایسے ہی سازشی ذہن پرداخت چڑھاتے ہیں۔ یوں قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے ملالہ پر حملہ بھی ایک سازش تھی اور اس کا زخمی ہونا بھی ڈرامہ تھا۔ ایسی بیمار اور دلیل سے عاری ذہنیت کا کوئی جواب ممکن نہیں ہے لیکن ملالہ یوسف زئی ہمت و استقامت کی علامت بن کر ایسے نظریات کو مسترد کرتی ہے۔ گولی کے مقابلے میں قلم پکڑے رہنے کا اعلان کرنے والی اس لڑکی کی مستقل مزاجی پاکستان کے رجعت پسند، ناکارہ اورملک و قوم کو بدستور گئے زمانے میں گھسیٹنے کے خواہاں عناصر کے سینے پر مونگ دلنے کا سبب بن رہی ہے۔ اسی لئے کسی نصاب میں ملالہ کا ذکر پاکستان کی قومی غیرت کا سوال بنا لیا گیا ہے۔
پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی پاکستانی شہری کو ایسی عالمگیر عزت و شہرت نصیب نہیں ہوئی جو ملالہ یوسف زئی کے حصے میں آئی ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا لیڈر یا فنکار ملالہ یوسف زئی سے ملنا، اس کے ساتھ بات کرنا اور تصویر بنوانا اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے۔ جن ایوانوں تک پہنچنے کے لئے ہمارے لیڈر ایڑیا ں رگڑتے ہیں، ان کے دروازے ملالہ کی مرضی و منشا کے مطابق کھل جاتے ہیں اور ان کے مکین خندہ پیشانی اور فراخدلی سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ملالہ دنیا میں پاکستان کی مثبت پہچان کی علامت ہے۔ اس احسان کا بدلہ اسے ملک و دین کے لئے تہمت قرار دے کر ادا کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نہ اس کی شہرت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ اپنی اس بیش قیمت شہری کو وہ عزت و احترام دینے پر تیا رہے جو ملالہ یوسف زئی سے زیادہ کسی پاکستانی کا حق نہیں ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker